مضمون کے اہم نکات
اہل حدیث پر بعض اعتراضات اور ان کے جوابات
الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله الأمين، أما بعد:
صحیح العقیدہ محدثین کرام اور تقلید کے بغیر، سلف صالحین کے فہم پر کتاب و سنت کی اتباع کرنے والوں کا لقب اور صفاتی نام: اہل حدیث ہے۔ اہل حدیث کے نزدیک قرآنِ مجید، احادیثِ صحیحہ (على فهم السلف الصالحين) اور اجماعِ شرعی حجت ہیں۔ انھیں ادلۂ شرعیہ بھی کہا جاتا ہے۔ ادلۂ شرعیہ سے اجتہاد کا جواز ثابت ہے اور اجتہاد کی متعدد اقسام ہیں:
① کتاب و سنت کے عموم و مفہوم وغیرہما سے استدلال
② آثارِ سلف صالحین سے استدلال
③ وہ قیاس جو ادلۂ شرعیہ کے مخالف نہ ہو۔
④ مصالح مرسلہ وغیرہ
اہل حدیث کے نزدیک اجتہاد جائز ہے لہٰذا ادلۂ شرعیہ ثلاثہ سے استدلال کے بعد دلیلِ رابع پر بھی عمل جائز ہے، بشرطیکہ کتاب و سنت، اجماع اور آثارِ سلف صالحین کے خلاف نہ ہو۔ دوسرے الفاظ میں اہل حدیث کے نزدیک ادلۂ اربعہ درج بالا مفہوم کے ساتھ حجت ہیں۔
تنبیہ: اجتہاد عارضی اور وقتی ہوتا ہے لہٰذا اسے دائمی قانون کی حیثیت نہیں دی جا سکتی اور نہ ایک شخص کا اجتہاد دوسرے شخص پر دائمی و لازمی حجت قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس تمہید کے بعد بعض الناس کے اہل حدیث پر اعتراضات و مغالطات کے جوابات پیشِ خدمت ہیں:
اعتراض نمبر 1:
اہل حدیث کے نزدیک شرعی دلیلیں صرف دو ہیں:
① قرآن
② حدیث تیسری کوئی دلیل نہیں ہے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: [لا يجمع الله أمتي على ضلالة أبداً]
اللہ میری امت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ (المستدرک للحاکم:1/ 116 ح 399 وسندہ صحیح)
اس حدیث سے اجماعِ امت کا حجت ہونا ثابت ہے۔ (دیکھئے ماہنامہ الحدیث:1ص 4 جون2004ء)
حافظ عبداللہ غازی پوری محدث رحمہ اللہ (متوفی1337ھ) فرماتے ہیں:
اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ اہل حدیث کو اجماعِ امت و قیاسِ شرعی سے انکار ہے۔ کیونکہ جب یہ دونوں کتاب و سنت سے ثابت ہیں تو کتاب و سنت کے ماننے میں ان کا ماننا آ گیا۔ (ابراء اہل الحدیث والقرآن:ص32)
معلوم ہوا کہ اہل حدیث کے نزدیک اجماعِ امت (اگر ثابت ہو تو) شرعی حجت ہے۔ اسی وجہ سے ماہنامہ الحدیث حضرو کے تقریباً ہر شمارے پر لکھا ہوتا ہے کہ ’’قرآن و حدیث اور اجماع کی برتری‘‘ یہ بھی یاد رہے کہ اہل حدیث کے نزدیک اجتہاد جائز ہے جیسا کہ تمہید میں عرض کر دیا گیا ہے۔ والحمدلله
اعتراض نمبر 2:
اہل حدیث کے نزدیک ہر شخص کو اختیار ہے کہ وہ قرآن و حدیث کو فہمِ سلف صالحین کے بجائے اپنے ذاتی فہم کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرے۔
جواب:
یہ اعتراض بالکل غلط ہے۔ بلکہ اس کے برعکس حافظ عبداللہ روپڑی رحمہ اللہ (متوفی1384ھ) فرماتے ہیں: خلاصہ یہ کہ ہم تو ایک ہی بات جانتے ہیں وہ یہ کہ سلف کا خلاف جائز نہیں۔ (فتاویٰ اہل حدیث: ج1 ص111)
معلوم ہوا کہ اہل حدیث کے نزدیک قرآن و حدیث کو سلف صالحین کے فہم سے سمجھنا چاہئے اور سلف صالحین کے فہم کے مقابلے میں ذاتی انفرادی فہم کو دیوار پر دے مارنا چاہئے۔ اسی وجہ سے ماہنامہ الحدیث حضرو کے تقریباً ہر شمارے کے آخری ٹائٹل پر لکھا ہوتا ہے کہ ’’سلف صالحین کے متفقہ فہم کا پرچار‘‘
اعتراض نمبر 3:
اہل حدیث کے نزدیک صرف صحیح بخاری اور صحیح مسلم ہی حجت ہیں۔ وہ حدیث کی دوسری کتابوں کو نہیں مانتے۔
جواب:
یہ اعتراض بھی باطل ہے، کیونکہ اہل حدیث کے نزدیک صحیح احادیث حجت ہیں چاہے وہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ہوں یا سنن ابی داود، سنن الترمذی، سنن النسائی، سنن ابن ماجہ، مسند احمد، مصنف ابن ابی شیبہ اور دیگر کتبِ حدیث میں صحیح و حسن لذاتہ سند کے ساتھ موجود ہوں۔ ہماری تمام کتابیں بشمول ماہنامہ الحدیث حضرو، اس پر گواہ ہیں کہ ہم صحیحین کے ساتھ ساتھ دوسری کتبِ حدیث کی صحیح روایتوں سے بھی استدلال کرتے ہیں۔
اعتراض نمبر 4:
اہل حدیث تقلید نہیں کرتے۔
جواب:
جی ہاں! اہل حدیث تقلید نہیں کرتے، کیونکہ تقلید کے جواز یا وجوب کا کوئی ثبوت قرآن، حدیث اور اجماع میں نہیں ہے اور نہ آثارِ سلف صالحین سے تقلید ثابت ہے بلکہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [وأما زلة عالم فإن اهتدى فلا تقلدوه دينكم]
رہا عالم کی غلطی کا مسئلہ تو اگر وہ ہدایت پر بھی ہو تو اپنے دین میں اس کی تقلید نہ کرو۔
(کتاب الزہد للامام وکیع:ج1 ص300 ح71 وسندہ حسن، دین میں تقلید کا مسئلہ:ص36)
اہل سنت کے جلیل القدر امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ نے اپنی اور دوسروں کی تقلید سے منع کیا ہے۔
(کتاب الام، مختصر المزنی:ص1، دین میں تقلید کا مسئلہ:ص38)
اہل سنت کے مشہور عالم حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ (تقلید کی) بدعت چوتھی صدی (ہجری) میں پیدا ہوئی ہے۔
(اعلام الموقعین:ج2 ص208، دین میں تقلید کا مسئلہ:ص 32)
ظاہر ہے کہ کتاب و سنت پر عمل اور بدعت سے بچنے میں ہی دونوں جہانوں کی کامیابی کا یقین ہے۔
اعتراض نمبر 5:
وحید الزماں حیدر آبادی نے یہ لکھا ہے اور نواب صدیق حسن خان نے وہ لکھا ہے۔ نور الحسن نے یہ لکھا ہے اور بٹالوی نے وہ لکھا ہے۔
جواب:
وحید الزماں صاحب ہوں یا نواب صدیق حسن خان صاحب، نور الحسن ہو یا بٹالوی صاحب ہوں، ان میں سے کوئی بھی اہل حدیث کے اکابر میں سے نہیں ہے اور اگر ہوتے بھی تو اہل حدیث اکابر پرست نہیں ہیں۔
وحیدالزمان صاحب تو متروک تھے۔ (دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو:23 ص36-40)
ماسٹر امین اوکاڑوی دیوبندی تقلیدی نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اہل حدیث کے علماء اور عوام بالاتفاق وحیدالزمان وغیرہ کی کتابوں کو غلط قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔ (تحقیق مسئلہ تقلید:ص6)
شبیر احمد عثمانی دیوبندی کو وحیدالزمان کا (صحیح بخاری کا) ترجمہ پسند تھا۔
(دیکھئے فضل الباری:ج1 ص23، از قلم: محمد یحییٰ صدیقی دیوبندی)
وحیدالزمان صاحب عوام کے لئے تقلید کو واجب سمجھتے تھے۔ [دیکھئے نزل الابرار (ص7) شائع کردہ آلِ دیوبند لاہور] لہٰذا انصاف یہی ہے کہ وحیدالزمان کے تمام حوالے آلِ دیوبند اور آلِ تقلید کے خلاف پیش کرنے چاہئیں۔ نواب صدیق حسن خان صاحب (تقلید نہ کرنے والے) حنفی تھے۔ (مآثر صدیقی: حصہ چہارم ص1، دیکھئے حدیث اور اہل حدیث:ص84)
نور الحسن مجہول الحال ہے اور اس کی طرف منسوب کتابیں اہل حدیث کے نزدیک معتبر کتابوں کی فہرست میں نہیں ہیں بلکہ یہ تمام کتابیں غیر مفتیٰ بہا اور غیر معمول بہا مسائل پر مشتمل ہونے کی وجہ سے مردود ہیں۔
محمد حسین بٹالوی صاحب رحمہ اللہ اہل حدیث عالم تھے لیکن اکابر میں سے نہیں تھے، بلکہ ایک عام عالم تھے جنھوں نے سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ ان کی کتاب ’الاقتصاد‘ مردود کتابوں میں سے ہے۔ بٹالوی صاحب کی پیدائش سے صدیوں پہلے روئے زمین پر اہل حدیث موجود تھے۔ مثلاً (دیکھئے ماہنامہ الحدیث:29 ص13تا33)
خلاصہ یہ کہ ان علماء اور دیگر علماءِ اصاغر کے حوالے اہل حدیث کے خلاف پیش کرنا ظلمِ عظیم ہے۔ اگر کچھ پیش کرنا ہے تو اہل حدیث کے خلاف قرآنِ مجید، احادیثِ صحیحہ، اجماع اور سلف صالحین مثلاً صحابہ و ثقہ تابعین و ثقہ تبع تابعین و کبار محدثین کے حوالے پیش کریں بصورتِ دیگر دندان شکن جواب پائیں گے۔
ان شاء اللہ
تنبیہ: اہل حدیث کے نزدیک قرآن و حدیث اور اجماع کے صریح مخالف ہر قول مردود ہے خواہ اسے بیان کرنے یا لکھنے والا کتنا ہی عظیم المرتبت کیوں نہ ہو۔
اعتراض نمبر 6:
مفتی عبدالہادی دیوبندی وغیرہ نے لکھا ہے کہ ’’یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ غیر مقلدین (جو خود کو اہل حدیث کہتے ہیں) کا وجود انگریز کے دور سے پہلے نہ تھا۔ (نفس کے پجاری:ص1)
جواب:
دو قسم کے لوگوں کو اہل حدیث کہتے ہیں:
صحیح العقیدہ (ثقہ و صدوق) محدثین کرام جو تقلید کے قائل نہیں ہیں۔
محدثین کرام کے عوام جو صحیح العقیدہ ہیں اور بغیر تقلید کے کتاب و سنت پر عمل کرتے ہیں۔ یہ دونوں گروہ خیر القرون سے لے کر آج تک ہر دور میں موجود رہے ہیں۔
دلیل اول:
صحابۂ کرام سے تقلیدِ شخصی و تقلیدِ غیر شخصی کا کوئی صریح ثبوت نہیں ہے بلکہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [و أما زلة عالم فإن اهتدى فلا تقلدوه دينكم]
رہا عالم کی غلطی کا مسئلہ تو (سنو) وہ اگر سیدھے راستے پر بھی (چل رہا) ہو تو بھی اپنے دین میں اس کی تقلید نہ کرو۔
(کتاب الزہد للامام وکیع:ج1 ص300 ح71 وسندہ حسن، دین میں تقلید کا مسئلہ:ص35)
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [لا تقلدوا دينكم الرجال] اپنے دین میں لوگوں کی تقلید نہ کرو۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی:ج2 ص10، وسندہ صحیح، نیز دیکھئے دین میں تقلید کا مسئلہ:ص35)
صحابہ میں سے کوئی بھی ان کا مخالف نہیں ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ صحابۂ کرام کا اس پر اجماع ہے کہ تقلید ممنوع ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام صحابہ اہل حدیث تھے۔ یاد رہے کہ اس اجماع کے مخالفین و منکرین جو ’دلائل‘ پیش کرتے ہیں ان میں تقلید کا لفظ نہیں ہے۔
دلیل دوم:
مشہور جلیل القدر تابعی امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ لوگ تجھے رسول اللہ ﷺ کی جو حدیث بتائیں اسے (مضبوطی سے) پکڑ لو اور جو بات وہ اپنی رائے سے (کتاب و سنت کے خلاف) کہیں اسے کوڑے کرکٹ (کے ڈھیر) پر پھینک دو۔
(مسند الدارمی:ج1 ص67 ح206 وسندہ صحیح، دین میں تقلید کا مسئلہ:ص37)
ابراہیم نخعی کے سامنے کسی نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا قول پیش کیا تو انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے مقابلے میں تم سعید کے قول کو کیا کرو گے؟
(الاحکام لابن حزم: ج6 ص293 وسندہ صحیح، دین میں تقلید کا مسئلہ:ص38)
تابعین میں سے کسی ایک سے بھی تقلید کا جواز یا وجوب ثابت نہیں ہے لہٰذا ان اقوال اور دیگر اقوال سے صاف ظاہر ہے کہ تقلید کے ممنوع ہونے پر تابعین کا بھی اجماع ہے اور یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ تمام ثقہ و صحیح العقیدہ تابعین اہل حدیث تھے۔
دلیل سوم:
تبع تابعی حکم بن عتیبہ نے فرمایا: آپ لوگوں میں سے ہر آدمی کی بات لے بھی سکتے ہیں اور رد بھی کر سکتے ہیں سوائے نبی ﷺ کے۔ (الاحکام لابن حزم: ج6 ص293 وسندہ صحیح)
تبع تابعین میں سے کسی ایک ثقہ تبع تابعی سے تقلیدِ شخصی و تقلیدِ غیر شخصی کا کوئی ثبوت نہیں ہے لہٰذا اس پر بھی اجماع ہے کہ تمام ثقہ و صحیح العقیدہ تبع تابعین اہل حدیث تھے۔
دلیل چہارم:
اتباعِ تبع تابعین میں سے ایک جماعت نے تقلید سے منع کیا ہے، مثلاً امام ابو عبداللہ محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ نے اپنی اور دوسروں کی تقلید سے منع کیا۔ دیکھئے کتاب الام (مختصر المزنی:ص1)
امام شافعی نے فرمایا: اور میری تقلید نہ کرو۔ (آداب الشافعی ومناقبہ لابن ابی حاتم:ص51 وسندہ حسن)
امام احمد نے فرمایا: اپنے دین میں ان میں سے کسی ایک کی بھی تقلید نہ کرو۔ (مسائل ابی داود:ص277)
ایک صحیح حدیث میں ہے کہ طائفۂ منصورہ (اہلِ حق کا سچا گروہ) ہمیشہ حق پر غالب رہے گا۔ اس کی تشریح میں امام بخاری فرماتے ہیں: یعنی اس سے مراد اہل الحدیث ہیں۔
(مسألة الاحتجاج بالشافعي للخطيب:ص47 وسندہ صحیح)
امام قتیبہ بن سعید نے فرمایا: اگر تو کسی آدمی کو دیکھے کہ وہ اہل حدیث سے محبت کرتا ہے تو یہ شخص سنت پر (عمل پیرا) ہے۔
(شرف اصحاب الحدیث للخطیب:ص134 ح143 وسندہ صحیح)
امام احمد بن سنان الواسطی نے فرمایا: دنیا میں کوئی بھی ایسا بدعتی نہیں جو اہل حدیث سے بغض نہیں رکھتا۔
(معرفۃ علوم الحدیث للحاکم:ص4 وسندہ صحیح)
(مزید حوالوں کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو: 29 ص 13 تا 33)
معلوم ہوا کہ تمام صحیح العقیدہ اور ثقہ اتباعِ تبع تابعین اہل حدیث تھے اور تقلید نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ دوسروں کو بھی تقلید سے روکتے تھے۔
دلیل پنجم:
حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ (امام) مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، ابویعلیٰ اور البزار اور غیرہم اہل حدیث کے مذہب پر تھے، وہ علماء میں سے کسی کی تقلیدِ معین کرنے والے مقلدین نہیں تھے اور نہ مطلق طور پر مجتہد تھے۔
(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ:ج20 ص40)
معلوم ہوا کہ تمام صحیح العقیدہ اور ثقہ محدثین کرام تقلید نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اہل حدیث تھے۔ آج کل بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ غیر مجتہد پر تقلید واجب ہے۔ حافظ ابن تیمیہ کے درج بالا قول سے ان کے دعوے کی تردید ہوتی ہے کیونکہ مذکورہ محدثین کرام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک مطلق طور پر مجتہد نہیں تھے اور نہ تقلید کرتے تھے۔
یاد رہے کہ ان جلیل القدر محدثین کا مجتہد نہ ہونا محلِ نظر ہے۔ دیکھئے: (دین میں تقلید کا مسئلہ:ص51)
دلیل ششم:
تیسری صدی ہجری کے آخری دور میں فوت ہونے والے امام قاسم بن محمد القرطبی (متوفی 276ھ) نے تقلید کے رد پر ایک کتاب ’الإيضاح في الرد على المقلدين‘ لکھی۔ (سیر اعلام النبلاء:ج13 ص329 ت 150)
دلیل ہفتم:
چوتھی صدی ہجری میں فوت ہونے والے سچے امام ابو بکر عبداللہ بن ابی داود السجستانی (متوفی 316ھ) نے فرمایا: اور تو اس قوم میں سے نہ ہونا جو اپنے دین سے کھیلتے ہیں ورنہ تو اہل حدیث پر طعن و جرح کر بیٹھے گا۔ (کتاب الشریعۃ للآجری: ص975 وسندہ صحیح)
دلیل ہشتم:
پانچویں صدی ہجری میں حافظ ابن حزم ظاہری اندلسی نے صدا بلند کی کہ تقلید حرام ہے۔ (النبذة الكافية في أحكام أصول الدين: ص70)
دلیل نہم:
حافظ ابن قیم الجوزیہ نے اعلان کیا: اور (تقلید کی) یہ بدعت چوتھی صدی میں پیدا ہوئی ہے جس صدی کی مذمت رسول اللہ ﷺ نے اپنی (مقدس) زبان سے بیان فرمائی ہے۔ (اعلام الموقعین: ج2 ص208)
حافظ ابن قیم نے اپنے مشہور قصیدے ’’نونیہ‘‘ میں فرمایا: اے اہل حدیث سے بغض رکھنے اور گالیاں دینے والے! تجھے شیطان سے دوستی قائم کرنے کی ’’بشارت‘‘ ہو۔ (الکافیۃ الشافیۃ:ص199)
دلیل دہم:
پانچویں صدی ہجری میں فوت ہونے والے ابو منصور عبد القاہر بن طاہر بن محمد التمیمی البغدادی (متوفی 429ھ) نے اپنی کتاب میں فرمایا: [في ثغور الروم والجزيرة وثغور الشام وثغور آذربيجان وباب الأبواب كلهم على مذهب أهل الحديث من أهل السنة]
روم، جزیرہ، شام، آذربائیجان اور باب الابواب کی سرحدوں پر تمام لوگ اہل سنت میں سے اہل حدیث کے مذہب پر ہیں۔ (اصول الدین: ص317)
مذکورہ (و دیگر) دلائل سے صاف ثابت ہے کہ اہل حدیث اہل سنت ہیں اور نبی کریم ﷺ کے دور سے لے کر ہر دور میں اہل حدیث موجود رہے ہیں۔ والحمدلله
اب چند الزامی دلائل پیشِ خدمت ہیں:
دلیل نمبر1:
مفتی رشید احمد لدھیانوی دیوبندی نے لکھا:تقریباً دوسری تیسری صدی ہجری میں اہل حق میں فروعی اور جزئی مسائل کے حل کرنے میں اختلافِ انظار کے پیشِ نظر پانچ مکاتبِ فکر قائم ہو گئے یعنی مذاہبِ اربعہ اور اہل حدیث۔ اس زمانے سے لے کر آج تک انہی پانچ طریقوں میں حق کو منحصر سمجھا جاتا رہا۔
(احسن الفتاویٰ: ج1 ص316، مودودی صاحب اور تخریبِ اسلام: ص20)
اس دیوبندی اعتراف سے معلوم ہوا کہ اہل حدیث 101 ہجری اور 201 ہجری سے روئے زمین پر موجود ہیں۔
دلیل نمبر 2:
تفسیر حقانی کے مصنف عبدالحق حقانی دہلوی نے کہا: اور اہل سنت شافعی حنبلی مالکی حنفی ہیں اور اہل حدیث بھی ان ہی میں داخل ہیں۔ (حقانی عقائد الاسلام: ص 3)
یہ کتاب محمد قاسم نانوتوی کی پسند کردہ ہے۔ دیکھئے: (حقانی عقائد الاسلام کا آخر: ص264)
دلیل نمبر 3:
درج بالا حوالے کی رُو سے محمد قاسم نانوتوی دیوبندی نے بھی اہل حدیث کو اہل سنت قرار دیا ہے اور اہل سنت کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
[ومن أهل السنة والجماعة مذهب قديم معروف قبل أن يخلق الله أبا حنيفة ومالكاً والشافعي وأحمد فإنه مذهب الصحابة]
اور ابو حنیفہ، مالک، شافعی اور احمد کی پیدائش سے پہلے اہل سنت والجماعت میں سے ایک قدیم مشہور مذہب ہے، بے شک یہ مذہب صحابہ کا ہے۔
(منہاج السنۃ النبویہ: ج1 ص 256 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)
اس حوالے سے معلوم ہوا کہ اہل حدیث اہل سنت ہیں اور مذاہبِ اربعہ کے وجود سے پہلے روئے زمین پر موجود ہیں۔ والحمدلله
دلیل نمبر 4:
مفتی کفایت اللہ دہلوی دیوبندی ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ہاں اہل حدیث مسلمان ہیں اور اہل سنت والجماعت میں داخل ہیں۔ ان سے شادی بیاہ کا معاملہ کرنا درست ہے۔ محض ترکِ تقلید سے اسلام میں فرق نہیں پڑتا اور نہ اہل سنت والجماعت سے تارکِ تقلید باہر ہوتا ہے۔ (کفایت المفتی: ج 1 ص 325 جواب: 370)
دلیل نمبر 5:
اشرف علی تھانوی دیوبندی نے لکھا ہے:
اگرچہ اس امر پر اجماع نقل کیا گیا ہے کہ مذاہبِ اربعہ کو چھوڑ کر مذہبِ خامس مستحدث کرنا جائز نہیں یعنی جو مسئلہ چاروں مذہبوں کے خلاف ہو اُس پر عمل جائز نہیں کہ حق دائر و منحصر ان چار میں ہے مگر اس پر بھی کوئی دلیل نہیں کیونکہ اہل ظاہر ہر زمانہ میں رہے اور یہ بھی نہیں کہ سب اہل ہویٰ ہوں وہ اس اتفاق سے علیحدہ رہے دوسرے اگر اجماع ثابت بھی ہو جاوے مگر تقلیدِ شخصی پر تو کبھی اجماع بھی نہیں ہوا۔ (تذکرۃ الرشید: ج 1 ص 131)
خلاصۃ التحقیق:
مفتی عبدالہادی وغیرہ جیسے کذابین کا یہ کہنا کہ ’’اہلِ حدیث کا وجود انگریز کے دور سے پہلے نہ تھا‘‘ بالکل جھوٹ اور باطل ہے۔ علمائے حق کے حوالوں اور تقلیدیوں کے اعترافات و بیانات سے ثابت کر دیا گیا ہے کہ تقلید نہ کرنے والے اہل حدیث کا وجود مسعود پہلی صدی ہجری سے لے کر ہر دور میں رہا ہے۔ دوسری طرف دیوبندی و تقلیدی فرقوں کا وجود خیر القرون کا مبارک دور گزر جانے کے بعد مختلف ادوار میں پیدا ہوا ہے مثلاً دیوبندی مذہب کی بنیاد 1867ء میں انگریزوں کے دور میں رکھی گئی۔
اشرف علی تھانوی دیوبندی سے پوچھا گیا کہ اگر تمھاری حکومت ہو جائے تو انگریزوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرو گے؟ انھوں نے جواب دیا:
محکوم بنا کر رکھیں کیونکہ جب خدا نے حکومت دی تو محکوم ہی بنا کر رکھیں گے مگر ساتھ ہی اسکے نہایت راحت اور آرام سے رکھا جائے گا اس لئے کہ انھوں نے ہمیں آرام پہونچایا ہے اسلام کی بھی تعلیم ہے اور اسلام جیسی تعلیم تو دنیا کے کسی مذہب میں نہیں مل سکتی۔
(ملفوظات حکیم الامت: ج 6 ص 55 ملفوظ: 107)
معلوم ہوا کہ انگریزوں نے دیوبندیوں کو بہت آرام پہنچایا تھا۔ ایک انگریز نے جب مدرسہ دیوبند کا معائنہ کیا تو اس مدرسے کے بارے میں نہایت اچھے خیالات کا اظہار کر کے لکھا: یہ مدرسہ خلاف سرکار نہیں بلکہ موافق سرکار مدد معاون سرکار ہے۔
(محمد احسن نانوتوی از محمد ایوب قادری: ص 217، فخر العلماء: ص 60)
انگریز سرکار کے اس موافق (حمایت و موافقت کرنے والے) مدد (مدد کرنے والے) اور معاون (تعاون کرنے والے) مدرسے کے بارے میں یہ ایک اہم حوالہ ہے جسے دیوبندیوں نے بذاتِ خود لکھا ہے اور کوئی تردید نہیں کی۔
اعتراض نمبر 7:
مفتی عبدالہادی دیوبندی وغیرہ کہتے ہیں کہ محدثین سب کے سب مقلد رہے ہیں۔
جواب:
حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے انگریزوں کے دور میں بننے والے مدرسہ دیوبند کے بانی محمد قاسم نانوتوی کی پیدائش سے صدیوں پہلے محدثین (مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہما) کے بارے میں لکھا ہے: [فهم على مذهب أهل الحديث ليسوا مقلدين لواحد بعينه من العلماء ولا هم من الأئمة المجتهدين على الإطلاق]
پس وہ اہل حدیث کے مذہب پر تھے، علماء میں سے کسی کی تقلیدِ معین کرنے والے مقلدین نہیں تھے اور نہ مجتہدِ مطلق تھے۔ (مجموع الفتاویٰ: ج20 ص40)
صرف اس ایک حوالے سے بھی عبدالہادی (اور اس کے ہمنواؤں) کا کذاب ہونا ثابت ہے۔ یاد رہے کہ ثقہ و صحیح العقیدہ محدثین میں سے کسی ایک کا بھی مقلد ہونا ثابت نہیں ہے۔ طبقاتِ حنفیہ وغیرہ کتب کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان کتابوں میں مذکور سارے لوگ مقلد تھے۔ عینی حنفی (!) نے کہا: مقلد غلطی کرتا ہے اور مقلد جہالت کا ارتکاب کرتا ہے اور ہر چیز کی آفت تقلید کی وجہ سے ہے۔ (البناية في شرح الهداية :ج 1 ص 317)
زیلعی حنفی (!) نے کہا: پس مقلد غلطی کرتا ہے اور مقلد جہالت کا ارتکاب کرتا ہے۔ (نصب الراية: ج 1 ص 219) نیز دیکھئے (دین میں تقلید کا مسئلہ:ص 39-46)
اعتراض نمبر 8:
ہندوستان میں اہل حدیث کا وجود انگریزوں کے دور سے پہلے نہیں ملتا۔
جواب:
چوتھی صدی ہجری کے مؤرخ محمد بن احمد بن احمد بن ابی بکر البشاری المقدسی (متوفی 375ھ) نے منصوره (سندھ) کے لوگوں کے بارے میں کہا:
[مذاهبهم أكثر أصحاب حديث ورأيت القاضي أبا محمد المنصوري داودياً إماماً في مذهبه وله تدريس و تصانيف، قد صنف كتباً عدة حسنةً]
ان کے مذاہب یہ ہیں کہ وہ اکثر اصحابِ حدیث ہیں اور میں نے قاضی ابو محمد منصوری کو دیکھا جو داودی تھے اور اپنے مذہب کے امام تھے۔ وہ تدریس و تصنیف پر کاربند تھے۔ انھوں نے کئی اچھی کتابیں لکھی ہیں۔ (احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم: ص481)
داود بن علی الظاہری کے منہج پر عمل کرنے والے ظاہری کہلاتے تھے اور تقلید سے دور تھے۔
احمد شاہ درانی کو شکست دینے والے مغل بادشاہ احمد شاہ بن ناصر الدین محمد شاہ (دورِ حکومت 1161ھ بمطابق 1748ء تا 1167ھ بمطابق 1753ء) کے دور میں فوت ہو جانے والے شیخ محمد فاخر زائر الہ آبادی رحمہ اللہ (متوفی 1164ھ بمطابق 1751ء) فرماتے ہیں کہ:جمہور کے نزدیک کسی خاص مذہب کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے بلکہ اجتہاد واجب ہے۔ تقلید کی بدعت چوتھی صدی ہجری میں پیدا ہوئی ہے۔ (رسالہ نجاتیہ اردو مترجم: ص41-42)
شیخ محمد فاخر مزید فرماتے ہیں: [لكن أحق مذاهب اهل حديث ست]
مگر اہل حدیث کا مذہب دیگر مذاہب سے زیادہ حق پر ثابت ہے۔ (رسالہ نجاتیہ: ص41)
معلوم ہوا کہ مدرسہ دیوبند اور مدرسہ بریلی کی پیدائش سے بہت پہلے ہندوستان میں اہل حدیث موجود تھے لہٰذا یہ کہنا کہ ’’انگریزوں کے دور سے پہلے اہل حدیث کے وجود کا ثبوت نہیں ملتا‘‘ بالکل جھوٹ اور باطل ہے۔ نیز دیکھئے جواب اعتراض نمبر 6
اعتراض 9:
عبدالرحمن پانی پتی کہتا ہے کہ (مشہور اہل حدیث عالم) عبدالحق بنارسی (سیدہ) عائشہ رضی اللہ عنہا کو مرتد کہتا تھا اور کہتا تھا کہ صحابہ کا علم ہم سے کم تھا۔ دیکھئے پانی پتی کی کتاب کشف الحجاب: ص46۔ عبدالحق بنارسی پر عبدالخالق نے تنبیہ الضالین: ص13 میں تنقید کی ہے۔
جواب:
عبدالرحمن پانی پتی ایک سخت فرقہ پرست تقلیدی تھا اور مولانا عبدالحق بنارسی کا سخت مخالف تھا۔ اس پانی پتی نے مذکورہ الزام کا کوئی حوالہ مولانا عبدالحق کی کسی کتاب سے پیش نہیں کیا اور نہ ایسی کوئی بات ان کی کسی کتاب میں موجود ہے لہٰذا عبدالرحمن پانی پتی نے تعصب و مخالفت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحق بنارسی رحمہ اللہ پر جھوٹ بولا ہے۔
عبدالخالق تقلیدی بھی مولانا عبدالحق کے مخالف گروہ کا ایک فرد تھا۔
میاں سید نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ کے سر ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ عبدالخالق صحیح العقیدہ اور سچا تھا۔ کتنے ہی دیوبندی سسر ایسے ہیں جن کے داماد اہل حدیث ہیں! یہ بات عام لوگوں کو معلوم ہے کہ کسی بھی شخص کی اپنے مخالف کے خلاف بے حوالہ اور بے ثبوت بات مردود ہوتی ہے۔
مولانا عبدالحق بنارسی کے بارے میں ابوالحسن ندوی کے باپ حکیم عبدالحئ(تقلیدی) نے لکھا ہے: [الشيخ العالم المحدث المعمر.. أحد العلماء المشهورين]
(نزہۃ الخواطر: ج7 ص266)
اس کے بعد حکیم عبدالحئ نے مولانا عبدالحق کی گستاخی میں چند باطل باتیں لکھ کر محمد بن عبدالعزیز الزینبی سے نقل کیا کہ: [ولم أر بعيني أفضل منه] میں نے ان (عبدالحق بنارسی) سے زیادہ افضل کوئی نہیں دیکھا۔ (نزہۃ الخواطر: ج 7 ص 267)
نیل الاوطار کے مصنف محمد بن علی الشوکانی نے اپنے شاگرد عبدالحق بنارسی کے بارے میں لکھا: [الشيخ العلامة كثر الله فوائده بمنه وكرمه ونفع بمعارفه] (نزہۃ الخواطر:7/ 268)
سید عبداللہ بن محمد بن اسماعیل الامیر الصنعانی نے لکھا: [الولد العلامة زينة أهل الإستقامة ذو الطريقة الحميدة والخصال الشريفة المعمورة]
بیٹا، علامہ، اہلِ استقامت کی زینت، اچھے طریقے والا اور اچھی شریف خصلتوں والا۔ (نزہۃ الخواطر:7/ 270)
علماء کی اس تعریف کے بعد مولانا عبدالحق بنارسی (متوفی 1276ھ بمطابق 1860ء) کے خلاف عبدالرحمن پانی پتی، عبدالخالق اور آلِ تقلید کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا معنی رکھتا ہے؟
یاد رہے کہ منیٰ (مکہ مکرمہ) میں فوت ہونے والے مولانا بنارسی سے آلِ تقلید کو یہ دشمنی اور غصہ ہے کہ انھوں نے تقلید کے رد میں ایک کتاب ’’الدر الفريد في المنع عن التقليد‘‘ لکھی اور وہ تقلید کے سخت خلاف تھے۔ رحمہ اللہ
اعتراض نمبر 10:
اہل حدیث نے انگریزوں کی حمایت کی ہے۔
جواب1857ء:
میں جب انگریزوں کے خلاف مسلمانوں اور کافروں نے جنگِ آزادی لڑی تو علماء سے جہاد کے بارے میں پوچھا گیا۔ علماء نے جہاد کے بارے میں فتویٰ دیا: [درصورتِ مرقومہ فرضِ عین ہے۔]
اس فتوے پر اہل حدیث علماء میں سے ایک مشہور عالم سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ (سابق حنفی و تحقیقِ اہل حدیث) کے دستخط روزِ روشن کی طرح چمک رہے ہیں۔ دیکھئے محمد میاں دیوبندی کی کتاب علماء ہند کا شاندار ماضی (ج4 ص179) جانباز مرزا (دیوبندی) کی کتاب ’’انگریز کے باغی مسلمان‘‘ (ص 293)
اس فتوے کے بعد جب انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کر لیا تو سید نذیر حسین کو گرفتار کر کے راولپنڈی جیل میں ایک سال تک بند رکھا گیا، جبکہ دوسری طرف عاشق الہی میرٹھی دیوبندی نے رشید احمد گنگوہی اور محمد قاسم نانوتوی وغیرہما کے بارے میں لکھا:
جیسا کہ آپ حضرات اپنی مہربان سرکار کے دلی خیر خواہ تھے تازیست خیر خواہ ہی ثابت رہے۔ (تذکرۃ الرشید: ج1 ص79)
ساری زندگی انگریز سرکار کے ’’خیر خواہ ہی‘‘ ثابت رہنے والوں کے بزرگ فضل الرحمن گنج مراد آبادی نے کہا: ’’لڑنے کا کیا فائدہ خضر کو تو میں انگریزوں کی صف میں پا رہا ہوں۔
(حاشیہ سوانح قاسمی: ج2 ص103، علماء ہند کا شاندار ماضی: ج4 ص280)
یہ بات سخت عجیب و غریب ہے کہ خضر علیہ السلام (اپنی وفات کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر) کس طرح انگریزوں کی فوج میں آ گئے تھے؟ دیوبندیوں کا خضر علیہ السلام کو انگریزی فوج میں شامل کرنا تاریخ کا بہت بڑا جھوٹ اور فراڈ ہے۔
تنبیہ1857ء: کی جنگِ آزادی کے فتوے پر کسی ایک دیوبندی کے بھی دستخط نہیں ہیں۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: [صاحب الحديث عندنا من يستعمل الحديث]
ہمارے نزدیک صاحبِ الحدیث وہ شخص ہے جو حدیث پر عمل کرتا ہے۔
(الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع للخطیب:1/ 144 ح183، وسندہ صحیح، مناقب الامام احمد لابن الجوزی: ص208 وسندہ صحیح)