سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کا سیدنا علیؓ کا دفاع: انجینئر مرزا کی ساتویں اور آٹھویں دلیل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

دلیل نمبر:7،8

ابوبکر بن خالد کا بیان ہے کہ:
رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ: ذُكِرَ أَنَّكُمْ تَسُبُّونَ عَلِيًّا قُلْتُ: قَدْ فَعَلْنَا قَالَ: لَعَلَّكَ سَبَبْتَهُ؟ قُلْتُ: مَعَاذَ اللهِ قَالَ: لَا تَسُبَّهُ، فَإِنْ وُضِعَ الْمِنْشَارُ عَلَى مِفْرَقِي عَلَى أَنْ أَسُبَّ عَلِيًّا مَا سَبَبْتُهُ بَعْدَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَمِعْتُ۔
”میں نے مدینہ میں جناب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو انہوں نے فرمایا کہ کہا جاتا ہے کہ تم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سَب کرتے ہو۔ میں نے کہا: واقعی ایسا ہوتا ہے۔ انہوں نے فرمایا شائد کہ تم بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سَب کرتے ہو۔ میں نے کہا: معاذ اللہ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا (تو پھر آئندہ بھی کبھی) ان پر سَب مت کرنا، اور اگر میرے سر پر آری رکھ دی جائے کہ میں ان پر سَب کروں تو پھر بھی میں کبھی ایسا نہیں کروں گا بعد اس کے کہ جو کچھ میں نے ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔“ (سنن نسائی الکبریٰ:8423)
عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فَبَيْنَا أَنَا أَطُوفُ فِي السُّوقِ إِذْ بَلَغْتُ أَحْجَارَ الزَّيْتِ، فَرَأَيْتُ قَوْمًا مُجْتَمِعِينَ عَلَى فَارِسٍ قَدْ رَكِبَ دَابَّةً، وَهُوَ يَشْتِمُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَالنَّاسُ وُقُوفٌ حَوَالَيْهِ إِذْ أَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: رَجُلٌ يَشْتِمُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَتَقَدَّمَ سَعْدٌ فَأَفْرَجُوا لَهُ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا هَذَا، عَلَامَ تَشْتُمُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ؟ أَلَمْ يَكُنْ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ؟ أَلَمْ يَكُنْ أَوَّلَ مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَلَمْ يَكُنْ أَزْهَدَ النَّاسِ؟ أَلَمْ يَكُنْ أَعْلَمَ النَّاسِ؟ وَذَكَرَ حَتَّى قَالَ: أَلَمْ يَكُنْ خَتَنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَتِهِ؟ أَلَمْ يَكُنْ صَاحِبَ رَايَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَوَاتِهِ؟ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: اَللّٰهُمَّ إِنَّ هَذَا يَشْتِمُ وَلِيًّا مِنْ أَوْلِيَائِكَ، فَلَا تُفَرِّقْ هَذَا الْجَمْعَ حَتَّى تُرِيَهُمْ قُدْرَتَكَ. قَالَ قَيْسٌ: فَوَاللهِ مَا تَفَرَّقْنَا حَتَّى سَاخَتْ بِهِ دَابَّتُهُ فَرَمَتْهُ عَلَى هَامَتِهِ فِي تِلْكَ الْأَحْجَارِ، فَانْفَلَقَ دِمَاغُهُ وَمَاتَ۔
”قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ میں تھا، ایک دفعہ میں بازار میں جا رہا تھا، جب مقام احجار الزیت پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ لوگ ایک شخص کے گرد جمع ہیں جو سواری پر سوار تھا، وہ شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہا تھا، اسی اثناء میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لائے اور وہ بھی وہیں کھڑے ہو گئے، لوگوں سے پوچھا: کیا ہوا؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک آدمی حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہا ہے، حضرت سعد آگے بڑھے، لوگوں نے ان کو راستہ دے دیا، حضرت سعد اس آدمی کے قریب آ گئے اور فرمایا: ارے، تم علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو گالیاں کیوں دے رہے ہو؟ کیا وہ سب سے پہلے مسلمان نہیں ہوئے تھے؟ کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے والے سب سے پہلے شخص نہیں تھے؟ کیا وہ سب سے زیادہ دنیا سے بے رغبت نہیں تھے؟ کیا وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے نہیں تھے؟ اس کے علاوہ بھی کچھ چیزوں کا ذکر کیا حتیٰ کہ یہ بھی کہا: کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد نہیں تھے؟ کیا وہ غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمبردار نہیں تھے؟ اس کے بعد حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے قبلہ رخ ہو کر ہاتھ بلند کر کے یوں دعا مانگی ”اے اللہ! یہ شخص تیرے اولیاء میں سے ایک ولی کو گالی دے رہا ہے، یا اللہ! یہ مجمع ختم ہونے سے پہلے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھا“۔ حضرت قیس کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم ابھی وہاں سے ہٹے نہیں تھے کہ اس کی سواری بدک گئی، اس سواری نے اس آدمی کو سر کے بل پتھروں میں گرا دیا جس کی وجہ سے اس کی کھوپڑی کھل گئی اور اس کا بھیجا باہر آ گیا اور وہ وہیں مر گیا۔“ (المستدرک للحاکم:6121)
اب بظاہر تو مرزا صاحب کے مدعے کے مطابق ان روایات میں کچھ نہیں ہے، لیکن جب آپ انہیں مرزا صاحب کی explanations اور بریکٹوں کے ساتھ سنیں اور پڑھیں گے تو آپ کو اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی ملے گا اور اس کار روائی کا سارا ملبہ بھی انہی کے کندھوں پر رکھا جائے گا۔ حالانکہ اب تک مرزا صاحب کے جتنے بھی پیش کردہ دلائل دیکھے جا چکے ہیں کسی میں اس بات کا ثبوت نہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی خود سیدنا جناب علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا ہو، لعنت تو بہت دور کی بات ہے! نہ ہی یہ ثابت ہے کہ آپ کے حکم یا اجازت سے ایسا کچھ ہوا ہو۔
اگر کسی نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالی دی یا ان پر لعنت کی تو ہم اس قبیح فعل کی واضح طور پر مذمت کرتے ہیں، اور اللہ اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو ایسے شخص پر جو علی و اہل بیت رضی اللہ عنہم کے دشمن تھے، ہیں اور قیامت تک جو آئیں گے۔ لیکن ہم منافق اور دوغلے نہیں ہم ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف یہی نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ میں سے کسی کو گالی دینے والے، لعنت کرنے والے، ان پر تنقید کرنے والے، ان سے بغض رکھنے والے اور ان پر جھوٹے الزامات لگانے والوں پر بھی اللہ کی لعنت ہو! اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام کا احترام کرنے اور ان سے محبت رکھنے کا درس دیا ہے، لیکن روافض اور روافض کے نقش قدم پر چلنے والے یہ بات کہنے کی جرأت نہیں کر سکتے۔ ہم تو صرف اتنا کہتے ہیں کہ بعض صحابہ کی محبت میں غلو کرتے ہوئے بعض صحابہ پر طعن و تشنیع نہیں کرنی چاہیے۔
انجینئر صاحب اس موضوع پر بات کرتے ہوئے اکثر کہا کرتے ہیں کہ میں نے ریسرچ پیپر میں اس حوالے سے تمام روایات درج کر دی ہیں۔ تو الحمد للہ ہم نے اللہ کی توفیق سے وہ تمام دلائل یہاں ذکر کر دیے ہیں، اور ثابت کیا ہے کہ مرزا صاحب کی پیش کردہ روایات میں سے کسی ایک میں بھی ایسی کوئی چیز موجود نہیں کہ جس کا آپ نے دعویٰ کیا ہے۔ تو کیا یہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹا الزام نہیں؟ کسی عام سے عام مسلمان پر بہتان لگانا بھی حرام ہے، تو پھر جو اس امت کے سب سے بہترین اور افضل لوگ ہیں ان کے بارے میں اس کا کیا حکم ہو گا؟