اللہ کی راہ میں گھوڑا وقف کرنا، شہادت کی فضیلت اور شہید ہونے کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

اللہ کی راہ میں گھوڑا وقف کرنا

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من إحتبس فرسا فى سبيل الله إيمانا بالله و تصديقا بوعده فإن شبعه وريه وروثه وبوله فى ميزانه يوم القيامة يعني حسنات
”جس شخص نے اللہ پر ایمان لاتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں گھوڑا وقف کیا تو اس کا کھانا پینا اس کی لید اور اس کا پیشاب قیامت کے دن اس (کی نیکیوں) کے ترازو میں ہوگا“۔
بخاري، كتاب الجهاد ، حديث 2853۔

اللہ کی راہ میں شہادت کی فضیلت

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما أحد يدخل الجنة يحب أن يرجع إلى الدنإا وله ما على الأرض من شيء إلا الشهيد يتمنى أن يرجع إلى الدنيا فيقتل عشر مرات لما يرى من الكرامة
”شہید کے سوا جنت میں جانے والا کوئی شخص یہ پسند نہیں کرے گا کہ وہ دنیا میں واپس چلا جائے۔ صرف شہید جنت میں اپنی عزت و تکریم دیکھ کر یہ خواہش کرے گا کہ وہ دنیا میں واپس چلا جائے اور اسے دس مرتبہ شہید کیا جائے“۔
بخاري، كتاب الجهاد والسير 2817۔ مسلم، كتاب الإمارة 1877۔
② سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من سأل الله الشهادة بصدق بلغه الله منازل الشهداء و إن مات على فراشه
”جو شخص صدقِ دل کے ساتھ اللہ سے شہادت طلب کرتا ہے تو وہ شہداء کے مقام و مرتبے کو پا لیتا ہے خواہ وہ اپنے بستر پر فوت ہو“۔
مسلم ، كتاب الامارة 1909۔ ترمذی 1653۔
③ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أرواح الشهداء فى حواصل طير خضر تعلق من ثمرة الجنة أو شجر الجنة
”شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہوتی ہیں جو جنت کے پھلوں یا جنت کے درختوں کے ساتھ معلق ہوتے ہیں“۔
ترمذی 1641۔ روایت صحیح ہے۔
④ سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
للشهيد عند الله ست خصال : يغفر له أول دفعة و يرى مقعده من الجنة و يجار من عذاب القبر ويأمن من الفزع الأكبر ويوضع على رأسه تاج الوقار، الياقوتة منه خير من الدنيا وما فيها و يزوج اثنين و سبعين من الحور ويشفع فى سبعين من أقاربه
”شہید کے لیے اللہ کے ہاں چھ خصال و انعامات ہیں: اسے پہلی دفعہ ہی بخش دیا جاتا ہے وہ جنت میں اپنا گھر دیکھ لیتا ہے وہ عذابِ قبر اور فزعِ اکبر (بڑی گھبراہٹ) سے محفوظ و مامون ہوگا، اس کے سر پر پروں اور جواہرات سے جڑا ہوا وقار کا تاج رکھا جائے گا۔ جو دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔ بہتر (72) حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی اور اس کے ستر رشتہ داروں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی“۔
ترمذی، کتاب فضائل الجهاد 1663۔ روایت حسن ہے۔

اللہ کی راہ میں شہید ہونے کے متعلق احکامات

① مسروق بیان کرتے ہیں، ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت:
﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾
”اور تم اللہ کی راہ میں شہید ہو جانے والوں کو مردہ نہ شمار کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اور انہیں رب کے ہاں رزق دیا جاتا ہے“۔
(سورة آل عمران: 169)
کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا ہم نے بھی اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
أن أرواحهم فى جوف طير خضر لها قناديل معلقة بالعرش تسرح فى الجنة حيث شاءت ، ثم تأوي إلى تلك القناديل فاطلع إليهم ربهم إاطلاعة فقال : هل تشتهون شيئا؟ فقالوا: أى شيء نشتهي و نحن نسرح من الجنة حيث شئنا. ففعل ذلك بهم ثلاث مرات فلما رأوا أنهم لن يتركوا من أن يسألوا قالوا: يا رب نريد أن ترد أرواحنا فى أجسادنا حتى نقتل فى سبيلك مرة أخرى فلما رأى أن ليس لهم حاجة تركوا
”ان کی روحیں سبز رنگ کے پرندے کے پیٹ میں ہیں۔ ان کے لیے عرش کے ساتھ قندیلیں معلق ہیں۔ وہ جنت میں جہاں جانا چاہیں جاتے ہیں۔ اور پھر انہی قندیلوں میں آ جاتے ہیں۔ ان کے رب نے ان کی طرف دیکھا تو فرمایا: کیا تمہیں کسی چیز کی چاہت اور طلب ہے؟ انہوں نے کہا: ہمیں کس چیز کی چاہت ہو سکتی ہے، ہم جنت میں جہاں چاہیں جا سکتے ہیں، اللہ تین مرتبہ اس طرح ان سے پوچھے گا، لیکن جب وہ دیکھیں گے کہ ان سے یہ سوال ہوتا رہے گا تو وہ عرض کریں گے اے رب! ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روحیں ہمارے جسموں میں لوٹائی جائیں حتیٰ کہ ہم تیری راہ میں دوبارہ شہید کیے جائیں۔ پس جب وہ (رب تعالیٰ) دیکھے گا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں ہے تو وہ انہیں (ان کے حال پر) چھوڑ دے گا“۔
مسلم، كتاب الإمارة 1887۔ ترمذی، کتاب تفسیر القرآن 3011۔ ابن ماجه، كتاب الجهاد 2801۔
② سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
القتل فى سبيل الله يكفر كل شيء إلا الدين
”اللہ کی راہ میں شہید ہونا قرض کے سوا ہر چیز ختم کر دیتا ہے“۔
مسلم، كتاب الإمارة 1886/ 120۔ مسند احمد، مسند المكشرين من الصحابه 2/ 220۔
③ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی زرہ پہنے ہتھیار بند نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں قتال کروں یا اسلام قبول کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أسلم ”پہلے اسلام قبول کرو“۔
راوی بیان کرتے ہیں، اس نے اسلام قبول کیا، پھر قتال کیا اور یہاں تک کہ شہید ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عمل قليلا وأجر كثيرا
”اس نے عمل قلیل کیا لیکن اجر بہت زیادہ پا گیا“۔
بخاري، كتاب الجهاد والسیر 2808 مسلم، کتاب الامارة 8900۔
④ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عجب ربنا تبارك وتعالى من رجل غزا فى سبيل الله فانهزم أصحابه فعلم ما عليه فرجع حتى أهريق دمه فيقول الله عز وجل لملائكته : انظروا إلى عبدي رجع رغبة فيما عندي وشفقة مما عندي حتى أهريق دمه
”ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ایسے شخص سے بہت خوش ہوتا ہے جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا تو اس کے ساتھی شکست سے دوچار ہو گئے، تو اسے یاد آیا کہ (میدانِ کارزار سے فرار ہونے سے) اس پر کتنا گناہ ہوگا تو وہ پھر میدان کی طرف پلٹ آیا، یہاں تک کہ وہ شہید کر دیا گیا۔ تو اللہ عزوجل اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو، یہ میرے پاس جو اجر و ثواب ہے اس کی رغبت اور میرے ہاں جو عذاب ہے اس سے ڈر کی وجہ سے میدانِ کارزار کی طرف پلٹا حتیٰ کہ اسے شہید کر دیا گیا“۔
أبوداؤد، كتاب الجهاد 2536۔ مسند احمد، مسند المكشرين من الصحابه 416/1۔ روایت حسن ہے۔