اصولِ حدیث و سنت پر مودودی کے نظریات کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس حکیم اجمل خان صاحب کی مرتب کردہ کتاب "جماعت اسلامی کو پہچانیے” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

مودودی مسلک

حضرت مولانا حافظ عبداللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ

امت مسلمہ اور جماعت اسلامی یہ دونوں کیسے پیارے نام ہیں۔ مگر ان کے تحت جو رہا ہے وہ دشمنی اسلام ہے۔ پہلا فرقہ تو منکر حدیث ہے۔ کلام الہی کے ساتھ اپنی رائے سے کھیل رہا ہے۔ اور حدیث جو قرآن کی تفسیر ہے۔ اس کا مذاق اڑا رہا ہے۔ ظاہراً اقرار اور اندر سے انکار۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے صحت حدیث کی یہ شرط کی تھی، کہ میری وحی کے موافق ہو اور مودودی نے یہ شرط کی ہے، کہ میرے نزدیک وہ صحیح ہے جو میرے ذوق کے موافق ہو، گمراہ فرقے اسی طرح اچھا لیبل لگا کر گمراہی پھیلاتے ہیں۔

❀ رافضی شیعانِ علی کہلاتے ہیں۔

❀ معتزلہ اہل العدل والتوحید۔

❀ مرزائی احمدی، منکرینِ حدیث امت مسلمہ۔

❀ اور مودودی جماعت اسلامی وغیرہ۔

جن فرقوں کے ظہور کو کافی عرصہ گزر گیا ہے، ان کی گمراہی کا پردہ چاک ہو چکا ہے۔ مگر مودودیت نے ابھی ابھی جنم لیا ہے۔ اس سے وہ پردہ اخفاء میں ہے عوام تو کجا کئی خواص بلکہ کئی مولوی بھی اس کو سراہتے ہیں جس سے یہ فتنہ دن بدن زور پکڑ رہا ہے۔ یہاں تک کہ کئی مولوی اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس وقت علمائے حقانی کا فریضہ ہے۔ کہ وہ اس کا استیصال کریں۔ اور لوگوں کو اس گمراہی سے بچائیں۔

[1] روایت و درایت:

اہل سنت کے کسی فرقے کا یہ مذہب نہیں ہے، کہ روایت اور درایت کا درجہ مساوی ہے، بلکہ حنفیہ تو ضعیف حدیث کو بھی قیاس پر ترجیح دیتے ہیں۔ جیسے حنفیہ کے نزدیک قہقہے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ حالانکہ قیاس چاہتا ہے کہ وضو نہ ٹوٹے، کیونکہ ان کے نزدیک نجس شے کے نکلنے سے وضو ٹوٹتا ہے۔ جیسے نکثیر پھوٹنا۔ قے ہونا اور قہقہہ تو کوئی نجس شے نہیں، اس سے وضو ٹوٹنا قیاس کے خلاف ہے۔ دلیل اس کی ایک ضعیف حدیث پیش کرتے ہیں۔ "کہ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ایک نابینا گڑھے میں گر پڑا، صحابہ دیکھ کر ہنسے آپ نے ان کو وضو لوٹانے کا حکم دیا۔”
اسی طرح حنفیہ کا مذہب ہے، کہ کھجوروں کے شربت سے وضو جائز ہے۔ اور دلیل اس کی ایک ضعیف حدیث پیش کرتے ہیں ۔ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے شربت سے وضو کیا”۔ حالانکہ یہ بھی قیاس کے خلاف ہے۔ ایسی طہارتوں کے لئے خدا سے تعالیٰ نے پانی مقرر کیا ہے۔ اور شربتوں کا حکم پانی کا نہیں۔ ورنہ دوسرے شربتوں ، شربت بنفشہ وغیرہ سے بھی وضو جائز ہوتا۔ غرض ایسے بہت مقامات میں جہاں حنفیہ نے ضعیف حدیث کی وجہ سے قیاس کو ترک کر دیا ہے۔ اس لئے حنفیہ درایت کو روایت کا درجہ نہیں دیتے ۔ جیسا کہ قہقہہ اور نبیذ تمر (کھجور کا شربت) سے وضو کی مثال گذر چکی ہے۔ اور محدثین تو مودودی کے نظریے سے کوسوں دور ہیں۔ کیونکہ اہل الرائے سے ان کو نفرت ہے، تو درایت (جو رائے کی قسم سے ہے) کو روایت پر کیسے مقدم کر سکتے ہیں:
مودودی صاحب کے درایت فلسفیانہ عقل ہے، فلسفیانہ عقل کا ایمان بالغیب بہت کمزور ہوتا ہے، وہ اسی کی مانتی ہے جو اس میں سما سکے۔ جو اس سے بالاتر ہو، اس میں اس کا رجحان دو چیزوں کی طرف ہوتا ہے۔ یا سرے سے انکار یا تاویل و تحریف۔ پھر اس میں دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔

ایک وہ، زیادہ غلو کر جاتے ہیں:

جیسے سید احمد نیچری نے تفسیر لکھی تو قرآن کریم تمام معجزات اور خرقِ عادات کی تاویل کر ڈالی مثلاً موسیٰ علیہ السلام کا عصا کے ساتھ پتھر کو مارنا اور اس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑنے کا مطلب یہ بیان کیا کہ عصا ٹیک کر پہاڑوں میں چلے، کہیں اتفاقاً بارہ چشمے مل گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کا مطلب یہ ہے، کہ آپ کو خواب میں سیر کرائی گئی ، ملائکہ و شیاطین سے مراد نیک اخلاق و بد اخلاق ہیں۔ یہاں تک کہ جنت و دوزخ بھی روحانی معاملہ ہے۔ روحوں کی خوشی اور تکلیف ہی جنت و دوزخ ہے۔

دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں:

جو اتنے غلو میں تو نہیں گئے۔ لیکن وہ آدھا تیتر آدھا بٹیر بنے رہتے ہیں، جیسے مرزائی وغیرہ مثلاً عیسیٰ علیہ السلام کا جسم سمیت اٹھائے جانا اس کو نہیں مانتے ان سب باتوں سے فلسفیانہ عقل والے منکر ہیں۔

تاریخ اور حدیث کے سلسلے میں نیا طرزِ عمل:

مودودی صاحب کا خیال ہے، کہ اب تاریخ نے بہت وسعت پیدا کرلی ہے۔ یہاں تک کہ اس کی وسعت کے تمام واقعات عالم کا احاطہ کر لیا ہے ۔ ایسا کوئی واقعہ نہیں جو اس کے احاطہ میں نہ آیا ہو ۔ اگر حدیث میں بھی کسی واقع کا ذکر ہو ۔ اور تاریخ میں اس کی شہادت نہ ملے، تو روایت اور ذوق کا یہی فیصلہ ہے کہ وہ غلط ہے، اسی بنا پر آپ تمیم داری رضی اللہ عنہ کی حدیث جو دجال سے متعلق ہے ۔ اس کا ذکر کر کے بڑی جرأت سے لکھتے ہیں۔
کیا تیرہ سو برس کی تاریخ نے یہ ثابت نہیں کر دیا۔ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اندیشہ صحیح نہ تھا۔ (ترجمان القرآن نمبر 3 جلد 28)

پھر لطف یہ کہ مودودی صاحب خود ہی لکھتے ہیں۔

دنیا میں زمانہ گذشتہ کے حالات کا کوئی ذخیرہ اتنا مستند نہیں جتنا کہ حدیث کا ذخیرہ مستند ہے۔ (تفہیمات 261)
مودودی صاحب نے یہاں مخبوط الحواس کا کام کیا ہے۔ ادھر پیغمبر اسلام پر جرأت، اُدھر اپنی تحریروں میں تضاد، اگر حدیث کا ذخیرہ سب ذخیروں سے زیادہ مستند ہے، تو پھر تیرہ سو برس کی تاریخ سے اس کو کیا نسبت؟

مودودی اور حدیث:

مودودی صاحب کا خیال ہے، کہ صحت و ضعف احادیث میں محدثین کے قواعد کی پابندی ہم پر ضروری نہیں۔ اس کا بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
ان (محدثین) کی نگاہ میں احادیث کا معتبر یا غیر معتبر ہونا ہے کا جو معیار ہے ٹھیک ٹھیک اسی معیار کی ہم پابندی کریں۔ مثلاً مشہور (حدیث) کو شاذ پر، مرفوع کو مرسل پر، اور مسلسل کو منقطع پر لازم ترجیح دیں۔ اور ان کھینچی ہوئی حد سے یک سرمتجاوز نہ کریں۔ یہی وہ مسلک ہے۔ جس کی شدت نے بہت سے علم لوگوں کو حدیث کی کلی مخالفت ……………….. کی طرف دھکیل دیا ہے۔ (تفہیمات 118)
مودودی صاحب کی مثال اندھوں میں کانا راجہ کی ہے ان کی جماعت خدا جانے علمی میدان میں ان کو کتنا بڑا انسان سمجھتی ہے۔ کہ ان کی اندھی تقلید کر رہی ہے۔ حالانکہ حال ان کا یہ ہے کہ جس فن پر وہ تنقید کر رہے ہیں اس کے معمولی مسائل کا پتہ نہیں۔ شاذ کے مقابلے میں محفوظ ہے۔ اور مرفوع کے مقابلے میں موقوف ہے۔ اور منقطع کے مقابلے میں متصل ہے۔ مودودی صاحب چونکہ زمانہ حال کے مجدد ہیں، اس لئے ضروری ہے، کہ ہر چیز میں جدت پیدا کریں۔ اور جماعت کی طرف سے آواز آئے سبحان اللہ!
اصل بات یہ ہے، کہ کامل استاد کے بغیر انسان کا علم پختہ نہیں ہوتا، اور جب علم پختہ نہ ہو، تو پھر ان کی بات کا توازن قائم نہیں رہتا، مودودی صاحب نے حدیث کا پایہ جتنا بلند کیا تھا، ظن کے دلدل میں پھنس کر اتنا ہی اس کو نیچے گرا دیا۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔
احادیث چند انسانوں سے چند انسانوں تک پہنچتی ہیں جن سے کوئی چیز حد سے ثابت ہوسکتی ہے تو وہ گمانِ صحت ہے نہ علمِ یقین! (ترجمان القرآن ربیع الاول 1365ھ)
بعض گمراہ فرقے ایسے گزرے ہیں۔ جن کا دماغی توازن قائم نہیں ہوتا، وہ واقعات سے بالاتر ہوکر ایسی ادھیڑ بن میں لگے رہتے ہیں۔ جس میں مودودی لگے ہوئے ہیں۔ مثلاً ایک کہتا ہے۔ ساری امت گمراہی پر جمع ہوسکتی ہے۔
دلیل اس کی یہ ہے کہ
❀ ہر ایک آدمی سے خطا ممکن الوقوع ہے۔
❀ دوسرا اس پر تفریع کرتا ہوا یہ کہتا ہے۔
قرآن مجید جن کی معرفت ہم تک پہنچا ہے وہ تعداد میں خواہ کتنے ہی ہوں آخر تھے تو انسان ہی!
❀ تیسرا کہتا ہے۔ کہ نقل سے یقین حاصل نہیں ہوسکتا۔
چنانچہ منطق کی کتاب حمد اللہ کے ص 222 پر صناعتِ خمس کی بحث میں معتزلہ اور جمہور اشعریہ کا مذہب لکھا ہے، اور ان کی دلیل یہ ذکر کی ہے۔ اوّل تو ایک لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ پھر متکلم کے ارادے کا علم مشکل ہے۔ کہ اس نے کون سا معنی ارادہ کیا ہے۔ حقیقی یا مجازی، عام یا خاص، مطلق یا مقید اور کبھی یہ بھی شبہ ہوجاتا ہے، کہ شاید یہ حکم منسوخ ہو، اور ناسخ کا علم نہ ہوا ہو، نیز ناقل بعض دفعہ جھوٹا ہوتا ہے، یا اس کی طبیعت میں تِساہل (طبعاً سست ہونا) ہوتا ہے۔ اور اس کو ثقہ سمجھ لیا جاتا ہے اور بعض دفعہ ثقہ سے بھی غلطی ہوجاتی ہے۔
غرض اس قسم کے بہت سے شبہات ہوجاتے ہیں؛ تو نقل پر کس طرح یقین ہوسکتا ہے۔ گویا ان لوگوں کے نزدیک علومِ عربیہ کا کوئی مسئلہ قطعی نہیں ہے۔ نہ اسلام کا کوئی عقیدہ یقینی ہے، گویا جنت، دوزخ، حساب کتاب، حشر نشر کوئی بھی یقینی نہیں۔ اسی طرح نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ بلکہ اس بات پر بھی یقین نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص مدعی نبوت عرب میں گزرے ہیں۔ اور ان پر یہ کتاب اتری ہے۔ جو اہلِ اسلام کے ہاتھ میں ہے، بلکہ اس پر یقین نہیں کہ مکہ، مدینہ وہی شہر ہیں، جن میں قرآن مجید اترا تھا، بلکہ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے۔ کہ جن لوگوں نے مکہ، مدینہ، قسطنطنیہ، لندن وغیرہ شہر نہیں دیکھے۔ ان کو ان شہروں کے وجود پر یقین نہ ہو، کہ یہ بھی دنیا میں شہر بس رہے ہیں۔ لیجیے سب کچھ صفایا ہوگیا۔

مجرَّد سب سے اعلیٰ ہے نہ جو رو ہے نہ سالا ہے

غرض اس قسم کی موشگافیاں کرنے والوں کی کمی نہیں۔ جو وہم وخیالات کی عمارت اتنی بلند کرتے ہیں، جو شاعرانہ تخیل سے بھی آگے گزر جاتی ہیں جس کے متعلق خدائے تعالیٰ فرماتا ہے۔
[اَلَمۡ تَرَ اَنَّہُمۡ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ] یعنی شاعر ہر جنگل میں حیران پھرتے ہیں۔ [سورۃ الشعراء: 225] اب مودودی صاحب اس میدان میں اترے ہیں، اور قلم کی ایک جنبش سے دنیا کا سارا سلسلہ ہی تہہ و بالا کر دیا ہے کسی قابل استاد کی کفش برداری کی ہوتی تو اتنی بڑی لغزش نہ کھاتے۔

مودودی صاحب کا طرزِ عمل:

مودودی صاحب نے جس انداز سے بحث کی ہے۔ منکرینِ حدیث کا انداز ہے۔ بلکہ دین سے متعلق ان کا قریباً سارا اسلحہ ہی گمراہ کن ہے۔ احادیث کو آپس میں اور قرآن شریف کے ساتھ ٹکرانا اور ان میں اختلافات پیدا کر کے ان کی قدر گرانا اور پھر ان کی تردید کرنا ان کی عام عادت ہے۔ اس کے علاوہ حجامت، لباس، کے متعلق جو احادیث آئی ہیں ان کے متعلق محدثین پر سخت حملہ کیا ہے، اور ان کا صحیح مفہوم نہیں سمجھ سکے۔ لباس وضع قطع شریعت میں داخل نہیں، بلکہ عادات کی قسم سے ہیں، محدثین نے ان کو شریعت قرار دینے کی غلطی کی ہے۔ ایسے ہی دجال وغیرہ کی احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظنی کہہ کر کہتا ہے۔ کہ آپ معاذ اللہ دجال کو نہیں سمجھے، گویا قریب قریب مرزائیوں والا خیال ہے۔ بلکہ ان سے بھی ترقی کر گئے ہیں۔ چنانچہ مودودی صاحب کے اصل الفاظ جو حدیث دجال کا ذکر کر کے لکھتے ہیں یہ ہیں۔
کانا دجال تو افسانے ہیں جس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔ (رسالہ ترجمان القرآن: 27/3)
غرض اس قسم کی خرافات اس کی بہت ہیں۔ جن کو سن کر یا دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کی تحریر اور چرب بیانی پر فریفتہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس کا لٹریچر اسلام اور شریعت مطہرہ کے لیے سخت خطرناک ہے۔ خدا اس سے بچائے۔ اور اپنے دین کی حفاظت کرے۔

محدثین اور فقہاء پر حملہ:

مودودی صاحب کا خیال ہے۔ کہ محدثین و فقہاء نے عاداتِ نبوی کو سنت سمجھ کر اس بارے میں احادیث جمع کیں۔ یہ انھوں نے غلط رویہ اختیار کیا ہے۔ کیونکہ یہ کوئی شرعی چیز نہیں جس کی اتباع کے ہم ہمہ دم امور ہیں۔ چنانچہ مودودی صاحب کے اصل الفاظ یہ ہیں۔
میں اسوہ اور سنّت اور بدعت وغیرہ اصطلاحات کے ان مفہومات کو غلط، بلکہ دین میں تحریف کا موجب سمجھتا ہوں، جو بالعموم آپ کے ہاں رائج ہیں۔ (رسالہ ترجمان القرآن مئی جون 45ء)
یہ محدثین اور فقہاء کی فہم پر حملہ ہے، قرآن میں ہے۔ جو مومنوں کا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرے،
[نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصۡلِہٖ جَہَنَّمَ]
اس کو ہم پھیر دیتے ہیں جدھر پھرے اور اس کا ٹھکانا ہے۔ [سورۃ النساء: 115]

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔

[لن تجتمع أمتي على الضلالة] میری امت گمراہی پر ہرگز جمع نہ ہوگی۔ [المعجم الكبير للطبراني:13623]
بلکہ ایک نہ ایک فرقہ ضرور حق پر رہے گا، اور ظاہر ہے۔ کہ وہ محدثین فقہاء (سلف صالحین) ہیں۔

داڑھی کی سنت کے سلسلے میں مودودی صاحب فرماتے ہیں:

مگر میرے نزدیک یہی نہیں کہ یہ سنت کی صحیح تعریف نہیں ہے، بلکہ میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں۔ کہ اس قسم کی چیزوں کو سنت قرار دینا اور پھر ان کے اتباع پر اصرار کرنا ایک سخت قسم کی بدعت اور خطرناک تحریف دین ہے۔ (رسالہ ترجمان القرآن مئی جون 45ء)
یہاں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے والا حساب ہے، اور پھر اتنے پر بس نہیں بلکہ عمومیت کے ساتھ اس قسم کی تمام چیزوں کو سنت قسم کی بدعت اور خطرناک تحریف دین بتا رہا ہے۔ اس بنا پر انسان آزاد ہے، جس قسم کی چاہے حجامت بنوائے، جیسی وضع قطع چاہے اختیار کرے، انگریزی بال رکھے، فطرت وسنتِ انبیاء علیہم السلام کی مخالفت کا بھی کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کا بھی کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ دس باتیں فطرتِ اسلام سے ہیں۔ لبیں کٹانا، داڑھیاں چھوڑنا، مسواک کرنا، وضو کے وقت ناک میں پانی چڑھانا، ناخن کٹوانا، وضو کے وقت انگلیوں کے جوڑ دھونا، بغلیں اکھیرنا، زیرِ ناف بال لینا، استنجا کرنا، وضو کے وقت کرلی (کلی) کرنا، ایک حدیث میں داڑھی کی جگہ ختنے کا ذکر ہے اور ترمذی میں حدیث ہے آپ نے فرمایا چار چیزیں رسولوں کی سنتوں سے ہیں۔
حیا ختنہ مسواک نکاح
اگر کوئی صاحب جذبۂ سنت کے تحت ان چیزوں کی پابندی اور اصرار کریں۔ تو یہ مودودی صاحب کے نزدیک سخت ترین بدعت اور خطرناک تحریفِ دین ہوگی۔

مجدد کے معنی میں تبدیلی:

حدیث میں ہے کہ ہر صدی کے سرے پر مجدد ہوں گے، جو دین کی تجدید کریں گے۔ مودودی صاحب نے جہاں سنت و بدعت کو بدلا ہے، وہاں مجدد کے معنی پر بھی ہاتھ صاف کیا ہے۔ اور کوشش کی ہے۔ کہ اس حدیث کو اپنے اوپر چسپاں کریں۔
نہ میں یہ توقع رکھتا ہوں، کہ وہ اپنے مہدی ہونے کا اعلان کرے گا۔ بلکہ شاید اسے خود بھی اپنے مہدی موعود ہونے کی خبر نہ ہوگی۔ وہ خالص اسلام کی بنیادوں پر ایک نیا مذہب فکر (SCHOOL OF THOUGHT) پیدا کرے گا، ذہنوں کو بدلے گا، ایک زبردست تحریک اٹھائے گا، جو بیک وقت تہذیبی بھی ہوگی اور سیاسی بھی، جاہلیت اپنی تمام عادتوں کے ساتھ اس کو کچلنے کی کوشش کرے گی۔ مگر بالآخر وہ جاہل اقتدار کو الٹ کر پھینک دے گا، اور ایک ایسی زبردست اسلامی اسٹیٹ قائم کرے گا۔
مولانا صاحب نے محدثین اور فقہاء کے ظن کو اپنے روزمرہ کی بول چال کا ظن سمجھ کر کس قدر گمراہی پھیلائی ہے کہ کوئی چیز بھی صحیح طریق پر نہیں رہ سکتی۔

یہ سب بے استادی کے نتائج ہیں