مال داروں کی ہم نشینی، لوگوں کے گناہوں پر نظر اور دنیا کے لیے ہجرت کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

مال دار لوگوں کی ہم نشینی اختیار کرنے کی ممانعت

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا:
إن كنت تريدين اللحاق بي فليكفك من الدنيا كزاد الراكب ، وإياك ومجالسة الأغنياء ، ولا تستخلعي ثوبا حتى ترقعيه
”اگر تم جلد مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو پھر تمہارے لیے اس قدر دنیا کافی ہونی چاہیے جتنا کسی مسافر کے پاس زادِ راہ ہوتا ہے، نیز مال دار لوگوں کی ہم نشینی سے بچنا اور کسی کپڑے کو رفو کر لینے پیوند لگا لینے سے پہلے نہ اتارنا۔“
ترمدى، كتاب اللباس عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 1780۔

لوگوں کے گناہوں کی طرف دیکھنے کی ممانعت

① امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کہا کرتے تھے:
”اللہ کے ذکر کے سوا زیادہ باتیں نہ کیا کرو ورنہ تمہارے دل سخت ہو جائیں گے، کیونکہ سخت دل اللہ سے دور ہوتا ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ تم لوگوں کے گناہوں کی طرف اس طرح نہ دیکھا کرو گویا کہ تم مالک ہو، بلکہ اپنے گناہوں کو دیکھا کرو گویا کہ تم غلام ہو۔ پس بعض لوگ کسی بیماری یا آزمائش سے دوچار ہیں اور کچھ صحت مند بچے ہوئے ہیں، پس آزمائش میں مبتلا لوگوں پر رحم کرو اور عافیت پر اللہ کا شکر ادا کرو۔“
موطا 982/2، حديث 8، الترغيب 3/ 538، حديث 48۔

دنیا کے مال و متاع کے لیے ہجرت کرنے کی ممانعت

① سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إنما الأعمال بالنيات ، وإنما لكل امرئ ما نوى ، فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو امرأة يتزوجها فهجرته إلى ما هاجر إليه
”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی، پس جس کی ہجرت حصولِ دنیا یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی کام کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔“
بخاری، کتاب بدء الوحي 1، مسلم، کتاب الامارة 1907/155، ابوداؤد، کتاب الطلاق 2201، ترمذی، کتاب فضائل الجهاد 1647۔
② سیدنا علقمہ بن وقاص لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إنما الأعمال بالنيات ، وإنما لكل امرئ ما نوى ، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله ، ومن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو امرأة يتزوجها فهجرته إلى ما هاجر إليه
”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی، پس جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوگی، اور جس کی ہجرت حصولِ دنیا یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہوگی تو اس کی ہجرت اس کام کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔“
بخاری، کتاب بدء الوحی 1۔