حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا کاتب وحی ہونا اور مرزا صاحب کے اعتراضات
باب فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ میں بیان کیا گیا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے اور یہ بڑے فضل کی بات ہے، صرف ہم ہی نہیں بلکہ محدثین عظام بھی اسے کسی صحابی کی فضیلت ومنقبت قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ چیز انجینئر صاحب کی انجینئرنگ سے بچی رہ سکے۔ لہٰذا آپ نے یہاں بھی اپنے معمول کی طرح مختلف طریقوں سے ان کے کاتب وحی ہونے کو بھی مشکوک بنایا ہے، بلکہ مرزا صاحب کی تو عادت ہے کہ جو چیز جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق یا فضیلت میں ہو وہ اسے انہی کے خلاف بنا دیتے ہیں۔ مرزا صاحب کے اعتراضات سے قبل یہ بات جان لیجیے کہ پہلے پہل آپ خود اس بات کا اعتراف کیا کرتے تھے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبین وحی میں سے ہیں، آپ کے الفاظ مبارک ہیں:
”قرآن پاک پچیس سال کے اندر کتابی شکل میں پہنچا، اس میں سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں وحی لکھوائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی لکھواتے تھے اور اس میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، top of the list آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لکھنے والے تھے – کاتب وحی – سیدنا معاویہ بھی تھے رضی اللہ عنہ، اور بھی اصحاب تھے۔“
Islam ki dictionary Kia Hai – 32:10
یہ مرزا صاحب کی قدیم ویڈیوز میں سے ایک ہے، آپ کے سامنے ہے کہ مرزا صاحب خود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو نا صرف کاتب وحی تسلیم کرتے بلکہ ان کے نام کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ ”سیدنا“ بھی بولتے تھے، مگر آج لفظ سیدنا تو دور کی بات اکثر ان کا نام بھی لینا گوارہ نہیں کرتے، بلکہ شیعہ حضرات کی طرح ان کا تذکرہ امیر شام کہہ کر کرتے ہیں، حالانکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تو امیر المومنین بھی ہیں، تو اگر آپ واقعی دل کے سچے ہیں تو انہیں امیر المومنین کیوں نہیں کہتے؟ خیر یہاں بتانا یہ مقصود ہے کہ پہلے پہل انجینئر صاحب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وحی ہونے کا خود اقرار کیا کرتے تھے مگر آج موجودہ دور میں آپ انہی معاویہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وحی ہونے کا مختلف حیلوں بہانوں کے ذریعہ سے انکار کیا کرتے ہیں۔
انجینئر صاحب کے بہانے اور شبہات:
اس سلسلے میں اپنے اوپر لگے اسی اعتراض کہ ”محمد علی انجینئر صاحب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وحی ہونے کا انکار کرتے ہیں“ کے جواب میں کہتے ہیں:
”(آپ لوگ کہتے ہیں) علی نے کاتب وحی سے انکار کیا۔ میرا کلپ آدھا لگایا۔ بھئی میں کب انکار کرتا ہوں میں تو یہ کہتا ہوں کہ مسلم کی جس حدیث سے آپ بتاتے ہیں اس میں کاتب وحی نہیں ہے کاتب کے الفاظ ہیں، کاتب وحی کے الفاظ ”دلائل النبوۃ“ میں موجود ہیں اور مسلم میں جو وہ بھی حدیث صحیح ہے اور میں نے تو مسئلہ 116c ریکارڈ کرایا ہے اس پر، میں یہ کہتا ہوں مسلم کی پوری حدیث بتائیں کہ کاتب وحی کی بھرتی کس طرح ہوئی ہے؟ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى او بھئی یہ قرآن کے بارے میں ہے نبی کی ہر بات کے بارے میں نہیں ہے کہ اللہ کی وحی سے ہوتی ہے، ورنہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو اجتہادی غلطیاں ہیں۔ گناہ نہیں اجتہادی غلطیاں۔ جس پر اللہ نے گرفت کی ہے، منافقین کا جنازہ پڑھنا وہ اللہ کی وحی سے پڑھا تھا؟ وہاں پر منع کر دیا! وحی کی تائید حاصل ہو جاتی ہے، تائید بعد میں ضرور حاصل ہو گئی اس میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ بھرتی کس طرح ہوئی، ابوسفیان نے کہا: نا تو لوگ میری طرف دیکھتے ہیں یعنی پوری زندگی اسلام کا جو ہے وہ نقصان کرتا رہا ہوں، مسلم شریف کی پوری حدیث نہیں اس نے پڑھی مسلم پوری پڑھے تو پتہ چلے، اور اس میں راوی کے الفاظ ہیں کہ ابوسفیان خود اگر نا آ کر حضور سے سفارش کرتا اپنے بیٹے کے لیے تو نبی اس کو اپنا منشی نا رکھتے۔ یہ آپ نے دل جوئی! اس میں آگے الفاظ ہیں کہ آپ کی عادت تھی کہ آپ انکار نہیں کرتے تھے۔ غریب نواز تھے نا آپ صلی اللہ علیہ وسلم، تو آپ نے قبول کیا ہے ترس کھا کر، اور اس کو اتنا بڑا ٹائٹل دے کر پھر دوسری طرف لے گئے ہیں۔ اور وہ میں نے تو بھرتی بتائی پوری روایت پڑھیں۔“
157-a-Mas’alah (Part-1) : 100-Questions on SUNNI & SHIAH Issues with Engineer Muhammad Ali Mirza – 1:31:41
اس میں جس ویڈیو (مسئلہ 116) کی طرف جناب محترم نے اشارہ کیا ہے اس سے کسی سننے پڑھنے والے کو محسوس ہوگا کہ مرزا صاحب نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وحی ہونے کا بالکل بھی رد نہیں کیا، بلکہ اس ویڈیو میں باقاعدہ اسکا دفاع کیا ہوگا اور انہیں کاتب وحی تسلیم کر رکھا ہوگا۔ مگر معاملہ اسکے سو فیصد الٹ ہے اور وہ ساری ویڈیو تو اشکالات اور اعتراضات کا ایک جال ہے، چنانچہ آپ اس ویڈیو میں فرماتے ہیں:
”حیران کن بات یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق مولا ابوبکر رضی اللہ عنہ، علیہ السلام کے مبارک دور میں جنگ یمامہ جب ہوئی تو صحیح بخاری میں انٹرنیشنل نمبرنگ کے مطابق 4986 نمبر حدیث ہے، مشکوۃ میں 2220، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ و علیہ السلام مولا عمر علیہ السلام انہوں نے مشورہ دیا: اے امیر المومنین! کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں تو (قرآن) ایک جگہ پر combined form میں نہیں تھا…………تو انہوں نے مشورہ دیا کہ ایک جگہ جمع کر لیا جائے…………تو انہوں نے آپ کا مشورہ قبول کیا، اور پھر اس کے بعد انہوں نے سیدنا زید ابن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کی ذمہ داری لگائی اور دو جملے بولے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: زید آپ عقلمند نوجوان ہیں آپ پر کسی قسم کا الزام نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ وحی لکھا کرتے تھے لہٰذا قرآن حکیم کو ایک جگہ combined form میں آپ جمع کریں۔“
پھر اس کے بعد مرزا صاحب فرماتے ہیں:
”تو حضرت معاویہ کو تو نہیں بلایا کہ وہ کاتب وحی تھے تو ان کو بلایا جاتا ان کی ذمہ داری یا ایک کمیٹی بنا دی جاتی جس طرح یہاں سیاسی کمیٹی بنتی ہے کہ جی ایک بندہ ادھر سے ڈال لیں ادھر سے ڈال لیں ادھر سے ڈال لیں، انہوں نے صرف ایک بندے کی ڈیوٹی لگائی – زید ابن ثابت رضی اللہ عنہ – اور کہا: آپ پر الزام نہیں ہے کسی قسم کا، یعنی آپ True مومن ہیں یعنی شروع سے حضور کے ساتھ ہیں اور آپ وحی لکھتے ہیں۔“
پھر اسی ویڈیو میں آگے جا کر فرمایا: ”او پائی کیڑی وحی لکھی؟ فتح مکہ کے موقع پر جو بندہ مسلمان ہوا جب 99.99 پرسنٹ قرآن نازل ہو چکا ہے اس کے بعد کون سی وحی لکھی ہے؟ اور اگر لکھی تھی اور وہ Reliable personality تھی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کی ڈیوٹی لگا دیتے نا۔ جو تسی مامے بنے او چودہ سو سال بعد اونا دی وکالت پے کر دے او۔ یا کمیٹی وچ ہی شامل کر لیندے۔“
116-c-Mas’alah: Kia Hazrat-e-MOAVIAH r.a Katib-e-WAHI thay? 10:00
مرزا صاحب کی ویڈیوز کے علمی نکات اور ان کا تحقیقی جائزہ:
ہمارے محقق صاحب نے اس ساری گفتگو سے یہ ثابت کیا ہے کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کے کاتب وحی ہونے کا انکار نہیں کرتا، مگر کوئی عاقل اور منصف شخص پڑھ کر با آسانی اس بات کا فیصلہ کر سکتا ہے کہ یہ انکار ہی کیا جا رہا ہے مگر لفظوں کی بناوٹ اور پختگی ایسی ہے کہ جی بڑے دلائل سے بات ہو رہی ہے، خیر دونوں ویڈیوز میں کی گئی گفتگو کو اگر پوائنٹس کی شکل دی جائے تو وہ یہ ہیں:
(1) اصل حقیقت تو یہ ہے کہ وہ اس منصب پر صرف سفارش کی بنیاد پر فائز ہوئے تھے وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ پر ترس کھا کر قبول کر لی، اور مرزا صاحب نے اسے ”سفارشی بھرتی“ قرار دیا۔
(2) جب قرآن کو باقاعدہ کمبائن صورت میں جمع کرنے کا فیصلہ ہوا تو اس کام کے لیے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا گیا تو اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ واقعی کاتب وحی تھے تو اس کام کی ذمہ داری انہیں کیوں نا دی گئی؟ اس سے ثابت ہوا کہ وہ غیر معتبر انسان تھے کیونکہ انہوں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو کہا کہ آپ پر کوئی الزام نہیں ہے، اور اس بات کو آپ نے بار بار دہرایا اور پھر آخر کار اسے کھل کر بیان بھی کر دیا اور کہا کہ اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ (Reliable personality) (قابل اعتماد) تھے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کی ڈیوٹی لگا دیتے نا۔
(3) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کس وحی کے کاتب ہیں؟ جبکہ آپ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے اور تب تک تو قرآن 99.99 پرسنٹ نازل ہو چکا تھا۔
اب مرزا صاحب کے محبین کی خدمت میں سوال ہے کہ اگر اسے کسی چیز کا انکار نہیں کہتے تو اور انکار کس بلا کا نام ہے؟ کسی چیز کا واضح الفاظ میں انکار کہ ”میں نہیں مانتا“ کہہ کر انکار تو کوئی بھی نہیں کرتا، بلکہ جس نے نا ماننا ہو وہ طرح طرح کے بہانے بناتا ہے اور اشکالات اور اعتراضات کا ایک جال بچھاتا ہے جس سے انکار بھی ہو جائے اور اپنی جگہ سچے بھی رہیں۔
بہر حال مرزا صاحب کی یہ بات بالکل بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا کاتب وحی ہونا بس اس سفارش کے سبب تھا جو حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کی، اور یہ کہ یہ سب اللہ کے فیصلے یا وحی سے نہیں ہوا، بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ترس کھا کر اسے قبول کر لیا، اور قرآن کی وہ آیت کہ جس میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف وحی کی بنیاد پر فیصلہ فرماتے یا کوئی بات کرتے ہیں، اس کا جواب یہ دیا گیا کہ وہ تو بس قرآن مجید کے متعلق تھا کہ جو نبی قرآن سناتا ہے یہ ان کی اپنی مرضی سے نہیں بلکہ سب وحی ہے۔ تو اس اعتراض کا بالکل سادہ اور واضح ترین جواب خود حدیث میں موجود ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ السَّائِلُ أَوْ طُلِبَتْ إِلَيْهِ حَاجَةٌ، قَالَ اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ۔
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی سائل آتا یا آپ کے سامنے کوئی حاجت پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (صحابہ سے) فرماتے: ”سفارش کرو کہ تم اس کا اجر پاؤ گے اور (لیکن) اللہ تعالی اپنے نبی کی زبان سے وہی حکم صادر فرمائے گا جو وہ چاہے گا۔““
(صحیح بخاری:1432)
معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور اگر کوئی سفارش ہی کیوں نا رکھے مگر آپ اگر اسے قبول کریں گے تو وہ من عند اللہ ہوگا، اللہ کے حکم سے ہوگا اور اللہ کی وحی ہی سے ہوگا! لہٰذا مرزا صاحب پر اس بات کی دلیل دینا واجب ہے کہ اس سفارش کا قبول کرنا اللہ کی وحی اور حکم کے بغیر ہی صرف اس بنیاد پر ہو گیا کہ جی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ مبارکہ تھی کہ آپ کبھی کسی کو نا نہیں کرتے تھے۔ اگرچہ معاویہ رضی اللہ عنہ سفارش کے بعد کتابت وحی پر مامور ہوئے لیکن اس سفارش کو قبول کرنے والی اللہ کی ذات ہے اور یہ فیصلہ اور انتخاب اللہ کی اجازت سے ہی صادر ہوا تھا، کیونکہ اس کی عدالت میں کوئی اسکی اجازت کے بغیر نا سفارش کر سکتا ہے نا اپنی منوا سکتا ہے، اور بلکہ اس میں بھی ان کی فضیلت ہے کہ ان کے متعلق یہ سفارش کی گئی تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں اس مبارک کام کے لیے چن لیا، حالانکہ مرزا صاحب اسے سفارشی بھرتی کہہ کر ہوا میں اڑا دیتے ہیں۔
دوسرا اشکال جو انجینئر صاحب نے پیدا کیا ہے وہ بھی ان کی بیوقوفیوں کا ایک نمونہ ہے کہ جی اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی کاتب وحی تھے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قرآن کو جمع کرنے پر ان کی ذمہ داری کیوں نا لگائی اور صرف حضرت زید بن ثابت ہی کی ذمہ داری کیوں لگائی۔ تو یہ اعتراض مرزا صاحب کی جس ویڈیو سے نقل کیا گیا ہے اسی میں اسکا جواب بھی موجود ہے، آپ نے جو فرمایا: انہوں نے صرف ایک بندے کی ڈیوٹی لگائی – زید ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ – اور کہا آپ پر الزام نہیں ہے کسی قسم کا یعنی آپ True مومن ہیں یعنی ”شروع سے حضور کے ساتھ ہیں“ اور آپ وحی لکھتے ہیں……تو مرزا صاحب! جب حضرت زید بن ثابت شروع سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور کتابت وحی پر مامور تھے اور اکثر کتابت وحی کا کام بھی آپ رضی اللہ عنہ ہی سر انجام دیتے، اور پھر حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ جب جناب معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل بھی ہیں تو ان چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی بجائے انہیں چنا گیا تو کیا یہ اس بات کی دلیل بن گئی کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی ہی نہیں یا معتبر شخصیت نہیں؟ کوئی جاہل اور عقل سے بالکل پیدل انسان ہی ایسی باتیں کر سکتا ہے۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ نے کاتبین وحی کے ذکر میں کئی ایک صحابہ کا نام ذکر فرمایا کہ جن میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں اسکے متصل بعد فرمایا: ”وكان زيد بن ثابت من ألزم الناس لذلك“ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کتابت وحی میں ان سب سے اہم شخصیت تھے۔ (جوامع السیرۃ:27)
مرزا صاحب خود اپنی قدیم ویڈیوز میں اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی کاتب وحی ہیں مگر top of the list کاتب وحی حضرت زید بن ثابت ہیں جس کا حوالہ شروع میں ذکر کیا گیا ہے، تو جب حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا کتابت وحی میں سب سے زیادہ کردار ہے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قرآن کو جمع کرنے کے لیے انہیں مامور کرنے پر آخر کیا رزلٹ نکالا جا سکتا ہے؟ کیا اس سے دوسرے کاتبین وحی کی نفی نکلتی ہے یا وہ مشکوک بن جاتے ہیں؟
یہ تعصب اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بغض کا نتیجہ ہے کہ مرزا صاحب کو صرف حضرت زید بن ثابت اور معاویہ رضی اللہ عنہما ہی یاد ہیں اور جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام بھی جب آپ نے نکال دیا تو صرف سیدنا زید رضی اللہ عنہ بچتے ہیں، مگر کیا واقعی یہ سچ ہے کہ صرف حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہی کاتب وحی تھے؟ جبکہ انجینئر صاحب اپنی ویڈیو Islam ki dictionary Kia Hai میں اس بات کا واضح طور پر اقرار کر چکے ہیں کہ:
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دور میں وحی لکھواتے تھے اور اس میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، top of the list آپ کے لکھنے والے تھے، کاتب وحی، سیدنا معاویہ بھی تھے، اور بھی اصحاب تھے، بہر حال زید بن ثابت top of the list تھے۔“
اب مرزا صاحب ہی کی عدالت میں عرض ہے کہ وہ دوسرے اصحاب کون تھے؟ محدثین کرام تو سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زبیر، ابی بن کعب رضی اللہ عنہم اور ان کے علاوہ کا بھی کاتبین وحی میں شمار کرتے ہیں۔ (جوامع السیرۃ:26، تہذیب الأسماء واللغات:29/1، تلقیح فہوم اہل الاثر:58، منہاج السنہ:428/4، فتح الباری:22/9) نیز سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْبَعَةٌ، كُلُّهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ: مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو زَيْدٍ۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چار صحابہ نے قرآن جمع کیا اور وہ سب انصار میں سے تھے: حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابوزید رضی اللہ عنہم۔“ (صحیح مسلم:2465)
مگر آپ کے منطق کے مطابق دیکھا جائے تو یہ سب یا تو کاتبین وحی ہی نہیں یا تو قابل اعتماد شخصیات نہیں! کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تو نا ہی ان میں سے کسی کو جمع قرآن کی ذمہ داری پر مامور کیا اور نا ہی کوئی کمیٹی بنا کر ان کو شامل کیا۔ لیکن اگر اسکے باوجود یہ حضرات بھی کاتبین وحی ہیں اور معتبر شخصیات ہیں تو مرزا صاحب کس منہ سے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق اشکالات پیدا کر رہے ہیں؟
تیسرا اشکال اور دھوکا یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے وحی لکھی کونسی ہے؟ فتح مکہ پر وہ مسلمان ہوئے جب تک کہ 99.99 فیصد قرآن نازل ہو چکا تھا، یعنی تقریباً سارا قرآن نازل ہو چکا تھا۔ مرزا صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ اس کی دلیل کیا ہے؟ یا ائمہ میں سے کسی نے کوئی ایسا دعویٰ کیا ہو؟ ہاں یہ ممکن ہے انجینئر صاحب کے شیاطین نے ان کی طرف ایسی کوئی وحی کی ہو جسکا وہ حوالہ دینے سے قاصر ہیں۔ بہرحال ہم مرزا صاحب کی ان فضول باتوں کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے مگر مرزا صاحب کے چاہنے والوں کے لیے تحقیق کے ایک دروازے کی طرف راہنمائی کرتے چلتے ہیں کہ فتح مکہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے درمیان تقریباً اڑھائی سال کا دورانیہ ہے۔ تو کیا اتنے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہی نہیں ہوئی؟ اور یاد رہے! مرزا صاحب کے یہ تمام اعتراضات اور اشکالات ہم پر نہیں بلکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما پر ہیں جنہوں نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ: ”كان يكتب الوحي“ وہ (یعنی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ) وحی لکھا کرتے تھے۔ مگر مرزا صاحب خود ان کی یہ بات بار بار اپنی انہی ویڈیوز میں ذکر کر کے اسکی طرف توجہ ہی نہیں کر رہے کہ میں بغض معاویہ رضی اللہ عنہ میں آخر کر کیا رہا ہوں، جبکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے الفاظ ”كان يكتب“ اس بات کا فائدہ دیتے ہیں کہ یہ کام ہمیشگی اور تسلسل کے ساتھ ہوتا رہا ہے (یعنی کتابت وحی)۔
خیر مرزا صاحب نے آخر پر ایک طعنہ یہ بھی دیا ہے کہ ”تسی مامے بنے او چودہ سو سال بعد اونا دی وکالت پے کر دے او“، یعنی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی قرار دینا جھوٹی وکالت ہے، اور یہ چودھویں صدی کی اختراع ہے۔ لیکن اگر یہ جھوٹی وکالت ہے تو جناب اس جھوٹی وکالت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سر فہرست شامل ہیں اور یہ جرم محدثین کرام رحمہم اللہ بھی کرتے آئے ہیں۔
حضراتِ ائمہ نے خصوصی طور پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتبین وحی میں شمار کیا:
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو کہے کہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی نہیں مانتا، تو آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”یہ برا اور ردی قول ہے، ایسے لوگوں سے بچنا چاہیے اور نا ہی ان کے پاس بیٹھنا چاہیے اور ہم عوام الناس کو ایسے لوگوں سے خبردار کریں گے۔“ (السنة للخلال:659)
امام ابن حزم رحمہ اللہ نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام کاتبین وحی میں شمار کیا اور فرمایا:
”حضرت زید بن ثابت اور جناب معاویہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وحی اور دیگر (رسائل وتحریرات وغیرہ) لکھنے پر مامور تھے اسکے علاوہ ان کی اور کوئی ذمہ داری نا ہوتی۔“ (جوامع السیرۃ:27،26)
امام ابوبکر الآجری رحمہ اللہ نے آپ کو کاتب وحی لکھا۔
(الشریعۃ للآجری:2431/5)
امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے آپ کے متعلق فرمایا: ”کاتب وحی رب العالمین۔“ (تاریخ دمشق:55/59)
اور فرمایا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں سب سے صحیح ترین روایت یہ ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے۔ (تاریخ دمشق:106/59)
امام ابو زکریا النووی رحمہ اللہ نے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے ذکر میں فرمایا: مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الْخَلِيفَةُ أَحَدُ كُتَّابِ الْوَحْيِ ”خلیفہ معاویہ بن ابی سفیان کاتبین وحی میں سے ایک ہیں۔“
(المجموع:70/1)
اور ایک جگہ فرمایا: وكان أكثرهم كتابة زيد بن ثابت، ومعاوية، رضي الله عنهم ”اور کتابت وحی کا اکثر کام زید بن ثابت اور معاویہ رضی اللہ عنہما ہی سر انجام دیتے۔“ (تہذیب الأسماء واللغات:29/1)
امام قرطبی رحمہ اللہ نے بھی آپ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی لکھا۔ (المفہم:473/4)
امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے آپ کو کاتبین وحی میں ذکر کیا، اور مزید فرمایا کہ اکثر وحی لکھنے کی ذمہ داری حضرت زید بن ثابت اور جناب معاویہ رضی اللہ عنہما ہی سر انجام دیتے۔ (تلقیح فہوم اہل الاثر:58)
امام ذہبی رحمہ اللہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کے بیان میں فرمایا:
وَقَدْ صَحَّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ أَلْعَبُ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وآله وَسَلَّمَ وَقَالَ: ادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ وَكَانَ يَكْتُبُ الْوَحْيَ۔
”اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح سند سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں کھیل رہا تھا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب فرمایا اور کہا کہ معاویہ کو بلا کر لاؤ، اور وہ وحی لکھا کرتے تھے۔“
(تاریخ الاسلام:309/4)
مرزا صاحب ہم پر اس بات کی وجہ سے طعن کرتے ہیں کہ ہم یہ روایت آدھی بیان کرتے ہیں اور اس کے بعد والا حصہ چھپا لیتے ہیں، جبکہ یہ اعتراض غلط ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح صرف روایت کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کیا ہے، اور یہ ایک انداز ہے کہ کسی طویل روایت کا موضوع سے متعلقہ حصہ اختصار سے بیان کر دیا جاتا ہے، اس سے اگر کتمان حق لازم آتا ہے تو پھر امام ذہبی رحمہ اللہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ امام ابن عساکر رحمہ اللہ کا تبصرہ بھی آپ پڑھ آئے کہ انہوں نے فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ کے تحت فرمایا: سب سے صحیح حدیث جو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں ہے وہ یہ ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے…………اب ساری حدیث تو انہوں نے بھی نقل نہیں فرمائی، امام ابوبکر الآجری رحمہ اللہ نے بھی جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کے تحت اس حدیث کو ذکر کیا لیکن صرف ”وَكَانَ كَاتِبَهُ“ والی بات لکھی (الشریعہ: 1937)، اب جو بھی الزامات مرزا صاحب ہم پر لگاتے ہیں وہ محدثین کرام پر بھی لگا کر دکھائیں!
اور یہ بات بھی ملحوظ خاطر رکھیں کہ علماء کرام اس حصے کو چھپاتے نہیں بلکہ دوسرے مقام پر اسکو بیان بھی کرتے ہیں اور اسکی صحیح طور پر وضاحت بھی فرماتے ہیں، لہٰذا مرزا صاحب کی دھوکے بازیوں میں نا آیا جائے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی قرار دیا۔
(التقریب:6758)
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی آپ رضی اللہ عنہ کو کاتبین وحی میں شمار کیا۔
(البدایۃ:21/8، الفصول فی السیرۃ:ص255)
علامہ قسطلانی رحمہ اللہ نے بھی آپ کو کاتب وحی لکھا ہے۔
(ہدی الساری:170/1)
امام ابومنصور معمر بن احمد (م 428ھ) متقدمین و متاخرین ائمہ کرام کا [اجماعی] عقیدہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ”اور معاویہ رضی اللہ عنہ، اللہ کی وحی کے کاتب اور امین ہیں۔“ (الحجۃ فی بیان المحجۃ:248/1)
وہ تو اسے اجماعی مسئلہ بتا رہے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ کاتب وحی تھے، اور بعض تو یہ وضاحت بھی فرما رہے ہیں کہ فتح مکہ کے بعد اکثر کتابت وحی کا کام معاویہ رضی اللہ عنہ ہی سر انجام دیتے تھے، مگر ایک ہمارے انجینئر صاحب ہیں کہ جن کا قرآن فتح مکہ تک ہی مکمل ہو چکا ہے، اور کہتے ہیں انہوں نے آخر وحی لکھی کونسی ہے؟ اب مرزا صاحب کے اعتراضات شمار کریں اور ذرا سوچیں کہ یہ سب طعن انہوں نے ہم پر کیا ہے یا محدثین پر؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی ثابت کرنے کو تو چودہ سو سال بعد کی جھوٹی وکالت کہا گیا جبکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے لے کر آج تک محدثین انہیں کاتب وحی ہی کہتے آئے ہیں، مگر جن باطل تاویلات کے ذریعے آپ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وحی ہونے پر انکار کیا ہے، کیا یہ خباثت بھی آپ سے قبل چودہ سو سال میں کسی نے اگلی ہے؟
مرزا صاحب لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اکثر کہا کرتے ہیں کہ صحیح مسلم کی روایت میں تو بس کاتب کے ہی الفاظ ہیں کاتب وحی کے نہیں، اور پھر خود ہی دلائل النبوۃ کے حوالے سے وہ روایت جس میں کاتب وحی کی صراحت موجود ہے کو بھی ذکر کیا کرتے ہیں، آخر اس کاتب اور کاتب وحی میں تفریق کس دلیل کی بنیاد پر ہے؟ جبکہ مسلم کی روایت میں بس اختصار ہے اور اس سے کاتب وحی ہونے کی نفی تو ہوتی ہی نہیں بلکہ لفظ کاتب میں جامعیت ہے، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب کہا جائے گا تو اس سے یہ مراد لینا کہ ”صرف خطوط و رسائل لکھنے والا“ اس تخصیص کی کیا دلیل ہے؟ لکھنے والے سے وحی لکھنے والا مراد کیوں نہیں ہو سکتا؟