سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے فضائل
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسن اور حسین اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
سنن ترمذی ، کتاب الـمـنـاقـب ، باب مناقب الحسن والحسين رضي الله عنهما، رقم: 3768 ـ سلسلة الصحيحة، رقم : 796 .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کوئی نہ تھا۔
صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبي ﷺ باب مناقب الحسن والحسين رضي الله عنهما، رقم: 3752.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو دیکھا اور فرمایا: ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما۔“
سنن ترمذى، أيضاً، رقم: 3769 – البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔
◈ حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور مسلمان کی خدمت کا جذبہ:
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ حاجت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کو نفل عبادت پر ترجیح دیا کرتے تھے۔ ایک بار آپ مسجد میں اعتکاف فرما رہے تھے کہ ایک حاجت مند حاضر خدمت ہوا اور اس نے آپ سے اپنی ضرورت پوری کرنے کی درخواست کی۔ آپ بے چین ہو کر معتکف سے باہر تشریف لے آئے اور اس کی ضرورت کو پورا کرنے کے بعد فرمایا: کسی مسلمان بھائی کی حاجت کو پورا کرنا میرے نزدیک ایک مہینہ کے اعتکاف سے بہتر ہے۔
تاریخ اسلام : 350/1 بحواله ابن عساكر: 214/4.
◈ صلح پسندی :
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو دورانِ خطبہ فرمایا: ”میرا یہ بچہ سردار ہے، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرا دے۔“
صحیح بخاری ، کتاب الفتن، رقم: 7109.
(چنانچہ سیدنا معاویہ اور علی رضی اللہ عنہما کے درمیان جنگ ہوئی تھی تو حسن رضی اللہ عنہما نے اپنے دورِ خلافت میں باپ سے ملی خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر کے دو جماعتوں کے درمیان جھگڑا ختم کر دیا۔ )
صحیح بخاری ، باب مناقب الحسن والحسين ، رقم: 3746 .