پہلا مسلمان؟
آزاد مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایمان لائے تھے۔
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں:
كنت وأنا فى الجاهلية أظن أن الناس على ضلالة، وأنهم ليسوا على شيء وهم يعبدون الأوثان، فسمعت برجل بمكة يخبر أخبارا، فقعدت على راحلتي، فقدمت عليه، فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم مستخفيا جرءاء عليه قومه، فتلطفت حتى دخلت عليه بمكة، فقلت له : ما أنت؟ قال : أنا نبي، فقلت : وما نبي؟ قال : أرسلني الله، فقلت : وب أى شيء أرسلك، قال : أرسلني بصلة الأرحام، وكسر الأوثان، وأن يوحد الله لا يشرك به شيء، قلت له : فمن معك على هذا؟ قال : حر ، وعبد، قال : ومعه يومئذ أبو بكر، وبلال ممن آمن به .
”میں زمانہ جاہلیت میں لوگوں کو گمراہ سمجھتا تھا کہ یہ بتوں کے پجاری کسی (آسمانی) دین پر نہیں ہیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ مکہ کا ایک آدمی خبریں دیتا ہے۔ میں سواری پر بیٹھا اور اس کے پاس جا پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے چھپ کر رہتے ہیں اور لوگ آپ کو اذیتیں دینے کے درپے ہیں۔ میں آرام سے مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا : آپ کون ہیں؟ فرمایا : میں نبی ہوں، میں نے پوچھا : نبی کون؟ فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ نے مبعوث کیا ہے۔ میں نے پوچھا: کیا دے کر ؟ فرمایا: صلہ رحمی، بت شکنی اور ہر قسم کے شرک سے پاک توحید کا پیغام دے کر۔ عرض کیا : اس دعوت پر آپ کے ساتھ کون ہے؟ فرمایا : ایک آزاد اور ایک غلام۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان دنوں ابھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہی تھے جو ایمان لائے تھے۔“
(صحیح مسلم : 732)
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن الله بعثني إليكم فقلتم كذبت، وقال أبو بكر صدق، وواساني بنفسه وماله، فهل أنتم تاركوا لي صاحبي .
”اللہ نے مجھے مبعوث کیا، تو آپ سب نے میری تکذیب کی تھی، صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تصدیق کی تھی اور مال و جان کے ساتھ تعاون بھی کیا، تو کیا آپ میرے لیے میرے ساتھی کو معاف بھی نہیں کر سکتے؟“
(صحيح البخاري : 3661)
یہ دونوں حدیثیں نص ہیں کہ سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہونے والے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔
مورخ اسلام مفسر قرآن حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
أما علي، رضي الله عنه، فإنه أسلم قديما، وهو دون البلوغ على المشهور، ويقال : إنه أول من أسلم، وقد روي ذلك حديث عنه ولا يصح، والصحيح أنه أول من أسلم من الغلمان، كما أن خديجة أول من أسلم من النساء، وأبو بكر الصديق أول من أسلم من الرجال الأحرار، وزيد بن حارثة أول من أسلم من الموالي .
”علی رضی اللہ عنہ متقدم الاسلام صحابی ہیں، مشہور قول کے مطابق آپ ابھی بلوغت کو نہیں پہنچے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے آپ ہی ہیں، اس سلسلہ میں ایک ضعیف حدیث بھی پیش کی جاتی ہے، جب کہ درست یہی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بچوں میں، خدیجہ رضی اللہ عنہا عورتوں میں، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آزاد مردوں میں اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آزاد کردہ غلاموں میں سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہوئے۔“
(البداية والنهاية : 31/11)
امام حاکم رحمہ اللہ (405ھ) فرماتے ہیں :
الصحيح عند الجماعة أن أبا بكر الصديق رضى الله عنه أول من أسلم من الرجال البالغين .
”صحیح بات یہ ہے کہ تمام اہل علم کے نزدیک بالغ مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔“
(معرفة علوم الحديث ص : 23)
علامہ ابو المظفر سمعانی رحمہ اللہ (489ھ) نقل کرتے ہیں :
أجمعت الأمة فى السابقين إلى الإسلام، فعينوا من الرجال أبا بكر، ومن النساء خديجة ، ومن الصبيان عليا ومن العبيد بلالا .
”پہلے اسلام لانے والوں کے متعلق امت کا اجماع ہے کہ مردوں میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، عورتوں میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، بچوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور غلاموں میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہوئے۔“
(الاصطلام : 734/2)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذا باتفاق أهل العلم .
”بالغ آزاد مردوں میں سب سے پہلے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے، اس پر اہل علم کا اتفاق ہے۔“
(مجموع الفتاوى : 462/4)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے :
إني أول من أسلم .
”میں پہلا مسلمان ہوں۔“
(أخبار المكيين لابن أبي خيثمة : 84)
سند سخت ضعیف ہے۔
➊ یحیی بن العلاء متروک ہے۔
➋ حنظلہ بن سبرہ مجہول الحال ہے، اسے صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے (الثقات : 6/ 225) میں ذکر کیا ہے۔
➌ سبرہ بن مسیب بھی مجہول الحال ہے، اسے صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے (الثقات : 341/4) میں ذکر کیا ہے۔
➍ مسیب بن نجبہ کی توثیق نہیں۔
لیلی غفاریہ رضی اللہ عنہا سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا :
هذا على بن أبى طالب أول الناس إيمانا .
”یہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔“
(أخبار المكيين لابن أبي خيثمة : 85)
سند سخت ضعیف ہے۔
➊ ابوصلت عبدالسلام بن صالح ضعیف و متروک ہے۔
➋ موسیٰ بن قاسم تغلبی کی توثیق نہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لا يتابع عليه .
”اس کی متابعت نہیں کی گئی۔“
(الضعفاء الكبير للعقيلي : 166/4 وسنده صحيح)
اس روایت کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
إسناد مظلم .
”اس کی سند اندھیری ہے۔“
(میزان الاعتدال : 217/4)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے :
أسلمت قبل أن يسلم أبو بكر .
”میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پہلے مسلمان ہوا۔“
(أخبار المكيين لابن أبي خيثمة : 86)
سند ضعیف ہے۔
➊ سلیمان بن عبد اللہ ابو فاطمہ ضعیف ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لا يتابع عليه .
”اس کی متابعت نہیں کی گئی۔“
(التاريخ الكبير : 23/4)
سلیمان ابو فاطمہ کا معاذہ سے سماع معلوم نہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لا يعرف سماع سليمان من معاذة .
”سلیمان کا معاذہ سے سماع معلوم نہیں۔“
(التاريخ الكبير : 23/4)
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا :
أنت أول من آمن بي .
”آپ سب سے پہلے مجھ پر ایمان لائے۔“
(مسند البزار : 3898)
باطل روایت ہے۔ محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :
إن هذا أول من آمن بي .
”یہ سب سے پہلے مجھ پر ایمان لائے۔“
(المعجم الكبير للطبراني : 269/6 ح : 6184)
سند ضعیف ہے۔ عمر بن سعد نصری ضعیف ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لم يصح حديثه .
”اس کی حدیث ثابت نہیں۔“
(التاريخ الكبير : 158/6)
روایت ہے :
كان أول من أسلم من الناس بعد خديجة
”سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہونے والے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد : 331/1)
روایت منکر ہے، جیسا کہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ اور حافظ عراقی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔
(ميزان الاعتدال للذهبي : 384/4 ، تخريج أحاديث الإحياء للعراقي : 1942/4)
ابونجیح یحیی بن سلیم اگرچہ حسن الحدیث ہے لیکن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
روى حديثا منكرا .
”اس نے ایک منکر حدیث بیان کی ہے۔“
(تهذيب التهذيب لابن حجر : 184/12)
امام ابن حبان رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
أرى أن لا يحتج بما انفرد من الرواية .
”میرے مطابق اس کی منفرد روایات حجت نہیں ہیں۔“
(كتاب المجروحين : 113/3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
صدوق، ربما أخطأ .
”سچا ہے، لیکن بسا اوقات غلطی کر جاتا ہے۔“
(تقريب التهذيب : 8003)
اس روایت کے بعض الفاظ میں واضح غرابت اور نکارت موجود ہے۔
دوسری روایت ہے :
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
أنا أول رجل صلى مع رسول الله .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلے نماز میں نے پڑھی۔“
(مسند الإمام أحمد : 141/1)
سند ضعیف ہے۔ حبہ بن جوین کو جمہور محدثین نے ضعیف کہا ہے۔
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أول الناس ورودا على الحوض أولهم إسلاما على بن أبى طالب.
”سب سے پہلے حوض کوثر پر علی بن ابی طالب آئیں گے، جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔“
(المعجم لابن الأعرابي : 1265)
مرفوعاً و موقوفاً سخت ضعیف ہے۔
الکامل لابن عدی (475/4) میں مرفوعاً آتی ہے، یہ سند موضوع ہے۔
➊ ابو معاویہ عبدالرحمن بن قیس زعفرانی وضاع اور کذاب ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ليس حديثه بشيي ، متروك الحديث، حديته حديث ضعيف.
”اس کی حدیث کچھ بھی نہیں ہے، متروک الحدیث ہے۔ اس کی بیان کردہ حدیث ضعیف ہے۔“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 278/5)
امام ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كان كذابا .
”جھوٹا تھا۔“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 278/5)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
متفق على تضعيفه .
”بالاتفاق ضعیف ہے۔“
(لسان الميزان : 283/8)
➋ سفیان ثوری کا عنعنہ بھی ہے۔
تنبیہ :
حافظ سیوطی رحمہ اللہ (اللآلی المصنوعة : 326/1) نے ابوصادق اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے درمیان علیم الکندی کا واسطہ بھی ذکر کیا ہے، علیم الکندی کو صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے (الثقات : 286/5) میں ذکر کیا ہے، لہذا مجہول الحال ہے۔
حافظ سیوطی رحمہ اللہ (اللآلی المصنوعة : 326/1) لکھتے ہیں :
أبو معاوية كذاب يصنع وتابعه سيف بن محمد عن الثوري وهو شر منه .
”ابو معاویہ جھوٹا اور وضاع ہے، سفیان ثوری سے بیان کرنے میں اس کی متابعت سیف بن محمد نے کر رکھی ہے، جو اس سے بھی زیادہ برا ہے۔“
سیف بن محمد کذاب وضاع کی یہ روایت مستدرک حاکم (136/3) اور تاریخ بغداد للخطیب (81/2) میں آتی ہے۔
اس میں بھی سفیان ثوری کا عنعنہ بھی ہے۔ اس میں علیم کی جگہ اغر ہے۔
ایک سند ابن مردویہ کے حوالے سے العلل المتناہیہ لابن الجوزی (333) اللآلى المصنوعة للسیوطی (327/1) میں آتی ہے۔ یہ جھوٹی سند ہے۔
➊ محمد بن احمد واسطی اگر لسان المیزان والا ہے تو ضعیف ہے۔ اگر محمد بن احمد بن حمدان بن عیسی وراق ابوالطیب ہے تو وضاع اور کذاب ہے۔
➋ سفیان ثوری کا عنعنہ ہے۔
➌ علیم الکندی مجہول الحال ہے۔
ایک سند حارث بن ابی اسامہ کے حوالے سے اللآلی المصنوعة للسیوطی (327/1) میں آتی ہے، یہ بھی جھوٹی سند ہے۔
➊ یحیی بن ہاشم سمسار کذاب ہے۔
➋ سفیان ثوری کا عنعنہ ہے۔
➌ علیم الکندی مجہول ہے۔
➍ حنش بن معتمر جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
ایک سند المعجم لابن الاعرابی (2265) اور مناقب علی لابن المغازلی (22) میں ہے۔ یہ جھوٹی سند ہے۔
➊ عبدالسلام بن صالح ابوصلت ہروی متروک، کذاب اور وضاع ہے۔
➋ عبدالرزاق اور سفیان ثوری کا عنعنہ ہے۔
➌ علیم الکندی مجہول الحال ہے۔
یوں یہ سند باطل ہے۔
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
إن أول هذه الأمة ورودا على نبيها الحوض أولها إيمانا على بن أبى طالب والله أعلم .
”حوض کوثر پر سب سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ حاضر ہوں گے۔ سب سے پہلے آپ ایمان لائے۔“
(اللآلي المصنوعة للسيوطي : 327/1)
روایت منقطع ہے۔ ابوصادق کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع و لقا نہیں، جیسا کہ امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔ اس کی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے واسطہ کے ساتھ ذکر ہوئی ہے، لہذا سمعت ناسخ کی غلطی ہے یا راوی کا وہم۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بچوں میں سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہوئے۔
حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے :
إن عليا أول من أسلم بعد خديجة، وهو يومئذ ابن خمس عشرة سنة، أو ست عشرة سنة .
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد اسلام لائے، اس پر آپ رضی اللہ عنہ کی عمر پندرہ یا سولہ سال تھی۔“
(جامع معمر بن راشد : 20391 ، فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل : 998)
سند ضعیف ہے۔
➊ معمر بن راشد کی اہل بصرہ سے روایت میں کلام ہے۔
➋ قتادہ بصری مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
➌ حسن بصری کا عنعنہ ہے، نیز ان کا علی رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔
تنبیہ :
سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ نے محمد ابن حنفیہ رحمہ اللہ سے کہا :
أبو بكر كان أول القوم إسلاما؟ قال : لا، قلت : فيما علا وسبق، حتى لا يذكر أحد غير أبى بكر؟ قال : كان أفضلهم إسلاما حتى لحق بالله عز وجل
”کیا (مطلق طور پر) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے پہلے مسلمان ہوئے تھے؟ کہا: نہیں، کہا: پھر کس بنا پر اس درجہ فائق ہوئے کہ ان کے بغیر کسی کا ذکر ہی نہیں ہوتا، فرمایا: آپ رضی اللہ عنہ اسلام میں تاحیات افضل رہے۔“
(السنة لابن أبي عاصم : 1255 ، مصنف ابن أبي شيبة : 12/7 وسنده حسن)