مضمون کے اہم نکات
قیمتوں سے کھیلنا
اسلام نے بازار کو آزاد چھوڑنا پسند کیا ہے کہ طبعی قوانین اپنا کام کرتے رہیں۔ بازار میں اشیاء کی آمد اور ان کی مانگ کی مناسبت سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہے گا یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں عہد رسالت میں جب قیمتیں چڑھ گئیں اور لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لیے اشیاء کے نرخ مقرر کر دیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق وإنى لارجو ان القى الله وليس احد منكم يطالبني بمظلمة فى دم ولا مال
”اللہ ہی قیمتوں کا مقرر کرنے والا ہے۔ گرانی اور ارزانی وہی پیدا کرتا ہے اور رزق دینے والا بھی وہی ہے۔ میں اللہ سے اس حال میں ملنا چاہتا ہوں کہ تم میں سے کوئی شخص بھی خون یا مال کے سلسلہ میں مجھ سے کوئی مطالبہ نہ کرے۔“
مسند احمد : 3/156 ، 286، ابو داؤد كتاب الاجارة باب في التسعين ح : 1314 ، ترمذی كتاب البيوع باب ما جاء في التسعير ح : 1314 ۔ ابن ماجه کتاب التجارات باب من كره ان يسعر ح : 2200 ۔ سنن الدارمي : 2/1249
پیغمبر اسلام نے اس حدیث کے ذریعہ اعلان فرمایا کہ افراد کی آزادی میں بلا ضرورت مداخلت کرنا ظلم ہے، لیکن اگر بازار میں غیر طبعی عوامل داخل ہو جائیں، مثلاً ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں سے کھیلنا تو ایسی صورت میں اجتماعی مصلحت کو افراد کی آزادی کے مقابلہ میں مقدم سمجھنا چاہیے اور ایسی صورت میں نرخ مقرر کرنا سماج کی ضرورت کا تقاضا ہے تاکہ ناجائز نفع اندوزی کرنے والے حریصوں سے سماج کو بچایا جاسکے۔
همارے زمانه ميں جس كي لاٹهي اس كي بهينس والا معامله هو چكا هے، كيونكه اشياء خوردني وافر هوتے هوئے بهي ذخيره اندوز قيمتوں ميں بڑهوتي كي غرض سے صاحب حل و عقد خود ملكي معيشت پر گنجے سانپ كي طرح قابض هيں جب چاهتے اور جيسے چاهتے كرتے هيں كوئي اجتماعي پاليسي نهيں. (اداره)
مذکورہ حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نرخ مقرر کرنا ہر حال میں ممنوع ہے خواہ رفع حرج اور صریح ظلم سے روکنے کے لیے کیوں نہ کیے جائیں، بلکہ محقق علماء اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ نرخ مقرر کرنا بعض حالات میں تو حرام اور ظلم ہے لیکن بعض حالات میں منصفانہ اور جائز کام ہے۔ لہذا اگر ناروا طریقہ پر ظلم و زیادتی کر کے لوگوں کو ایسی قیمت پر چیزیں فروخت کرنے کے لیے مجبور کر دیا جائے جس سے وہ راضی نہیں ہیں، یا مباحات سے انہیں روکا جائے تو یہ حرام ہوگا۔ اور اگر لوگوں کے درمیان عدل قائم کرنے کی غرض سے نرخ مقرر کیے جائیں مثلا مروجہ قیمت (Standard Price) کے مطابق معاوضہ لے کر فروخت کرنے کے لیے انہیں مجبور کر دیا جائے یا معروف معاوضہ سے زیادہ معاوضہ ممنوع قرار دیا جائے۔ وصول کرنے سے انہیں روکا جائے تو ایسا کرنا نہ صرف جائز بلکہ واجب ہوگا۔
پہلی صورت کے بارے میں مذکورہ حدیث وارد ہوئی ہے۔ لہذا جب لوگ عرفی طریقہ پر بغیر ظلم و زیادتی کے مال فروخت کرتے ہوں اور اشیاء کی قلت یا آبادی میں اضافہ کی وجہ سے قیمتیں چڑھ جائیں تو معاملہ اللہ کے حوالہ کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں لوگوں کو مجبور کرنا کہ وہ مقررہ قیمت پر چیزیں فروخت کریں، ایک ناحق قسم کی زیادتی ہوگی۔
رہی دوسری صورت یعنی لوگوں کے ضرورت مند ہونے کے باوجود تاجر حضرات اشیاء فروخت نہ کریں اور عرفی و سماجی قیمت سے زیادہ کا مطالبہ کریں تو ایسی صورت میں مروجہ نرخ کے مطابق اشیاء فروخت کرنا واجب اور نرخ مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مروجہ نرخ کو ان پر لازم کر دیا جائے۔ ایسے موقع پر قیمتوں کے تعین کا مطلب بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس عدل کو لازم کر دیا ہے اس پر کاربند ہونے کے لیے تاجروں کو مجبور کر دیا جائے۔
ملاحظہ ہو : رسالة الحسبة از ابن تیمیہ رحمہ اللہ – اور الطرق الحکمیہ از ابن قیم رحمہ اللہ – ص : 214
ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے
اگرچہ اسلام افراد سماج کو بیع و شراء اور فطری مقابلہ کی آزادی دیتا ہے لیکن اس بات سے اسے شدید انکار ہے کہ لوگ خود غرضی اور لالچ میں مبتلا ہو کر اپنی دولت میں بے تحاشا اضافہ کرتے چلے جائیں، خواہ غذائی اجناس اور قوم کی دیگر اشیائے ضرورت ہی کے ذریعہ کیوں نہ دولت سمیٹی جاسکے۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذخیرہ اندوزی کی سختی کے ساتھ ممانعت فرمائی ہے اور فرمایا :
من احتكر الطعام أربعين ليلة فقد برئ من الله وبرئ الله منه
”جس نے چالیس دن تک غلہ کو روکے رکھا اس سے اللہ بری الذمہ ہے۔“
مسند احمد : 2/33 – مستدرك حاكم : 2/11
اور فرمایا :
لا يحتكر إلا خاطئ
”ذخیرہ اندوزی کرنے والا گنہگار ہے۔“
مسلم كتاب المساقاة باب تحريم الاحتكار في الأقوات ح : 1605
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذخیرہ اندوزی کرنے والے شخص کی نفسیات اس طرح بیان کی ہیں :
بئس العبد المحتكر إن سمع برخص ساءه وإن سمع بغلاء فرح
”بہت برا ہے وہ بندہ جو ذخیرہ اندوزی کرتا ہے۔ جب ارزانی ہوتی ہے تو برا محسوس کرنے لگتا ہے اور جب گرانی ہوتی ہے تو خوش ہو جاتا ہے۔“
مجمع الزوائ :د 4/101 بحوالہ طبراني في الكبير : 20/95 ورواہ ايضاً في مسند الشاميين : 412 وابن عدى فى الكامل : 2/530 و اسنادہ ضعیف
نیز فرمایا :
الجالب مرزوق والمحتكر ملعون
”بازار میں مال درآمد کرنے والے کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے پر لعنت بھیجی جاتی ہے۔“
ابن ماجه كتاب التجارات باب الحكرة والجلب ح : 2153 – مستدرك حاكم : 2/11 – سنن الدارمي : 2/249 و اسنادہ ضعيف
اصل میں تاجر کے نفع کمانے کی دو صورتیں ہیں: ایک صورت یہ ہے کہ وہ اشیائے تجارت جمع کر رکھے تاکہ وہ اسے مہنگے داموں فروخت کر سکے یعنی جب چیزیں بازار سے غائب ہو جائیں تو شدید ضرورت مند لوگ منہ مانگے دام دے کر خریدنے کے لیے مجبور ہو جائیں۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ تاجر بازار میں لے آئے اور تھوڑے نفع کے ساتھ اسے فروخت کر دے۔ پھر دوسرا مال لائے اور تھوڑے نفع کے ساتھ اسے بھی فروخت کر دے۔ اس طرح اپنا کاروبار جاری رکھے۔ اس منافع میں تمدنی مصلحت بھی ہے اور برکت بھی، اور ایسا تاجر رزق بھی پاتا ہے جس کی خوشخبری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔
ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں کے ساتھ کھیلنے سے متعلق ایک اہم حدیث سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ صحابی سے روایت ہے۔ جب وہ بیمار ہوئے تو ان کی عیادت کے لیے اموی حاکم عبید اللہ بن زیاد تشریف لائے تو سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس نے مسلمانوں کے لیے گرانی پیدا کرنے کی غرض سے قیمتوں میں مداخلت کی تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے آگ پر بٹھائے۔
مسند احمد : 275 – مستدرك حاكم : 2/12-13 طبراني في الكبير : 20/479 واسنادہ ضعيف
اس قسم کی احادیث کی روشنی میں علماء نے یہ حکم مستنبط کیا ہے کہ ذخیرہ اندوزی کی حرمت دو باتوں کے ساتھ مشروط ہے: ایک یہ کہ کسی ایسی جگہ یا ایسے حالات میں ذخیرہ کیا جائے جبکہ وہاں کے باشندوں کو اس سے تکلیف پہنچے۔ دوسرے اس سے مقصود قیمتیں چڑھانا ہو تاکہ خوب نفع کمایا جا سکے۔
بازار کی آزادی میں مصنوعی مداخلت
ذخیرہ اندوزی سے متعلق ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ شہر میں رہنے والا شہری، دیہاتی کا مال فروخت کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ باہر کا کوئی شخص ضرورت کی اشیاء بازار بھاؤ سے فروخت کے لیے لائے، لیکن اس کے پاس کوئی شہری پہنچ کر یہ کہے کہ مال میرے حوالہ کر دو کہ میں بعد میں اسے زیادہ قیمت پر فروخت کروں۔ کیونکہ اگر دیہاتی خود فروخت کرتا تو چیز سستے میں فروخت ہو جاتی اور وہ خود بھی نفع کماتا اور دوسرے لوگ بھی فائدے میں رہتے۔ اس زمانہ میں اس خرابی کا بہت زیادہ رواج تھا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
نهينا أن يبيع حاضر لباد ولو كان أخاه لأبيه وأمه
”ہمیں اس بات سے منع کیا گیا تھا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال فروخت کرے خواہ وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔“
مصنف ابن ابي شيبة : 14/287 واللفظ لہ بخاری كتاب البيوع باب بشتري حاضر لباد بالسمسرة ح : 2161 – مختصراً مسلم كتاب البيوع: باب تحريم بيع الحاضر للبادي ح : 1523 – بلفظ وان كان اخاہ او اباہ
معلوم ہوا کہ مصلحت عامہ ذاتی یا فرد واحد کے مفاد پر فوقیت رکھتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
لا يبيع حاضر لباد، دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض
”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے۔ لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ اللہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعہ رزق دے گا۔“
مسلم كتاب البيوع باب تحريم بيع الحاضر للبادي ح : 1522
اس سے تجارت کے سلسلہ میں ایک اہم اصول سمجھ آتا ہے اور وہ یہ کہ بازار، قیمتوں اور مبادلہ کو بغیر کسی مداخلت کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے تاکہ فطری مقابلہ اور طبیعی عوامل کے ذریعہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لا يبيع حاضر لباد کے معنی پوچھے گئے تو انہوں نے فرمایا : اس کا مطلب یہ ہے کہ درمیان میں کوئی دلال نہ ہو۔
بخاري كتاب البيوع باب النهي عن تلقى الرکبان ح : 2163 – مسلم كتاب البيوع باب تحريم بيع الحاضر للبادي ح : 1521
دلال کو عام طور سے اپنی اجرت کی فکر ہوتی ہے اور وہ اس قسم کے معاملات میں مصلحت عامہ کو بھول جاتا ہے۔
دلالی کرنا جائز ہے
دلالی اگر دوسرے کاموں کے سلسلہ میں کی جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ کیونکہ دلال بائع اور مشتری کے درمیان واسطہ ہوتا ہے اور دونوں یا کسی ایک فریق کے لیے سہولت پیدا کر دیتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں درآمد و برآمد کے سلسلہ میں اور تھوک فروش اور خوردہ فروش تاجروں کے درمیان واسطہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ واسطہ دلال ہوتے ہیں جو بہت اہم پارٹ ادا کرتے ہیں۔ ان کو اپنی طے شدہ اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ وہ نقدی شکل میں ہو یا منافع میں سے مناسب کمیشن کی شکل میں، یا کسی ایسی شکل میں جس پر دونوں فریق متفق ہو جائیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ابن سیرین، عطاء ابراہیم اور حسن بصری کے نزدیک دلال کی اجرت میں کوئی حرج نہیں ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں، ”یہ کہتے ہیں کوئی حرج نہیں ہے کہ یہ کپڑا فروخت کر اور اس سے زیادہ جو کچھ وصول ہو وہ تیرے لیے ہے۔“
اور ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں : ”اس طرح کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ اسے فلاں قیمت پر فروخت کر اور جو منافع ہوگا وہ تجھے ملے گا یا میرے اور تیرے درمیان مشترک ہوگا۔“
بخاري كتاب الاجارة باب اجر السمسرة تعليقا قبل ح : 2274 وهذه الآثار اخرجه ابن ابي شيبة في المصنف – 578/65 واما الحديث فاخرجه الدارقطني في السنن : 301 والحاكم في المستدرك : 49/2 واسناده ضعيف ولكن له شاهد اخرجه أحمد : 366/2 وابو داود كتاب القضاء باب في الصلح ح : 3594 والترمذى كتاب الاحکام : باب 17 ح : 1352
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
المسلمون عند شروطهم
”مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں۔“
نا جائز نفع اندوزی اور دھوکہ دہی حرام ہے
خارجی اور مصنوعی مداخلت کے سلسلہ کی ایک چیز ”نجش“ ہے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
بخاری کتاب البیوع باب النجش ح : 2142
اور ”نجش“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی تشریح کے مطابق یہ ہے کہ تمہارا ارادہ مال خرید نے کا نہ ہو لیکن تم قیمت سے زیادہ بولی بولو تا کہ دوسرا شخص زیادہ قیمت دے کر مال خرید لے۔
مسلم كتاب البيوع باب تحريم بيع الرجل على بيع أخيه ح : 1516
یہ طریقہ عام طور سے دوسروں کو دھوکہ دینے کی غرض سے اختیار کیا جاتا ہے۔
تجارت کے معاملات کو نفع اندوزی سے اور قیمتوں کو دھوکہ وغیرہ کی آلائشوں سے پاک رکھنے کی غرض سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منڈی میں مال آنے سے پہلے اس کو باہر ہی باہر خرید نے سے منع فرمایا ہے۔
مسلم كتاب البيوع باب تحريم تلقى الجلب ح : 1517
ورنہ منڈی میں مال کی آمد ٹھیک طور پر نہیں ہو سکے گی اور اس کے نتیجہ میں مناسب نرخ مقرر نہ ہوسکیں گئے کیونکہ نرخ کا تعین مال کی منڈی میں آمد اور اس کی مانگ کی مناسبت سے ہوتا ہے۔ مذکورہ صورت ایسی ہے کہ بائع کو بازار کے نرخ کا علم نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بازار میں مال آجانے پر بائع کو سابق سودا صح بالکل ختم کرنے کا اختیار دیا ہے۔
مسلم كتاب البيوع باب تحريم تلقى الجلب ح : 1519
جس نے ہمارے ساتھ دھوکہ دہی کی وہ ہم میں سے نہیں ہے
اسلام نے فریب اور دھوکہ کی تمام صورتوں کو حرام ٹھہرایا ہے خواہ وہ بیع وشراء سے متعلق ہوں یا دوسرے انسانی معاملات سے متعلق۔ اسلام کا مطالبہ ہے کہ مسلمان ہر معاملہ میں سچائی اختیار کریں۔ دین کی مخلصانہ پیروی ہر دنیوی مفاد کے مقابلہ میں زیادہ قیمتی ہے۔
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
البيعان بالخيار مالم يتفرقا فإن صدقا وبينا بورك لهما فى بيعهما وإن كذبا وكتما محقت بركة بيعهما
”بائع اور مشتری دونوں کو سودا مسح کرنے کا اختیار ہے جب تک دونوں جدا نہیں ہو جاتے۔ اگر دونوں سچائی سے کام لیں اور عیب بیان کریں (پوری وضاحت کے ساتھ مال دیں) تو ان کے سودے میں برکت دی جاتی ہے۔ اور اگر جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو سودے کی برکت اٹھا دی جاتی ہے۔“
بخاري كتاب البيوع باب اذا بين البيعان ولم يكتما واصحاح : 2079 – مسلم كتاب البيع باب الصدق في البيع والبيان ح : 1532
ومر رسول الله برجل يبيع طعاما فأعجبه فأدخل يده فيه فرأى بللا فقال ما هذا يا صاحب الطعام قال أصابته السماء فقال فهلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس من غشنا فليس منا
”ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک غلہ فروش کے پاس سے ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غلہ اچھا معلوم ہوا، لیکن جب ہاتھ ڈال کر دیکھا تو نمی محسوس ہوئی۔ فرمایا : کیا بات ہے؟ اس نے کہا : بارش کی وجہ سے نمی پیدا ہوگئی ہے۔ فرمایا : پھر اس کو غلہ کے اوپر کیوں نہیں رکھا کہ لوگ دیکھ لیتے ؟ جو ہمارے ساتھ دھوکہ بازی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
مسلم كتاب الايمان باب قول النبى صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فليس منا ح : 102 – ترمذی، کتاب البیوع: باب ماجاء في كراهية الغش في البيوع ح : 1315
مسلمانوں کے اسلاف کرام معاملہ کرتے وقت مال کا عیب بیان کر دیتے تھے سیچ بولتے اور جھوٹ سے پرہیز کرتے، خلوص کا ثبوت دیتے اور دھوکہ دہی سے کلی اجتناب کرتے۔ چنانچہ امام ابن سیرین رحمہ اللہ کا واقع ہے کہ جب انہوں نے ایک بکری فروخت کی تو خریدار سے کہا : ”میں اس کا عیب بیان کر کے بری الذمہ ہوتا ہوں۔ یہ بکری پاؤں سے چارہ ادھر ادھر پھیلا دیتی ہے۔ اسی طرح حسن بن صالح رحمہ اللہ کا قصہ ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی فروخت کی تو خرید نے والے سے کہا : ”اس لونڈی نے ایک بار خون تھوکا تھا۔“
بہ کثرت قسمیں کھانا
حرمت اس صورت میں دو چند شدید ہو جاتی ہے جبکہ دھوکہ دہی کے ساتھ جھوٹی قسم بھی کھائی جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کو بکثرت قسمیں کھانے سے اور خاص طور سے جھوٹی قسمیں کھانے سے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
الحلف منفقة للسلعة ممحقة
”قسم کھانے سے مال تو فروخت ہو جاتا ہے لیکن برکت اُٹھ جاتی ہے۔“
بخاری کتاب البيوع باب يمحق الله الربا ويربى الصدقات ح : 2087 – مسلم کتاب المساقاة باب النهي عن الحلف في البيع ح : 1606
کاروبار میں بہ کثرت قسمیں کھانا، اس لیے نا پسندیدہ ہے کہ ایسی صورت میں غلط بیانی لان کا زیادہ احتمال ہے نیز اس کے نتیجہ میں دل سے اللہ تعالیٰ کی عظمت بھی زائل ہو جاتی ہے۔
ناپ تول میں کمی کرنا
دھوکہ دہی کی ایک قسم ناپ تول میں کمی کرنا بھی ہے۔ قرآن نے معاملہ کے اس پہلو کا بڑے پر زور انداز سے ذکر کیا ہے :
وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا
”اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو۔ ہم کسی نفس پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔“
(سورة الأنعام : 152)
وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا
”اور جب تم ناپو تو ناپ بھر کر دو اور صحیح ترازو سے تولو۔ یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے خوب تر ہے۔“
(سورة بنی إسرائیل : 35)
وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ 1 الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ 2 وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ 3 أَلَا يَظُنُّ أُولَٰئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ 4 لِيَوْمٍ عَظِيمٍ 5 يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
”تباہی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔ یہ جب لوگوں سے ناپ لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔ اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو گھاٹا دیتے ہیں۔ کیا وہ نہیں سمجھتے کہ انہیں ایک بڑے دن اٹھایا جائے گا ؟ جس دن کہ لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔“
(سورة المطففين : 1 تا 6)
عدل حقیقی کا تصور تو مشکل ہے البتہ ایک مسلمان کی یہ ذمہ داری ضرور بنتی ہے کہ جہاں تک ہو سکے وہ عدل کرے۔ اسی لیے قرآن میں ناپ تول کے بارے میں پورے انصاف سے کام لینے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے :
لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا
”ہم کسی نفس پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔“
(سورة الأنعام : 152)
ایک ایسی قوم کا قصہ بھی قرآن میں بیان کیا گیا ہے جس نے معاملات کے سلسلہ میں ظالمانہ روش اختیار کی اور لوگوں کو گھاٹا دینے لگی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے عدل اور اصلاح کی راہ پر لگانے کے لیے رسول بھیجا۔ یہ قوم سیدنا شعیب علیہ السلام کی تھی جس کو دعوت دیتے ہوئے اور انجام بد سے آگاہ کرتے ہوئے سیدنا شعیب علیہ السلام نے فرمایا :
أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ 181 وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ 182 وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
”ناپ پورا دو اور گھاٹا دینے والے نہ بنو۔ صحیح ترازو سے تولو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔“
(سورہ الشعراء : 181 تا 183)
یہ واقعہ ایک مثال کی حیثیت سے ہے (درس عبرت) جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کو کس طرح زندگی بسر کرنا چاہیے اور اسے اپنے تعلقات اور اپنے تمام معاملات میں کن باتوں کا پابند ہونا چاہیے۔ مسلمان کا یہ کام نہیں کہ دو مختلف پیمانوں سے ناپے اور دو مختلف ترازوں سے تولے۔ کہ لینے کے پیمانے اور ہوں اور دینے کے اور۔ لیتے وقت بھرپور وزن کر کے لے اور دوسروں کو دے تو گھاٹا دے۔
چوری کا مال خریدنا چور کے ساتھ مشارکت ہے
اسلام نے جرم کی مخالفت اور جرم کے ارتکاب کو مشکل بنانے کی غرض سے ایسی چیز کا خریدنا بھی حرام ٹھہرایا ہے جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ غصب شدہ یا چوری کا مال ہے یا اصل مالک سے ناروا طریقہ پر حاصل کر لیا گیا ہے۔ کیونکہ اس صورت میں غاصب، چور اور زیادتی کرنے والے شخص کے ساتھ غصب چوری اور زیادتی کے معاملہ میں تعاون ہوگا۔
من اشترى سرقة وهو يعلم إنها سرقة فقد اشترك فى إثمها وعارها
”جس نے چوری کا مال خریدا یہ جانتے ہوئے کہ یہ چوری کا مال ہے وہ اس (چور) کے گناہ اور برائی میں شریک ہوا۔“
مستدرک حاکم : 2/ 35، السنن الکبری للبیہقی : 5/ 335-336 و اسنادہ ضعیف
مسروقہ مال پر لمبی مدت گزر جانے سے گناہ زائل نہیں ہوتا کیونکہ اسلام میں وقت کی طوالت حرام کو حلال نہیں بناتی اور نہ معاملہ پرانا (قدیم) ہو جانے سے ہی اصل مالک کا حق ساقط ہوتا ہے۔ بعض انسانی قوانین بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔