حدیث ”لا اشبع اللہ بطنہ“ کی وضاحت: امام مسلم اور دیگر محدثین کا فہم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔
مضمون کے اہم نکات

”لا اشبع اللہ بطنہ“ کی وضاحت/ امام مسلم اور دیگر ائمہ کا فہم:

ان اعتراضات کے بعد انہی اور ان سے متعلقہ ویڈیوز میں مرزا صاحب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض اور اہل سنت پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس روایت میں ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ وحی لکھا کرتے تھے آپ لوگ وہ روایت آدھی بیان کرتے ہو، آدھا سچ بیان کرتے ہو اور آدھا چھپا لیتے ہو اور کتمان حق کے متعلق قرآن مجید کی آیات ہم پر فٹ کرتے ہیں۔ لیکن ان باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم نا صرف یہ چیزیں بیان کرتے ہیں بلکہ ان کا صحیح مفہوم جو کہ محدثین نے بیان کیا سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔ مگر آپ کا طرز عمل اس کے بالکل برعکس ہے، صحیح مسلم کی مکمل حدیث ملاحظہ فرمائیں:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ قَالَ: فَجَاءَ، فَحَطَأَنِي حَطْأَةً، وَقَالَ: اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ۔ قَالَ: فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: هُوَ يَأْكُلُ. قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِيَ: اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ. قَالَ: فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: هُوَ يَأْكُلُ. فَقَالَ: ”لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ“۔
”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا، آپ آئے اور مجھے تھپکی لگائی اور فرمایا: جاؤ، میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ۔ میں گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا: جاؤ، معاویہ کو بلا کر لاؤ۔ میں گیا اور پھر آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔““ (صحیح مسلم:2604)
اب مرزا صاحب نے مکمل حدیث بیان کر کے یہ تو مشہوری کروا دی کہ میں نے پورا حق بیان کیا ہے جو آپ کے مولوی اور استاد چھپاتے ہیں آپ کو بتاتے نہیں، آپ کو تو میرا مشکور ہونا چاہیے کہ میرے ذریعے سے آپ کو حق بات پتہ چل رہی ہے، اور کہا: کہ مجھے کوئی گالی نا نکالے جس نے گالی نکالنی ہے امام مسلم کو نکالے اور اپنا ایمان برباد کرے جنہوں نے یہ کتاب لکھ کر امت کو حق بات بتائی! مگر یقین جانیے یہ انجینئر صاحب کی انجینئرنگ اور محض دھوکے بازی ہے آپ ان ائمہ اور کتابوں کے نام پر فراڈ کر رہے ہیں۔ یہ بات بالکل سچ ہے کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے ہم تک حق بات پہنچائی ہے لیکن مرزا صاحب نے انہی امام مسلم کا نام لے کر ڈنڈی ماری ہے اور جو حق امام مسلم رحمہ اللہ نے بیان کیا اور اس روایت کا صحیح مفہوم بیان فرمایا ہے کو آپ بیان تک نہیں کرتے۔
مرزا صاحب اپنی ویڈیو ”مسئلہ 157 پارٹ a“ میں حق چھپانے کے حوالے سے ہی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: امام مسلم نے جو اپنی کتاب میں لکھا وہ مسلم کا فہم ہی ہمیں دکھانا ہوگا، اپنے مولویوں کا نہیں! (دورانیہ 21:58)۔ ایک ویڈیو میں فرماتے ہیں:

”میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج یہ ہمارا پلیٹ فارم اللہ کے فضل سے علم حدیث کے حوالے سے جو خدمت کر رہا ہے، آج اگر امام مسلم رحمہ اللہ زندہ ہوتے تو یقیناً گریڈنگ میں پہلا نمبر ہمارے اس پلیٹ فارم کو دیتے کہ ہم نے امام مسلم کے اس منہج کو – جو محدثین کا منہج انہوں نے ایک جگہ جمع کیا تھا – وہ عام مسلمانوں تک پہنچا دیا ہے۔“

Imam Muslim became Shiah? 8:35
لیکن صحیح مسلم کی اس روایت کے متعلق امام مسلم رحمہ اللہ کا کیا فہم ہے کبھی انجینئر صاحب نے بیان کیا ہے؟ بالکل نہیں! بلکہ آپ تو مسلم کی روایت بیان کر کے امام مسلم ہی کے خلاف کھڑے ہیں!
تو مرزا صاحب کے اندھے مقلدین سے گزارش ہے کہ کبھی خود بھی صحیح مسلم کھول کر دیکھ لیں کہ آخر یہ حدیث امام مسلم نے بیان کیوں کی ہے؟ اگر کوئی صحیح مسلم کے اس مکمل باب کو شروع سے آخر تک پڑھ لے تو اس پر مرزا صاحب کی مرزائیت (کذب بیانی) کھل کر سامنے آ جاتی ہے، چنانچہ صحیح مسلم میں یہ روایت اس باب کے تحت ہے:
مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً
”اس بات کا بیان کہ اگر کسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی یا اسے برا بھلا کہا یا اس پر بد دعا کی اور وہ اسکا اہل نہیں تھا تو یہ اس کے لیے تزکیہ، اجر اور رحمت کا باعث بن جائے گا۔“
اس باب کے تحت پہلی حدیث امام مسلم رحمہ اللہ نے جو ذکر کی:
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ، فَكَلَّمَاهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَأَغْضَبَاهُ، فَلَعَنَهُمَا وَسَبَّهُمَا، فَلَمَّا خَرَجَا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَصَابَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا مَا أَصَابَهُ هَذَانِ. قَالَ: وَمَا ذَاكِ ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا. قَالَ: أَوَمَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُ عَلَيْهِ رَبِّي ؟ قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ، فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا ۔
”اماں جی عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص آئے، تو انہوں نے کوئی بات کی جو مجھے معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا، آپ نے ان پر لعنت کی اور ان دونوں کو برا کہا، جب وہ نکل کر چلے گئے تو میں نے کہا کہ ان دونوں کو تو کوئی خیر نہیں ملی۔ آپ نے فرمایا: وہ کیوں ؟ میں نے کہا: آپ نے ان پر لعنت کی اور انہیں برا کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں علم نہیں ہے میں نے اپنے رب سے کیا شرط کی ہوئی ہے؟ میں نے کہا ہے: اے اللہ! میں تو صرف ایک بشر ہوں، لہٰذا میں جس مسلمان کو لعنت کروں یا برا کہوں تو اسے اس کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور حصول اجر کا ذریعہ بنا دے۔““
پھر یہ حدیث نقل کی:
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں صرف ایک بشر ہوں، اس لیے میں جس مسلمان کو برا بھلا کہوں یا اس پر لعنت کروں یا اس کو کوڑے ماروں تو اسے اُس کے لیے پاکیزگی اور رحمت (کا ذریعہ) بنا دے۔““ (صحیح مسلم:2601)
اور پھر یہی حدیث مختلف اسانید سے بیان فرمائی جن میں یہ اضافہ بھی موجود ہے کہ اسے اسکے لیے مغفرت اور قیامت کے دن تیرے قرب کا ذریعہ بنا دے۔ پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث ذکر کی:
كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ – وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ – فَرَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَتِيمَةَ، فَقَالَ: آنْتِ هِيَهْ؟ لَقَدْ كَبِرْتِ، لَا كَبِرَ سِنُّكِ. فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ؟ قَالَتِ الْجَارِيَةُ: دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنِّي، فَالْآنَ لَا يَكْبَرُ سِنِّي أَبَدًا، أَوْ قَالَتْ: قَرْنِي. فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي قَالَ: "وَمَا ذَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟” قَالَتْ: زَعَمْتُ أَنَّكَ دَعَوْتَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنُّهَا، وَلَا يَكْبَرَ قَرْنُهَا. قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: "يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَى رَبِّي، أَنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ، وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ، لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ، أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً وَقُرْبَةً، يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ”۔
”حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک یتیم لڑکی تھی اور یہی (ام سلیم رضی اللہ عنہا) ام انس بھی کہلاتی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (یتیم بچی) کو دیکھا تو فرمایا: تم وہی ہو؟ کتنی بڑی ہو گئی ہو، تمہاری عمر بڑی نہ ہو! وہ لڑکی روتی ہوئی واپس حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پوچھا: بیٹی! تمہیں کیا ہوا؟ اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے بددعا فرما دی ہے کہ میری عمر بڑی نہ ہو، اب میری عمر کبھی بھی بڑی نہ ہوگی، یا کہا: اب میرا زمانہ ہرگز زیادہ نہیں ہوگا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا جلدی سے دوپٹہ لپیٹتے ہوئے نکلیں، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ام سلیم! کیا بات ہے؟ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے نبی! کیا آپ نے میری یتیم بچی کے لیے بددعا کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ام سلیم کیا ہوا ہے؟ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ کہتی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ہے کہ اس کی عمر زیادہ نہ ہو، اور اس کا زمانہ لمبا نہ ہو، (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے، پھر فرمایا: ”ام سلیم! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اپنے رب سے کیا شرط رکھی ہے، میں نے کہا ہے (اے اللہ!) میں ایک بشر ہی ہوں، جس طرح ایک بشر خوش ہوتا ہے، میں بھی خوش ہوتا ہوں اور جس طرح بشر غصہ ہوتے ہیں میں بھی غصہ ہوتا ہوں۔ تو میری امت میں سے کوئی بھی آدمی جس کے لیے میں نے بددعا کی اور وہ اس کا مستحق نہ تھا تو اس بددعا کو قیامت کے دن اس کے لیے طہارت، تزکیہ اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے سے تو اسے اپنے قریب فرما لے۔““ (صحیح مسلم:2603)
پھر اس کے متصل بعد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بیان کردہ حدیث ہے جسے گھٹیا سوچ کے مالک حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر تنقید کرنے کے لیے اچھالتے ہیں۔ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ علماء نے حق چھپایا ہے امام مسلم نے تو حق بیان کیا ہے مگر آپ کے سامنے ہے امام مسلم رحمہ اللہ تو اس روایت کو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں بتا رہے ہیں کہ ان کے نزدیک جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کا عذر ہے (جسکی وضاحت آگے آ رہی ہے) تو اس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کے مستحق ہوئے جو آپ نے اللہ سے کی ہے کہ اگر میں کسی کو بددعا کروں اور وہ اس کا اہل نا ہو………… ائمہ کرام نے امام مسلم کے اس اسلوب سے یہی اخذ کیا ہے۔
امام ابوزکریا النووی رحمہ اللہ نے اسکی شرح میں فرمایا:
وَقَدْ فَهِمَ مُسْلِمٌ رَحِمَهُ اللهُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ لَمْ يَكُنْ مُسْتَحِقًّا لِلدُّعَاءِ عَلَيْهِ فَلِهَذَا أَدْخَلَهُ فِي هَذَا الباب وجعله غيره من مناقب معاوية لانه فِي الْحَقِيقَةِ يَصِيرُ دُعَاءً لَهُ ۔
”امام مسلم رحمہ اللہ کا اس حدیث کے بارے میں فہم یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بددعا کے اہل نا تھے، اسی لیے آپ رحمہ اللہ نے اس روایت کو اس باب میں ذکر کیا ہے اور دیگر ائمہ کرام نے اسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مناقب میں شمار کیا ہے کیونکہ درحقیقت یہ آپ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا بنتی ہے (یعنی وہ دعا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے شرط رکھی ہے)۔“ (شرح النووی علی مسلم:156/16)
امام حمیدی (م488ھ) رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کی اس حدیث کے تحت فرمایا:
جعل مسلم بن الْحجَّاج رَحْمَة الله عَلَيْهِ هَذَا الحَدِيث فِي مُعَاوِيَة رَحْمَة الله عَلَيْهِ من فضائله، لِأَنَّهُ أخرج مُتَّصِلا بِهِ الْأَحَادِيث فِي دُعَائِهِ عَلَيْهِ السَّلَام عَن سبه ۔
”امام مسلم بن الحجاج رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں شمار کیا ہے، کیونکہ اسے انہوں نے ان احادیث کے متصل بعد ذکر فرمایا ہے کہ جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے کہ جنہیں آپ نے برا بھلا کہا (اور وہ اس کے اہل نا تھے)۔“ (الجمع بین الصحیحین:135/2)
تقریباً اسی سے ملتی جلتی بات ابن ہبیرۃ (م560ھ) رحمہ اللہ نے کہی۔ (الافصاح عن معانی الصحاح:259/3)
علامہ ابن العربی رحمہ اللہ نے بھی فرمایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث امام مسلم رحمہ اللہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں لائے ہیں۔ (المسالک:106/5)
نیز امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو جناب معاویہ کے حق میں بیان کیا ہے۔(البدایۃ:120/8)
تو بتایئے حق مرزا صاحب چھپاتے ہیں یا علماء کرام؟ امام مسلم اور حق گوئی کے نام پر جو فراڈ مرزا صاحب نے کیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے کہ وہ تو اس حدیث کو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں پیش کر رہے ہیں مگر انجینئر صاحب تو اسے ان کے خلاف پیش کر رہے ہیں تاکہ ان کی کردار کشی کر سکیں، مرزا صاحب! امام مسلم رحمہ اللہ نے تو واقعی حق امت تک پہنچایا ہے مگر ان کے نام پر آپ امت کو کیا دے رہے ہیں؟
اب یہ جملہ کہ ”اللہ اسکا پیٹ نا بھرے“ ان کے حق میں ہے یا مذمت میں اس کے لیے دیکھنا چاہیے کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ اسکے اہل ہیں یا نہیں؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جملہ معاملے کے ظاہر کو مدنظر رکھ کر بولا ہے اور صحیح مسلم کی سابقہ احادیث سے یہ واضح ہے کہ بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بتقاضائے بشریت ایسا کلام صادر ہو جاتا کہ صحابہ اسے حقیقی بددعا سمجھنے لگتے۔ اپنی اسی ویڈیو میں خود مرزا صاحب نے بھی کہا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات وحی سے نہیں ہوتی، مثلاً آپ علیہ السلام کی وہ اجتہادی غلطیاں جن پر اللہ نے آپ کی گرفت کی“۔ بہرحال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے لیے غلطی اور خطا جیسے الفاظ کا استعمال نہیں کرتے بلکہ ہماری عرض صرف اتنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہری معاملے کے مطابق یہ کلمہ ارشاد فرمایا ہے، کہ میں اسے بلا رہا ہوں اور وہ کھانا کھا رہے ہیں، لیکن کیا معاملہ ہے کہ امام مسلم کے نزدیک یہ بد دعا نہیں بلکہ فضیلت ہے؟
یہی صحیح مسلم کی حدیث پر غور کریں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما پیغام لے کر گئے ہیں مگر اس میں ایسی کوئی دلیل نہیں کہ جس سے کہا جا سکے کہ جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ملے تھے اور انہیں ڈائریکٹلی پیغام دیا تھا، بلکہ روایت کے الفاظ ہیں: ”فَجِئْتُ، فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ“ یعنی میں گیا تو (آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا) وہ کھانا کھا رہے ہیں، انہوں نے یہ بالکل نہیں کہا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں کہ میں کھانا کھا رہا ہوں یا کھانا کھا کر آؤں گا! دلائل النبوۃ کی روایت میں ہے: ”فَقِيلَ: إِنَّهُ يَأْكُلُ“، یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ”مجھ سے کہا گیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے ہیں“ اب یہ کہنے والا کون تھا؟ کیا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام جو ابن عباس رضی اللہ عنہما لے کر آئے ہیں جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیا ہے یا نہیں؟ اس کی صراحت کہیں موجود نہیں۔ تو ایسا ہو سکتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو پتہ نا چل سکا ہو، یا آپ کا کوئی اور عذر ہو، یہی وجہ ہے کہ محدثین اسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں بیان کرتے ہیں اور ان کا دفاع کرتے ہیں۔
انجینئر صاحب جان بوجھ کر ہر مرتبہ اس حدیث کے ترجمے میں گھپلا مارتے ہیں، یعنی اصل الفاظ تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے یہ ہیں کہ مجھے کہا گیا کہ وہ (یعنی معاویہ رضی اللہ عنہ) کھانا کھا رہے ہیں، مگر مرزا صاحب ترجمہ کرتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں کھانا کھا رہا ہوں یا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں کھانا کھا کر آتا ہوں وغیرہ وغیرہ، اور یہ سب اپنے باطل مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ہے تاکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق لوگوں میں منفی سوچ عام کی جا سکے، اور یاد رہے یہ سب آپ حق گوئی کا فریضہ سر انجام دیتے ہوئے کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے ایک بہت بڑا اشکال مرزا صاحب یہ بھی پیدا کیا کرتے ہیں کہ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی) حدیث میں تو بشارت اور دعا اس شخص کے لیے ہے کہ جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی ہو اور وہ اس بددعا کا اہل نا ہو، اگر اہل ہوگا تو وہ بددعا ہی رہے گی، تو آپ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اسکا اہل قرار دینے کے لیے ایک عجیب و غریب منطق پیش کیا ہے، کہتے ہیں کہ اللہ اسکا پیٹ نا بھرے، تو یہ دعا تو تب ثابت ہو کہ جب حضرت معاویہ تھوڑا سا کھاتے تو ان کا پیٹ بھر جاتا۔ یعنی: الفاظ بددعا والے ہیں تو اگر دعا بنتی تو رزلٹ اس کے ریورس ہونا چاہیے تھا نا، اور آپ اسی ضمن میں جو دلائل پیش کرتے ہیں اس سے قبل مرزا صاحب کے اس ریورس فارمولے پر انجینئرنگ کرنا ضروری ہے۔ دیکھیں! حدیث میں جو الفاظ ہیں وہ پیچھے بیان ہو چکے ہیں کہ اگر میں اپنی امت میں سے کسی شخص پر لعنت کروں، یا برا بھلا کہوں یا بددعا کر دوں تو اگر وہ اس کا اہل نا ہو تو (اے اللہ) اسے اسکے حق میں طہارت، رحمت، گناہوں سے معافی اور اپنے قرب کا ذریعہ بنا دے! اب ان الفاظ کو سامنے رکھتے ہوئے مرزا صاحب کے ریورس فارمولے پر غور کریں کیا حدیث میں کوئی ایسی بات ہے؟ کہ: اگر وہ اس بددعا کا اہل نا ہو تو وہ دعا بن جائے اور دعا ایسے بنے کہ نتیجہ اس بددعا کے بالکل الٹ ہو؟ حدیث میں دور دور تک ایسی بات نہیں اور نا محدثین میں سے کسی نے یہ تشریح کی ہے، بلکہ حدیث میں صرف اتنا ہے کہ وہ بددعا اس کے لیے کفارہ بن جائے اور اللہ کی رحمت اور قرب کا ذریعہ بن جائے، اس میں یہ شرط نہیں کہ اگر وہ اس بددعا کا اہل نہیں تو وہ بددعا اسے نا لگے، بلکہ ایسا ممکن ہے کہ اس بددعا کا نقصان اسے اٹھانا پڑ جائے لیکن اس پر چونکہ یہ ایک تکلف ہے لہٰذا وہ تکلف اسکے لیے رحمت کا باعث اور قیامت کے دن اللہ کے قرب کا ذریعہ بن جائے گا، اور حدیث میں یہ بالکل بھی نہیں کہ اگر وہ بددعا بعینہ پوری ہو گئی تو اسکا مطلب ہوگا کہ وہ اس بددعا کا اہل ہے۔ لہٰذا مرزا صاحب کا یہ ریورس فارمولا اور حدیث کی تشریح غلط ہے۔ زیر بحث حدیث مسند احمد:7311،8199،9070،9074،9802،15294…………، مصنف ابن ابی شیبہ:6/71، مسند حمیدی:1071، صحیح بخاری:6361، صحیح مسلم:2600،2601،2602،2603 اور سنن دارمی:2/406، ابی عوانہ:11338 تا 11360، سنن الکبری للبیہقی:7/61، تاریخ دمشق:4/89 میں موجود ہے مگر کسی میں ایسے الفاظ نہیں جو مرزا صاحب کے اس منطق کی تائید کرتے ہوں، بلکہ حدیث کے الفاظ تو اسکی نفی کرتے ہیں۔ لہٰذا: ”اللہ اسکا پیٹ نا بھرے“ کو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دعا کہنے سے مراد ہے کہ یہ دعا کا ذریعہ ہیں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی کہ ایسے شخص کو رحمت، مغفرت اور اللہ کا قرب نصیب ہو، جیسا کہ امام ابوالعباس القرطبی (م656ھ) رحمہ اللہ نے اس کی تشریح میں کہا: فحصل له من دعاء النبي صلى الله عليه وسلم الكفارة والرحمة والقربة إلى الله تعالى التي دعا بها النبي صلى الله عليه وسلم ۔
”پس (اس بددعا کی وجہ سے) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفارے، رحمت اور اللہ کے قرب والی دعا حاصل ہوئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے کر رکھی ہے۔“ (المفہم:589/6)
تو امام مسلم رحمہ اللہ اور دیگر محدثین کے فہم کی مخالفت کرتے ہوئے نا انجینئر صاحب نے یہ ثابت کیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس بددعا کے اہل تھے، اور اس کے لیے جو ریورس کا قانون دریافت کیا اسکا ثبوت بھی حدیث میں موجود نہیں، تو جب یہ شرط ہی حدیث سے ثابت نہیں کہ اگر وہ اس بددعا کا اہل نا ہوگا تو اس سے الٹ نتیجہ نکلے گا ورنہ بد دعا ویسے ہی قبول ہوگی، لہٰذا آپ کا اس بات پر زور دینا کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو وہ بد دعا لگی تھی یا نہیں؟ بے کار ہے، اور نا ہی محدثین نے وہ رزلٹ نکالا ہے کہ جو آپ بیان کرتے ہیں، مرزا صاحب نے پہلی دلیل یہ بیان کی ہے:
جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ خَطَبَ جَالِسًا مُعَاوِيَةُ، حِينَ كَبِرَ وَكَثُرَ شَحْمُهُ وَعَظُمَ بَطْنُهُ ۔
”امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جس نے بیٹھ کر خطبہ دیا وہ معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں کہ جب وہ بوڑھے ہو گئے تھے اور ان کی چربی اور پیٹ بڑھ گیا تھا۔“ (مصنف ابن ابی شیبہ:35735)
مرزا صاحب اَن گنت مرتبہ یہ اصول بیان کر چکے ہیں کہ مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے، مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے! مگر یہ مرزا صاحب کی مرزائیت کا بنیادی اصول ہے کہ اپنے گندے مقاصد کو فروغ دینے کے لیے اپنے ہی بیان کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں، ورنہ آپ کبھی بھی صحابہ کرام پر طعن نہیں کر سکتے، ایک جگہ ایک بات کہتے ہیں دوسرے مقام پر خود اس کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں اور ایسا کبھی کبھار نہیں ہوتا بلکہ آپ مرزا صاحب کے ہر اعتراض کے تحت اس منافقانہ روش کی جھلک ضرور دیکھیں گے۔ تو عرض ہے کہ اس کی سند میں جو راوی مغیرہ (بن مقسم) ہیں وہ مدلس ہیں اور یہاں روایت عن کے صیغہ سے بیان کر رہے ہیں، اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے انہیں مدلسین کے تیسرے طبقے میں شمار کیا ہے۔ (طبقات المدلسین:107)
جن کی تدلیس سفیان ثوری اور اعمش وغیرہ سے بھی مضر ہوتی ہے، تو جب مرزا صاحب سفیان ثوری اور اعمش کی عن والی روایت کو ضعیف قرار دیتے ہیں تو پھر اس مغیرہ بن مقسم کا حال کیا ہوگا؟ مگر افسوس ہے کہ انجینئر صاحب روافض کی ہمنوائی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف ضعیف روایات بیان کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے بلکہ جو خود ان کے بیان کردہ قوانین کے مطابق بھی ضعیف ہوں، اور جو روایات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں ان کے متعلق بلا دلیل ضعیف، ضعیف، ضعیف کی رٹ لگائے رکھتے ہیں۔
دوسری دلیل اس حوالے سے جو مرزا صاحب دیا کرتے ہیں وہ دلائل النبوۃ کی وہی روایت ہے جسے آپ یہ کہہ کر بیان کرتے ہیں کہ تم لوگ آدھی حدیثیں بیان کرتے ہو، اور علماء یہود کی طرح حق چھپا کر لعنت کے مستحق بنتے ہو، اور کہتے ہیں میں آپ کو ساری حدیث بتاتا ہوں، تو اس روایت میں یہ ہے کہ (سند میں سے کوئی) راوی یہ قصہ بیان کرنے کے بعد کہتا ہے کہ: ”فما شبع بطنه“، پھر اس کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ نہیں بھرا۔ (دلائل النبوۃ:243/6)
لیکن عرض ہے کہ انجینئر صاحب اس سے جو مراد لے رہے ہیں وہ درست نہیں۔ اس حدیث کے متعلق محدثین کا فہم اور ان کی گزارشات ملاحظہ فرمائیں:

امام مسلم رحمہ اللہ:

امام صاحب کے اسلوب اور دیگر ائمہ وشارحین کی وضاحت سے آپ جان چکے ہیں کہ امام مسلم رحمہ اللہ کا اس حدیث کو صحیح مسلم کے اس مقام پر درج کرنے کا مقصد کیا ہے، وہ تو اسے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں لے کر آئے ہیں، وہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس بددعا کا اہل نہیں سمجھتے ہیں، جس سے ثابت ہوا کہ راوی کے اس اضافے سے جو مراد مرزا صاحب لے رہے ہیں وہ بالکل باطل ہے، اور جو ریورس والا فارمولا آپ نے گھڑا اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اگرچہ آپ رضی اللہ عنہ کو اس بددعا سے دوچار ہونا پڑا لیکن اس سے یہ کہنا کہ وہ اس کے اہل تھے غلط ہے!
تو کم از کم مرزا صاحب امام مسلم کی تو مخالفت مت کریں جبکہ آپ انہیں اپنا most favourite امام قرار دیتے ہیں۔ ہمارا مقصد انجینئر صاحب کے فالوورز کو اسی دھوکے سے باہر نکالنا ہے کہ امام مسلم اور صحیح مسلم کے نام پر انجینئر صاحب روافض کا چورن بیچتے ہیں، آپ اکثر صحیح مسلم کی حدیث بیان کر کے جو فرماتے ہیں کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے تو صحیح مسلم کے مقدمے میں لکھا ہے کہ یہ کتاب میں عوام الناس کے لیے لکھ رہا ہوں مگر تم لوگ کہتے ہو یہ احادیث بیان نا کرو۔ حالانکہ صحیح مسلم کی جن روایات کو مرزا صاحب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف پیش کرتے ہیں امام مسلم رحمہ اللہ اور باقی ائمہ تو ان سے وہ معنی بالکل نہیں نکالتے جو کہ آپ اخذ کرتے ہیں بلکہ ان احادیث کے متعلق ان کے نظریات تو آپ کے باطل نظریات سے بالکل خلاف ہوتے ہیں، یہ مذکورہ مسئلہ اسکی ایک واضح مثال ہے، لہٰذا ہم یہ نہیں کہتے کہ ان احادیث کو چھپاؤ، بلکہ ہمارا مطالبہ تو بس اتنا ہے کہ ان احادیث کو انہی محدثین کے فہم کے مطابق سمجھا اور بیان کیا جائے۔

امام بیہقی رحمہ اللہ:

اس حدیث کے متعلق امام بیہقی رحمہ اللہ کا اسلوب اور فہم بھی وہی ہے جو امام مسلم رحمہ اللہ کا ہے، چنانچہ آپ نے جہاں دلائل النبوۃ میں یہ حدیث ذکر کی تو اسکے فوراً بعد وہ حدیث نقل فرمائی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے شرط رکھی ہے کہ اگر میں کسی کو برا بھلا کہوں یا بددعا کر دوں اور وہ اسکا اہل نا ہو………… حالانکہ وہاں اس حدیث کی باب کے ساتھ کوئی اور مناسبت نہیں، تو امام بیہقی رحمہ اللہ کیا بتانا چاہتے ہیں؟ یہی کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس بددعا کے مستحق نا تھے بلکہ صاحب عذر تھے، اور اسکے ذریعے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا حاصل ہوئی۔
جناب معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرنے کے لیے جب مرزا صاحب اس روایت کو بیان کرتے ہیں تو ساتھ ہی دھوکا دینے کے لیے کہتے ہیں کہ اب امام مسلم اور امام بیہقی کو بھی رافضی کہو، انہوں نے یہ روایات بیان کی ہیں! مرزا صاحب اس سے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ اگر محدثین نے یہ سب بیان کیا ہے تو میں کونسا جرم کر رہا ہوں؟ حالانکہ محدثین کے طرز عمل اور آپ کے رویہ میں زمین آسمان کا فرق ہے، امام مسلم وبیہقی تو اس حدیث کو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں بیان کرتے ہیں اور ان کا بھرپور دفاع کر رہے ہیں اور جبکہ آپ تو انہی روایات کو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی مذمت میں ان پر تنقید کرنے کے لیے بیان کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کے متعلق منفی تاثر ہی دیتے ہیں تو امام مسلم اور امام بیہقی کو کیسے رافضی قرار دیا جا سکتا ہے حالانکہ وہ آپ کا اور روافض ہی کا رد فرما رہے ہیں۔

امام نووی رحمہ اللہ:

أَنَّ مَا وَقَعَ مِنْ سَبِّهِ وَدُعَائِهِ وَنَحْوِهِ لَيْسَ بِمَقْصُودٍ بَلْ هُوَ مِمَّا جَرَتْ بِهِ عَادَةُ الْعَرَبِ فِي وَصْلِ كَلَامِهَا بِلَا نِيَّةٍ كَقَوْلِهِ تَرِبَتْ يَمِينُكَ وعَقْرَى حَلْقَى وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ لَا كَبِرَتْ سِنُّكِ وَفِي حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ لَا أَشْبَعَ الله بَطْنَه ونحو ذلك لا يقصدون بشيء مِنْ ذَلِكَ حَقِيقَةَ الدُّعَاء ۔
”یہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (بعض صحابہ کے لیے) بددعا (کے الفاظ) یا اس جیسا کچھ منقول ہے تو حقیقت میں ان سے بددعا مقصود نہیں ہے، بلکہ یہ ان باتوں میں سے ہیں جو عرب لوگ بغیر (بددعا کی) نیت کے بطور تکیہ کلام بول دیتے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی صحابی کے متعلق کہنا ”تَرِبَتْ يَمِينُكَ“ (تیرا داہنا ہاتھ خاک آلود ہو)، اور اپنی بیویوں میں سے کسی کو کہنا ”عَقْرَى حَلْقَى“ (اے بانجھ، اے سر منڈی)، اور اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہنا ”لَا كَبِرَتْ سِنُّكِ“ (تیری عمر بڑی نا ہو)، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپ کا کہنا ”لَا أَشْبَعَ اللهُ بَطْنَهُ“ (اللہ اسکا پیٹ نا بھرے) اور ایسی اور بھی مثالیں ہیں، ان میں سے کسی سے بھی بددعا کرنا مقصود نہیں ہوتا۔“ (شرح النووی علی مسلم:152/16)

علامہ قاضی عیاض رحمہ اللہ:

نے بھی اسی کے ہم معنی بات کہی ہے۔ (اکمال المعلم:75/8)

علامہ ابوعبداللہ المازری رحمہ اللہ:

نے بھی صحیح مسلم کی شرح میں لکھا ہے کہ اس کلمے سے بددعا کرنا مقصود نہیں۔ (المعلم بفوائد مسلم:297/3)

امام ابن اثیر (ابوالسعادات) رحمہ اللہ:

نے فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ میں پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ رضی اللہ عنہ کے حق میں دعا: ”اے اللہ معاویہ کو ہادی اور مہدی بنا اور اسکے ذریعے لوگوں کو ہدایت عطا فرما“ نقل کی اور پھر صحیح مسلم کی زیر بحث حدیث فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ کے تحت لائے۔ (جامع الاصول:108/9)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ:

آپ نے فرمایا: کہ اس حدیث میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے، اور یہ بات آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا ”اگر میں کسی کو برا بھلا کہوں یا بددعا کر دوں اور وہ اسکا اہل نا ہو تو یہ اس کے لیے مغفرت، رحمت، پاکیزگی اور قرب الٰہی کا ذریعہ بن جائے“ کی بنیاد پر کہی۔ (البدایۃ:120/8)
انہی خیالات کا اظہار امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی مختلف مقامات پر کیا (سیر اعلام النبلاء:130/14و123/3، تذکرۃ الذہبی:195/2)۔

امام ابن اثیر (ابوالحسن) رحمہ اللہ:

نے بھی اس حدیث کو فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ میں ذکر فرمایا ہے۔ (اسد الغابۃ:434/4)

علامہ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا:

”اس حدیث کو بعض فرقے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، مگر اس میں ایسا کچھ بھی نہیں کہ جو ان کے ان مقاصد کو پورا کرنے کے لیے مدد کر سکے، اور ہو بھی کیسے کہ اس حدیث میں تو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وحی ہونے کا ثبوت ہے، اسی لیے امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں سب سے صحیح حدیث ہے۔ پس واضح بات یہ ہے کہ اس (روایت میں موجود) بددعا سے بددعا مقصود نہیں ہے بلکہ یہ ان باتوں میں سے ہے کہ جو عرب لوگ تکیۂ بات کے ساتھ ملا کر بغیر (بددعا کی) نیت کیے بول دیا کرتے ہیں، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیویوں میں سے کسی کو کہنا ”عَقْرَى حَلْقَى“ (اے بانجھ، اے سر منڈی)، اور کسی کے متعلق کہنا ”تَرِبَتْ يَمِينُكَ“ (تیرا داہنا ہاتھ خاک آلود ہو)۔“ (السلسلۃ الصحیحۃ:82)
محدثین کا موقف اس حدیث کے متعلق بالکل واضح ہے کہ یہ کلمہ ”اللہ اسکا پیٹ نا بھرے“ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی مذمت میں نہیں ہے بلکہ وہ اسے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت بتاتے ہیں کہ اس کے ذریعے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کے مستحق بن گئے جو آپ نے اللہ سے بطور شرط کر رکھی ہے، اور بعض اہل علم اس کلمے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عرب کی ان باتوں میں شمار کرتے ہیں کہ جو ظاہری طور پر بددعا کا معنی دیتے ہیں مگر ان سے بددعا کرنا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ عرب انہیں کلام کے اندر تکیۂ استعمال کیا کرتے ہیں، اور صاف ظاہر ہے کہ اس حدیث کے متعلق انجینئر صاحب کا فہم محدثین کے فہم کے بالکل برعکس ہے، اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ کسی حدیث کے متعلق ایک انجینئر کی تشریح معتبر اور قابل قبول ہے یا محدثین کی؟
ان باتوں کو لے کر روافض اور مرزا صاحب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے راضی نہیں ہیں جبکہ اللہ اور اسکا رسول سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے راضی اور خوش ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمومی طور پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے رضی اللہ عنہم فرما رکھا ہے، اور ان سے خیر و بھلائی کا وعدہ کیا ہوا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے جہادی لشکر میں موجود باقی اصحاب کو خواب میں دیکھنا اور بیدار ہو کر مسکرانا اور خوب خوشی کا اظہار کرنا اور ان کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد فرمانا کہ انہوں نے خود پر جنت کو واجب کر لیا ہے۔ (صحیح البخاری:6263،2924)
یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے راضی تھے، اب کوئی بدعقیدہ، بدعتی، رافضی یا پھر کوئی انجینئر ان ہستیوں سے راضی نہیں تو اس سے ان کی شان ومرتبہ میں رتی برابر بھی فرق نہیں پڑنے والا۔

❀❀❀