سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتوں کی فضیلت صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتوں کی فضیلت

وعن أبى مسعود البدري رضي الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من قرأ بالآيتين من آخر سورة البقرة فى ليلة كفتاه .
سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رات کو سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں، وہ اس کو کافی ہو جائیں گی ۔“
صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب من لم ير بأسا ان يقول سورة الفاتحة وسورة كذا وكذا، رقم 5040 ـ صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب فضل سورة الفاتحة وخواتيم سورة البقرة، رقم: 807 .
فائدہ: بعض نے کہا ہے کہ ”کافی ہو جائیں گی“ کا مطلب ہے، اس رات کو ناپسندیدہ چیزوں سے اسے کافی ہو جائیں گی، اور بعض نے کہا ہے کہ قیام اللیل سے کافی ہو جائیں گی۔ (یعنی یہ دونوں آیتیں قیام اللیل کے ثواب کو متضمن ہیں) [ریاض الصالحین : 112/1، طبع دار السلام]
وعن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تجعلوا بيوتكم مقابر إن الشيطان ينفر من البيت الذى تقرأ فيه سورة البقرة .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ۔ بے شک شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۃ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب صلوة المسافرين، باب استحباب صلاة النافلة في بيته، رقم : 780.