رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو جان و مال پر مقدم کرنا
① سیدنا عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:
”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے میری جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں“۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا ، والذي نفسي بيده ، حتى أكون أحب إليك من نفسك
”نہیں! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، حتیٰ کہ میں تجھے تیری جان سے بھی زیادہ محبوب ہو جاؤں“۔
تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:
”اب اللہ کی قسم! آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں“۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الآن يا عمر
”اب اے عمر!“۔
بخاری، کتاب الایمان والنذور (6632). مسند احمد (293/5)
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين
”تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“۔
بخاری، کتاب الایمان (15) مسلم، کتاب الایمان (44). النسائي، كتاب الايمان وشرائعه (115/8)
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت
① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے باہر تھے کہ مسجد کے سامنے میدان میں ایک آدمی ہمیں ملا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”قیامت کب آئے گی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما أعددت لها ؟
”تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“
گویا کہ آدمی عاجز سا ہو گیا، پھر اس نے کہا:
”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے اس کے لیے زیادہ روزے تیار کیے ہیں، نہ نماز اور نہ ہی صدقہ۔ لیکن میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں“۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أنت مع من أحببت
”تو جس سے محبت کرتا ہے اس کے ساتھ ہوگا“۔
بخارى كتاب الادب (3688 ، 6167). مسلم، كتاب البر والصلة (2639). ترمذی، کتاب الزهد عن رسول الله (2385).