سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما، اہلِ بیت کی نظر میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کتاب دفاع صحابہ رضی اللہ عنھم سے ماخوذ ہے۔

ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما، ابن عباس رضی اللہ عنہ کی نظر میں!

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
شهد عندي رجال مرضيون وأرضاهم عندي عمر .
”مجھے کئی پسندیدہ لوگوں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے حدیث بیان کی، ان میں مجھے سب سے پسندیدہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔“
(صحيح البخاري : 581 ، صحیح مسلم : 826)
صحیح مسلم کے الفاظ ہیں :
سمعت غير واحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، منهم عمر بن الخطاب وكان أحبهم إلى .
”میں نے متعدد اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی، جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، آپ رضی اللہ عنہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔“
اس حدیث کی شرح میں علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ (702ھ) فرماتے ہیں :
فيه رد على الروافض فيما يدعونه من المباينة بين أهل البيت وأكابر الصحابة رضي الله عنهم.
”اس حدیث میں روافض کا رد ہے، جو کہتے ہیں کہ اہل بیت اور اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مخالف تھے۔“
(إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام : 1/181)
علامہ فاکہانی رحمہ اللہ (734ھ) فرماتے ہیں :
صدق رحمه الله.
”علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ نے سچ فرمایا۔“
(رياض الأفهام : 593/1)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد ہیں۔ اہل بیت کے چشم و چراغ ہیں۔ انہیں بہت سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک حدیث بیان کی، ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔ عالم اہل بیت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان میں سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ شخصیت سمجھتے تھے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے ان لوگوں کا واضح رد ہوتا ہے، جو اہل بیت اور دیگر صحابہ میں تفریق کرتے ہیں، نیز ان لوگوں کا بھی رد ہے، جو اہل بیت کی شان میں غلو کرتے ہیں اور اکابر صحابہ کے بارے میں بغض رکھتے ہیں۔
عالم اہل بیت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تو ان صحابہ سے محبت کا اظہار فرمارہے ہیں اور اہل بیت سے محبت کا محض دعوی کرنے والے ان سے بغض کما رہے ہیں! ایسا کیوں؟ اہل سنت بشمول اہل بیت، تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت اور عقیدت رکھتے ہیں، ہر ایک کے حقوق کی رعایت کرتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تو ابن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے معترف تھے اور آپ کی خلافت کو برحق تسلیم کرتے تھے، فرماتے ہیں :
دخلت على عمر حين طعن فقلت : أبشر بالجنة يا أمير المؤمنين، أسلمت حين كفر الناس، وجاهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حين خذله الناس، وقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنك راض، ولم يختلف فى خلافتك اثنان، وقتلت شهيدا….
”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے، تو میں ان کے پاس آیا۔ میں نے کہا : امیر المومنین! جنت مبارک ہو! جب لوگوں نے اسلام کا انکار کیا، تو آپ نے قبول کیا۔ آپ نے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا، جب لوگوں نے آپ کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوتے وقت آپ سے راضی تھے۔ آپ کی خلافت میں دو انسانوں نے بھی اختلاف نہیں کیا اور اب آپ منصب شہادت پر فائز ہونے والے ہیں۔“
(المستدرك للحاكم : 92/3 ، وصححه ابن حبان :6891 وسنده صحيح)
نیز دیکھیں :
(صحيح البخاري : 3692)
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے سنا :
وضع عمر على سريره فتكنفه الناس ، يدعون ويصلون قبل أن يرفع وأنا فيهم، فلم يرعني إلا رجل آخذ منكبي، فإذا على بن أبى طالب فترحم على عمر، وقال : ما خلفت أحدا أحب إلى أن ألقى الله بمثل عمله منك، وأيم الله إن كنت لأظن أن يجعلك الله مع صاحبيك، وحسبت إني كنت كثيرا أسمع النبى صلى الله عليه وسلم يقول : ذهبت أنا وأبو بكر، وعمر، ودخلت أنا وأبو بكر، وعمر، وخرجت أنا وأبو بكر، وعمر .
”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا لاشہ چار پائی پر رکھ دیا گیا، لوگوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا، وہ آپ کے لیے دعا و استغفار کر رہے تھے۔ میں بھی ان میں شامل تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اچانک میرا کندھا پکڑ کر اپنی جانب متوجہ کیا، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعائے رحمت کی اور فرمایا: آپ کے بعد اتنا محبوب کون ہے کہ میں اللہ کے دربار میں حاضری کے لئے اس کے عمل کو نمونہ بناؤں۔ مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ جگہ دے گا، میں اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتا کہ میں، ابوبکر اور عمر گئے، میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے، میں، ابوبکر اور عمر نکلے۔“
(صحيح البخاري : 3685 ، صحیح مسلم : 2389)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے راضی تھے، ان کے لیے دعائے رحمت کرتے اور سیدنا ابو بکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی بتاتے تھے۔

اسلاف امت

سالم بن ابی حفصہ رحمہ اللہ (140ھ) کا بیان ہے :
سألت أبا جعفر محمد بن على وجعفر بن محمد، عن أبى بكر، وعمر، فقالا لي : يا سالم تولاهما وابرأ من عدوهما فإنهما كانا إمامي هدى، قال سالم : وقال لي جعفر بن محمد : يا سالم أيسب الرجل جده؟ أبو بكر جدي لا نالتني شفاعة محمد صلى الله عليه وسلم يوم القيامة إن لم أكن أتولاهما وأبرأ من عدوهما .
”میں نے ابو جعفر محمد بن علی (باقر رحمہ اللہ) اور جعفر بن محمد (صادق رحمہ اللہ) سے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا : سالم! ان سے محبت رکھئے اور ان کے دشمنوں سے براءت کا اظہار کیجئے، کیونکہ وہ دونوں ہدایت کے امام تھے، سالم کہتے ہیں: مجھے جعفر بن محمد صادق رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا: سالم! کیا آدمی اپنے نانا کو برا بھلا کہہ سکتا ہے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے نانا ہیں، مجھے قیامت کے دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت حاصل نہیں ہوگی، اگر میں ان (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) سے محبت نہ رکھوں اور ان کے دشمنوں سے اظہار براءت نہ کروں۔“
(الإعتقاد للبيهقي : 506 وسنده حسن)
امام مسروق رحمہ اللہ (62ھ) فرماتے ہیں :
حب أبى بكر وعمر ومعرفة فضلهما من السنة.
”ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت اور ان کی فضیلت کی معرفت دین ہے۔“
(المعرفة والتاريخ للفسوي : 813/2 وسنده صحيح)
امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ (تقریباً 100ھ) فرماتے ہیں :
من جهل فضل أبى بكر وعمر فقد جهل السنة .
”جو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت سے جاہل رہا، وہ دین سے جاہل رہا۔“
(فضائل الصحابة لأحمد ابن حنبل : 108 وسنده حسن)
امام سفیان بن سعید ثوری رحمہ اللہ (161ھ) فرماتے ہیں :
من زعم أن عليا عليه السلام كان أحق بالولاية منهما فقد خطأ أبا بكر، وعمر، والمهاجرين، والأنصار، وما أراه يرتفع له مع هذا عمل إلى السماء .
”جو یہ دعوی کرتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے خلافت کے زیادہ حق دار تھے، اس نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، مہاجرین اور انصار صحابہ رضی اللہ عنہم سب کو غلط قرار دیا۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس عقیدے کے ساتھ اس کا کوئی عمل آسمان کی طرف بلند ہو۔“
(سنن أبي داود : 4630 وسنده صحيح)
امام محمد بن عبد اللہ مخرمی رحمہ اللہ (242ھ) بیان کرتے ہیں :
رأيت شعيب بن حرب أوما إلى ابنه فقبله، ثم قال : أتدرون لم قبلت محمدا؟ لأنه قد وهب نفسه فى نصرة أبى بكر وعمر .
”میں نے شعیب بن حرب رحمہ اللہ کو دیکھا، آپ اپنے بیٹے (محمد) کی طرف جھکے اور انہیں چوما، فرمایا : جانتے ہیں کہ میں نے محمد کو کیوں بوسہ دیا؟ کیونکہ اس نے اپنے آپ کو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دفاع کے لیے وقف کر رکھا ہے۔“
(فضائل الصحابة لأحمد ابن حنبل : 115 وسنده صحيح)
امام عبد الرزاق بن ہمام صنعانی رحمہ اللہ (211ھ) فرماتے ہیں :
والله ما انشرح صدري قط أن أفضل عليا على أبى بكر وعمر، ورحمة الله على أبى بكر وعمر، ورحمة الله على عثمان، رحمة الله على علي، ومن لم يحبهم فما هو بمؤمن، وإن أوثق أعمالنا حبنا إياهم أجمعين، رضي الله عنهم أجمعين، ولا جعل لأحد منهم فى أعناقنا تبعة، وحشرنا فى زمرتهم ومعهم آمين رب العالمين .
”اللہ کی قسم! مجھے کبھی انشراح صدر نہیں ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دوں۔ اللہ کی رحمت ہو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر، اللہ کی رحمت ہو عثمان رضی اللہ عنہ پر، اللہ کی رحمت ہو علی رضی اللہ عنہ پر، جو ان (سب) سے محبت نہیں کرتا، وہ ہرگز مومن نہیں۔ ہمارا سب سے بڑا عمل یہی ہے کہ ہم تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو، ہمیں ان میں سے کسی ایک کا بھی مجرم نہ بنائے اور اللہ ہمیں روز محشر ان کی جماعت اور معیت میں جمع فرمائے، آمین یا رب العالمین!“
(فضائل الصحابة لأحمد ابن حنبل : 126 وسنده صحيح)