آدمی کا ”لوگ ہلاک ہو گئے“ کہنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا سمعتم الرجل يقول: هلك الناس فهو أهلكهم
”جب تم کسی آدمی کو ”لوگ ہلاک ہو گئے“ کہتے ہوئے سنو تو وہ ان سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔“
مسلم، کتاب البر 4 / 2024، ابوداؤد، کتاب الادب 4983۔
ابو اسحاق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، مجھے معلوم نہیں کہ ”أَهْلَكَهُمْ“ کاف پر زبر ”اس نے انہیں ہلاک کیا“ ہے یا ”أَهْلَكُهُمْ“ کاف پر پیش ”وہ ان سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے“ ہے۔
آدمی کا ماشاء اللہ اور ماشاء فلان کہنے کی ممانعت
① سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تقولوا: ما شاء الله وشاء فلان، ولكن قولوا: ما شاء الله ثم شاء فلان
”یہ نہ کہا کرو جو اللہ نے چاہا اور جو فلاں نے چاہا، بلکہ کہا کرو: جو اللہ نے چاہا پھر فلاں نے چاہا۔“
ابو داؤد، کتاب الادب 4980، مسند احمد، باقی مسند الانصار 449/5، حدیث 23327۔
انسان کا ”جاشت نفسي“ کہنے کی ممانعت
① سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يقولن أحدكم: خبثت نفسي، ولكن ليقول: لقست نفسي
”تم میں سے کوئی شخص یوں نہ کہے: میرا نفس خبیث ہو گیا ہے، بلکہ یوں کہے: میرا جی متلاتا ہے۔“
بخاری، کتاب الادب 6180، مسلم، كتاب الالفاظ من الادب وغيرها 2251/17۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يقولن أحدكم: جاشت نفسي، ولكن لقست نفسي
”تم میں سے کوئی یوں نہ کہے ”جاشت نفسي“، بلکہ یوں کہے: ”لقست نفسي“ (معنی ایک ہی ہے: جی کا متلانا)۔“
بخاری، کتاب الادب 6179، مسلم، كتاب الالفاظ من الادب وغيرها 16 / 2250، ابوداؤد، کتاب الادب 4979۔