تحلیل و تحریم اللہ ہی کا حق ہے :
اسلام نے دوسرا اصول یہ مقرر کیا کہ وہ اقتدار جو تحلیل و تحریم کے اختیارات کا اصل سرچشمہ ہے، مخلوق کا نہیں بلکہ صرف خالق کا حق ہے۔ کوئی انسان عالم ہو یا درویش، بادشاہ ہو یا حکمران، کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر کسی چیز کو حرام ٹھہرائے۔ جو شخص بھی اس کی جسارت کرے گا وہ حد سے تجاوز کرنے اور اللہ تعالیٰ کے تشریعی حقوق میں زیادتی کا مرتکب ہوگا اس کی اتباع کرنا اور اپنے عمل سے اس سے اظہارِ رضا مندی کرنا شرک کے مترادف ہے۔
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ
کیا ان کے لیے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کے وہ طریقے مقرر کر لیے ہیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟
(الشورى : 21)
یہود و نصاری نے تحلیل و تحریم کے اختیارات اپنے احبار و رہبان (ملا و درویش) کو دے رکھے تھے، جس پر قرآن نے اس طرح سخت نکیر فرمائی :
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلٰهًا وَاحِدًا لَّا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے احبار اور رہبان کو اپنا رب بنا لیا ہے اور مسیح بن مریم کو بھی۔ حالانکہ انہیں ایک الہ کے سوا کسی کی عبادت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا وہ جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ پاک ہے وہ ان کی ان مشرکانہ باتوں سے۔
(التوبه : 31)
حدیث مبارکہ میں ہے :
وقد جاء عدي بن حاتم إلى النبى صلى الله عليه وسلم وكان دان بالنصرانية قبل الإسلام فلما سمع النبى يقرأ هٰذه الآية، قال: يا رسول الله: إنهم لم يعبدوهم، فقال: بلى إنهم حرموا عليهم الحلال وأحلوا لهم الحرام فاتبعوهم، فذٰلك عبادتهم إياهم
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ جنہوں نے اسلام سے پہلے نصرانیت قبول کر لی تھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا تو عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں نے اپنے احبار و رہبان کی عبادت تو نہیں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیوں نہیں؟ انہوں نے ان پر حلال کو حرام اور حرام کو حلال ٹھہرایا تھا اور ان لوگوں نے ان کی اتباع کی، احبار و رہبان کی عبادت کا یہی مطلب ہے۔
(السنن الكبرى للبيهقى : 10/116)
دوسری روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا :
أما إنهم لم يكونوا يعبدونهم ولٰكنهم كانوا إذا أحلوا لهم شيئا استحلوه وإذا حرموا عليهم شيئا حرموه
یہ لوگ احبار و رہبان کی پرستش نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے حلال کیے ہوئے کو حلال اور ان کے حرام کیے ہوئے کو حرام کر لیتے تھے۔
(ترمذی، کتاب تفسیر القرآن باب و من سورة التوبة ، ح : 3095)
نصاری اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ مسیح علیہ السلام نے آسمان پر جاتے ہوئے اپنے شاگردوں کو یہ اختیار تفویض فرمایا تھا کہ وہ جس طرح چاہیں حلال و حرام ٹھہرائیں، چنانچہ انجیل متی میں ہے :
میں تم سے سچ کہتا ہوں : جو کچھ تم زمین پر باندھو گے وہ آسمان پر بندھے گا اور جو کچھ تم زمین پر کھولو گے وہ آسمان پر کھلے گا۔
(متی 18:18)
اسی طرح قرآن نے تحلیل و تحریم کے معاملہ میں مشرکین کے طرز عمل کو بھی غلط قرار دیا :
قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَّا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ
کہو! تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ نے جو رزق تمہارے لیے نازل فرمایا ہے اس میں سے تم نے کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھہرالیا ؟ کہو! اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا پردازی کر رہے ہو ؟
(يونس : 10/ 59)
نیز فرمایا :
وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلَالٌ وَهٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ
یہ جو تمہاری زبانیں اللہ پر افتراء (جھوٹا الزام لگانا) کرتے ہوئے جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام تو ایسی باتیں نہ کرو، جو لوگ اللہ پر افتراء کرتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہ پائیں گے۔
(النحل : 16/ 116)
ان روشن آیات اور واضح احادیث سے فقہائے اسلام نے حتمی طور پر جان لیا کہ حلت و حرمت کا اختیار اللہ وحدہ ہی کو ہے اور وہ اپنی کتاب یا اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی لوگوں کو حلال و حرام سے آگاہ کرتا ہے اور فقہاء کا کام اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ وہ حلت و حرمت کو بیان کریں۔ شریعت سازی ان کا کام نہیں۔ یہ فقہاء، اجتہاد و امامت کی صلاحیت رکھنے کے باوجود فتوی دینے سے احتراز کرتے تھے اور یہ کام دوسروں کے سپرد کرتے تھے اس اندیشہ سے کہ غلطی سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہ کر بیٹھیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے ”کتاب الأم“ میں قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں :
میں نے بہت سے اہل علم مشائخ کو دیکھا کہ وہ فتویٰ دینا پسند نہیں کرتے اور کسی چیز کو حلال یا حرام کہنے کی بجائے کتاب اللہ میں جو کچھ ہے اسے بلا تفسیر بیان کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔
ابن سائب رحمہ اللہ جو ممتاز تابعی ہیں، کہتے ہیں کہ اس بات سے حتی المقدور بچو کہ تمہارا حال اس شخص کا سا ہو جائے جو کہتا ہے کہ اللہ نے فلاں چیز حلال کی ہے یا اسے پسند ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ نہ میں نے اس کو حلال کیا تھا اور نہ مجھے پسند تھی۔ اسی طرح تمہارا حال اس شخص کا سا بھی نہ ہو جائے جو کہتا ہے کہ فلاں چیز حق تعالیٰ نے حرام کر دی ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو جھوٹا ہے میں نے نہ اسے حرام کیا تھا اور نہ اس سے روکا تھا۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے جو کوفہ کے ممتاز فقہائے تابعین میں سے ہیں، منقول ہے کہ جب ان کے اصحاب فتویٰ دیتے تو یہ مکروہ ہے یا اس میں کوئی حرج نہیں کے الفاظ استعمال کرتے۔ کیونکہ کسی چیز پر حلت و حرمت کا حکم لگانے سے زیادہ غیر ذمہ دارانہ بات اور کیا ہوسکتی ہے؟
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ سلف صالحین حرام کا اطلاق اسی چیز پر کرتے تھے جس کی حرمت قطعی طور پر ثابت ہوتی۔ اسی طرح امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کسی ایسے سوال کے جواب میں فرماتے : میں اسے مکروہ خیال کرتا ہوں یا اچھا نہیں سمجھتا یا یہ پسندیدہ نہیں ہے۔ یہی بات امام مالک رحمہ اللہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر تمام ائمہ دین رحمہ اللہ سے منقول ہے۔