زنا، جادو اور امتِ محمد ﷺ پر تلوار سونتنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

زنا اور اس کی ممانعت

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن، ولا يسرق حين يسرق وهو مؤمن
”جب زانی زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اور جب چور چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا۔“
بخاری، کتاب الحدود 6782، النسائی، فی قطع السارق 57/8۔
② سیدنا ہیثم بن مالک طائی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من ذنب بعد الشرك أعظم عند الله من نطفة وضعها رجل فى رحم لا يحل له
”اللہ کے ہاں شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنا نطفہ ایسی شرمگاہ میں ٹپکائے جو اس کے لیے حلال نہیں (زنا کرے)۔“
درمنثور، تحت الآية سورة الاسراء ولا تقربوا الزنى الخ و اخرجه الامام احمد 4 / 180۔
③ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أن تجعل لله ندا وهو خلقك
”یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کوئی شریک مقرر کرو جبکہ اس نے تمہیں پیدا کیا۔“
راوی بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أن تقتل ولدك خشية أن يطعم معك
”تم اس اندیشے سے اپنی اولاد کو قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی۔“
راوی بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أن تزاني حليلة جارك
”کہ تم اپنے پڑوسی کی اہلیہ سے زنا کرو۔“
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی تصدیق میں یہ آیت نازل ہوئی:
﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ﴾
”اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور وہ کسی جان کو جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے ناحق قتل نہیں کرتے اور وہ زنا نہیں کرتے.“
بخاری، کتاب الادب 6001، مسلم، کتاب الايمان 84/141۔
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ثلاثة لا ينظر الله إليهم ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم: شيخ زان، وملك كذاب، وعائل مستكبر
”تین اشخاص کی طرف اللہ تعالیٰ نہیں دیکھے گا اور نہ ہی انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے: بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ، اور متکبر فقیر۔“
مسلم 107/172، النسائی 64/5۔
⑤ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا زنى الرجل خرج منه الإيمان
”جب آدمی زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل جاتا ہے۔“
اور ایک روایت میں ہے:
إذا زنى الرجل خرج منه الإيمان فكان فوق رأسه كالظلة، فإذا خرج من ذٰلك العمل عاد إليه الإيمان
”جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل کر اس کے سر پر سائبان کی طرح ہو جاتا ہے۔ پس جب وہ اس عمل سے فارغ ہو جاتا ہے تو ایمان اس کی طرف پلٹ آتا ہے۔“
ترمذی، کتاب الايمان 2625۔
⑥ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كتب على ابن آدم نصيبه من الزنا يدرك ذٰلك لا محالة، فالعينان زناهما النظر، والأذنان زناهما الاستماع، واللسان زناه الكلام، واليدان زناهما البطش، والرجلان زناهما الخطى، والقلب يهوى ويتمنى، ويصدق ذٰلك الفرج أو يكذبه
”ابنِ آدم پر اس کے زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے جسے وہ لا محالہ حاصل کر کے رہتا ہے؛ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے، زبان کا زنا کلام کرنا ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے، پاؤں کا زنا چلنا ہے، جبکہ دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔“
مسلم، کتاب القدر 2647۔

جادو کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من عقد عقدة ثم نفث فيها فقد سحر، ومن سحر فقد أشرك، ومن تعلق بشيء وكل إليه
”جس نے کوئی گرہ لگائی، پھر اس میں پھونک ماری تو اس نے جادو کیا، اور جس نے جادو کیا تو اس نے شرک کیا، اور جس نے (پناہ و بچاؤ حاصل کرنے کے لیے گلے وغیرہ میں) کوئی چیز لٹکائی تو اسے اس کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔“
النسائی، التحريم 103/7، باب الحكم فی السحرة۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من اقتبس بابا من علم النجوم بغير ما ذكره الله فقد اقتبس شعبة من السحر، والمنجم كاهن، والكاهن ساحر، والساحر كافر
”جس نے علمِ نجوم کا ایک باب جس کا اللہ نے ذکر نہیں کیا سیکھا تو اس نے جادو کی ایک شاخ حاصل کی، منجم (ستاروں کی گردش سے احوالِ کائنات معلوم کرنے والا) کاہن ہے، اور کاہن جادوگر ہے، جبکہ جادوگر کافر ہے۔“
ابوداؤد، کتاب الطب 3905، ابن ماجه، کتاب الادب 3726۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اجتنبوا السبع الموبقات
”سات مہلک چیزوں سے اجتناب کرو۔“
عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الشرك والسحر…
”شرک کرنا اور جادو.“
بخاری، کتاب الوصايا 2766، مسلم، کتاب الايمان 89/145۔

امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر تلوار سونتنے کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت فرمائی:
﴿وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ لِّكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُومٌ﴾
”ان سب سے جہنم وعدے کی جگہ ہے، اس کے سات ابواب ہیں، ہر باب کے لیے ان میں سے حصہ تقسیم کیا گیا ہے۔“
(سورة الحجر: 43-44)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
باب منها لمن سل السيف على أمتي – أو قال: أمة محمد
”ان (سات دروازوں) میں سے ایک دروازہ اس شخص کے لیے ہے جس نے میری امت پر تلوار سونتی (یا آپ نے فرمایا: امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر تلوار سونتی)۔“
ترمذی، کتاب تفسیر القرآن 3123۔
② سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سل علينا السيف فليس منا
”جس نے ہم پر تلوار سونتی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
مسلم، کتاب الایمان 99/162، مسند احمد، اوّل مسند المدنيين 59/4 حدیث 16506۔