عصبیت، رنگ و نسل پر فخر اور نوحہ کے جاہلی طریقوں کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

جاہلیت کی تقلید کے خلاف جہاد

اسلام نے جس طرح قدیم جاہلی اعتقادات و اوہام کے خلاف جنگ کی، کیونکہ یہ چیزیں عقل، اخلاق اور انسانی برتاؤ کے لیے نہایت خطرناک ہیں، اسی طرح اس نے جاہلیت کی تقلید کے خلاف بھی جہاد کیا، جو عصبیت، فخر و غرور اور قبائلی نخوت پر قائم تھی۔

اسلام میں عصبیت نہیں

اس سلسلہ میں اسلام نے سب سے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ عصبیت کی تمام صورتوں کو دفن کر دیا اور عصبیت کے جذبات کو پیدا کرنا اور اس کی طرف بلانا حرام ٹھہرایا۔
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
ليس منا من دعا إلى عصبية وليس منامن قاتل على عصبية وليس منا من مات على عصبية
”جو عصبیت کی طرف بلائے وہ ہم میں سے نہیں ہے جو عصبیت پر لڑے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو عصبیت پر مرے وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے۔“
ابو داود کتاب الادب باب في العصبية ح : 5121 – واسناده ضعيف
اسلام رنگ، قوم اور خطہ زمین کی بنیاد پر انسان اور انسان کے درمیان امتیاز کرنے کا قائل نہیں ہے۔ اور اس کے نزدیک یہ بات جائز نہیں ہے کہ مسلمان قومی اور ملکی تعصب سے کام لیں، حق اور باطل، انصاف اور ظلم دونوں صورتوں میں اپنی قوم کی حمایت کریں۔
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
قلت يارسول الله ما العصبية؟ قال : أن تعين قومك على الظلم
”میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عصبیت کیا ہے؟ فرمایا : یہ کہ تم اپنی قوم کی ظلم کے معاملہ میں بھی مدد کرو۔“
ابو داود كتاب الادب باب فى العصبية ح : 5119 و اسناده ضعیف
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ
”اے ایمان لانے والو ! انصاف کے علمبردار رہو اور اللہ کی خاطر سچی گواہی دینے والے بنو اگر چہ کہ اس شہادت کی زد تمہاری اپنی ذات یا تمہارے والدین اور تمہارے رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔“
سورہ النساء : 135
وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا
سورہ المائدة : 8
”کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم عدل نہ کرو۔“
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
انصر أخاك ظالما أو مظلوما قالوا يارسول الله ! هذا ننصره مظلوما فكيف ننصره ظالما، قال تمنعه من الظلم فذلك نصره
”اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے پوچھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مظلوم ہونے کی صورت میں تو ہم مدد کریں گے لیکن ظالم ہونے کی صورت میں کس طرح مدد کریں؟ فرمایا : اپنے بھائی کو ظلم سے روکنا درحقیقت اس کی مدد کرنا ہے۔“
بخاری کتاب المظالم باب اعن اخاك ظالما او مظلوما ح : 2444 ح : 6952
اس سے واضح ہوا ہے کہ جو دعوت مسلمانوں کو ان کے درمیان ملکی اور گروہی عصبیت پیدا کرنے کی غرض سے دی جائے مثلاً : وطن پرستی یا قوم پرستی کی دعوت تو وہ قدیم جاہلیت کی دعوت ہے، جس سے اسلام، اس کا رسول اور اس کی کتاب بری الذمہ ہے۔ اسلام، کوئی دوسرا عقیدہ رکھنے والوں کے ساتھ ولایت کے تعلقات قائم کرنے کا قائل و فاعل نہیں ہے اور نہ کفر و ایمان کے علاوہ کسی اور بنیاد پر لوگوں کے درمیان فرق و امتیاز کا قائل ہے۔ اسلام کا دشمن اور کافر مسلمانوں کا بھی دشمن ہے خواہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ
”تم کبھی نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والوں کے ساتھ محبت رکھتے ہوں خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان۔“
سورہ المجادلة : 22

رنگ ونسب کی کوئی اہمیت نہیں

صحیح بخاری کی روایت ہے کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ نے غصہ میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہا۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے غصہ میں بلال رضی اللہ عنہ سے کہا : اے سیاہ فام کی اولاد ! سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم نے ان کی ماں کو برا بھلا کہا؟ تمہارے اندر جاہلیت کی خوبو ابھی باقی ہے۔
بخاری کتاب الايمان باب المعاصى من أمر الجاهلية ح : 30 6050 – مسلم کتاب الايمان باب اطعام المملوك مما يأكل ح : 1661 وليس عندها ذكر بلال رضى الله عنه
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے کو دیکھو کیونکہ سرخ یا سیاہ رنگ کے لوگوں کے مقابلہ میں تمہیں کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے البتہ تقویٰ کی بنا پر تم فضیلت حاصل کر سکتے ہو۔
مسند احمد : 158/5
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
كلكم بنو آدم وآدم خلق من تراب
”تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔“
مجمع الزوائد : 86/8 بحواله البزار : 3583 ، 2044 و طبراني في الأوسط : 4746
اس طرح اسلام نے اس بات کو حرام ٹھرایا کہ کوئی مسلمان جاہلی خواہشات کے پیچھے پڑ کر حسب و نسب پر ناز کرنے لگے اور اپنے باپ دادا کی بڑائیاں ہانکنے لگے۔ نسب اور خاندان کی کیا حیثیت جبکہ سب کی اصل ایک ہے؟ اور اگر بالفرض نسب کی حیثیت تسلیم کرلی جائے تو اس باپ یا اس باپ سے پیدا ہونے میں انسان کی اپنی کیا فضیلت ہے؟ یا اس کا اس میں کیا قصور ہے؟
خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آباء و اجداد پر فخر کرنے والوں کو نہایت سخت انداز میں متنبہ فرمایا ہے کہ اپنے باپ داداؤں پر فخر کرنا چھوڑ دیں۔ ان باپ داداؤں پر جو مر کر جہنم کا کوئلہ بن گئے ہیں، ورنہ وہ گندگی کے کیڑے سے زیادہ ذلیل ہوں گے۔ اللہ نے قدیم جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا پر فخر کے طریقہ کو مٹا دیا ہے۔ اب یا تو آدمی متقی مومن ہوگا یا بدبخت فاجر۔ سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی تھی۔
مسند احمد : 361/2 ابو داود کتاب الادب باب فى التفاخر بالاحساب ح : 5116، ترمذي في أواخر الكتاب ح : 3950 ، 3956، بيهقي في السنن الكبرى : 10/232
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے بہت بڑا سبق ہے جو اپنے قدیم اجداد اور عربی و عجمی جاہلیت کے علمبردار فرعون و کسری پر ناز کرتے ہیں حالانکہ ان کی حقیقت ارشاد نبوی کے مطابق جہنم کے کوئلہ سے کچھ زیادہ نہیں ہے۔ حجۃ الوداع کہ جس خاص موقع پر ہزار ہا افراد نہایت توجہ کے ساتھ اسلام کا پیغام سن رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں چند اصولی باتوں کا اعلان فرمایا :
يا أيها الناس إن ربكم واحد، ألا لا فضل لعربي على عجمي ولا لعجمي على عربي ولا لأحمر على أسود ولا لأسود على أحمر إلا بالتقوى، إن أكرمكم عند الله أتقاكم
”لوگو! تمہارا رب ایک ہی ہے۔ سنو کسی عربی کو عجمی پر فضیلت حاصل نہیں ہے اور نہ کسی عجمی کو عربی پر فضیلت ہے نہ گورا کالے پر فضیلت رکھتا ہے نہ ہی کالا گورے پر بجز تقوی کے۔ اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں زیادہ متقی ہے۔“
بيهقي في شعب الايمان : 4/289 ح : 5137 عن جابر واللفظ له وقال في هذا الاسناد بعض من يجهل احمد في المسند : 5/411 وابو نعيم في الحلية 3/100

نوحہ کرنا

کسی کی موت پر نوحہ کرنا واویلا مچانا جزع و فزع کرنا اور اظہار غم میں غلو کرنا، جاہلیت کے طور طریقوں کی تقلید ہے جس کا اسلام سخت مخالف ہے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اس بات کی تعلیم دی ہے کہ موت در حقیقت اس دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل ہونے کا نام ہے نہ کہ بالکل فنا اور معدوم ہو جانے کا، اور یاد رہے جزع فزع کرنے سے نہ مردہ زندہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی قضائے الہی ٹل سکتی ہے۔ لہذا ایک مؤمن کو موت کا اسی طرح سامنا کرنا چاہیے جس طرح کہ وہ دوسری مصیبتوں کا صبر و احتساب کے ساتھ سامنا کرتا ہے۔ اسے اس بات سے عبرت حاصل کرنا چاہیے اور آخرت میں ابدی ملاقات کی امید رکھنا چاہیے، نیز اس کی زبان پر یہ کلمات ہونے چاہئیں :
إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
”ہم اللہ کے ہیں اور ہمیں اس کی طرف لوٹ جانا ہے۔“
(سورہ البقرة : 156)
اگر وہ اہل جاہلیت کا سا طریقہ اختیار کرتا ہے تو یہ ایک فعل منکر اور حرام کا ارتکاب ہوگا، اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
ليس منا من لتم الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية
”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو اپنا منہ پیٹے دامن پھاڑے اور جاہلیت کی پکار بلند کرے۔“
بخاری کتاب الجنائز باب ليس منا من شق الجيوب ح : 1294 ۔ مسلم کتاب الایمان باب تحریم ضرب الخدود ح : 103
مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اظہار غم کے لیے ماتمی لباس پہنے یا زینت ترک کرے یا معمول کے لباس اور ہیئت میں تبدیلی کرے۔ البتہ بیوی پر واجب ہے کہ وہ اپنے شوہر کا سوگ چار ماہ دس دن تک منائے، کہ یہ حق زوجیت کے ایفاء کا تقاضا ہے اور اس میں اس مقدس رشتہ کا احترام ہے جس نے دونوں کو جمع کیا۔ لہذا اسے چاہیے کہ زینت کا اظہار نہ کرے اور عدت کے زمانہ میں پیغام دینے والوں کی نگاہوں میں کھب جانے کا باعث نہ بنے۔ لیکن اگر میت شوہر کے علاوہ کوئی اور ہو مثلاً باپ بیٹا بھائی تو ایسی صورت میں عورت کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی ہے وہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ جب ان کے والد ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا اور جب زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بھائی کا انتقال ہو گیا تو دونوں میں سے ہر ایک نے خوشبو منگوا کر لگائی اور کہا قسم اللہ کی ! مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا :
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث ليال إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا
”جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ تین دن سے زیادہ کسی میت پر سوگ کرے البتہ اپنے شوہر کا سوگ چار ماہ دس دن تک اسے کرنا چاہیے۔“
بخاری کتاب الطلاق باب تحد المتوفى عنها اربعة اشهر وعشرا ح : 5334، 5335 ۔ مسلم كتاب الطلاق باب وجوب الاحداد فى عدة الوفاة ح : 1486 ، 1487
یہ سوگ بیوی پر واجب ہے، جس کے سلسلہ میں اسے کبھی تساہل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ ایک عورت نبی صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میری بیٹی کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے تو کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ہے۔
بخاری حوالہ سابق ح : 5336 مسلم حوالہ سابق ح : 1488
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اس بات پر دلالت کناں ہے کہ دوران عدت زیبائش و آرائش حرام ہے البتہ بغیر جزع و فزع کے اظہار اور بغیر چیخ و پکار کے رونا کوئی گناہ کی بات نہیں ہے بلکہ ایک فطری امر ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بعض عورتوں کے رونے کی آواز سنی جو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر رو رہی تھیں۔ کچھ لوگوں نے انہیں روکنا چاہا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انہیں ابو سلیمان پر رونے دو بشرطیکہ وہ سر پر مٹی نہ ڈالیں یا چیخ چیخ کر نہ روئیں۔
علقہ البخاري في كتاب الجنائز باب ما يكره من النياحة على الميت قبل ح : 1291 ۔ ووصله في التاريخ الصغير : 1/46 وفى نسخة صفحة : 26 واخرجه الحاكم : 3/297۔ البيهقى : 4/71