نماز جنازہ پڑھنے کا ثواب
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ ۖ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ﴾ .
”اور ان میں سے جو کوئی مر گیا اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیے، اور اس کی قبر کے پاس نہ کھڑے ہوئیے، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کر دیا ہے اور ان کی موت حالت کفر میں ہوگی۔“
(9-التوبة:84)
اس آیت مقدسہ سے معلوم ہوا کہ کفار، مشرکین اور منافقین کی نماز جنازہ پڑھنی درست نہیں ہے، کیونکہ یہ لوگ دین اسلام کے باغی اور اللہ کے دشمن ہیں، اور ایسے لوگوں کے لیے دعا کرنا جائز نہیں۔
لامحالہ جب ان لوگوں کا جنازہ پڑھنا درست نہیں تو معلوم ہوا کہ جنازہ مسلمانوں ہی کا پڑھا جائے گا۔
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما من رجل مسلم يموت فيقوم على جنازته أربعون رجلا ، لا يشركون بالله شيئا إلا شفعهم الله فيه
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو مسلمان آدمی مر جائے اور ایسے چالیس آدمی اس کی نماز جنازہ پڑھیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والے نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ میت کے حق میں ان کی سفارش قبول فرماتا ہے۔“
صحيح مسلم، كتاب الجنائز، باب من صلى عليه أربعون شفعوا فيه، رقم: 948۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من اتبع جنازة مسلم إيمانا واحتسابا، وكان معه حتى يصلي عليها ويفرغ من دفنها ، فإنه يرجع من الأجر بقيراطين كل قيراط مثل أحد ، ومن صلى عليها ثم رجع قبل أن تدفن فإنه يرجع بقيراط
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ ایمان کے تقاضے اور ثواب کی نیت سے چلے گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھنے اور دفن سے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہے گا تو وہ دو قیراط اجر لے کر لوٹے گا، ہر قیراط احد پہاڑ کی مانند ہے اور جو اس کو دفنائے جانے سے قبل صرف نماز جنازہ پڑھ کر لوٹ آئے تو وہ ایک قیراط کے ساتھ واپس آئے گا۔
صحيح بخاري، كتاب الإيمان، باب اتباع الجنازة من الإيمان، رقم: 47 ۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من شهد الجنازة حتى يصلى عليها فله قيراط ، ومن شهدها حتى تدفن فله قيراطان . قيل: وما القيراطان؟ قال: مثل الجبلين العظيمين
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے میں حاضر ہوا یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے، اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے۔ اور جو اس کے دفن تک موجود رہے، اس کے لیے دو قیراط اجر ہے۔“ دریافت کیا گیا دو قیراط کی مقدار کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”دو بڑے پہاڑوں کی مثل۔“
صحیح بخارى كتاب الجنائز، باب من انتظر حتى تدفن، رقم : 1325۔ صحیح مسلم ،کتاب الجنائز، باب فضل الصلاة على الجنازة اتباعها، رقم: 945.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی مزید رحمت کا ذکر فرمایا ہے اور غور فرمائیں کہ اللہ نے اپنے بندوں کو معاف فرمانے کے لیے کیسے کیسے بہانے بنائے ہیں:
”جس نے میت کو غسل دیا پھر اس کو کفن پہنایا، اللہ تعالیٰ چالیس مرتبہ اس کی بخشش فرماتے ہیں اور جس نے میت کو کفن دیا، اللہ جنت میں اسے دیباج و ریشم کا لباس پہنائے گا اور جس نے میت کے لیے قبر کھودی، پھر اسے اس میں دفن کر دیا تو اللہ تعالیٰ اسے اتنا اجر عطا فرمائے گا، جتنا کہ اس شخص کا حق ہے جو قیامت تک کے لیے کسی کو کوئی رہائش الاٹ کر دے۔“
الترغيب والترهيب رقم : 3492 ـ مستدرك حاكم: 1/ 362،354.