مضمون کے اہم نکات
سوال:
کیا تراویح کی جماعت بدعت ہے؟
جواب:
تراویح کی جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو، وہ بدعت کیسے ہو سکتا ہے؟
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی ایک رات مسجد میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں لوگوں نے بھی نماز پڑھی، اگلی رات نماز پڑھائی تو نمازیوں کی تعداد بڑھ گئی، پھر لوگ تیسری یا چوتھی رات بھی جمع ہوئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نہ نکلے۔ صبح ہوئی تو فرمایا: میں نے آپ کا شوق عبادت دیکھا، لیکن باہر اس لیے نہیں آیا کہ کہیں آپ پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے، راوی کہتے ہیں: یہ رمضان کا واقعہ ہے۔“
(صحيح البخاري: 1129، صحيح مسلم: 177/761، واللفظ له)
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رات تشریف لائے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ لوگ اس کا تذکرہ کرنے لگے۔ تیسری رات مسجد میں نمازی بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ چوتھی رات مسجد تنگی داماں کا شکوہ کرنے لگی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لائے، حاضرین مسجد کہنے لگے: نماز (تراویح)! لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے وقت ہی تشریف لائے۔“
(صحيح البخاري: 2012، صحيح مسلم: 178/761)
❀ دوسری روایت میں ہے:
خشيت أن تفرض عليكم صلاة الليل فتعجزوا عنها
”مجھے خدشہ ہوا کہ قیام اللیل فرض نہ ہو جائے اور آپ اس سے عاجز آ جائیں۔“
(صحيح البخاري: 924، صحيح مسلم: 178/761)
دراصل بعض حضرات کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک قول سمجھنا مشکل ہو گیا تو انہوں نے جھٹ سے جماعت تراویح کو بدعت کہہ دیا۔
❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:
نعم البدعة هذه
”(ہمارے زمانے میں) اس کی تجدید نو کیا خوب ہے!“
(صحيح البخاري: 2010)
باجماعت تراویح کو بدعت نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تراویح کی جماعت کرائی ہے، پھر خدشہ کے پیش نظر ترک کر دی، جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں دوبارہ نماز تراویح باجماعت ادا ہوتے دیکھی تو اس کی تحسین فرمائی، کیونکہ اس کی اصل عہد نبوی میں موجود تھی، لہذا اس سے مراد حقیقی بدعت نہیں، بلکہ لغوی بدعت ہے۔
❀ امام بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں:
لم يكن فيما صنع خلاف ما مضى من كتاب أو سنة أو إجماع فلم يكن بدعة ضلالة بل كان إحداث خير له أصل في السنة
”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ اقدام کتاب و سنت اور اجماع کے خلاف نہیں تھا، لہذا یہ گمراہی والی بدعت نہیں، بلکہ یہ ایسی بھلائی کا احیا تھا جس کی اصل سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود تھی۔“
(السنن الصغير: 817)
❀ علامہ ابن رجب رحمہ اللہ (795ھ) فرماتے ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بدعت گمراہی ہے۔ یہ فرمان جامع کلمات میں سے ہے، کوئی عمل اس کے حکم سے خارج نہیں۔ یہ حدیث دین کا ایک عظیم قاعدہ ہے اور اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہے: جو شخص ہمارے دین میں ایسا کام جاری کرے جس کی اصل اس (کتاب و سنت اور اجماع) میں نہ ہو، وہ باطل ہے۔ چنانچہ کسی کام کو دین کی طرف منسوب کر دیا جاتا ہے اور اس کی بنیاد دین کے کسی اصول پر نہیں ہوتی تو وہ کام گمراہی کہلائے گا، دین اس سے بری ہے۔ خواہ اس کا تعلق اعتقادی مسائل سے ہو یا ظاہری و باطنی اقوال و اعمال سے۔ بعض سلف کے کلام میں بعض بدعات کی تحسین وارد ہوئی ہے، یہ تحسین لغوی بدعات کی ہے، شرعی بدعات کی نہیں۔ لغوی طور پر کسی کام کو بدعت کہنے کی ایک مثال سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے، انہوں نے رمضان المبارک میں مسجد کے اندر لوگوں کو جمع کر کے ان کے لیے ایک امام منتخب کیا، پھر ایک دن آپ رضی اللہ عنہ تشریف لائے، دیکھا کہ صحابہ ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں تو فرمایا: یہ تجدید نو کیا خوب ہے!“
(جامع العلوم والحكم: 2/128)
سوال:
نماز تراویح کا وقت کب شروع ہوتا ہے؟
جواب:
نماز تراویح کا وقت نماز عشاء سے لے کر سحری تک رہتا ہے، اس دوران کسی بھی وقت ادا کی جا سکتی ہے، نماز تراویح عشاء سے پہلے پڑھنا بدعت ہے۔
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
”تراویح میں مسنون طریقہ یہ ہے کہ اسے نماز عشا کے بعد ادا کیا جائے، اس پر سلف امت اور ائمہ اسلام کا اتفاق ہے۔ جس نے عشا سے پہلے تراویح ادا کی، اس نے سنت کے مخالفین اہل بدعت کا رستہ اختیار کیا۔“
(الاختيارات لشيخ الإسلام ابن تيمية لابن عبد الهادي، ص 41)
سوال:
کیا عورتیں بھی تراویح پڑھیں گی؟
جواب:
عورتوں اور بچوں کے لیے بھی نماز تراویح مشروع و مستحب ہے۔
❀ علمائے احناف فرماتے ہیں:
التراويح سنة مؤكدة للرجال والنساء جميعا بإجماع الصحابة ومن بعدهم من الأئمة منكرها مبتدع ضال مردود الشهادة
”تراویح مردوں اور عورتوں سب کے لیے مؤکد سنت ہے، اس پر صحابہ اور بعد والے ائمہ کا اجماع ہے، اس کا منکر بدعتی گمراہ ہے اور اس کی شہادت قبول نہیں۔“
(غنية المستملي لإبراهيم الحلبي، ص 382، مجمع الأنهر لشيخي زاده: 1/135، حاشية الطحطاوي، ص 411)
❀ علامہ حصکفی حنفی رحمہ اللہ (1088ھ) فرماتے ہیں:
التراويح سنة مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين للرجال والنساء إجماعا
”تراویح مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے بالاجماع سنت مؤکدہ ہے، کیونکہ خلفائے راشدین نے اس پر ہمیشگی کی ہے۔“
(الدر المختار: 2/43)
سوال:
کیا تراویح اور تہجد ایک ساتھ پڑھنا ثابت ہے؟
جواب:
ائمہ محدثین کے نزدیک نماز تہجد اور تراویح میں کوئی فرق نہیں، یہ ایک نماز کے دو نام ہیں۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ تراویح اور تہجد دونوں علیحدہ نمازیں ہیں۔ تو ان کی یہ بات محل نظر ہے۔
علامہ انور شاہ کشمیری صاحب فرماتے ہیں:
لم يثبت في رواية من الروايات أنه صلى التراويح والتهجد على حدة في رمضان بل طول التراويح وبين التراويح والتهجد في عهده لم يكن فرق في الركعات بل في الوقت والصفة أي التراويح تكون بالجماعة في المسجد بخلاف التهجد وإن الشروع في التراويح يكون في أول الليل وفي التهجد في آخر الليل
”ایسی کوئی روایت ثابت نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں نماز تہجد اور تراویح الگ الگ پڑھی ہوں، بلکہ عہد رسالت میں رکعات کے اعتبار سے تراویح اور تہجد میں کوئی فرق نہیں تھا، البتہ وقت اور طریقے میں کچھ فرق تھا کہ تہجد کے برعکس تراویح مسجد میں باجماعت ادا کی جاتی تھی۔ اسی طرح تراویح رات کے اول حصے میں پڑھی جاتی تھی اور نماز تہجد رات کے آخری حصہ میں ادا کی جاتی تھی۔“
(العرف الشذي: 1/166)
سوال:
کیا تراویح کو مختصر کرنے کے لیے تشہد کے آخر میں درود اور دعائیں چھوڑنا جائز ہے؟
جواب:
ایسا کرنا جائز نہیں۔
سوال:
کیا نماز تراویح میں نیت ضروری ہے؟
جواب:
ہر نماز کے لیے نیت کرنا ضروری ہے، نیت دل کے ارادے اور قصد کا نام ہے، زبان سے نیت کرنا بے اصل اور بدعت ہے۔
❀ علامہ کاسانی حنفی رحمہ اللہ (587ھ) فرماتے ہیں:
النية هي الإرادة فنية الصلاة هي إرادة الصلاة لله تعالى على الخلوص والإرادة عمل القلب
”نیت ارادے کا نام ہے، لہذا نماز کی نیت یہ ہے کہ اللہ کے لیے خلوص دل سے نماز کا قصد کریں اور ارادہ دل کا عمل ہے۔“
(بدائع الصنائع: 1/127)
فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾
”انہیں صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خاص کرتے ہوئے اسی کی عبادت کریں۔“
(98-البينة:5)
❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى
”اعمال کا اعتبار نیتوں پر موقوف ہے اور ہر شخص کی نیت کا اعتبار ہو گا۔“
(صحيح البخاري: 1، صحيح مسلم: 1907)
سوال:
امام نماز تراویح پڑھا رہا تھا، مقتدی عشاء کی نیت سے جماعت میں شامل ہوا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
کوئی حرج نہیں، امام اور مقتدی کی نیت مختلف ہو سکتی ہے، امام نفل پڑھا رہا ہو تو مقتدی فرض پڑھ سکتا ہے۔ متنفل کی اقتدا میں مفترض کی نماز بلاشبہ جائز ہے۔ اس بارے میں صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں اور فہم سلف بھی اسی کا مؤید ہے۔
➊ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں:
كان معاذ يصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم ثم يأتي فيؤم قومه فصلى ليلة مع النبي صلى الله عليه وسلم العشاء ثم أتى قومه فأمهم فافتتح بسورة البقرة فانحرف رجل فسلم ثم صلى وحده وانصرف فقالوا له أنافقت يا فلان قال لا والله ولآتين رسول الله صلى الله عليه وسلم فلأخبرنه فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله إنا أصحاب نواضح نعمل بالنهار وإن معاذا صلى معك العشاء ثم أتى فافتتح بسورة البقرة فأقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على معاذ فقال يا معاذ أفتان أنت اقرأ بكذا واقرأ بكذا
”سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کرتے، پھر آ کر اپنی قوم کی امامت فرماتے۔ ایک رات انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں عشا کی نماز ادا کی اور اپنی قوم کو آ کر یہی نماز پڑھائی اور سورت بقرہ کی قرآت شروع کر دی۔ ایک آدمی نماز توڑ کر پیچھے پلٹا اور اکیلے اپنی نماز ادا کر کے چلا گیا۔ دوسرے صحابہ نے کہا: اے فلاں! کیا تو منافق ہو گیا ہے؟ اس نے جواباً کہا: اللہ کی قسم ایسا نہیں ہے، البتہ میں یہ قصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار ضرور کروں گا۔ چنانچہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سارا دن اونٹوں کے ذریعے کھیت سیراب کرتے ہیں۔ معاذ نے آپ کے ساتھ عشا کی نماز پڑھی اور ہمارے پاس آ کر سورت بقرہ شروع کر دی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: معاذ! کیا آپ لوگوں کو دین سے متنفر کرتے ہیں؟ فلاں فلاں سورت پڑھا کیجیے۔“
(صحيح البخاري: 700، صحيح مسلم: 465، واللفظ له)
❀ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
العمل على هذا عند أصحابنا الشافعي وأحمد وإسحاق قالوا إذا أم الرجل القوم في المكتوبة وقد كان صلاها قبل ذلك أن صلاة من ائتم به جائزة واحتجوا بحديث جابر في قصة معاذ
”ہمارے اصحاب (محدثین) کا اسی پر عمل ہے، جن میں امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ایسا آدمی فرضوں میں لوگوں کی امامت کرے جو خود اس سے پہلے وہی نماز پڑھ چکا ہو تو اس کی اقتدا کرنے والوں کی نماز جائز ہے۔ انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ کے قصہ والی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے دلیل لی ہے۔“
(سنن الترمذي، تحت الحديث: 583)
❀ علامہ سندھی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
دلالة هذا الحديث على جواز اقتداء المفترض بالمتنفل واضحة والجواب عنه مشكل جدا وأجابوا بما لا يتم
”یہ حدیث واضح دلالت کرتی ہے کہ متنفل کی اقتدا مفترض کے لیے جائز ہے، گو کہ ناقص جوابات اس کے احناف نے دیے ہیں لیکن اس کا جواب بہت ہی مشکل ہے۔“
(حاشية السندي على النسائي: 2/103)
❀ صحیح مسلم (465) میں واضح الفاظ ہیں، شکایت کرنے والے نے کہا:
إن معاذا صلى معك العشاء ثم أتى فافتتح بسورة البقرة
”سیدنا معاذ نے آپ کے ساتھ نماز عشاء ادا کی، پھر ہمارے ہاں آ کر سورت بقرہ شروع کر دی۔“
❀ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں:
يصلي بهم تلك الصلاة هي له نافلة ولهم فريضة
”سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کو وہی نماز پڑھاتے جو ان کے لیے نفل ہوتی اور قوم کے لیے فرض۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 3/86، الأم للشافعي: 1/173، سنن الدارقطني: 1/374، شرح معاني الآثار للطحاوي: 1/409، وسنده صحيح)
ابن جریح رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کی ہے۔ دوسرے راویوں کی طرف سے ان الفاظ کا عدم ذکر عدم وجود پر دلالت نہیں کرتا، ثقہ کی زیادت بالاتفاق مقبول ہے، کیونکہ یہ ثقات کی مخالفت نہیں ہے۔
➋ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أقبلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا كنا بذات الرقاع نودي بالصلاة فصلى بطائفة ركعتين ثم تأخروا وصلى بالطائفة الأخرى ركعتين قال فكانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم أربع ركعات وللقوم ركعتان
”ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ذات الرقاع پہنچے۔ نماز کے لیے اذان کہی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو دو رکعت پڑھائیں، دو رکعت ادا کرنے کے بعد وہ پیچھے ہٹ گئے، اور دوسری جماعت آگے آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی دو رکعت پڑھائیں۔ یوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار اور صحابہ کی دو دو رکعتیں ہوئیں۔“
(صحيح البخاري تعليقاً: 4136، صحيح مسلم موصولا: 843)
❀ علامہ زیلعی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
على كل حال فالاستدلال على الحنفية بحديث جابر صحيح
”بہر حال سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے احناف کے خلاف (متنفل کے پیچھے مفترض کی نماز کا) استدلال درست ہے۔“
(نصب الراية: 2/57)
❀ علامہ سندھی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يخفى أنه يلزم فيه اقتداء المفترض بالمتنفل قطعا ولم أر لهم عنه جوابا شافيا
”اہل علم پر یہ بات مخفی نہیں کہ متنفل کی اقتدا میں مفترض کی نماز کا قطعی جواز اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، احناف کے پاس اس کا کوئی شافی جواب نہیں۔“
(حاشية السندي على النسائي: 3/178-179)
الحاصل:
نفل پڑھنے والے امام کے پیچھے فرض نماز ادا کی جا سکتی ہے، تراویح بھی نفل ہے، لہذا نماز تراویح پڑھانے والے کی اقتدا میں نماز عشاء پڑھی جا سکتی ہے۔