صدقہ جاریہ کی فضیلت
عن أبى هريرة رضي الله عنه ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة: إلا من صدقة جارية، أو علم ينتفع به، أو ولد صالح يدعو له
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے (کہ ان کا فیض اسے پہنچتا رہتا ہے ) ایک صدقہ جاریہ، یا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہو، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“
صحیح مسلم، کتاب الوصية، باب ما يلحق من الثواب للميت بعد وفاته، رقم: 1631۔
عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من تبعه، لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو ہدایت کی طرف بلائے گا، اس کو ان تمام لوگوں کے برابر اجر ملے گا جو اس ہدایت کی پیروی کریں گے اور اس سے پیروی کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔“
صحیح مسلم، کتاب العلم، باب من سن سنة حسنة، رقم: 2674 ۔
اپنی اولاد کو دین اسلام کی تعلیم و تربیت دیں تاکہ مرنے کے بعد آپ کے لیے صدقہ جاریہ بنیں۔ لہذا نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله عزوجل ليرفع الدرجة للعبد الصالح فى الجنة فيقول: يا رب أنى لي هذا؟ فيقول: باستغفار ولدك لك
”اللہ عزوجل اپنے نیک بندے کا جنت میں ایک درجہ بلند فرمائے گا تو وہ دیکھ کر کہے گا: اے میرے رب ! یہ درجہ مجھے کیسے ملا؟ اللہ فرمائے گا: تیرے بیٹے کی استغفار کی بدولت یہ تجھے نصیب ہوا۔“
مسند أحمد : 2/ 509 ۔ صحیح سنن ابن ماجه، كتاب الأدب، باب بر الوالدين، رقم: 3660۔
دنیوی زندگی کے لیے فکر کرنے والوں کو مندرجہ ذیل حدیث پر غور و فکر کرنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
إن مما يلحق المؤمن من عمله وحسناته بعد موته: علما علمه ونشره، وولدا صالحا تركه، ومصحفا ورثه، أو مسجدا بناه، أو بيتا لابن السبيل بناه، أو نهرا أجراه، أو صدقة أخرجها من ماله فى صحته وحياته، يلحقه من بعد موته
وہ عمل اور نیکیاں کہ مرنے کے بعد بھی مؤمن کے لیے ان کا سلسلہ جاری رہتا ہے: ان میں سے ایک وہ علم ہے جو اس نے سکھایا اور اس کی نشر واشاعت کی ، اور دوسری نیک اولاد جو اس نے سوگوار چھوڑی۔ یا مصحف جو وہ ورثہ میں چھوڑ گیا، یا اس نے کوئی مسجد تعمیر کی ، یا کوئی مسافر خانہ بنایا، یا کوئی نہر بنوائی، یا بحالت صحت وحیات اپنے مال سے صدقہ کیا، ان اعمال کا اجر اسے مرنے کے بعد بھی ملتا رہے گا۔“
صحیح سنن ابن ماجه، المقدمة، باب ثواب معلم الناس الخير، رقم: 242 ۔