قیامت کے بالکل قریب وقوع پذیر ہونے والی دس (10) بڑی بڑی نشانیاں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی دس (10) بڑی بڑی نشانیاں

عن حذيفة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إنها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر آيات فذكر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى بن مريم ، ويأجوج ومأجوج وثلاثة خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب وآخر ذلك نار تخرج من اليمن تطرد الناس إلى محشرهم
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت ہرگز قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو پھر آپ نے (انہیں) شمار کیا :
➊ دھواں
➋ دجال
➌ دابۃ (جانور)
➍ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
➎ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول
➏ یاجوج ماجوج کا خروج
➐ مشرق
➑ مغرب
➒ اور جزیرۃ العرب میں تین مقامات پر (کچھ لوگوں کا) زمین میں دھنسنا
➓ اور سب سے آخر میں یمن سے آگ نکلے گی جو لوگوں کو میدان محشر کی طرف ہانک لے جائے گی۔
مسلم : كتاب الفتن : باب فى الآيات التى تكون قبل الساعة (2901)

قیامت کی علامات کبریٰ کا تسلسل :

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : علامات (قیامت گویا) ایک ہار میں پروئی ہوئی ہیں کہ اگر اس ہار کو کاٹ دیا جائے تو وہ (واقع ہونے میں) تانتا باندھ لیں ۔
حاکم : کتاب الفتن و الملاحم (520/4) احمد (288/2) مجمع الزوائد (622/7) ابن ابي شيبة (617/8) السلسلة الصحيحة (361/4) صحیح الجامع الصغیر (110/3)