سورۃ الفاتحہ سورۃ الکہف اور سورۃ الملک کی فضیلت صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

سورۃ الفاتحہ کی فضیلت

عن أبى سعيد رافع بن المعلى رضى الله عنه قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ألا أعلمك أعظم سورة فى القرآن قبل أن تخرج من المسجد؟ فأخذ بيدي، فلما أردنا أن نخرج قلت: يا رسول الله إنك قلت لأعلمنك أعظم سورة فى القرآن؟ قال: الحمد لله رب العالمين هي السبع المثاني والقرآن العظيم الذى أوتيته
سیدنا ابوسعید رافع بن معلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تجھے مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کریم کی عظیم ترین سورت نہ سکھلاؤں؟ پس آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ جب ہم مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا تھا کہ میں تجھے قرآن کی عظیم ترین سورت سکھلاؤں گا۔ آپ نے فرمایا: الحمد لله رب العالمين یہ سبع مثانی (بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں) اور قرآن عظیم ہے، جو مجھے دیا گیا ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل فاتحة الكتاب، رقم: 5006.

سورۃ الکہف کی فضیلت

وعن أبى الدرداء رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من حفظ عشر آيات من أول سورة الكهف ، عصم من الدجال. وفي رواية من آخر سورة الكهف .
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ کہف کی پہلی دس آیتیں یاد کر لے گا، وہ دجال (کے فتنے) سے محفوظ رہے گا ، اور ایک روایت میں ہے کہ سورہ کہف کی آخری دس آیتیں ( یاد کر لے گا)۔“
صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب فضل سورة الكهف رقم: 257/ 809.

سورۃ الملک کی فضیلت

وعن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من القرآن سورة ثلاثون آية شفعت لرجل حتى غفر له ، وهى : تبارك الذى بيده الملك .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن مجید کی ایک تیس آیتوں والی سورت ایسی ہے، جس نے ایک آدمی کی (اللہ کے ہاں ) سفارش کی ، یہاں تک کہ اس کی بخشش کر دی گئی ، اور وہ سورت تبارك الذى بيده الملك ہے۔“
سنن ابی داود، کتاب الصلاة، باب في عدد الای، رقم : 1400 ـ سنن ترمذی، ابواب ثواب القرآن باب ما جاء في فضل سورة الملك، ح: 2891 – صحیح ابن حبان (موارد) رقم : 1766 ـ مستدرك حاكم : 498،497/2 – حاکم، ابن حبان اور ذہبی نے اسے صحیح اور علامہ البانی نے حسن کہا ہے ۔