اہلِ حدیث کا صفاتی نام اور فرقہ مسعودیہ کے اعتراضات کا تحقیقی رد

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب اہل حدیث ایک صفاتی نام سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

فرقہ مسعودیہ اور اہل الحدیث

[بعض لوگ بشمول فرقہ مسعودیہ و خوارج یہ دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ ہمارا نام صرف مسلم یا مسلمین ہے اور دوسرے تمام نام (خواہ صفاتی نام ہوں یا القاب) رکھنا نا جائز ہے یا بہتر نہیں ہے۔ ہمارے اس تحقیقی مضمون میں ان لوگوں کا دلائل و فہمِ سلف صالحین کی روشنی میں بہترین رد ہے۔ والحمدللہ]

کراچی کے ایک نو زائیدہ فرقے نے کافی عرصے سے اہل الحدیث والآثار کے خلاف تکفیر و تبدیع اور طعن و تشنیع کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ چونکہ بعض نا سمجھ اشخاص کا اس فرقے کے دامِ ہم رنگِ زمین سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، لہٰذا اس مضمون کو تفصیل و دلائل سے لکھا گیا ہے، تاکہ فرقہ مسعودیہ کے دعاویِ باطلہ اور الزام تراشیوں کا دندان شکن جواب دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دینِ اسلام پر قائم رکھے اور سبل الضلالۃ(گمراہی کے راستوں) کے شیطان صفت داعیوں کے مغالطات سے بچائے۔ (آمین)

اہل الحدیث:

محدثین کی جماعت کو اہل الحدیث کہا جاتا ہے، جس طرح مفسرین کی جماعت کو اہل التفسیر اور مورخین کی جماعت کو اہل التاریخ کہا جاتا ہے۔

دلیل (1):

صحیح بخاری کے مؤلف امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’جزء القراءۃ خلف الامام‘‘ میں ص 13 پر کہا: [ولا يحتج أهل الحديث بمثله] یعنی اس جیسے سے اہل الحدیث حجت نہیں پکڑتے۔ (نصر الباری فی تحقیق جزء القراءۃ للبخاری: ص 88 ح 38)

بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اہل الحدیث کو طائفۂ منصورہ (جنتی اور حق والی جماعت) قرار دیا ہے۔ (مسألة الاحتجاج بالشافعي: ص 47 وسندہ صحیح، تحقیقی مقالات ج 1 ص 161)

دلیل(2):

جامع ترمذی کے مؤلف امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی [کتاب الجامع: میں ج1 ص16]پر کہا: [و ابن لهيعة ضعيف عند أهل الحديث]

یعنی ابن لہیعہ اہل الحدیث (حدیث والوں) کے نزدیک ضعیف ہے۔ (ح 10)

تنبیہ: عبداللہ بن لہیعہ چونکہ اختلاط کی وجہ سے ضعیف تھے اور مدلس بھی تھے، لہٰذا ان کی بیان کردہ روایت دو شرطوں کے ساتھ حسن لذاتہ ہوتی ہے:

[1] روایت اختلاط سے پہلے کی ہو۔ (دیکھئے میری کتاب: الفتح المبین:ص77-78)

[2] روایت میں سماع کی تصریح ہو۔ (ایضاً ص77 رقم 5/ 140)

دلیل(3):

آج تک کسی مسلم عالم نے اس بات کا انکار نہیں کیا کہ ’اہل الحدیث‘ سے مراد محدثین کی جماعت ہے، لہٰذا اس صفاتی نام اور نسب کے جائز ہونے پر اجماع ہے۔

اہل حدیث لقب و صفاتی نام کے صحیح ہونے پر پچاس حوالوں کے لئے دیکھئے میری کتاب: تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات (ج1 ص161-174)

دلیل(4):

امام مسلم نے بھی محدثین کو اہل الحدیث کہا۔

(صحیح مسلم مع النووی: ج1 ص55، دوسرا نسخہ ج1 ص5، 26)

امام مسلم رحمہ اللہ بذاتِ خود بھی اہل حدیث تھے جیسا کہ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:

[و نحن لا نعني بأهل الحديث المقتصرين على سماعه، أو كتابته أو روايته بل نعني بهم: كل من كان أحق بحفظه و معرفته و فهمه ظاهراً و باطناً و اتباعه باطناً و ظاهراً، و كذلك أهل القرآن]

اہل الحدیث سے ہمارا مقصود وہ اشخاص نہیں ہیں جو صرف حدیث کے سماع، کتابت اور روایت پر اکتفا کرتے ہیں، بلکہ ہم اس نام سے ہر وہ شخص مراد لیتے ہیں جو حدیث کو یاد کرتا ہے، اسے اس کی زیادہ پہچان ہے اور اس کی ظاہری و باطنی طور پر زیادہ سمجھ رکھتا ہے اور ظاہری و باطنی طور پر اس کی زیادہ اتباع کرتا ہے۔

اہل القرآن سے بھی یہی حضرات مراد ہیں۔ (مجموع فتاویٰ: ج4 ص95)

حافظ ابن تیمیہ کے نزدیک امام مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ اور ابو یعلیٰ وغیرہم رحمہم اللہ سب اہل حدیث کے مذہب پر تھے اور علماء میں سے کسی کے مقلد نہیں تھے۔

(دیکھئے مجموع فتاویٰ: ج20 ص40، تحقیقی مقالات: ج1 ص168)

اہل الحدیث کی فضیلت:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين حتى يأتيهم أمر الله وهم ظاهرون] یعنی میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا یہاں تک کہ ان کے پاس اللہ کا فیصلہ آ جائے گا اور وہ غالب ہوں گے۔ (صحیح بخاری:7311، عن المغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ)

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں ہے کہ میری امت کا ایک طائفہ یعنی گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا۔ (صحیح مسلم:1920، دارالسلام:495)

یاد رہے کہ یہ برتری دلائل کے ساتھ بھی ہوگی۔

(1) مشہور ثقہ عالم احمد بن سنان رحمہ اللہ (م259ھ) نے اس حدیث کی تشریح میں فرمایا: [هم أهل العلم و أصحاب الآثار]

(شرف اصحاب الحدیث للخطیب البغدادی: ص27 رقم49 واسنادہ صحیح)

یعنی یہ اہل علم اور اصحاب الآثار ہیں۔

(2) دوسرے ثقہ امام علی بن المدینی رحمہ اللہ (م234ھ) نے فرمایا: [هم أصحاب الحديث] یعنی اس طائفہ سے مراد اصحاب الحدیث ہیں۔

(جامع ترمذی:2/ 43 ح2192 واسنادہ صحیح)

اور دوسری روایت میں ہے کہ انھوں نے فرمایا: [هم أهل الحديث]

(جامع الترمذی: ج4 ص505، سنن الترمذی مع عارضۃ الاحوذی: ج9 ص74)

ثابت ہوا کہ اصحاب الحدیث اور اہل حدیث ایک ہی جماعت کے دو نام ہیں۔

(3) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (م241ھ) نے اس حدیث کے معنی میں کہا: [إن لم تكن هذه الطائفة المنصورة أصحاب الحديث فلا أدري من هم]

اگر اس طائفہ منصورہ سے مراد اصحاب الحدیث (محدثین) نہیں ہیں تو مجھے معلوم نہیں کہ یہ کون ہیں؟

 (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: ص2 وسندہ صحیح وصححہ الحافظ ابن حجر فی فتح الباری:13/ 250)

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: [صاحب الحديث عندنا من يستعمل الحديث]

ہمارے نزدیک صاحبِ الحدیث وہ شخص ہے جو حدیث پر عمل کرے۔ (الجامع للخطیب:1/ 219 ح186، وسندہ صحیح، دوسرا نسخہ 1/ 144 ح183، مناقب الامام احمد لابن الجوزی: ص207-208)

تنبیہ: قولِ مذکور میں صاحبِ الحدیث سے مراد اہل الحدیث ہے۔

(4) حفص بن غیاث رحمہ اللہ (م194ھ) نے اصحاب الحدیث کے بارے میں فرمایا: [هم خير أهل الدنيا]

یعنی اصحاب الحدیث ساری دنیا میں سب سے بہتر ہیں۔ (معرفۃ علوم الحدیث: ص3 واسنادہ صحیح)

(5) حاکم رحمہ اللہ (م405ھ) نے بھی حفص بن غیاث رحمہ اللہ کی تصدیق کی اور فرمایا: [إن أصحاب الحديث خير الناس]

بے شک اصحاب الحدیث (محدثین) لوگوں میں سب سے بہتر ہیں۔ (علوم الحدیث: ص3)

ان ائمہ مسلمین کی تصریحات سے معلوم ہوا کہ طائفۂ منصورہ والی حدیث کا مصداق اصحاب الحدیث: اہل العلم، اہل الحدیث (یعنی محدثین) ہیں اور اسی پر اجماع ہے۔

مزید تفصیل کے لئے دیکھئے میری کتاب: تحقیقی مقالات (ج1 ص161-174)

اہل الحدیث کے دشمن:

اہل الحدیث (محدثین) کے دشمن ان پر طرح طرح کے الزاماتِ مکذوبہ لگاتے ہیں۔

ایسے ہی لوگوں کے بارے میں امام احمد بن سنان الواسطی رحمہ اللہ نے کہا:

[ليس في الدنيا مبتدع إلا وهو يبغض أهل الحديث و إذا ابتدع الرجل نزع حلاوة الحديث من قلبه]

دنیا میں کوئی بھی ایسا بدعتی نہیں جو اہل الحدیث سے بغض نہ رکھتا ہو۔ جب آدمی بدعتی ہو جاتا ہے تو حدیث کی حلاوت (مٹھاس) اس کے دل سے نکل جاتی ہے۔ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: ص 4 رقم 6 وسندہ صحیح)

اہل الحدیث سے دشمنی کا انجام:

چونکہ اہل الحدیث، مسلمین میں انتہائی اعلیٰ مقام رکھتے ہیں اور وہ حقیقت میں اولیاء اللہ ہیں۔

اولیاء اللہ کی شان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [من عادى لي ولياً فقد آذنته بالحرب]

جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی کرتا ہے تو میں اس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری: ج8 ص131 ح6502)

غور فرمائیں! کتنی شدید وعید ہے۔

اب جو شخص ان اولیاء اللہ کی تکفیر کرتا ہے اور اس کا کیا انجام ہوگا؟

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی تکفیر:

تقریب التہذیب، تہذیب التہذیب، الاصابہ، لسان المیزان، تعجیل المنفعہ، الدرایہ اور التلخیص الحبیر وغیرہ کتبِ نافعہ کے مصنف، ثقہ، خاتم الحفاظ، حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ کی عدالت و جلالتِ شان پر محدثین کا اجماع ہے اور ان کی کتب سے انتفاع مسلسل جاری و ساری ہے۔

کراچی میں چند سال پہلے ایک فرقہ، فرقہ مسعودیہ پیدا ہوا ہے جس کے بانی مسعود احمد بی ایس سی صاحب ہیں۔ اس فرقے نے اپنا نام ’’جماعت المسلمین‘‘ رکھ کر غیر اسلامی اور طاغوتی حکومت سے رجسٹرڈ (یعنی الاٹ) کرا لیا ہے۔ مسعود صاحب نے ایک کتابچہ لکھا ہے جس کا نام ’’مذاہبِ خمسہ (یعنی اہل حدیث، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) اور دینِ اسلام‘‘ رکھا ہے۔ اس کتابچے میں چھ خانے ہیں:

اہل الحدیث

حنفی

شافعی

مالکی

حنبلی

دینِ اسلام

اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسعود صاحب کے نزدیک اہل الحدیث وغیرہ دینِ اسلام سے خارج ہیں۔ مسعود صاحب اہل الحدیث کے خانے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کو ان کی فتح الباری کے ساتھ لے آئے ہیں۔ (ملاحظہ ہو ص 29)

معلوم ہوا کہ مسعود صاحب کے نزدیک حافظ ابن حجر رحمہ اللہ دینِ اسلام سے خارج ہیں۔ (استغفر اللہ)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [أيما رجل مسلم أكفر رجلاً مسلماً فإن كان كافراً وإلا كان هو الكافر]

جو مسلم دوسرے مسلم کو کافر کہے (اس کی تکفیر کرے) اگر وہ کافر ہے (تو ٹھیک) ورنہ ایسا کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے۔

(سنن ابی داود: 4687 واللفظ لہ وسندہ صحیح، واصلہ فی صحیح مسلم: 60، دارالسلام: 215)

فرقہ مسعودیہ کا دعویٰ مسلم:

مسعود صاحب نے اس پر زور دیا ہے کہ ہمارا صرف ایک نام ہے یعنی مسلم، یہ نام اللہ کا رکھا ہوا ہے، فرقہ وارانہ نام نہیں۔ (مذہب اہل الحدیث کی حقیقت:ص1)

تنبیہ: ہمارے علم کے مطابق مسعود صاحب سے پہلے اُمّتِ مسلمہ میں (زمانۂ خیر القرون ہو، زمانۂ تدوینِ حدیث ہو یا زمانۂ شروحِ احادیث) کسی عالم نے بھی یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ ہمارا نام صرف مسلم ہے۔

اگر کسی کے پاس مسعود صاحب کے مذکورہ دعوے کی صراحت کسی عالم سے ثابت ہو تو حوالہ پیش کریں۔

مسعود صاحب اپنے خود ساختہ دعوے کی ’’دلیل‘‘ پیش کرتے ہیں کہ [ہُوَ سَمّٰىکُمُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ] اللہ نے تمھارا نام مسلمین رکھا ہے۔

 (الحج: 78، بحوالہ رسالہ ’’المسلم‘‘ نمبر4 ص46)

جنابِ محترم ابو جابر عبداللہ دامانوی صاحب حفظہ اللہ فرماتے ہیں: اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام مسلم رکھا ہے۔ لیکن اس آیت میں اس بات کا کہیں بھی ذکر موجود نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام صرف مسلم رکھا ہے۔ یا بالفاظِ دیگر مسلم نام کے علاوہ دوسرے نام رکھنا ممنوع ہیں۔ اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ ہمارا ذاتی نام مسلم ہی ہے اور دنیا میں آج ہم اسی نام سے متعارف ہیں۔ چودہ سو سال سے دنیا ہمارے اس نام سے واقف ہے اور قیامت تک ہم اسی نام سے پہچانے جائیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے علاوہ ہمارے اور بھی بہت سے نام رکھے تھے جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔

محترم دامانوی صاحب حفظہ اللہ کی تصدیق:

محترم دامانوی صاحب حفظہ اللہ کے دعوے کی تصدیق میں، ہم قرآن و سنت سے چند دوسرے نام و القاب پیش کر رہے ہیں:

(1) المؤمن یا المؤمنون:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ اَلۡقٰۤی اِلَیۡکُمُ السَّلٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنًا ۚ تَبۡتَغُوۡنَ عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا] (اے ایمان والو!) جو تمھیں سلام کہے اسے ہرگز یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے (کیا) تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو۔ (النساء: 94)

اور فرمایا: [اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَۃٌ] بے شک مومنین آپس میں بھائی ہیں۔ (الحجرات: 10)

اور فرمایا: [قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ] یقیناً مومنین کامیاب ہو گئے۔ (المؤمنون: 1)

(2) حزب اللہ:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ] جان لو کہ بے شک حزب اللہ، وہی فلاح پائیں گے (کامیاب ہیں)۔ (المجادلہ: 22)

تنبیہ:حزب اللہ کے مقابلے میں حزب الشیطان ہے اور حزب الشیطان والے حقیقی گھاٹے میں ہیں۔ (مثلاً ملاحظہ ہو: سورۃ المجادلہ: 19)

(3) أولياء اللہ:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ] جان لو کہ اللہ کے اولیاء کو نہ ڈر ہوگا اور نہ غم ہوگا۔ (یونس: 62)

اولیاء اللہ کے مقابلے میں اولیاء الشیطان ہیں۔

ان کے علاوہ درج ذیل نام بھی قرآن مجید سے ثابت ہیں:

المہاجرین

الانصار

السابقون الاولون

ربانیین

الفقراء

الصالحین

الشہداء

الصدیقین وغیرہم

صحیح احادیث میں بھی مسلمین کے کئی ناموں کا ذکر ملتا ہے، مثلاً:

امتِ محمد (ﷺ) (صحیح بخاری: 5221، 6631، صحیح مسلم: 901، دارالسلام: 2089)

الغرباء (صحیح مسلم: 145، دارالسلام: 372)

طائفہ (صحیح بخاری: 7311، صحیح مسلم: 156، دارالسلام: 395 وغیرہ ذلک)

حواریوں (صحیح مسلم: 50، دارالسلام: 179)

اصحاب (صحیح مسلم: 50، دارالسلام: 179)

الخلیفہ (مسند احمد ج 5 ص 131، واسنادہ حسن)

اہل القرآن (المستدرک 1/ 556 ح 2046 وسندہ حسن، مسند ابی داود الطیالسی: 2124 شاملہ)

اہل اللہ (دیکھئے حوالہ سابقہ: 7)

ان دلائل سے معلوم ہوا کہ مسلمین کے اور بھی بہت سے (صفاتی) نام ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے رکھے ہیں، لہٰذا فرقہ مسعودیہ کے بانی کا یہ دعویٰ باطل اور جھوٹا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام صرف ایک ’’مسلم‘‘ رکھا ہے۔ اگر وہ کہیں کہ یہ صفاتی نام ہیں تو عرض ہے کہ صفاتی نام بھی نام ہی ہوتا ہے۔

دلیل(1):

اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ’اللہ‘ ہے اور اس کے بہت سے صفاتی نام ہیں۔ مثلاً:

رب (سورۃ فاتحہ)

الرحمن (سورۃ فاتحہ)

الرحیم (ایضاً)

إلہ (الناس)

العلیم

القدیر

الملک

القدوس وغیرہ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَ لِلّٰہِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی فَادۡعُوۡہُ بِہَا] اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں، اسے ان ناموں کے ساتھ پکارو۔ (الاعراف: 180)

اور فرمایا: [قُلِ ادۡعُوا اللّٰہَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ ؕ اَیًّامَّا تَدۡعُوۡا فَلَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی] آپ کہہ دیں کہ اللہ کو پکارو یا رحمن کو پکارو، جس نام سے بھی تم پکارو اس کے اچھے نام ہیں۔ (بنی اسرائیل: 110)

اللہ تعالیٰ کے ان صفاتی ناموں کو بھی ’نام‘ ہی کہا گیا ہے۔

دلیل(2):

محمد ﷺ کا ذاتی نام محمد (ﷺ) ہے، اور آپ کا ذاتی نام احمد بھی ہے۔

[وَاسْمُهُ أَحْمَدُ] اس کا نام احمد ہے۔ (الصف: 6)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [أنا محمد و أحمد و المقفى و الحاشر و نبي التوبة و نبي الرحمة]

میں محمد ہوں، احمد ہوں، مقفیٰ ہوں، حاشر ہوں، نبیِ توبہ اور نبیِ رحمت ہوں۔ (صحیح مسلم: 2355، دارالسلام: 6108)

شرح السنہ للبغوی میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

[إن لي أسماء : أنا أحمد و أنا محمد و أنا الماحي الذي يمحو الله به الكفر و أنا الحاشر يحشر الناس على قدمي و أنا العاقب]

میرے (کئی) نام ہیں: میں احمد ہوں، محمد ہوں، ماحی ہوں جس سے اللہ کفر کو مٹاتا ہے، حاشر ہوں لوگوں کو میرے قدموں پر اکٹھا کیا جائے گا اور میں عاقب (آخری نبی) ہوں۔ و قال البغوي: ’’هذا حديث متفق على صحته، أخرجه مسلم‘‘ (13/ 212 ح 3630)

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سیدنا محمد ﷺ کے اور بھی بہت سے ’اسماء‘ یعنی نام ہیں: مثلاً: احمد، الماحی، الحاشر، العاقب، المقفیٰ، نبی التوبہ اور نبی الرحمہ وغیرہ۔

قرآن و حدیث کے ان دلائل سے معلوم ہوا کہ صفاتی نام بھی نام ہی ہوتا ہے۔

صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور مسلمین

[1] سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک شخص نے مسلمین کو ’المصلون‘ کہا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کی تردید نہیں کی بلکہ اس کو بہت بہتر مشورہ بھی دیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ج 15 ص 17 ح 38289، المستدرک: ج 4 ص 444 – 445، وقال الحاکم: ’’هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه‘‘ رواية السفيان الثوري عن منصور قوية و باقي السند صحيح)

[2] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: [یا معشر قریش]

(مصنف ابن ابی شیبہ: ج 14 ص 482 وسندہ صحیح، الحکم بن میناء ثقہ)

[3] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے [یا معشر الأنصار] کہا۔

(مصنف ابن ابی شیبہ: ج 14 ص 567 ح 38199 وسندہ حسن)

[4] سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وغیرہ خلفاء کو صحابہ ’’امیر المؤمنین‘‘ کہتے تھے۔

یہ بات متواتر ہے۔

اس کے علاوہ اور بہت سے نام بھی صحابہ سے ثابت ہیں۔ رضی اللہ عنہم اجمعین

اہل السنۃ:

مسلمین، محدثین اور مومنین کو ’’اہل السنۃ‘‘ (یعنی سنت والے) بھی کہا گیا ہے۔

دلیل(1):

محمد بن سیرین تابعی رحمہ اللہ (ت110ھ) نے فرمایا:

[فينظر إلى أهل السنة فيؤخذ حديثهم] اہل السنۃ کی طرف دیکھا جاتا، پس ان کی حدیث لی جاتی۔ (صحیح مسلم مع النووی: ج 1 ص 84)

خلاصہ یہ کہ: ابن سیرین رحمہ اللہ نے مسلمین کے لئے ’’اہل السنۃ‘‘ کا نام استعمال کیا۔

تنبیہ: یہ نام فرقہ مسعودیہ کے نزدیک غیر ثابت، بدعت اور شریعت سازی ہے، لہٰذا ان کے نزدیک ابن سیرین رحمہ اللہ جن کی عدالت پر امتِ مسلمہ کا اجماع ہے، دین سے خارج اور فرقہ اہل السنۃ کے ایک فرد ہوں گے؟! (نعوذ باللہ)

اب دیکھیں! ابن سیرین تابعی رحمہ اللہ (جو کہ متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم کے شاگرد اور صحیحین کے مرکزی راوی ہیں) ان پر فتویٰ کب لگتا ہے؟!

اہل السنۃ یا اس مفہوم کا لفظ درج ذیل ائمہ مسلمین نے بھی استعمال کیا ہے:

[1] ایوب السختیانی رحمہ اللہ (م131ھ)

(الکامل لابن عدی ج 1 ص 75 واسنادہ صحیح، حلیۃ الاولیاء 3/ 9، الجزء الثانی من حدیث یحییٰ بن معین: 102)

[2] زائدہ بن قدامہ (الجامع للخطیب: 755)

[3] احمد بن حنبل (المنتخب من علل الخلال: 185)

[4] بخاری (جزء رفع یدین: 15)

[5] یحییٰ بن معین (تاریخ ابن معین، روایتہ الدوری: 2955، ترجمۃ ابی المعتمر یزید بن طہمان)

[6] ابو عبید القاسم بن سلام (الاموال: 1218، لا تجعل زکاتک، کتاب الایمان کا شروع)

[7] محمد بن نصر المروزی (کتاب الصلاۃ: 588)

[8] حاکم نیشاپوری (المستدرک 1/ 201 ح 397)

[9] احمد بن الحسین البیہقی (م 458ھ)

(دیکھئے کتاب الاعتقاد والہدایۃ الی سبیل الرشاد علی مذہب السلف واصحاب الحدیث وغیرہ ذلک من کتب البیہقی)

[10] ابو حاتم الرازی (م 277ھ)

امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے جہمیہ کی یہ نشانی بتائی کہ وہ اہل السنۃ کو مشبہ کہتے ہیں۔

(اصول الدین: 38، تحقیقی مقالات ج 2 ص 23)

[11] الامام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری رحمہ اللہ (م 310ھ) (صریح السنۃ للطبری ص 20)

[12] فضیل بن عیاض رحمہ اللہ (م 187ھ)

(حلیۃ الاولیاء 8/ 103 – 104، واسنادہ صحیح، تہذیب الآثار للطبری 7/ 44 ح 1975 شاملہ، وسندہ صحیح)

[13] شیخ الاسلام ابو عثمان اسماعیل الصابونی رحمہ اللہ (م 449ھ)

ملاحظہ ہو ان کی کتاب ’’عقیدۃ السلف اصحاب الحدیث والرسالۃ فی اعتقاد اہل السنۃ واصحاب الحدیث والائمۃ‘‘۔

[14] ابن عبد البر الاندلسی (م 463ھ) (التہمید 1/ 8، 2 / 209 وغیرہ ذلک)

[15] خطیب بغدادی (شرف اصحاب الحدیث)

[16] ابو اسحاق ابراہیم بن موسیٰ القرطبی (م 791ھ) الاعتصام للشاطبی (ج 1 ص 61)

[17] حافظ ذہبی رحمہ اللہ (م 748ھ) دیکھئے سیر اعلام النبلاء (ج 5 ص 374)

[18] حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ (م 852ھ) مذاہب خمسہ مصنف مسعود احمد (ص 39 بحوالہ فتح الباری ج 1 ص 281)

سنی کا نام(1):

حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ایک شخص کے بارے میں کہا:

[الرازي السني الفقيه أحد أئمة السنة] (سیر اعلام النبلاء 10/ 446)

زائدہ بن قدامہ رحمہ اللہ کو متعدد ائمہ نے ’’صاحب سنة‘‘ اور ’’من أهل السنة‘‘ قرار دیا ہے، مثلاً دیکھئے تہذیب التہذیب (3/264)

(2) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریب التہذیب میں عبدالملک بن قریب الاصمعی البصری کے بارے میں کہا: صدوق سني (4208)

محمدی المذہب:

محمد بن عمر الداودی رحمہ اللہ امام الحافظ المفید المحدث العراق ابن شاہین رحمہ اللہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ: [وكان إذا ذكر له مذهب أحد، يقول: أنا محمدي المذهب] جب ان سے کسی کے مذہب کا ذکر ہوتا، تو وہ فرماتے تھے کہ میں محمدی المذہب ہوں۔

(تاریخ بغداد للخطیب 11/ 267 وسندہ صحیح، ترجمۃ عمر بن احمد بن عثمان المعروف بابن شاہین)

خلاصہ: قرآن و حدیث اور ائمہ مسلمین کی متفقہ تصریحات سے معلوم ہوا کہ مسلمین کے اور بھی صفاتی نام ہیں جن سے انھیں پکارا گیا ہے، مثلاً اہل السنۃ، اہل الحدیث، سنی، محمدی المذہب اور حزب اللہ وغیرہ، لہٰذا مسعود صاحب کا یہ دعویٰ بالکل باطل و بلا دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام صرف مسلم رکھا ہے۔

مسعود صاحب کے نزدیک ’’مسلم‘‘ نام کے علاوہ دوسرے سارے نام (مثلاً اہل السنۃ، اہل الحدیث، حزب اللہ وغیرہ) غیر صحیح و فرقہ ہیں اور ان کے نزدیک فرقہ بندی شرک، عذاب اور لعنت ہے۔ (مثلاً دیکھئے سٹیکر جماعت المسلمین یعنی فرقہ مسعودیہ)

لہٰذا ائمہ مسلمین مثلاً ابن سیرین تابعی رحمہ اللہ وغیرہ ان کے نزدیک دینِ اسلام سے خارج اور مشرک ٹھہرے۔ (معاذ اللہ)

فتنۂ تکفیر:

فرقہ مسعودیہ والے انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ محدثین کی تکفیر کر رہے ہیں۔

عملی طور پر یہ نہ کسی مسلم کو سلام کرتے ہیں اور نہ اس کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ ان کے نزدیک صرف وہی ’’مسلم‘‘ ہے جو ان کے فرقہ مسعودیہ (جماعت المسلمین رجسٹرڈ) میں شامل ہوا اور مسعود صاحب کی بیعت کر چکا ہو۔ دوسرا شخص اپنے آپ کو لاکھ مسلم کہے مگر وہہی

ڈھاک کے تین پات۔

سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [من صلّى صلاتنا و استقبل قبلتنا و أكل ذبيحتنا فذلك المسلم الذي له ذمة الله و ذمة رسوله]

جو کوئی ہماری جیسی نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہی ’’مسلم‘‘ ہے۔ جس کے لئے اللہ اور اللہ کے رسول کا ذمہ ہے۔ (صحیح بخاری: 391)

بحث کا قطعی فیصلہ:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [فادعوا بدعوى الله الذي سماكم المسلمين المؤمنين عباد الله]

پس پکارو اس اللہ کی پکار کے ساتھ جس نے تمھارا نام مسلمین، مومنین، عباد اللہ رکھا ہے۔

(مسند ابی یعلی الموصلی ج 3 ص 142، صحیح ابن حبان 8/ 43)

اس سند کو ابن خزیمہ، حاکم اور ذہبی رحمہم اللہ نے بھی صحیح قرار دیا ہے۔

(صحیح ابن خزیمہ: 1930، المستدرک:1/421، 117، 236)

امام ترمذی نے فرمایا: [هذا حديث حسن صحيح غريب] (ح 2863)

یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو یعلیٰ وغیرہ کی سندوں میں سماع کی بھی تصریح کی ہے۔

فرقہ کی بحث:

فرقہ کا اطلاق اہل الحق پر بھی ہوتا ہے اور اہل الباطل پر بھی، مگر مسعود صاحب مطلقاً کہتے ہیں: فرقہ بندی شرک ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [يكون في أمتي فرقتان فيخرج من بينهما مارقة يلي قتلهم أولاهم بالحق]

میری امت میں دو فرقے ہوں گے پھر اُن میں سے ایک مارقہ (گمراہ فرقہ، خوارج کا گروہ) نکلے گا جس سے وہ (فرقہ) قتال کرے گا جو حق کے زیادہ قریب ہوگا۔ (صحیح مسلم: 1065، دارالسلام: 2459)

اور دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [تفتّرق أمتي فرقتين فتمرق بينهما مارقة يقتلها أولى الطائفتين بالحق]

میری امت دو فرقے ہو جائے گی اور ان کے درمیان ایک خارجی جماعت نکلے گی (یعنی مارقہ) اس مارقہ کو (دونوں فرقوں میں سے) جو حق سے زیادہ قریب ہوگا وہ قتل کرے گا۔

 (مسند ابی یعلی الموصلی ج 2 ص 499 ح 1345، واسنادہ صحیح، واخرجہ ابن حبان فی صحیحہ 8/ 259، واحمد 3/ 79 ح 11326)

یہ دونوں فرقے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فرقے (گروہ) تھے اور ان کے درمیان خارجیوں کی جماعت نکلی تھی۔ اس ’’جماعت‘‘ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔

معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی دونوں جماعتوں کو دو فرقے قرار دیا، لہٰذا معلوم ہوا کہ مسلمین کی جماعت کو ’’فرقہ‘‘ بھی کہا گیا ہے۔ یعنی ناجی فرقہ، اور یہ دونوں فرقے حق پر تھے۔

تلزم جماعت المسلمین و امامہم

فرقہ مسعودیہ کے بانی مسعود صاحب اس حدیث کا مصداق اپنے آپ کو ٹھہرا رہے ہیں، یعنی ’’جماعت المسلمین‘‘ سے مراد ان کی نو زائیدہ جماعت اور ’’امام‘‘ سے مراد وہ خود ذاتِ شریف ہیں، پھر اس جماعت کو انھوں نے طاغوت کی حکومت سے ایک سے زیادہ بار رجسٹرڈ بھی کرایا ہے۔

جنابِ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ابو جابر عبداللہ دامانوی حفظہ اللہ نے اپنی کتاب ’’فرقہ جدیدہ‘‘ میں مسعود صاحب کا یہ طلسم توڑ دیا ہے اور دلائل و براہینِ قاطعہ سے یہ ثابت کیا ہے کہ ’’جماعت المسلمین‘‘ سے مراد مسلمین کی حکومت و امارت ہے اور ’’امام‘‘ سے مراد خلیفہ و سلطان ہے۔ ظاہر ہے کہ مسعود صاحب کا فرقہ نہ تو حکومت و امارت پر مشتمل ہے اور نہ خلیفہ و سلطان پر، لہٰذا وہ اس حدیث کا مصداق نہیں ہے۔

مختصراً عرض ہے کہ اہل علم کا اس پر اتفاق (اجماع) ہے کہ اس ’’جماعت‘‘ سے مراد مسعود صاحب کی جماعت نہیں ہے۔ بلکہ یا تو امارت و حکومت والی سیاسی جماعت ہے یا پھر صحابہ رضی اللہ عنہم اور اہل الحق (یعنی اہل الحدیث) کی جماعت۔

امام بیہقی رحمہ اللہ اس حدیث کو ’’قتالِ اہل البغی‘‘ میں لائے ہیں۔ (السنن الکبریٰ ج 8 ص 156)

جس سے معلوم ہوا کہ بیہقی کے نزدیک بھی اس حدیث کا تعلق سیاسی امور سے ہے، ورنہ جماعت کے نہ ہونے کا کیا مطلب ہے۔ جب کہ امت کا ایک طائفہ (یعنی اہل الحق کی جماعت) قیامت تک ہمیشہ بغیر انقطاع باقی رہے گا۔ حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے بھی اس سے مراد ’امیر‘ قرار دیا ہے۔ یعنی حکومت کا امیر۔

[تلزم جماعة المسلمين و إمامهم] مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑلو، کی تشریح میں عرض ہے کہ جماعت المسلمین سے مراد خلافتِ مسلمین اور إمامهم سے مراد خلیفتہم (یعنی خلیفہ) ہے۔ اس تشریح کی دو دلیلیں درج ذیل ہیں:

(1) (سبیع بن خالد) الیشکری رحمہ اللہ:

(ثقہ تابعی) کی سند سے روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [فإن لم تجد يومئذ خليفةً فاهرب حتى تموت] پھر اگر تم ان ایام میں کوئی خلیفہ نہ پاؤ تو بھاگ جاؤ حتیٰ کہ مر جاؤ۔ (سنن ابی داود: 4247، وسندہ حسن، مسند ابی عوانہ 4/ 420 ح 7168 شاملہ)

اس حدیث کے راویوں کی مختصر توثیق درج ذیل ہے:

① سبیع بن خالد الیشکری رحمہ اللہ:

 انھیں ابن حبان، امام عجلی، حاکم، ابو عوانہ اور ذہبی نے ثقہ و صحیح الحدیث قرار دیا اور اس زبردست توثیق کے بعد انھیں مجہول یا مستور کہنا غلط ہے۔

تنبیہ: اس توثیق کے مقابلے میں سبیع بن خالد رحمہ اللہ پر کوئی قابلِ ذکر جرح موجود نہیں ہے۔

(تفصیل کے لئے دیکھئے تحقیقی مقالات ج3 ص345-350)

② صخر بن بدر العجلی رحمہ اللہ:

 انھیں ابن حبان اور ابو عوانہ نے ثقہ و صحیح الحدیث قرار دیا اور اس توثیق کے بعد شیخ البانی کا انھیں مجہول قرار دینا غلط ہے۔

③ ابو التیاح یزید بن حمید رحمہ اللہ:

 صحیحین و سننِ اربعہ کے راوی اور ثقہ ثبت تھے۔

④ عبدالوارث بن سعید رحمہ اللہ:

صحیحین و سننِ اربعہ کے راوی اور ثقہ ثبت تھے۔

⑤ مسدد بن مسرہد رحمہ اللہ:

 صحیح بخاری وغیرہ کے راوی اور ثقہ حافظ تھے۔

ثابت ہوا کہ یہ سند حسن لذاتہ ہے اور قتادہ (ثقہ مدلس) کی عن نصر بن عاصم عن سبیع بن خالد والی روایت صخر بن بدر کی حدیث کا شاہد ہے، جو کہ مسعود احمد بی ایس سی کے ’’اصولِ حدیث‘‘ کی رُو سے سبیع بن خالد رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔

(دیکھئے سنن ابی داود: 4244 و صححہ الحاکم:4/ 432-433 و وافقہ الذہبی)

اس حسن روایت سے ثابت ہوا کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ والی حدیث میں امام سے مراد خلیفہ ہے اور یاد رہے کہ حدیثِ حدیث کی تشریح کرتی ہے۔ اس حدیث سے ’’جماعت المسلمین‘‘ اور ان کے امام، یعنی خلیفہ کی بحث کا قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے۔

فائدہ: امام عجلی ثقہ امام اور معتدل تھے، آپ کو تساہل قرار دینا غلط ہے۔

(دیکھئے تحقیقی مقالات ج 3 ص 351 – 353)

(2) حافظ ابن حجر العسقلانی نے ’’تلزم جماعة المسلمين و إمامهم‘‘ کی تشریح میں فرمایا: [قال البيضاوي: المعنى إذا لم يكن في الأرض خليفة فعليك بالعزلة و الصبر على تحمل شدة الزمان و عض أصل الشجرة كناية عن مكابدة المشقة]

(قاضی) بیضاوی (متوفی 685ھ) نے فرمایا: اس کا معنی یہ ہے کہ اگر زمین میں خلیفہ نہ ہو تو تم (سب سے) علیحدہ ہو جانا اور زمانے کی سختیوں پر صبر کرنا۔ درخت کی جڑ چبانے کے اشارے سے مراد مصیبتیں برداشت کرنا ہے۔ (فتح الباری 13/ 36 بحوالہ مکتبہ شاملہ)

حافظ ابن حجر نے محمد بن جریر بن یزید الطبری رحمہ اللہ (متوفی 310ھ) سے نقل کیا کہ: [والصواب أن المراد من الخبر لزوم الجماعة الذين في طاعة من اجتمعوا على تأميره فمن نكث بيعته خرج عن الجماعة ، قال : و في الحديث أنه متى لم يكن للناس إمام فافترق الناس أحزاباً فلا يتبع أحداً في الفرقة و يعتزل الجميع إن استطاع ذلك]

اور صحیح یہ ہے کہ (اس) حدیث سے مراد اس جماعت کو لازمی پکڑنا ہے جو اس (امام) کی امارت پر جمع ہوتے ہیں، پس جس نے اپنی بیعت توڑ دی وہ جماعت سے خارج ہو گیا۔ فرمایا: اور حدیث میں (یہ بھی) ہے کہ اگر لوگوں کا امام (امیر بالاجماع) نہ ہو اور لوگوں نے پارٹیاں بنا رکھی ہوں تو دورِ اختلاف میں کسی ایک کی اتباع نہ کرے اور اگر طاقت ہو تو تمام (پارٹیوں) سے علیحدہ رہے۔ (فتح الباری:13/ 36 شاملہ)

شارحِ صحیح البخاری علامہ علی بن خلف بن عبدالملک ابن بطال القرطبی (متوفی 449ھ) نے فرمایا: [و فيه حجة لجماعة الفقهاء في وجوب لزوم جماعة المسلمين و ترك القيام على أئمة الجور]

اور اس (حدیث) میں جماعتِ فقہاء کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کی جماعت کو لازمی پکڑنا چاہئے اور ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج نہیں کرنا چاہئے۔ (شرح صحیح بخاری لابن بطال 10/ 33 شاملہ)

حافظ ابن حجر نے اس حدیث کے ایک ٹکڑے کی تشریح میں فرمایا: [وهو كناية عن لزوم جماعة المسلمين و طاعة سلاطينهم ولو عصوا]

اور یہ اشارہ ہے کہ مسلمانوں کی جماعت کو لازمی پکڑا جائے اور مسلمانوں کے سلاطین (حکمرانوں) کی اطاعت کی جائے، اگرچہ وہ نافرمانیاں کریں۔ (فتح الباری 13/ 36 شاملہ)

شارحینِ حدیث (ابن جریر طبری، قاضی بیضاوی، ابن بطال اور حافظ ابن حجر) کی ان تشریحات (فہمِ سلفِ صالحین) سے ثابت ہوا کہ حدیثِ مذکور (تلزم جماعة المسلمين و إمامهم) سے مروجہ جماعتیں اور پارٹیاں (مثلاً مسعود احمد بی ایس سی کی جماعت المسلمین رجسٹرڈ) مراد نہیں بلکہ مسلمین (مسلمانوں) کی متفقہ خلافت اور اجتماعی خلیفہ مراد ہے۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ: [من مات و ليس له إمام مات ميتة جاهلية]

جو شخص فوت ہو جائے اور اس کا امام (خلیفہ) نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔

(صحیح ابن حبان 10/ 434 ح 4573 وهو حديث حسن)

اس حدیث کی تشریح میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنے ایک شاگرد سے فرمایا:کیا تجھے پتا ہے کہ (اس حدیث میں) امام کسے کہتے ہیں؟ (امام اسے کہتے ہیں) جس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہو جائے (اور) ہر آدمی یہی کہے کہ یہ امام (خلیفہ) ہے۔

پس اس حدیث کا یہی معنی ہے۔ (سوالات ابن ہانی: 2011، تحقیقی مقالات 1/ 403)

اس تشریح سے بھی یہی ثابت ہے کہ ’’و إمامهم‘‘ سے مراد وہ امام (خلیفہ) ہے، جس کی خلافت پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہو چکا ہو اور اگر کسی پر پہلے سے ہی اختلاف ہو تو وہ اس حدیث میں مراد نہیں، لہٰذا فرقۂ مسعودیہ (’’جماعت المسلمین رجسٹرڈ‘‘) کا اس حدیث سے اپنی خود ساختہ و نوزائیدہ فرقی مراد لینا غلط، باطل اور بہت بڑا فراڈ ہے۔

آپ ان لوگوں سے پوچھیں کہ کیا کسی ثقہ و صدوق امام، محدث، شارح یا عالم نے زمانۂ خیر القرون، زمانۂ تدوینِ حدیث اور زمانۂ شارحینِ حدیث (پہلی صدی سے نویں صدی ہجری تک) میں اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ جماعت المسلمین سے خلافت مراد نہیں اور امامہم سے خلیفہ مراد نہیں، بلکہ کاغذی رجسٹرڈ جماعت اور اس کا کاغذی بے اختیار امیر مراد ہے؟ اگر اس کا کوئی ثبوت ہے تو پیش کریں، ورنہ عامۃ المسلمین کو گمراہ نہ کریں۔

مزید تفصیل کے لئے دیکھئے محترم ابو جابر عبداللہ دامانوی حفظہ اللہ کی کتاب:الفرقة الجديدة

(ملنے کا پتا: ڈاکٹر ابو جابر دامانوی حفظہ اللہ بلاک 38 مکان 647کیماڑی۔ کراچی، پوسٹ کوڈ 75620)

اہل السنۃ پر مسعود صاحب کے چند بچکانہ اعتراضات

مذاہب خمسہ نامی کتابچے میں ص 32 پر مسعود صاحب نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ نماز میں: [اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم]

کا پڑھنا فرض ہے۔ اور صلوٰۃ الرسول ص 278 سے حکیم محمد صادق سیالکوٹی رحمہ اللہ کی ایک عبارت سے یہ نتیجہ اخذ کر کے کہ دعائے مذکورہ کا پڑھنا ضروری نہیں، اہل السنۃ (اہل حدیث) کو مطعون کرنے کی مکروہ کوشش کی ہے۔

جواب(1):

محترم حکیم محمد صادق سیالکوٹی صاحب رحمہ اللہ کی ہر بات اہل حدیث کے لئے حجت نہیں اور نہ کوئی اہل حدیث ان کی ہر بات کو حجت سمجھتا ہے، لہٰذا اعتراض سرے سے ہی ختم ہو گیا۔

جواب(2):

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [ثم ليتخير من الدعاء أعجبه إليه فيدعوا] یعنی پھر آدمی اپنے لئے کوئی دعا پسند کرے اور وہی مانگے۔ (صحیح بخاری: 835، صحیح مسلم: 402)

معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے تو نمازی کو اختیار دیا ہے مگر مسعود صاحب اس اختیار کو سلب کر رہے ہیں۔

جواب(3):

امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر یہ باب باندھا ہے: [باب ما يتخير من الدعاء بعد التشهد و ليس بواجب]

 تشہد کے بعد جو دعا بھی پسند ہو پڑھ سکتا ہے اور دعا کا پڑھنا واجب نہیں ہے۔ (صحیح بخاری قبل ح 835)

اگر مسعود صاحب بالقابہ کوئی فتویٰ لگاتے ہیں تو ان کے فتوے کی زد میں امام بخاری رحمہ اللہ بھی آ جاتے ہیں۔ (ہم مسلمین کی تکفیر سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں)

جواب(4):

فرض کریں کہ حکیم محمد صادق اور امام بخاری رحمہ اللہ کو غلطی لگی، تو یہ ان کی اجتہادی غلطی ہے۔ اہل الحدیث کے نزدیک معیارِ حق اور حجت تین ہیں:

قرآن مجید

صحیح احادیث

اجماعِ امت

تنبیہ: قرآن مجید اور صحیح احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اجماعِ امت بھی شرعی دلیل اور حجت ہے، نیز اجتہاد کا جواز بھی ثابت ہے اور آثارِ سلفِ صالحین سے استدلال بہترین اجتہاد ہے۔

اسی طرح مسعود صاحب اور ان کی پارٹی نے رسوائے زمانہ رسالچے ’’المسلم‘‘ نامی (برعکس نام نہند زنگی کا فور) میں اہل الحدیث والآثار (یعنی محدثین اور ان کے ساتھیوں) پر دستور المتقی نامی کتاب سے الزام تراشی کر رکھی ہے۔

حالانکہ اہل حدیث کے نزدیک دستور المتقی نہ قرآن ہے اور نہ مجموعۂ صحیح احادیث، لہٰذا اس کتاب کا ہر حوالہ اہل حدیث کے خلاف حجت نہیں ہے۔ اس میں قرآن مجید کی جو آیات اور جو صحیح احادیث ہیں وہ حجت ہیں۔ اس کے مصنف کی ذاتی آراء کسی اہل حدیث کے نزدیک بھی حجت نہیں، لہٰذا اہل حدیث کیوں مطعون کیا جا رہا ہے؟

مسعود صاحب کی ان طفلانہ حرکتوں سے کسے فائدہ پہنچے گا؟ کیا وہ محدثین کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط نہیں کر رہے ہیں؟

مثلاً: اہل الحدیث کا نام ان کے نزدیک بدعت ہوا، لہٰذا ان کے اصول پر امام بخاری وغیرہ بدعتی ٹھہرے کیونکہ انہوں نے یہ نام استعمال کیا۔ معاذ اللہ

یہ بدعت کی تان، کہاں جا ٹوٹتی ہے۔؟!

رسول اللہ ﷺ نے ایک دن خطبے کے دوران فرمایا: میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں وہ سکھا دوں جس سے تم ناواقف ہو (وہ فرماتا ہے:) میں نے اپنے تمام بندوں کو حنفاء (حنیف کی جمع) پیدا کیا ہے۔ مگر شیاطین ان کے پاس آ کر انہیں بہکاتے ہیں اور جو چیزیں میں نے ان کے لئے حلال کی ہیں، انہیں ان کے لئے حرام قرار دیتے ہیں۔ (صحیح مسلم: 2865، دارالسلام: 7207)

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان بہکانے والے شیاطین سے اپنی پناہ میں رکھے۔ اور اہل الحدیث (یعنی محدثین) کو اس دنیا میں سیاسی غلبہ دے کر ان کی جماعت المسلمین اور ان کا امام یعنی خلیفہ قائم کر دے۔ آمین

تنبیہ: یہ مضمون پہلے ’’الفرقة الجديدة‘‘ کے شروع میں شائع ہوا تھا اور اب اصلاح، ترمیم و فوائدِ زائدہ کے ساتھ اسے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔

 والحمد للہ

(6 اکتوبر2011ء)