سیدہ ام سلمہؓ کی روایت: کیا منبروں پر رسول اللہ ﷺ پر سَب کیا جاتا تھا؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

دلیل نمبر:6

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: أَيُسَبُّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَنَابِرِ؟ قُلْتُ: وَأَنَّى ذَلِكَ؟ ، قَالَتْ: أَلَيْسَ يُسَبُّ عَلِيٌّ وَمَنْ يُحِبُّهُ فَأَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّهُ۔
”ابوعبداللہ الجدلی نے بیان کیا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا منبروں پہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سَب کیا جاتا ہے؟ میں نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان سے محبت کرنے والوں پر سَب نہیں کیا جاتا؟ میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت کرتے تھے۔“ (مسند ابی یعلی:7013)
مرزا صاحب جان بوجھ کر ہر جگہ لفظ ”سَب“ کا ترجمہ گالی کرتے ہیں، کیونکہ آپ کے ذہن میں مودودی اور اسحاق جھالوی کے بولے ہوئے جھوٹ اور الزامات گردش کر رہے ہیں، اور پھر آپ یہ دعویٰ بھی کر بیٹھتے ہیں کہ جی ہم نے وہ سب باتیں احادیث کی کتب سے ثابت کی ہیں (جو انہوں نے تاریخی روایات سے)، پھر آپ کو کسی نا کسی طریقے ان روایات میں گالی یا لعنت کا لفظ تو گھسیڑنا ہی ہے نہ۔ حالانکہ ہم (دلیل نمبر:1) کے تحت یہ بات ثابت کر چکے ہیں کہ مرزا صاحب کا اس لفظ کا ترجمہ گالی یا لعنت کرنا غلط ہے۔ مرزا صاحب اس روایت کی بنا پر کہا کرتے ہیں کہ خطباء کا یہ سلوگن ہوا کرتا تھا کہ ”علی پر لعنت، علی سے محبت کرنے والوں پر لعنت“ اور ظلم یہ ہے کہ اس چیز کی نسبت بھی جناب معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کی طرف کی جاتی ہے کہ یہ سب انہی کے حکم سے ہوتا۔
تو عرض ہے کہ نہ تو اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے، نہ ہی کوئی اشارہ، نہ ہی یہ بات ان سے ثابت ہے کہ انہوں نے کبھی منبر کے علاوہ بھی ایسا نعرہ لگایا ہو منبر پر تو بہت دور کی بات ہے، اور نہ ہی اس کی کوئی دلیل ہے کہ انہوں نے کبھی اس کا حکم دیا ہو، تو بھلا اس سب کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کیا تعلق ہے؟
مرزا صاحب اپنا کوئی بھی مدعا صرف دلیل کی بنیاد پر ثابت نہیں کر سکتے بلکہ اس دلیل کے ساتھ انہیں دو چار جھوٹ لازمی طور پر بولنے پڑتے ہیں۔ تو یہاں بہت سے جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ یہ بھی بولتے ہیں کہ یہ سب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوتا تھا۔ جبکہ اس کا بھی نہ کوئی ثبوت ہے اور نہ کبھی مرزا صاحب نے اس کی کوئی دلیل پیش کی ہے، روایت آپ کے سامنے ہے اگر کسی کو اس میں اس بات کا کوئی سراغ نظر آ رہا ہو کہ یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کا واقعہ ہے تو ہم سے اختلاف رائے رکھ سکتا ہے، اور اگر نہیں تو سمجھ جائیے کہ یہ سب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف مرزا صاحب کی سازشیں ہیں، اور حق گوئی کے نام پر آپ صحابہ پر الزامات لگا رہے ہیں۔
اس روایت کے بعد ہمیشہ مرزا صاحب یہ کہا کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر سَب کرنا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سَب کرنا ہے! انجینئر صاحب نے اپنے ریسرچ پیپر میں بھی اس روایت میں اپنی طرف سے یہ بریکٹ گھسیڑی ہے کہ ”یعنی سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو منبروں پہ گالیاں دینا حقیقت میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہ گالیاں بکنے کے ہی مترادف ہے“ حالانکہ اس میں ایسا کچھ موجود ہی نہیں، بات صرف اتنی سی ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سَب کیا جاتا ہے، تو اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والوں کو برا بھلا کہا جاتا ہے تو اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہوتے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بہت محبت رکھتے تھے۔ یہ تو آپ رضی اللہ عنہا نے کہا ہی نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنا ہے۔ اور اگر بات ایسی ہوتی بھی تو ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں، کیونکہ نہ ہی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا اور نہ ہی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے، لیکن انجینئر صاحب کے اس منطق کی وضاحت اس لیے ضروری تھی کہ آپ اس سے ایک عجیب و غریب رزلٹ نکالتے ہیں۔
انجینئر صاحب کا بیان ہے کہ ”سَب“ سے مراد کسی کا برائی سے ذکر کرنا ہو سکتا ہے، لیکن پھر کہتے ہیں کہ یہاں سَب کا مطلب گالی ہی ہے، اور دلیل کے طور پر یہی روایت پیش کر کے کہتے ہیں:

”دیکھیں کہ مسند ابی یعلیٰ کے اندر موجود ہے کہ ام سلمہ کہتی ہیں: لوگوں! تمہارے منبروں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گالیاں بکی جاتی ہیں، تو انہوں نے کہا: معاذ اللہ کون گالی بکے گا؟ انہوں نے کہا: علی سے محبت کرنے والوں کو تم سَب نہیں کرتے ہو؟ (پھر مرزا صاحب اس میں رنگ بھرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:) اب وہاں سَب کا ترجمہ تو تنقید ہو ہی نہیں سکتا! کیا حضرت علی پر تنقید نبی علیہ السلام پہ تنقید ہے؟ کیا حضرت عمر پر تنقید حج تمتع کے مسئلے پہ– صحابہ کا – نبی علیہ السلام پہ تنقید ہے؟ نہیں! تو پھر تو یہ بات ہی جعلی ہو جائے، وہ گالی دے رہے تھے نہ، ہاں! حضرت علی کو گالی دینا نبی علیہ السلام کو گالی دینا ہے، کیوں؟ وہ ام سلمہ کہتی ہیں: تم علی سے محبت کرنے والے کو گالی دیتے ہو تو میں حضور کی بیوی گواہی دیتی ہوں کہ سب سے زیادہ تو نبی علیہ السلام علی سے محبت کرتے تھے، جب تم علی کو برا کہہ رہے ہوتے ہو در اصل نبی علیہ السلام کو برا کہہ رہے ہوتے ہو۔ تو تنقید کا تو معاملہ ہی نہیں ہے، تنقید ترجمہ ہو ہی نہیں سکتا، حدیث اپنے الفاظ خود حفاظت کرتی ہے۔“

ILMI-o-Tahqeeqi MAJLIS no. 28 – 2:23:20
اب ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر مرزا صاحب کہہ کیا رہے ہیں یا کہنا کیا چاہتے ہیں، اگر آپ چاہیں تو ویڈیو کی طرف بھی رجوع کر سکتے ہیں وہاں پر بھی آپ کو کھچڑی ہی پکی نظر آئے گی، ہم نے اس منطق کو سمجھنے کے لیے مرزا صاحب کی دیگر ویڈیوز کو بھی پرکھا ہے کہ شائد کہیں فصاحت یا وضاحت موجود ہو، انہی میں آپ کی ایک مشہور ویڈیو ”Maslah 157, part a“ بھی ہے، لیکن وہاں بھی انہی الفاظ کے ساتھ لب کشائی کی گئی ہے۔ (دورانیہ 1:24:40)
یا پھر شاید انجینئر صاحب کے استدلالات اس قدر دقیق اور لطیف ہوتے ہیں کہ ہم جیسے سادہ لوگوں کو ان کی سمجھ ہی نہیں آتی۔
بہر حال جو بھی ہو اس سے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کا کوئی تعلق نہیں ہے، آپ کہتے ہیں کہ یہ سب ان کے حکم سے ہوتا تھا لیکن اس روایت میں تو ایسا کوئی اشارہ موجود نہیں، نہ ہی مرزا صاحب نے کوئی اور دلیل پیش کی ہے۔ لہٰذا جب یہ ثابت ہی نہیں کہ یہ واقعہ آپ رضی اللہ عنہ کے دور کا ہے، یا یہ سب ان کے حکم یا اجازت سے ہوتا تو ان پر اعتراض کرنا فضول ہے۔