سیدنا ابراہیمؑ  اور سیدنا ایوبؑ کے فضائل و مناقب قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سیدنا ابراہیم علیہ السلام

سیدنا ابراہیم علیہ السلام اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی توحید کی خاطر بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا، لیکن آپ سب آزمائشوں کے مقابلے میں جبل استقامت بنے رہے۔ اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا خلیل بنا لیا، اور اپنے مقدس کلام میں جابجا ان کا تذکرہ جمیل کیا۔
یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو بچپن ہی میں شمس و قمر اور دیگر ستاروں میں غور و فکر کر کے توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کو سمجھنے، اس پر ایمان لانے اور اپنے باپ آزر اور اس کی قوم کے سامنے اس دعوت کو پیش کرنے کی توفیق عطا کر رکھی تھی۔

◈ قوم کو دعوت توحید اور بت شکنی:

إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ ‎ ﴿٥٢﴾ ‏ قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ ‎ ﴿٥٣﴾ ‏ قَالَ لَقَدْ كُنتُمْ أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ‎ ﴿٥٤﴾ ‏ قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ ‎ ﴿٥٥﴾ ‏ قَالَ بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ ‎ ﴿٥٦﴾ ‏ وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ ‎ ﴿٥٧﴾ ‏ فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ ‎ ﴿٥٨﴾ ‏ قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ ‎ ﴿٥٩﴾ ‏ قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ ‎ ﴿٦٠﴾ ‏ قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَىٰ أَعْيُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُونَ ‎ ﴿٦١﴾ ‏ قَالُوا أَأَنتَ فَعَلْتَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ ‎ ﴿٦٢﴾ ‏ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ ‎ ﴿٦٣﴾ ‏ فَرَجَعُوا إِلَىٰ أَنفُسِهِمْ فَقَالُوا إِنَّكُمْ أَنتُمُ الظَّالِمُونَ ‎ ﴿٦٤﴾ ‏ ثُمَّ نُكِسُوا عَلَىٰ رُءُوسِهِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَٰؤُلَاءِ يَنطِقُونَ ‎ ﴿٦٥﴾ ‏ قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ ‎ ﴿٦٦﴾ ‏ أُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ‎ ﴿٦٧﴾
”جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو۔ انہوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادوں کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے۔ سیدنا ابراہیم نے کہا تم اور تمہارے باپ دادے کھلی گمراہی میں تھے۔ انہوں نے کہا، کیا تم واقعی ہمارے پاس دین حق لے کر آئے ہو، یونہی ٹھٹھا کر رہے ہو۔ ابراہیم نے کہا، بلکہ تمہارا رب، آسمان اور زمین کا رب ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں۔ اور اللہ کی قسم! جب تم لوگ پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے، تو میں تمہارے بتوں کے خلاف کارروائی کروں گا۔ پس انہوں نے ان کے بڑے بت کو چھوڑ کر باقی بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے، تاکہ وہ لوگ اس (بت) کے پاس واپس جائیں۔ انہوں نے کہا، جب اس نے ہمارے بتوں کا یہ حال بنایا ہے وہ یقیناً ظالم آدمی ہے۔ لوگوں نے کہا، ہم نے ایک نوجوان کو جسے ابراہیم کہا جاتا ہے، ان بتوں کے بارے میں بات کرتے سنا تھا۔ سب نے کہا، تو تم لوگ اسے سب کے سامنے لاؤ، تاکہ اسے دیکھیں۔ لوگوں نے پوچھا، اے ابراہیم! کیا تم نے ہمارے معبودوں کا یہ حال بنایا ہے۔اس نے کہا، بلکہ اس بت نے یہ کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو ان سے پوچھ لو۔ پھر انہوں نے اپنے دل میں اس بات پر غور کیا، اور آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ درحقیقت تم لوگ ظالم ہو۔ پھر (فوراہی) اعتراف حقیقت سے مکر گئے اور کہنے لگے کہ تم جانتے ہو کہ یہ بت بولتے نہیں ہیں۔(ابراہیم نے) کہا، کیا تم لوگ اللہ کے سوا اُن کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ تف ہے تم پر اور تمہارے اُن معبودوں پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ہو۔“
(21-الأنبياء:52 تا 67)

◈ آتش نمرود کا گلزار ہو جانا:

گر آج بھی ہو ابراہیم سا ایمان پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستان پیدا
مشرکین کو ابراہیم علیہ السلام کے استدلال نے عاجز بنا دیا، تو جیسا کہ ہمیشہ باطل پرستوں کا شیوہ رہا ہے کہ حق پرستوں کی دلیل سے بے بس ہو کر طاقت کا استعمال کرتے ہیں اور ظلم و استبداد کی طرح ڈالتے ہیں، انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب ابراہیم کو خاموش کرنے کی ایک ہی شکل رہ گئی ہے، وہ یہ کہ ہم لوگ اپنے معبودوں کی عظمت برقرار رکھنے کے لیے اسے بھڑکتی آگ میں ڈال دیں، تاکہ دنیا اس کی بے بسی کا نظارہ کرے اور ہر شخص جان لے کہ جو شخص ہمارے معبودوں کی عزت نہیں کرتا اسے ہم ایسی ہی دردناک سزا دیتے ہیں۔ انہوں نے ایک زبردست آگ جلائی، اور ابراہیم کو منجنیق کے ذریعہ دور سے اس آگ میں پھینک دیا، سیدنا ابراہیم علیہ السلام جو نہی آگ میں پھینکے گئے، اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ وہ ابراہیم کے لیے ٹھنڈی بن جائے، اور ٹھنڈی بھی اس قدر ہو کہ نقصان نہ پہنچائے بلکہ سکون وسلامتی کا باعث ہو۔ پس وہ ٹھنڈی اور آرام دہ بن گئی۔ چنانچہ فرمایا:
قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ ‎ ﴿٦٨﴾ ‏ قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ ‎ ﴿٦٩﴾ ‏ وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ ‎ ﴿٧٠﴾ ‏
جب اُن سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو) کہنے لگے: اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے۔ تو ہم نے کہا: اے آگ! تو ابراہیم کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا اور انہوں نے اس کے خلاف سازش کرنی چاہی تو ہم نے انہیں بڑا گھاٹا پانے والا بنا دیا۔“
(21-الأنبياء:68 تا 70)

◈ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا توکل اور ذکر الہی:

ان لوگوں نے فارس کے ایک گردی اعرابی کے اشارے سے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق کے ایک پلڑے میں رکھا۔ شعیب جیائی کہتے ہیں کہ اس کا نام ہیزن تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت تک دھنستا چلا جائے۔ انہوں نے جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا تو آپ کی زبان پر یہ کلمات تھے: حسبي الله ونعم الوكيل ”میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔“
تفسیر ابن کثیر: 4/124، طبع دار السلام – تفسیر الطبری: 17/57، 58۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کو بیان کیا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے حسبي الله ونعم الوكيل اس وقت کہا جب انہیں آگ میں ڈالا گیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کہا جب لوگوں نے یہ کہا تھا: ﴿إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾ (3-آل عمران:173) ”یقیناً کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لیے (لشکر کشیر) جمع کیا ہے کہ ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زیادہ ہو گیا اور کہنے لگے:حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ہم کو اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب التفسیر، رقم: 4563، 4564۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا تھا اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو بارش کے خازن فرشتے نے کہنا شروع کیا کہ مجھے کب بارش برسانے کا حکم ہوتا ہے کہ میں اسے برسا دوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم اس سے کہیں تیز رفتار تھا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ﴾ ”اے آگ! سرد ہو جا اور ابراہیم پر (موجب) سلامتی (بن جا) تو زمین میں جو بھی آگ تھی وہ بجھ گئی۔“
تفسیر طبری: 17/58 – الدر المنثور: 4/0579
قتادہ کہتے ہیں کہ اس دن چھپکلی کے سوا ہر جانور نے آگ بجھانے کی کوشش کی۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم فرمایا اور اس کا نام «فويسق» رکھا۔
تفسیر ابن کثیر: 4/125، طبع دار السلام – تفسیر الطبری: 17/60۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ابراہیم آگ میں ڈالے گئے تو چھپکلی کے علاوہ تمام چوپایوں نے آگ بجھانے کی کوشش کی تھی، چھپکلی آگ میں پھونک مارتی تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے مارنے کا حکم دیا ہے، وہ زہریلی اور برص والی ہوتی ہے۔“
سنن ابن ماجه، کتاب الذبائح، رقم: 3331ـ التعلیق الرغیب: 4/37ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 1081۔

◈ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور دعوت ہجرت اور ان کی اولاد کا طرز زندگی و منہج:

سیدنا ابراہیم علیہ السلام آگ سے نکلنے کے بعد لوگوں کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرتے رہے، اور دن بدن ان کے خلاف بت پرستوں کی عداوت بڑھتی ہی گئی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا ملک چھوڑ کر سر زمین شام کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دے دیا تو وہ لوط علیہ السلام (جو ان کے بھائی ہاران اصغر کے بیٹے تھے) اور اپنی بیوی سارہ علیہا السلام (جو ان کے چچا ہاران اکبر کی بیٹی تھیں) کے ساتھ ملک شام کی طرف روانہ ہو گئے جو اپنی زرخیزی، درختوں، نہروں اور پھلوں کی کثرت کی وجہ سے مشہور تھا، اور بہت سے انبیاء کی جائے پیدائش، مسکن اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اسے جہان والوں کے لیے مبارک کہا ہے۔

◈ ابراہیم علیہ السلام نے نیک اولاد کی دعا کی:

سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ:
﴿رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ﴾
”اے میرے رب! مجھے نیک لڑکا عطا فرما۔“
(37-الصافات:100)
تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کر لی، چنانچہ سیدہ سارہ علیہا السلام کے بطن سے سیدنا اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے فضل و کرم کرتے ہوئے اسحاق علیہ السلام کو ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی یعقوب علیہ السلام جیسا بیٹا دیا جو اپنے دادا اور باپ کی طرح نبی ہوئے اور ان تینوں ہی حضرات کو اللہ تعالیٰ نے «صالح» کا لقب دیا، اس لیے کہ انہوں نے خالق و مالک کا حق عبادت پورے طور سے ادا کیا، اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کوئی کمی نہیں کی، اور ان سب کو اللہ تعالیٰ نے رشد و ہدایت کا امام بنایا تھا، آسمانی وحی کے مطابق لوگوں کو بھلائی کی طرف رہنمائی کرتے تھے، اور خود بھی نیک کام کرتے تھے، نماز کی پابندی کرتے تھے، اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہتے تھے:
وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ ‎ ﴿٧١﴾ ‏ وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً ۖ وَكُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِينَ ‎ ﴿٧٢﴾ ‏ وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ ۖ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ ‎ ﴿٧٣﴾
”اور ہم نے انہیں اور لوط کو نجات دے کر اس سرزمین میں پہنچا دیا جس میں ہم نے جہان والوں کے لیے برکت رکھی تھی۔ اور ہم نے انہیں اسحاق عطا کیا، اور مزید برآں یعقوب دیا، اور سب کو ہم نے نیک بنایا اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور ہم نے ان کے پاس وحی بھیجی تھی کہ وہ اچھے کام کریں، اور نماز قائم کریں اور زکاۃ دیں، اور وہ سب ہماری ہی عبادت کرتے تھے۔“
(21-الأنبياء:71 تا 73)

◈ آزمائش پر صبر کا صلہ امامت:

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو ان کے رب نے مختلف اوامر و نواہی کے ذریعہ آزمایا، آپ تمام آزمائشوں میں پورے اترے، تو اللہ نے انہیں بطور انعام واکرام تمام عالم کے لیے توحید کا امام بنا دیا۔ جب یہ خوشخبری ان کو دی گئی، تو انہوں نے خواہش کی اور دعا کی کہ اے اللہ!
اس انعام واکرام میں میری اولاد کو بھی شریک کر دے:
﴿وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ﴾
”اور (یاد کرو) جب ابراہیم کو اُن کے رب نے چند باتوں کے ذریعہ آزمایا، تو انہوں نے ان سب کو پورا کر دکھلایا، اللہ نے کہا: میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ کہا: اور میری اولاد میں سے بھی۔ تو اللہ نے فرمایا: ظالم لوگ میرے اس وعدہ میں داخل نہیں ہوں گے۔“
(2-البقرة:124)
تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا سن لی، جیسا کہ سورۃ العنکبوت میں دوسری جگہ فرمایا ہے:
﴿وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ﴾
”اور ہم نے ان کی نسل کو نبوت اور کتاب دی ہے۔“
(29-العنكبوت:27)
نوٹ: لیکن اس استثناء کے ساتھ کہ ظالم لوگ اس وعدہ میں شامل نہ ہوں گے۔ (تیسیر الرحمن: 69)

◈ دین ابراہیم علیہ السلام ممتاز ملت ہے:

﴿وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۗ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا﴾
باعتبار دین کے اس سے اچھا کون ہے جس نے اپنا چہرہ اللہ کے تابع کر دیا، اور وہ ہو بھی نیک کام کرنے والا، اور اس نے موحد و مسلم ابراہیم کی ملت کی پیروی کی اور ابراہیم کو اللہ نے اپنا دوست بنا لیا ہے۔“
(4-النساء:125)

◈ رسول کریم ﷺ صبح و شام ملت ابراہیمی پر قائم رہنے کی دعا فرماتے:

أمسينا على فطرة الإسلام وعلى كلمة الإخلاص وعلى دين نبينا محمد وعلى ملة أبينا إبراهيم حنيفا مسلما وما كان من المشركين (صبح و شام ایک ایک بار)
”ہم نے فطرت اسلام، کلمہ اخلاص، اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور اپنے باپ ابراہیم حنیف (یک سو) مسلم کی ملت پر شام کی۔ اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔“
سنن دارمی: 2/378، رقم: 2688 – مجمع الزوائد: 7/116 – مسند احمد: 3/406، 407 –شیخ ارناؤوط نے اسے صحیح علی شرط الشیخین قرار دیا ہے۔
نوٹ: صبح کے وقت «أمسينا» کے بجائے «أصبحنا» ’ہم نے صبح کی پڑھتے تھے۔

◈ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور خشیت الہی سے آنسو:

سیدنا ابراہیم علیہ السلام بہت زیادہ عاجزی کے ساتھ جھکنے والے اور گریہ کرنے والے تھے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُّنِيبٌ﴾
”بے شک ابراہیم بردبار، دردمند اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔“
(11-هود:75)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں کعب الاحبار رضی اللہ عنہ سے مروی اثر لائے ہیں کہ انہوں نے کہا: ﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُّنِيبٌ﴾ (11-هود:75)
سیدنا ابراہیم علیہ السلام آتش جہنم کو یاد کر کے بہت زیادہ گریہ وزاری کیا کرتے تھے۔“
کتاب الزهد، للإمام احمد، رقم: 407۔

◈ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دم کرنا اور اللہ سے شفا مانگنا:

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن وحسین رضی اللہ عنہما کو اللہ کی پناہ میں دیتے تھے، اور فرمایا کرتے تھے کہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام ان الفاظ کے ساتھ اسماعیل اور اسحاق علیہما السلام کو پناہ میں دیتے تھے۔ وہ الفاظ یہ ہیں:
اعوذ بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة
میں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں، ہر شیطان اور موذی جانور سے اور ہر بد نگاہ سے۔
صحیح بخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، رقم: 3271- سنن ترمذی، رقم: 2060 – سنن ابوداؤد، رقم 4737 – سنن ابن ماجه، رقم: 3525۔

◈ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور اطاعت، توحید اور شکر:

سیدنا ابراہیم علیہ السلام ایک صالح، تمام خوبیوں کے مالک اور لائق اقتداء امام اور پیغمبر تھے۔ اور وہ اپنے رب کے بڑے ہی فرماں بردار تھے، اللہ کے ساتھ غیروں کو شریک نہیں بناتے تھے، اور اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، یعنی اس کی رضا کے کاموں میں ان نعمتوں کا استعمال کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی دوستی اور رسالت کے لیے چن لیا تھا، اس لیے کہ جب انہوں نے ہر چیز سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کی تو ان کے دل میں اس کی محبت پیوست کر دی گئی اور کسی دوسرے کی محبت کے لیے اس میں جگہ باقی نہ رہی، اور اللہ نے ان کی سیدھی راہ یعنی دین اسلام کی طرف رہنمائی کی، اور دنیا میں ان کا ذکر جمیل تمام اہل ادیان کی زبانوں پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا، اور آخرت میں وہ صالحین کی جماعت کے ساتھ جنت میں اعلیٰ مقام پر فائز ہوں گے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ‎ ﴿١٢٠﴾ ‏ شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ‎ ﴿١٢١﴾ ‏ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ‎ ﴿١٢٢﴾
”بے شک ابراہیم راہبر اور اللہ کے فرماں بردار تھے، سب سے کٹ کر اللہ کے ہو گئے تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے، اللہ نے انہیں چن لیا تھا اور راہِ راست پر ڈال دیا تھا۔ ہم نے انہیں دنیا میں اچھائی دی تھی، اور بے شک وہ آخرت میں نیک لوگوں میں ہوں گے۔“
(16-النحل:120 تا 122)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بیت اللہ میں تصویریں دیکھیں تو داخل نہ ہوئے، حتی کہ آپ نے حکم دیا تو وہ تصویریں مٹا دی گئیں۔ آپ نے دیکھا کہ تصویروں میں ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے ہاتھوں میں تیر پکڑائے گئے ہیں۔ تو فرمایا: اللہ تعالیٰ ان (مشرکوں) کو تباہ کرے، اللہ کی قسم! انہوں نے تیروں کے ساتھ کبھی قسمت آزمائی نہیں کی۔“
صحیح بخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، رقم: 3352۔

◈ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو روز قیامت سب سے پہلے لباس پہنایا جائے گا:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب لوگ ننگے اور ختنے کے بغیر اکٹھے کیے جائیں گے، تو سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ﴾ ”جیسے ہم نے پہلی مرتبہ پیدائش کی اسی طرح ہم دوبارہ لوٹائیں گے۔“
صحیح بخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، رقم: 3349- سنن ترمذی، رقم: 2423 ـ مسند ابو داؤد طیالسی، رقم: 2638۔

◈ جنت میں ان کے محل کا ذکر:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک محل ہے۔ راوی کہتا ہے، میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا: ”وہ موتی کا ہے۔ اس میں کوئی دراڑ اور کمزوری نہیں، جو اللہ نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی مہمانی کے لیے تیار کیا ہے۔“
مجمع الزوائد: 8/201 ۔ روایت صحیح ہے۔

◈ دُعائے خلیل، رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بارے میں:

سیدنا ابراہیم اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہما السلام نے اللہ سے علم نافع اور عمل صالح کی توفیق، اور اللہ کی رضا مانگی اور پھر یہ دعا کی کہ اے اللہ!
﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ ‎
”اوراے ہمارے رب! انہی میں سے ایک رسول ان کی ہدایت کے لیے مبعوث فرما، جو تیری آیتیں انہیں پڑھ کر سنائے، اور انہیں قرآن وسنت کی تعلیم دے، اور انہیں پاک کرے، بے شک تو بڑا زبردست اور حکمت والا ہے۔“
(2-البقرة:129)

 سیدنا ایوب علیہ السلام

سیدنا ایوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کی آزمائشوں میں ڈالا تو صبر سے کام لیا اور ایک حرف شکایت اپنی زبان پر نہ لائے، اور نہ ہی ان کے دل میں شک و شبہ کا گذر ہوا۔ آپ کسی بیماری اور شدید تکلیف میں مبتلا ہو گئے، اور کئی سال تک اسی حال میں رہے۔

◈ سیدنا ایوب علیہ السلام صبر کا مظاہرہ کرتے:

سیدنا ایوب علیہ السلام حد درجہ صابر تھے حتی کہ صبر ایوب ضرب المثل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِّعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾
”بے شک ہم نے اسے صابر پایا، (وہ) اچھا بندہ تھا، بلاشبہ وہ (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا تھا۔“
(38-ص:44)

◈ سیدنا ایوب علیہ السلام اور دُعا کا سہارا:

جب تکلیف بہت شدت اختیار کر گئی تو ایوب علیہ السلام نے رب العالمین، ارحم الراحمین کے حضور تضرع اور زاری کرتے ہوئے دُعا کی:
﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
”بے شک مجھے تکلیف پہنچی ہے، اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔“
(21-الأنبياء:83)
یزید بن میسرہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب سیدنا ایوب علیہ السلام کی آزمائش کی اور ان کا اہل و مال اور اولاد سب کچھ چھن گیا اور کچھ باقی نہ رہا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کا خوب احسن انداز میں ذکر کیا اور بارگاہِ الہی میں عرض کیا: اے رب الارباب! میں تیری ہی تعریف کرتا
ہوں، تو نے مجھ پر احسان فرمایا، مجھے مال و اولاد سے نواز حتی کہ دل کے ہر ہر حصے میں مال و اولاد کی محبت رچ بس گئی تھی، اب جب کہ تو نے یہ سارا مال و اولاد واپس لے لیا، ان کی محبت سے میرا دل خالی کر دیا ہے تو اب میرے اور تیرے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے، تو نے میرے ساتھ جو کیا ہے اگر میرے دشمن ابلیس کو اس کا علم ہو جائے تو وہ مجھ سے حسد کرنے لگے۔ ابلیس کو ایوب علیہ السلام کی اس بات سے بہت پریشانی ہوئی۔ سیدنا ایوب علیہ السلام نے بارگاہ الہی میں یہ بھی عرض کیا: اے اللہ! تو نے مجھے مال و اولاد عطا فرمایا لیکن میرے دروازے پر کبھی کوئی ایسا شخص کھڑا نہیں ہوا جس پر میں نے ظلم کیا ہو اور تجھے بھی اس بات کا خوب علم ہے۔ میرے لیے بستر بچھایا جاتا تو میں اپنے جی میں کہتا: اے میری جان! تجھے نرم وگزار بستر پر آرام کرنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔ اور میں تیری رضا اور خوش نودی کے حصول کے لیے بستر ترک کر دیا کرتا تھا۔
تفسیر ابن ابی حاتم: 8/3459 ـ حلية الأولياء: 5/272، رقم: 7095 – الدر المنثور: 4/589-

◈ صبر کا پھل، اللہ کی رحمت کی برکھا:

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو شرف قبولیت سے سرفراز فرمایا اور حکم دیا کہ اپنی جگہ سے اٹھیں اور اپنی ٹانگ زمین پر ماریں۔ آپ نے ایسے ہی کیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک چشمہ جاری فرما دیا اور حکم دے دیا کہ اس سے غسل کریں، آپ نے غسل کیا تو اس سے ساری تکلیف دور ہوگئی، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾
(ہم نے کہا زمین پر) لات مارو(دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں)۔
(38-ص:42)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: اللہ کے نبی ایوب اٹھارہ سال بیماری میں رہے حتی کہ دور قریب کے رشتہ دار سب چھوٹ گئے، دو آدمیوں کے علاوہ۔ آپ قضائے حاجت کے لیے نکلتے، فارغ ہوتے تو آپ کی بیوی ہاتھ کا سہارا دیئے رہتیں حتی کہ آپ واپس آ جاتے۔ ایک دن اس سے دیر ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی:
﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾ اركض برجلك اپنا پاؤں زمین پر ماریے، یہ نہانے اور پینے کے لیے ٹھنڈا پانی ہے۔ بیوی دیر سے پہنچیں تو دیکھنے لگ گئیں، سیدنا ایوب علیہ السلام اس کی طرف آئے جب کہ اللہ نے بیماری بالکل ختم کر دی، اور اب وہ بہت خوبصورت حالت میں تھے۔ بیوی آپ کو دیکھ کر کہنے لگیں، کیا آپ نے اللہ کے نبی کو دیکھا ہے جو یہاں بیماری کی حالت میں موجود تھے؟ اور اللہ کی قسم! جب وہ صحیح تھے تو وہ آپ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، تو (ایوب علیہ السلام نے ) فرمایا: وہ میں ہی ہوں۔ سیدنا ایوب علیہ السلام کے دو کھلیان تھے، ایک گندم کا اور دوسرا جو کا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے۔ ایک بادل گندم کے کھلیان پر آیا، اور اس نے سونا برسایا حتی کہ وہ لبالب بھر گیا۔ پھر دوسرے نے جو کے کھیت پر چاندی برسائی حتی کہ وہ بھی مکمل طور پر چاندی سے بھر گیا۔“
صحیح ابن حبان، رقم: 2887 – سلسلة الصحيحة، رقم: 17۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو جب عافیت عطا فرما دی تو ان پر سونے کی مکڑی (ٹڈی) کی بارش نازل فرمائی، آپ انہیں ہاتھ سے پکڑ پکڑ کر کپڑے میں جمع کرنے لگے، آپ سے کہا گیا: اے ایوب! کیا آپ سیر نہیں ہوئے؟ آپ نے عرض کیا: اے اللہ! آپ کے فضل اور رحمت سے کون سیر ہو سکتا ہے؟
صحیح بخاری، کتاب الغسل، رقم: 279 – مسند احمد: 2/314۔ السنن الكبرى للبيهقی، کتاب الطهارة: 1/198 – تفسیر ابن ابی حاتم: 8/2461۔
آپ کو بال بچے بھی عطا کر دیے گئے اور ان کے ساتھ اتنے ہی مزید بخشے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ﴾
اور ہم نے اس کے اہل وعیال بھی دیے، اور اپنی طرف سے مہربانی کے لیے ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی عطا کیے۔
(21-الأنبياء:84)
﴿وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾
اور ہم نے ان کو اہل وعیال اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بخشے (یہ) ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لیے نصیحت تھی۔“
(38-ص:43)
یہ ان کی صبر وثبات، انابت تواضع اور اظہار مسکنت کی وجہ سے رحمت باری تعالیٰ اور اہل عقل و خرد کے لیے نصیحت تھی تاکہ وہ جان لیں کہ صبر کا انجام کشادگی، کامیابی اور راحت ہے۔