مضمون کے اہم نکات
سوال:
بوڑھے آدمی کے روزے کے متعلق کیا خیال ہے؟
جواب:
اجماع ہے کہ بوڑھا آدمی جو روزے کی طاقت نہ رکھتا ہو، روزہ نہ رکھے، بلکہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔
❀ امام ابن منذر رحمہ اللہ (319ھ) فرماتے ہیں:
أجمعوا على أن للشيخ الكبير والعجوز العاجزين عن الصوم أن يفطرا
”اہل علم کا اجماع ہے کہ بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت روزہ کی استطاعت نہ رکھتے ہوں تو وہ روزہ چھوڑ دیں۔“
(الإجماع: 129، الإشراف: 3/152)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
ليست بمنسوخة هو الشيخ الكبير والمرأة الكبيرة لا يستطيعان أن يصوما فيطعمان مكان كل يوم مسكينا
”سورت بقرہ (184) منسوخ نہیں ہے، اس سے مراد وہ بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں، وہ ہر روزے کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔“
(صحيح البخاري: 4505)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب بوڑھے ہو گئے اور روزہ رکھنے کی طاقت نہ رہی تو روزہ نہیں رکھتے تھے، بلکہ کھانا کھلا دیتے تھے۔
(تفسير عبد الرزاق: 184، وسنده صحيح)
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے:
”جب آپ رضی اللہ عنہ ایک سال روزہ رکھنے سے عاجز آ گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک ٹب میں ثریڈ تیار کی، تیس مساکین کو خوب سیر کر کے کھلا دی۔“
(أحاديث إسماعيل: 112، سنن الدارقطني: 2390، واللفظ له، صحيح)
❀ علامہ کاسانی حنفی رحمہ اللہ نے اس پر صحابہ کا اجماع نقل کیا ہے۔
(بدائع الصنائع: 2/97)
سوال:
حاملہ عورت روزے قضا کر سکتی ہے؟
جواب:
حاملہ عورت روزے قضا بھی کر سکتی ہے اور فدیہ بھی دے سکتی ہے۔
سوال:
رضاعت کی مدت پوری نہ ہوئی کہ پھر حمل ہو گیا تو کیا عورت مسلسل دو سال تک فدیہ دے سکتی ہے؟
جواب:
جی ہاں۔
سوال:
دمہ کا مرض لاحق ہے، روزہ نہیں رکھ سکتا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
عموماً یہ مرض دائمی ہوتا ہے، اس لیے وہ روزوں کا فدیہ ادا کر دے۔
سوال:
روزے کا فدیہ کتنا ہے؟
جواب:
ایک مسکین کو اوسط درجہ کا ایک وقت کھانا کھلانا ہے۔
سوال:
کیا فدیہ میں کھانے کی قیمت ادا کی جا سکتی ہے؟
جواب:
جی ہاں۔ وہ رقم کسی مسکین کو دے دی جائے۔
سوال:
شدت مرض کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکا اور اسی میں فوت ہو گیا تو چھوٹے ہوئے روزوں کا کیا حکم ہے؟
جواب:
بیماری میں چھوڑے گئے روزے معاف ہیں۔ اس کے ورثاء پر قضا یا فدیہ نہیں، البتہ اگر نذر کے روزے ہوں تو میت کا ولی وارث اس کی طرف سے نذر پوری کرے گا۔
سوال:
درد کی وجہ سے روزہ توڑ دیا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
اس پر قضا ہے۔
سوال:
اگر مسافر چھوڑے ہوئے روزے کا فدیہ دے دے، قضا نہ دے تو کیا حکم ہے؟
جواب:
اس پر قضا ضروری ہے، فدیہ سے فرض ادا نہ ہوگا۔
سوال:
دودھ پلانے والی عورت روزہ رکھے گی یا نہیں؟
جواب:
اسے اختیار ہے، چاہے تو روزہ رکھ لے، چاہے چھوڑ دے اور بعد میں قضا کر لے یا فدیہ ادا کر دے۔
سوال:
جو شدید مرض کی وجہ سے روزے نہ رکھ سکے اور اسے صحت یابی کی امید نہیں تو وہ کیا کرے؟
جواب:
وہ روزوں کا فدیہ ادا کر دے۔
سوال:
اگر بیمار شخص مشکل برداشت کر کے روزہ رکھے تو کیا اسے روزے کا اجر ملے گا؟
جواب:
ضرور ملے گا۔
سوال:
اگر کوئی شخص روزے سے ہے، پیاس کی شدت کی وجہ سے وہ جان کنی کے عالم میں ہے، کیا اس کے لیے روزہ افطار کرنا جائز ہے؟
جواب:
اگر پیاس کی شدت اس قدر ہو کہ برداشت مشکل ہو جائے تو وہ روزہ توڑ دے، اس پر قضا واجب ہے۔
سوال:
کیا مسجد میں روزہ افطار کیا جا سکتا ہے؟
جواب:
روزہ افطار کرنا کار خیر ہے، مسجد میں بھی جائز ہے۔
سوال:
ایک دن کا سفر ہو تو کیا روزہ افطار کیا جا سکتا ہے؟
جواب:
آدھے دن کا سفر ہو تو بھی روزہ افطار کیا جا سکتا ہے۔
سوال:
بوڑھا دائم المرض رمضان میں کیا کرے؟
جواب:
ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو اوسط درجہ کا کھانا کھلا دے۔
سوال:
بوڑھا ذیابیطیس کا مریض رمضان میں کیا کرے؟
جواب:
ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔
سوال:
جو مسافر تردد میں ہو کہ آج واپسی ہوتی ہے یا کل، اسی کشمکش میں انیس سے زائد ایام گزر جاتے ہیں، کیا ایسا مسافر نماز قصر کرنے کے ساتھ ساتھ روزہ قضا کر سکتا ہے؟
جواب:
جس مسافر کو واپسی پر تردد ہو وہ روزہ قضا کر سکتا ہے، خواہ پورا ماہ ہی تردد میں گزر جائے۔
سوال:
شدید پیاس ہو تو روزہ افطار کر سکتا ہے؟
جواب:
اگر پیاس اتنی شدید ہو کہ ہلاکت کا اندیشہ ہو یا عقل کے زائل ہونے کا خوف ہو تو ایسا شخص روزہ افطار کر سکتا ہے، بعد میں قضا دے دے۔
سوال:
جو شخص روزہ رکھنے سے بیمار ہو جاتا ہے، کیا وہ روزوں کا فدیہ دے سکتا ہے؟
جواب:
جو شخص روزہ رکھنے سے بیمار ہو جائے اور دوسرے دنوں میں قضا کرنے سے بھی بیمار ہو جاتا ہو تو وہ روزوں کا فدیہ دے سکتا ہے۔
سوال:
جس بیمار کو ماہر طبیب کا حکم ہو کہ دوپہر کو دوا ضرور پئے، کیا وہ بیمار روزہ افطار کر سکتا ہے؟
جواب:
اگر واقعی دوا پینا ضروری ہے تو روزہ افطار کر سکتا ہے، اس پر قضا ہے۔
سوال:
جو شخص نذر کا روزہ بوجہ خوف بیماری نہ رکھ سکے وہ کیا کرے؟
جواب:
جو شخص نذر کا روزہ بوجہ خوف بیماری نہ رکھ سکے تو وہ اس روزے کو کسی دوسرے دن قضا کر لے، اگر دوسرے دن روزہ رکھنے سے بھی بیماری کا خدشہ ہے تو روزے کا فدیہ دے سکتا ہے۔
سوال:
اگر کسی نے نذر کے روزے پورے نہ کیے اور فوت ہو گیا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
جو اپنے نذر کے روزے رکھے بغیر فوت ہو جائے تو میت کا ولی وارث اس کی طرف سے روزہ رکھے گا۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من مات وعليه صيام صام عنه وليه
”جس پر (نذر کے) روزے تھے اور وہ فوت ہو گیا تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے گا۔“
(صحيح البخاري: 1952، صحيح مسلم: 1147)
سوال:
دوران رمضان ایام حیض شروع ہو گئے تو کیا کرے؟
جواب:
عورت کو جتنے دن حیض رہے وہ روزے نہیں رکھے گی اور رمضان کے بعد ان روزوں کی قضا دے گی۔ حیض میں روزہ نہیں رکھ سکتی۔
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أليس إذا حاضت لم تصل ولم تصم
”کیا ایسا نہیں کہ حائضہ نماز پڑھتی ہے نہ روزہ رکھتی ہے۔“
(صحيح البخاري: 304، صحيح مسلم: 79)
❀ معاذہ رحمہا اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنے سوال و جواب بیان کرتی ہیں:
”عرض کیا: حائضہ روزے کی قضا تو دیتی ہے، نماز کی قضا کیوں نہیں دیتی؟ فرمایا: آپ حروریہ ہیں؟ عرض کیا نہیں، میں حروریہ نہیں ہوں، فقط سوال کیا ہے، فرمایا: ہم ماہواری میں ہوتیں تو ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا، نماز کی قضا کا نہیں۔“
(صحيح البخاري: 321، صحيح مسلم: 335)
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
”امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ عورت ماہواری میں روزے نہیں رکھ سکتی، بلکہ بعد میں قضا دے گی، البتہ نماز کی قضا نہیں ہے۔ الحمد للہ! اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔“
(التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 22/107)
حائضہ روزہ نہیں رکھے گی، یہ مسلمانوں کا اجماعی مسئلہ ہے، البتہ روزے کی حالت میں حیض آ گیا تو اس روزے کی اور باقی روزے جو رہ گئے، ان کی قضا دے گی۔
سوال:
جس روزے کے دوران حیض آیا، کیا اس دن شام تک کھا پی سکتی ہے یا نہیں؟
جواب:
اگر روزے کے دوران حیض شروع ہو جائے تو عورت کا روزہ ٹوٹ گیا، وہ اسی وقت کھا پی سکتی ہے، شام تک کھانے پینے سے رکے رہنے کی ضرورت نہیں، البتہ پاکی کے بعد اس روزے کی بھی قضا دے گی۔
سوال:
ایک شخص بواسیر کے مرض میں مبتلا ہے، جب روزہ رکھتا ہے تو شدید خون آنے لگتا ہے اور سخت تکلیف ہوتی ہے، اس کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب:
ایسا شخص رمضان میں روزے چھوڑ سکتا ہے، بعد میں جب مرض میں خفت آئے تو ان روزوں کی قضا دے دے، اگر آئندہ رمضان تک مرض سے شفایابی کی امید نہ ہو تو ان روزوں کا فدیہ ادا کر دے۔
سوال:
کیا اسی سال کالا چار بوڑھا روزوں کی طرح نماز کا بھی فدیہ دے سکتا ہے؟
جواب:
فدیہ صرف روزوں کا ہے۔ نماز کا فدیہ نہیں، یہ ضرور بالضرور ادا کرنا ہوتی ہے، اگر کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر، اگر بیٹھ کر نہیں تو لیٹ کر، ورنہ اشارے سے پڑھ لے، اگر پڑھنی ضرور ہے۔
سوال:
جو شخص ہمیشہ سفر میں رہتا ہے وہ رمضان کے روزوں کو قضا کیسے کرے؟
جواب:
جو شخص پورا سال سفر میں رہتا ہے، اسے چاہیے کہ سردیوں کے موسم میں، جب دن چھوٹے ہوتے ہیں اور موسم قابل برداشت ہوتا ہے، رمضان کے روزوں کی قضا دے دے، اگر ایسا ممکن نہ ہو تو روزوں کا فدیہ دے سکتا ہے۔
سوال:
روزے دار کے منہ میں آنسو کے ایک دو قطرات داخل ہو گئے تو روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
روزہ باقی ہے۔
سوال:
روزے کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار کی اور انزال ہو گیا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
اس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹا۔
سوال:
روزے دار نے منہ کھولا تو اس کے منہ میں کوئی چیز داخل ہو کر حلق میں چلی گئی تو روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
روزہ برقرار ہے۔
سوال:
کیا استحاضہ والی عورت نماز روزہ کرے گی؟
جواب:
مستحاضہ ایامِ حیض میں نماز و روزہ، تلاوت قرآن اور جماع سے رکی رہے گی، البتہ حیض ختم ہونے کے بعد غسل ضروری ہے۔ غسل کے بعد باقی دنوں میں اس کا حکم عام عورتوں جیسا ہے۔
سوال:
کیا استحاضہ والی عورت نماز روزہ کرے گی؟
جواب:
استحاضہ ایک بیماری ہے، اس سے عورت ناپاک نہیں ہوتی، بلکہ جو عورت اس بیماری کا شکار ہو وہ پاک رہتی ہے، نماز روزہ کرے گی، اس سے جماع بھی جائز ہے۔ اگر اسے ہمیشہ خون جاری رہتا ہے تو وہ حیض والے دنوں میں نماز روزہ ترک کر دے گی اور اس کے بعد غسل کر کے نماز روزہ جاری رکھے گی۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
جاءت فاطمة بنت أبي حبيش إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله إني امرأة أستحاض فلا أطهر أفأدع الصلاة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا إنما ذلك عرق وليس بحيض فإذا أقبلت حيضتك فدعي الصلاة وإذا أدبرت فاغسلي عنك الدم ثم صلي
”سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! استحاضہ کی مریض ہوں، میں پاک نہیں رہ سکتی۔ کیا نماز چھوڑ سکتی ہوں؟ فرمایا: یہ رگ کا خون ہے۔ (استحاضہ میں مبتلا ہونے کی صورت میں) ماہواری کے ایام میں نماز چھوڑ دیجئے، ماہواری ختم ہو تو خون دھوئیں اور نماز ادا کریں۔“
(صحيح البخاري: 228، صحيح مسلم: 333)
❀ صحیح بخاری (325) کے الفاظ ہیں:
إن فاطمة بنت أبي حبيش سألت النبي صلى الله عليه وسلم قالت إني أستحاض فلا أطهر أفأدع الصلاة فقال لا إن ذلك عرق ولكن دعي الصلاة قدر الأيام التي كنت تحيضين فيها ثم اغتسلي وصلي
”سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں استحاضہ ہوں، پاک نہیں رہ سکتی۔ نماز چھوڑ سکتی ہوں؟ فرمایا: یہ حیض نہیں بلکہ ایک رگ کا خون ہے۔ آپ (استحاضہ سے پہلے) جتنے دن حیض میں گزارتی تھیں اتنے دن نماز سے رک جائیں، پھر غسل کریں اور نماز پڑھیں۔“
فائدہ
❀ شرح معانی الآثار (1/162، وسندہ حسن) کے الفاظ ہیں:
لكنه عرق فتقة إبليس فإذا أدبرت الحيضة فاغتسلي وصلي وإذا أقبلت فاتركي لها الصلاة
”یہ ایک رگ ہے جسے ابلیس پھاڑ دیتا ہے۔ حیض ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز ادا کریں اور جب حیض آ جائے تو نماز سے رک جائیں۔“
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
إن أم حبيبة سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدم فقالت عائشة رأيت مركنها ملآن دما فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم امكثي قدر ما كانت تحبسك حيضتك ثم اغتسلي وصلي
”سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استحاضہ کے بارے میں سوال کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے ان کے غسل کا برتن دیکھا۔ وہ خون سے بھرا ہوا تھا۔ فرمایا: جب تک آپ کو حیض (کی پہلے سے معلوم مدت) روکے رکھے رکی رہیں، پھر غسل کریں اور نماز ادا کریں۔“
(صحيح مسلم: 334)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
أما الصلاة والصيام والاعتكاف وقراءة القرآن ومس المصحف وحمله وسجود التلاوة وسجود الشكر ووجوب العبادات عليها فهي في كل ذلك كالطاهرة وهذا مجمع عليه
”نماز، روزہ، اعتکاف، تلاوت قرآن، مصحف کو چھونے اور اُٹھانے، سجدہ تلاوت، سجدہ شکر اور واجب عبادات میں مستحاضہ کا حکم پاک عورت کی طرح ہے، اس پر اجماع ہے۔“
(شرح مسلم: 4/17)
❀ علامہ ابن العطار رحمہ اللہ (724ھ) نے بھی اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
(العدة في شرح العمدة: 1/264)
سوال:
حالت روزہ میں بے ہوشی ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
جواب:
بے ہوشی سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
سوال:
کیا بلغم آنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب:
بلغم سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
سوال:
روزہ کی حالت میں بلغم نگل لے تو کیا حکم ہے؟
جواب:
بلغم نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
سوال:
جو شخص روزہ رکھنے پر قدرت رکھتا ہے مگر پھر بھی روزہ نہ رکھے اور فدیہ ادا کر دے تو کیا حکم ہے؟
جواب:
قدرت کے باوجود جو روزہ نہیں رکھتا اور فدیہ ادا کرتا ہے تو فدیہ سے اس کا فرض ادا نہ ہوگا، یہ شخص گناہ گار ہے، تا آنکہ ان روزوں کی قضا دے دے اور توبہ کر لے۔
سوال:
زمیندار کو سخت گرمی میں روزہ افطار کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟
جواب:
زمیندار یا مزدور روزہ افطار نہیں کر سکتا، البتہ موسم کے مطابق اپنے کام کی ترتیب اور وقت بدل لے۔