شعر گوئی کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لأن يمتلئ جوف أحدكم قيحا حتى يريه، خير له من أن يمتلئ شعرا
”اگر تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے حتی کہ پھیپھڑے تک پہنچ جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرے۔“
بخاری، کتاب الأدب 6155، مسلم، کتاب الشعر 7/2257۔
② سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریکِ سفر تھے، جب ہم عرج کے مقام پر پہنچے تو ایک شاعر شعر کہنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خذوا الشيطان، أو أمسكوا الشيطان، لأن يمتلئ جوف رجل قيحا خير له من أن يمتلئ شعرا
”شیطان کو پکڑو یا شیطان کو روکو، اگر آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرے۔“
مسلم، کتاب الشعر 2259/9، مسند احمد، باقی مسند المکثرین 12/1، حدیث 11063۔
کلام کو مزین کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من تعلم صرف الكلام ليسبي به قلوب الرجال أو الناس لم يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا
”جو شخص مردوں یا لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے کے لیے کلام کو مزین کرنے (نقالی، جگت وغیرہ) کا فن سیکھے تو روزِ قیامت اللہ اس کا فرض قبول کرے گا نہ نفل۔“
ابو داؤد، کتاب الأدب 5006۔
مومن کو نقصان پہنچانے کی ممانعت
① سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ملعون من ضار مؤمنا أو مكر به
”وہ شخص ملعون ہے جو کسی مومن کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس کے ساتھ چالبازی کرتا ہے۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 1941، ابو نعیم فی الحلیة 49/3۔
② سیدنا ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ضار مؤمنا ضار الله به، ومن شاق مؤمنا شاق الله عليه
”جو شخص کسی مومن کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس وجہ سے اللہ اسے نقصان سے دوچار کر دیتا ہے اور جو شخص کسی مومن کو مشقت میں ڈالتا ہے تو اللہ اسے مشقت میں ڈال دیتا ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الاقضیة 3635، ترمذی، کتاب البر والصلة 1940۔