سیدنا یونسؑ اور سیدنا داؤدؑ کے فضائل و مناقب قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سیدنا یونس علیہ السلام

سیدنا یونس بن قیس علیہ السلام کو ”موصل“ کے علاقے نینوی والوں کے لیے نبی بنا کر مبعوث کیا گیا تھا، تاکہ لوگوں کو توحید باری تعالیٰ، عدل و انصاف اور اخلاق حسنہ کی دعوت دیں، لیکن انہوں نے ان کی دعوت کو قبول نہیں کیا، بلکہ دن بدن ان کی شر انگیزی بڑھتی چلی گئی۔ آخر کار ان کے کفر سے تنگ آ کر انہیں دھمکی دی کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو ان پر اللہ کا عذاب آ کر رہے۔

◈ قوم یونس پر عذاب نازل ہوا تو انہوں نے استغفار کا سہارا لیا:

جب ان لوگوں کو یہ بات ثابت ہو گئی کہ نبی جھوٹ نہیں بولا کرتے، عذاب کے آثار و اسباب دیکھ لیے تو وہ اپنے بال بچوں، چوپایوں اور مویشیوں کو لے کر صحرا کی طرف نکل گئے، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر لیا، اس سے فریاد کی، اس کے حضور الحاح و زاری کی اور فریاد کی کہ اے اللہ! اس عذاب کو دور فرما دے جس کے بارے میں ان کے نبی نے انہیں ڈرایا تھا۔ اس توبہ واستغفار کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کے حال پر رحم فرما دیا اور ان سے عذاب کو دور کر دیا:
﴿فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ﴾
پس قوم یونس کے علاوہ کوئی اور بستی ایسی کیوں نہ ہوئی جو (عذاب آنے سے پہلے) ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع پہنچاتا، جب قوم یونس کے لوگ ایمان لائے تو ہم نے دنیاوی زندگی میں رسوا کن عذاب کو ان سے ٹال دیا اور ایک وقت مقرر تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔“
(10-يونس:98)
امام قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قومِ یونس کے سوا اور کوئی قوم نہیں کہ اس نے پہلے کفر کیا ہو اور عذاب الہی کو دیکھنے کے بعد ایمان لائی ہو اور اسے چھوڑ دیا گیا ہو اس کے ایمان نے اسے نفع دیا ہو۔ قوم یونس نے جب یہ دیکھا کہ ان کے نبی موجود نہیں ہیں اور عذاب الہی قریب آ گیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ اب ان کے لیے توبہ کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہیں ہے تو انہوں نے پھٹے پرانے کپڑے پہن لیے، جانوروں کو ان کے بچوں سے الگ کر دیا اور چالیس دن اللہ تعالیٰ کے سامنے فریادیں کرتے رہے جب اللہ تعالیٰ کو معلوم ہو گیا کہ یہ لوگ اپنی سابقہ کوتاہیوں کی تلافی کے لیے صدق دل سے توبہ اور ندامت کا اظہار کر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے سروں پر منڈلاتے ہوئےعذاب کو دور فرما دیا۔
تفسیر الطبری: 11/221-223 – تفسیر ابن کثیر: 3/258-259، طبع دار السلام۔

◈ سیدنا یونس علیہ السلام کا کشتی میں سوار ہونا:

سیدنا یونس علیہ السلام وہاں سے نکل کر بیت المقدس آگئے۔ اور پھر وہاں سے ”یافا“ کی طرف روانہ ہو گئے۔ اور ترشیش کی طرف جانے والی ایک کشتی میں سوار ہو گئے۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ تیز آندھی چلنے لگی اور کشتی کو خطرہ لاحق ہو گیا تو لوگوں نے کشتی کا بوجھ کم کرنے کے لیے اپنا سامان سمندر میں پھینک دیا، اس کے بعد بھی خطرہ نہ ٹلا تو انہوں نے سوچا کہ کشتی میں ضرور کوئی ایسا آدمی موجود ہے جس کی وجہ سے خطرہ لاحق ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی تو سیدنا یونس علیہ السلام کے نام قرعہ نکلا:
وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ ‎ ﴿١٣٩﴾ ‏ إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ‎ ﴿١٤٠﴾ ‏ فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ ‎ ﴿١٤١﴾ ‏
”اور یونس نبیوں میں سے تھے۔ جب بھاگ پڑے بھری کشتی کی جانب پھر قرعہ اندازی ہوئی تو یہ مغلوب ہو گئے۔“
(37-الصافات:139 تا 141)

◈ مچھلی کا نگلنا:

چنانچہ لوگوں نے انہیں سمندر میں پھینک دیا تو طوفان رک گیا۔ اللہ نے مچھلی کو بھیجا جس نے انہیں نگل لیا۔ کچھ دن مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کی طرف وحی نازل فرمائی تھی کہ تو نے یونس کے گوشت کو نہیں کھانا اور ان کی ہڈی کو نقصان نہیں پہنچانا کیونکہ یونس تیرے لیے رزق نہیں ہے بلکہ تیرا پیٹ اس کے لیے محض قید خانہ ہے۔“
تفسیر ابن کثیر: 4/137 ـ تفسیر ابن أبی حاتم: 8/2463، 2464، عن ابن عباس رضی اللہ عنہما۔

◈ سیدنا یونس علیہ السلام کا تسبیح بیان کرنا:

چنانچہ انہوں نے انتہائی عاجزی و انکساری کے ساتھ دعا کی، پہلے اپنے آپ کو ظالم کہا اور پھر اللہ تعالیٰ کی تقدیس بیان فرمائی تو اللہ رب العزت نے ان کی دُعا قبول کر لی اور مچھلی نے ساحل پر آ کر اپنے پیٹ سے انہیں باہر پھینک دیا:
لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ‎ ﴿٨٧﴾ ‏ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ ﴿٨٨﴾
”تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تو تمام عیوب سے پاک ہے، میں بے شک ظالم تھا۔“
(21-الأنبياء:87 ، 88)

◈ مصائب و مشکلات میں اسی دعا کا سہارا لیا کریں:

شدائد و مشکلات میں اس دعا کا سہارا لینا چاہیے۔ خصوصاً مشکل حالات میں یہ دُعا کریں۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یونس کی دُعا مچھلی کے پیٹ میں ﴿لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِين﴾ تھی۔ جب بھی کوئی مسلمان اپنے رب سے کسی حاجت کے لیے یہ دُعا کرے گا قبول کی جائے گی۔“
مسند احمد: 1/170 – سنن ترمذی، کتاب الدعوات، رقم: 3505 – السنن الكبرى للنسائي، باب ذكر دعوة ذى النون: 6/168، رقم:10492،10491 – علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔

سیدنا داؤد علیہ السلام

سیدنا داؤد علیہ السلام قوت والے، اور اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے پیغمبر تھے:
﴿وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾
”اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کریں جو بڑی قوت والا تھا، یقیناً وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔“
(38-ص:17)

◈ صوم و صلاۃ کی پابندی:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أحب الصلاة إلى الله صلاة داود عليه السلام وأحب الصيام إلى الله صيام داود
اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داؤد علیہ السلام کی نماز ہے، اور سب سے زیادہ پسندیدہ روزے بھی داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں۔“
صحیح بخاری، کتاب التهجد، رقم: 1131۔

◈ زبور کی تلاوت اور کسب حلال:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خفف على داود عليه السلام القرآن فكان يأمر بدوابه فتسرج فيقرأ القرآن قبل أن تسرج دوابه ولا يأكل إلا من عمل يده
داؤد علیہ السلام کے لیے قرآن (یعنی زبور) کی قرآت بہت آسان کر دی گئی تھی چنانچہ وہ اپنی سواری پر زین کسے جانے کا حکم دیتے اور زین کسے جانے سے پہلے ہی پوری زبور پڑھ لیتے، اور آپ علیہ السلام صرف اپنے ہاتھوں کی کمائی کھاتے تھے۔“
صحیح بخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، رقم: 3417۔

◈ اللہ کی تسبیح اور عدل و انصاف:

اللہ عز وجل نے پہاڑوں کو ان کے لیے مسخر کر دیا تھا، وہ شام اور صبح کے وقت اُن کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے، چڑیاں بھی اُن کے گرد جمع ہو کر تسبیح پڑھتیں، ہر ایک ان کا تابع فرمان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی سلطنت کو مضبوط بنایا تھا، اور انہیں حکمت اور فیصلہ کرنے کے لیے قوت گویائی عطا فرمائی تھی۔ اسی لیے ان کا کوئی قول و عمل حکمت سے خالی نہیں ہوتا تھا:
‏ إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ ‎ ﴿١٨﴾ ‏ وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً ۖ كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ ‎ ﴿١٩﴾ ‏ وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ ‎ ﴿٢٠﴾
”ہم نے پہاڑوں کو اس کے تابع کر رکھا تھا کہ اس کے ساتھ شام اور صبح کو تسبیح کرتے تھے۔ اور اُڑتے پرندے جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا، اور اسے حکمت اور فیصلہ کن گفتگو عطا فرمائی۔“
(38-ص:18 تا 20)
مفسرین لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زبور عطا کی ہوئی تھی، جو بے بہا حکمتوں کا خزانہ تھا، اور وہ لوگوں کے درمیان اتنا صحیح فیصلہ کرتے تھے کہ اس وجہ سے سارے لوگ ان سے محبت کرتے تھے، اور کوئی بھی ان کی مخالفت نہ کرتا تھا۔“
بحوالہ تيسير الرحمن: 2/1276

◈ دو جھگڑا کرنے والوں کا قصہ، اور سیدنا داؤد علیہ السلام کا استغفار و انابت الہی:

سورہ ص کی آیات (21) سے (25) تک اللہ تعالیٰ نے سیدنا داؤد علیہ السلام کے ایک فیصلے کا ذکر کیا ہے جو ان کی حکمت و دانائی، بالغ نظری اور اللہ سے ان کی شدت خوف پر دلالت کرتا ہے۔ ان آیات کا اجمالی معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ایک دن داؤد کے پاس دو آدمی دروازے سے داخل ہونے کے بجائے دیوار پر چڑھ کر اس محراب میں داخل ہو گئے جس میں وہ اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے، چنانچہ ان دونوں کو اچانک اپنے سامنے دیکھ کر گھبرا گئے، تو انہوں نے کہا: گھبرائیے مت۔ ہمارے درمیان جھگڑا ہے، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ عدل و انصاف کے مطابق ہمارے درمیان فیصلہ کر دیجیے۔ کسی پر زیادتی نہ کیجیے۔ اور صحیح راستے کی طرف ہماری راہنمائی کیجیے۔ پھر وہ آدمی جو اپنے آپ کو مظلوم سمجھتا تھا، کہنے لگا کہ میرے اس بھائی کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے۔ یہ کہتا ہے کہ تم مجھے اپنی دُنبی دے دو، تاکہ اپنی دنبیوں کے ساتھ اسے ملا لوں، اور اپنی چرب زبانی اور میٹھے بولوں کی وجہ سے مجھ پر غالب آ کر دنبی لے لی ہے۔
سیدنا داؤد علیہ السلام نے کہا: اس نے تمہاری دُنبی مانگ کر تم پر زیادتی کی ہے، اس لیے کہ ننانوے دنبیوں کے ہوتے ہوئے تمہاری دُنبی زبردستی لینے کی اسے ضرورت نہیں تھی۔
مزید کہا کہ بہت سے شرکاء اسی طرح اخوت وصداقت کا پاس نہیں رکھتے، اور زیادتی کر بیٹھتے ہیں، حالانکہ برادری کا تقاضا تو یہ ہے کہ اپنے بھائی کو اپنے آپ پر ترجیح دیں۔ البتہ جو لوگ ایمان و تقوی کی دولت سے لبریز ہوتے ہیں وہ ایسی زیادتی نہیں کرتے، اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں، دونوں کے واپس چلے جانے کے بعد سیدنا داؤد علیہ السلام کے ذہن میں بات آئی کہ یہ قضیہ تو اللہ کی طرف سے ان کا امتحان تھا، اس لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کرنے لگے، اور ان کے دل پر خشیت الہی کا ایسا غلبہ ہوا کہ سجدے میں گر کر رونے لگے، اور پوری طرح اپنے رب کی طرف متوجہ ہو گئے:
﴿فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ﴾
پس وہ اپنے رب سے مغفرت طلب کرنے لگے، اور سجدے میں گر گئے اور (ہماری طرف پوری طرح )متوجہ ہو گئے۔“
(38-ص:24)
روایات میں آیا ہے:
أن داود نبي الله عليه السلام بكى من خطيئته حتى هاج ما حوله
”اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنی خطا پر اتنا روئے کہ پاس والوں نے بھی رونا شروع کر دیا۔“
کتاب الزهد، للإمام وكيع: 1/250، رقم: 24 – اس روایت کے سب راوی ثقہ ہیں۔

◈ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور قربت:

پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا، اور انہیں اپنی قربت عطا کر دی۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿فَغَفَرْنَا لَهُ ذَٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ﴾
پس ہم نے ان کی غلطی معاف کر دی، اور یقیناً ان کو ہم سے قربت حاصل تھی، اور ان کا ٹھکانا اچھا ہے۔“
(38-ص:25)
یعنی وہ کام جو سیدنا داؤد علیہ السلام سے سرزد ہوئے انہیں معاف کر دیا جو اس قبیل سے تھے جس کے متعلق کہا جاتا ہے: إن حسنات الأبرار سيئات المقربين ابرار کی نیکیاں مقربین کے گناہ ہیں۔“
تفسیر ابن کثیر: 5/191، طبع دار السلام، لاہور۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ سیدنا داؤد علیہ السلام کا یہ فیصلہ ان کی حکمت و بالغ نظری اور فیصلوں میں ان کے صائب الرائے اور صحیح ہونے پر دلالت کناں ہے، کیونکہ انہوں نے کسی کی رعایت کیے بغیر حق بات کہی، اور مدعی علیہ کو ٹھنڈک پہنچائی، اور ظالم نے اپنا ظلم جان لیا، اور سب نے بھی جان لیا کہ عدل و انصاف ہر بات پر مقدم ہے، اور یہ اکثر لوگوں میں دوسروں پر زیادتی کرنے کی صفت پائی جاتی ہے۔“
بحوالہ تيسير الرحمن، ص: 1277۔

◈ سورہ ص کے سجدہ کی فضیلت:

مذکورہ بالا آیت کی تلاوت کے بعد پیارے پیغمبر علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے سجدہ کریں۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ ضروری سجود میں سے نہیں ہے، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔“
صحیح بخاری، کتاب سجود القرآن، رقم: 1069 – مسند احمد: 1/360ـ مصنف عبدالرزاق، رقم: 5865 ـ مسند حمیدی، رقم: 477 – سنن دارمی، رقم: 1467 ـ سنن ابوداؤد، رقم: 1409 – سنن ترمذی، رقم: 577 – صحیح ابن خزیمه، رقم: 550۔

یہ سجدہ شکر ہے:

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے، کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ (ص) میں سجدہ کیا اور فرمایا: سجدها داود توبة ونسجدها شكرا
داؤد علیہ السلام نے یہ سجدہ توبہ کے طور پر کیا تھا اور ہم یہ سجدہ شکر کے طور پر کرتے ہیں۔
سنن نسائی، کتاب الإفتتاح، رقم: 907 – صحيح سنن أبو داؤد، رقم: 147 ـ المشكاة، رقم: 1038۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اس آیت کی تفسیر میں عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے امام مجاہد سے سورہ (ص) کے سجدے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: میں نے اس بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”کیا آپ ان آیات کو نہیں پڑھتے: ﴿وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ﴾ (6-الأنعام:84) اور اس کی اولاد میں سے ہیں داؤد اور سلیمان ﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ﴾ (الأنعام:90) یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو، یعنی سیدنا داؤد علیہ السلام بھی ان انبیاء میں سے ہیں جن کے بارے میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ ان کی پیروی کریں، داؤد علیہ السلام نے سجدہ کیا تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سجدہ کیا۔“
صحیح بخاری، کتاب التفسیر، رقم: 4807۔
روز قیامت اللہ تعالیٰ انہیں اپنے تقریب سے سرفراز فرمائے گا، نیز انہیں عمدہ مقام، یعنی ان کی توبہ اور اپنی مملکت میں مکمل عدل کی وجہ سے انہیں جنت میں بلند و بالا درجات نصیب ہوں گے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن المقسطين على منابر من نور عن يمين الرحمن عز وجل وكلتا يديه يمين الذين يعدلون فى حكمهم وأهليهم وما ولوا
”یقیناً عدل و انصاف کرنے والے رحمان کے دائیں ہاتھ نور کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں۔ (یعنی) وہ لوگ جو اپنے فیصلوں، اہل و عیال اور سپرد شدہ (دیگر معاملات) میں عدل و انصاف کیا کرتے ہیں۔“
صحیح مسلم، کتاب الإمارة، رقم: 1827۔

◈ حکمت بھری نصیحتیں:

سیدنا داؤد علیہ السلام کی حکمت و دانائی والی باتوں میں یہ بھی ہے:
عقل مند آدمی پر حق ہے کہ وہ چار اوقات میں غافل نہ ہو:
● جب وہ اپنے رب سے راز و نیاز کی باتیں کر رہا ہو۔
● جب وہ اپنا محاسبہ کر رہا ہو۔
● جب اس کے بھائی اسے اس کے عیوب بیان کر رہے ہوں، اور اس کی ذات کے متعلق سچی باتیں بتا رہے ہوں۔
● جب وہ حلال اور اچھی چیزوں کے ساتھ اپنے آپ کو لذت اٹھانے کا موقع دے کیونکہ یہ آخری وقت پہلے اوقات کے لیے معاون اور دل کو تسکین دینے والا ہے۔
اور عقل مند انسان پر حق ہے کہ وہ اپنے وقت کو پہچانے، اپنی زبان کی حفاظت کرے اور اپنے کام میں لگا رہے۔ عقل مند پر فرض ہے کہ وہ تین مقاصد کے علاوہ کسی کام کے لیے سفر نہ کرے:
● آخرت کی تیاری کے لیے۔
● ذریعہ معاش کی فراہمی کے لیے۔
●حلال چیز کے ساتھ لذت اٹھانے کے لیے۔
الزهد، لابن المبارك: 1/103،105۔

◈ محبت الہی کے لیے دُعا:

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سیدنا داؤد علیہ السلام یہ دعا مانگا کرتے تھے: اللهم اجعل حبك أحب إلى من نفسي وأهلي ومن الماء البارد
”اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت کا، اور اس شخص کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہو، اور اس عمل کا سوال کرتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچا دے۔ اے اللہ! اپنی محبت کو میرے لیے میری جان، میرے اہل خانہ اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔“
سنن ترمذی، ابواب الدعوات، رقم: 3490- مستدرك حاكم، رقم: 3673ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 1707۔