ڈاکٹر اسرار احمد کا پیش کردہ نظریہ توحید وجودی صریح کفر و شرک ہے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو عمر عبدالعزیز النورستانی اور دیگر اہلحدیث علماء کے مرتب کردہ رسالہ "ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحید الوجودی اور اس کا شرعی حکم” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عقيده وحدۃ الوجود عین کفر اور شرک ہے

الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله أما بعد:

ڈاکٹر اسرار احمد نے ہندو فلسفہ کے رد میں جو نظریہ قائم کیا ہے۔ اس کا نام توحید وجودی رکھا ہے، یہ غیر شرعی اور ضلال ہے۔ کیونکہ وحدۃ الوجود اور توحید وجودی میں کوئی فرق نہیں سوائے تعبیر کے اور نظریہ وحدۃ الوجود مندرجہ ذیل وجوہ سے باطل اور شرک کا زینہ اور بدعت اعتقادی ہے:

وجه اول:

مناظر احسن گیلانی نے اپنے قول میں اس کی مثال تاج محل کے ساتھ دی ہے۔ اور شیخ احمد سر ہندی نے اسکی مثال (تعبیر وحدۃ الشہود کے سلسلے میں) ایک لکڑی کے شعلہ کے ساتھ دی اور یہ دونوں مثالیں قرآن کریم کے مخالف ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[فَلَا تَضۡرِبُوۡا لِلّٰہِ الۡاَمۡثَالَ] پس اللہ تعالی کے لئے مثالیں مت بیان کرو۔ [النحل:74]

وجه دوئم:

شرعی ادله قرآن کریم اور احادیث صحیحہ ہیں۔ لیکن صوفیاء اور ڈاکٹر صاحب نے اس نظریہ کے اثبات کے لئے کوئی نص قرآنی اور حدیث صحیح پیش نہیں کی صرف اقوال رجال صوفیاء ذکر کئے ہیں۔ جبکہ بقول احمد سرہندی ،،قول صوفی در شرع معتبر نیست،، صوفی کا قول شریعت کی نظر میں معتبر نہیں۔

وجه سوئم:

توحید کی جو قسم بھی ہو عقیدے کا مسئلہ ہے۔ اور عقیدہ کے اثبات کے لئے دلیل قطعی (برہان) ذکر کرنا ضروری ہے۔ ظلیات اور اقوال رجال سے یہ ثابت نہیں ہو سکتی۔

وجه چهارم:

ماہیت اور ،،عینہ،، وغیرہ تعبیرات (خصوصا اللہ تعالیٰ کے متعلق) منطقی اور فلسفی اطلاقات ہیں یہ کسی طور پر شرعی دلیل سے ثابت نہیں بلکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ،،جوہر،، وغیرہ جیسی تعبیرات کے اطلاق سے منع کیا ہے۔

وجه پنجم:

وحدة الوجود، وحدة الشہود اور توحید وجودی سلف صالحین، ائمه مجتہدین اور ائمہ محدثین کی کتابوں میں مذکور نہیں ہے۔ لہذا یہ بدعی اصطلاحات ہیں اور ،،کل بدعة ضلالة،، کے کلیّہ کے تحت داخل ہیں جبکہ صوفیاء اس کو اصل دین سمجھتے ہیں۔

وجه ششم:

وحدة الوجود عین حلول ہے اور عقیدہ حلول عین کفر اور شرک ہے۔

وجه هفتم:

عقیدہ وحدة الوجود اور حلول شرک کے لئے زینہ بلکہ عین شرک ہے۔ کیونکہ مشرک اپنے معبود من دون اللہ کو اللہ تعالی سے غیر نہیں سمجھتا جیسا کہ نصاری کہتے ہیں کہ ہم عیسی علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں لیکن چونکہ وہ غیر اللہ نہیں تو ہم مشرک نہیں ہیں۔

وجه هشتم:

وحدة الوجود کا مطلب اگر یہ لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود حقیقی ہے اور غیر اللہ کا وجود عارضی ہے تو صحیح ہے:

[کُلُّ مَنۡ عَلَیۡہَا فَانٍ]،[ وَّ یَبۡقٰی وَجۡہُ رَبِّکَ ذُو الۡجَلٰلِ وَ الۡاِکۡرَامِ]

[زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں]،[صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی رہ جائے گی]۔ [الرحمن:27،26]

لیکن صوفیاء کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق کا وجود عین وجود اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کا وجود عین وجود مخلوق ہے۔ یہ نظریہ بہت سی آیات قرآنیہ کے مخالف اور باطل ہے۔

[وَ جَعَلُوۡا لَہٗ مِنۡ عِبَادِہٖ جُزۡءًا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ مُّبِیۡنٌ]

اور انہوں نے اللہ کے بعض بندوں کو اس کا جز ٹھرا دیا یقینا انسان کھلم کھلا ناشکرا ہے۔ [الزخرف:15]

[اَوَ لَا یَذۡکُرُ الۡاِنۡسَانُ اَنَّا خَلَقۡنٰہُ مِنۡ قَبۡلُ وَ لَمۡ یَکُ شَیۡئًا]

کیا یہ انسان اتنا بھی یاد نہیں رکھتا کہ ہم نے اسے اس سے پہلے پیدا کیا حالانکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔ [مريم:67]

[وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا عَبَدۡنَا مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ]

اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا اس کے سوا کسی اور کی عبادت ہی نہ کرتے۔ [النحل:35]

[قُلۡ اِنِّیۡ نُہِیۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ]

آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو اس سے ممانعت کی گئی ہے کہ ان کی عبادت کروں جن کو تم لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔ [الانعام:56]

[وَ لَوۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَیۡرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوۡا فِیۡہِ اخۡتِلَافًا کَثِیۡرًا]

اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔ [النساء:82]

ان آیات سے واضح ہے کہ مخلوق غیر اللہ ہے۔ کیونکہ خصوصاً ان آیات میں معبود من دون اللہ کا ذکر ہے۔ اور وہ اکثر اولیاء اللہ ہوتے ہیں تو وہ بھی من دون الله اور غیر اللہ ہیں۔ انہی آیات میں صحیح غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ مخلوق اور خصوصاً انسان اللہ تعالی کے وجود میں متحد نہیں بلکہ مغائر (بالکل جدا) ہے۔

وجه نهم:

صوفیاء کے نزدیک علم دوقسم کا ہے: [1] علم الحقیقہ [2] علم الشریعة (علم باطنی اور علم ظاہری) اور وہ اسکی تصریح کرتے ہیں،کہ حقیقت شریعت سے غیر ہے۔ اور اللہ تعالی فرماتا ہے:

[اَمۡ لَہُمۡ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوۡا لَہُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا لَمۡ یَاۡذَنۡۢ بِہِ اللّٰہُ]

کیا ان لوگوں نے (اللہ کے) ایسے شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں۔ [الشوری:21]

[ثُمَّ جَعَلۡنٰکَ عَلٰی شَرِیۡعَۃٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ]

پھر ہم نے آپ کو دین کی (ظاہر) راہ پر قائم کر دیا۔ [الجاثيه:18]

اور ہر وہ علم جو شریعت سے غیر ہے تو وہ باطل علم ہے۔

وجه دهم:

وحدۃ الوجود کے آثار قبیحہ میں ابن عربی سے منقول ہے،کہ فرعون کا ایمان قبول ہوا تھا۔ اور فرعون کا ایمان موسی علیہ السلام کے ایمان سے افضل تھا۔ [العیاذ باللہ]

جبکہ قرآن کریم میں سورۃ الذاریات، سورۃ النازعات میں فرعون کی ہلاکت کی تصریح ہے، تو ان آیات کا انکار کرنا پڑتا ہے۔ نعوذ بالله من الكفر والضلال

یہ میں نے بفضلہ تعالی بطور اختصار و اجمال ذکر کیا ہے۔ اگر توفیق الہی نصیب ہو تو اس مسئلہ پر ان شاءاللہ تفصیل سے لکھوں گا۔ ڈاکٹر صاحب سے درخواست ہے کہ اس نظریہ سے رجوع کریں اور مریدوں پر رحم کریں۔

وصلى الله على نبينا محمد واله وصحبه وسلم

فضیلة الشیخ ابو زکریا عبد السلام رستمی رحمہ الله