کیا حدیث بھی وحی ہے؟ قرآن، سنت اور اقوالِ ائمہ کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری کی کتاب "حجیت حدیث” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

کوئی صحیح حدیث قرآن کے مخالف نہیں

حدیث وحی ہے، یہ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

السنة أيضا تنزل عليه بالوحي، كما ينزل القرآن.
نبی اکرم ﷺ پر حدیث بھی اسی طرح وحی کے ذریعے نازل ہوتی تھی، جس طرح کہ قرآن کریم نازل ہوتا تھا۔
[مجموع الفتاوىٰ: 364/13]

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:

إن الله سبحانه وتعالىٰ أنزل علىٰ رسوله وحيين، وأوجب علىٰ عباده الإيمان بهما، والعمل بما فيهما، وهما الكتاب والحكمة، وقال تعالىٰ: [وَ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ] (النساء: 113)، وقال تعالىٰ: [ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ] (الجمعة: 2) وقال تعالىٰ: [وَ اذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ] (الأحزاب: 34) والكتاب هو القرآن والحكمة هي السنة باتفاق السلف وما أخبر به الرسول عن الله فهو في وجوب تصديقه والإيمان به كما أخبر به الرب تعالىٰ علىٰ لسان رسوله، هٰذا أصل متفق عليه بين أهل الإسلام لا ينكره إلا من ليس منهم.
بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر دو قسم کی وحی نازل کی ہے اور ان دونوں پر ایمان لانا اور دونوں پر عمل کرنا واجب قرار دیا ہے، وہ دونوں قسم کی وحی کتاب و حکمت ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [وَ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ] ’’اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے۔‘‘ (النساء:113) اور فرمایا: [ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ] ’’وہی ذات ہے، جس نے اُمّی لوگوں میں اپنی طرف سے رسول بھیجا، جو ان پر اس کی آیات تلاوت کرتا ہے اور ان کا تزکیۂ نفس کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘ (الجمعة: 2) ، نیز فرمایا: [وَ اذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ] ’’اے نبی کی بیویو! تم اپنے گھروں میں تلاوت کی جانے والی آیات و حکمت کو یاد کرو۔‘‘ (الاحزاب: 34) سلف کا اتفاق ہے کہ (یہاں) کتاب سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد حدیث ہے۔ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے جو بھی خبر دیں، اس کی تصدیق کرنا اور اس پر ایمان لانا واجب ہے، بالکل اسی طرح جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبانی دی ہے۔ اس بات پر تمام اہل اسلام کا اتفاق ہے، اس کا انکار وہی کر سکتا ہے، جو مسلمانوں میں سے نہ ہو۔ [کتاب الروح: ص 75]

مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ألا! إني أوتيت القرآن ومثله معه.
’’خبردار! مجھے قرآن بھی دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اسی طرح کی ایک اور چیز بھی دی گئی ہے۔
[مسند الإمام أحمد: 131/4، سنن أبي داؤد: 4604، وسنده صحيح]

حافظ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) فرماتے ہیں:

قوله: «أوتيت الكتاب ومثله معه» يحتمل وجهين من التأويل؛ أحدهما: أن يكون معناه أنه أوتي من الوحي الباطن غير المتلو مثل ما أعطي من الظاهر المتلو، ويحتمل أن يكون معناه: أنه أوتي الكتاب وحيا يتلى، وأوتي من البيان أي أذن له أن يبين ما في الكتاب ويعم ويخص وأن يزيد عليه فيشرع ما ليس له في الكتاب ذكر فيكون ذٰلك في وجوب الحكم ولزوم العمل به كالظاهر المتلو من القرآن.
فرمانِ نبوی: ’’مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس کی مثل دی گئی ہے۔‘‘ کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ① اس کا معنی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جس طرح ظاہر متلو وحی دی گئی ہے، اسی طرح باطن غیر متلو وحی بھی دی گئی ہے۔ ② یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو متلو وحی دی گئی اور اس کا ’’بیان‘‘ دیا گیا، یعنی آپ ﷺ کو اجازت دے دی گئی کہ آپ قرآن میں موجود احکام کی وضاحت کریں، اس کے خاص کو عام کریں، اس کے عام کو خاص کریں، اس سے زائد حکم بیان کریں اور جس کا ذکر قرآن میں نہیں، اسے مشروع قرار دیں۔ اس لحاظ سے وحی غیر متلو بھی وجوب کے حکم میں ہے اور اس پر عمل کرنا بھی لازم ہے، جیسا کہ وحی ظاہر متلو یعنی قرآن کا حکم لازم ہے اور اس پر عمل کرنا لازم ہے۔
[معالم السنن:4/298]

علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں:

أي أوتيت القرآن، وأوتيت مثله من السنة التي لم ينطق بها القرآن.
مراد یہ ہے کہ مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اسی طرح وہ حدیث بھی دی گئی ہے جس کا قرآن میں ذکر نہ تھا۔
[إرشاد الفحول: ص33]
نبی کریم ﷺ نے اس حدیث میں قرآن و حدیث دونوں کو وحی قرار دیا ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ما من الأنبياء نبي إلا أعطي من الآيات ما مثله أومن، أو آمن، عليه البشر، وإنما كان الذي أوتيت وحيا أوحاه الله إلي، فأرجو أني أكثرهم تابعا يوم القيامة.
ہر نبی کو معجزات ونشانیاں عطا کی گئیں، جنہیں دیکھ کر لوگ ایمان لے آتے، بے شک مجھے بطور معجزہ وحی عطا کی گئی، یہ وحی اللہ نے میری طرف کی ہے، میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کو میرے متبعین سب نبیوں سے زیادہ ہوں گے۔
[صحيح البخاري: 7274، صحيح مسلم: 152]
ثابت ہوا کہ قرآن کی طرح حدیث بھی وحی اور معجزہ ہے۔

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ليدخلن الجنة بشفاعة الرجل الواحد ليس بنبي مثل الحيين، أو أحد الحيين؛ ربيعة ومضر، قال قائل: يا رسول الله، أو ما ربيعة من مضر؟ قال: إنما أقول ما أقول.
ایک آدمی کی شفاعت سے ربیعہ اور مضر دونوں قبیلوں کی مقدار لوگ جنت میں داخل ہوں گے، ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ربیعہ کی مضر قبیلے سے کیا نسبت؟ فرمایا: (معلوم نہیں، میں تو بس) وہی کہتا ہوں، جو (وحی کے ذریعے) کہلوایا جاتا ہوں۔
[مسند أحمد: 257/5، 261، 267، المعجم الكبير للطبراني: 7638، وسنده صحيح]

حافظ منذی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ’’جید‘‘ کہا ہے۔

[الترغيب والترهيب: 241/4]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ’’حسن‘‘ کہا ہے۔

[فتح الباري: 483/10، موافقة الخُبَر الْخَبَر: 336/2]

حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے بھی سند کو ’’حسن‘‘ کہا ہے۔

[الحاوي للفتاوي:1/360)
جب اصولِ محدثین کے مطابق صحیح حدیث بھی وحی ہے، وہ قرآن مجید کے وحی ہونے کی تصدیق بھی کرتی ہے، پھر وہ قرآن کے مخالف کیسے؟ خوب یاد رہے کہ قطعاً وحی وحی کے معارض و مخالف نہیں ہو سکتی۔