آیت الکرسی کی فضیلت
وعن أبى بن كعب رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا أبا المنذر! أتدري أى آية من كتاب الله معك أعظم؟ قلت: الله لا إله إلا هو الحي القيوم ، فضرب فى صدري و قال: ليهنك العلم أبا المنذر .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابومنذر! کیا تو جانتا ہے کہ کتاب اللہ کی کون سی سب سے بڑی آیت تیرے پاس ہے ( یعنی تیرے سینے میں محفوظ ہے ) میں نے کہا، الله لا إله إلا هو الحي القيوم پس آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا، ابومنذر! تجھے علم مبارک ہو یعنی اس علم کی برکت سے تجھے قرآن کی عظیم ترین آیت کا پتہ چل گیا۔“
صحيح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب فضل سورة الكهف و آية الكرسي، رقم: 810.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوۃ رمضان (یعنی صدقہ فطر) کی حفاظت میرے سپرد کی۔ پس ایک آنے والا میرے پاس آیا اور کھانے کے غلے میں سے لپ بھرنے لگا، تو میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا، میں یقیناً تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کروں گا۔ اس نے کہا، میں ضرورت مند اور عیال دار ہوں، مجھے سخت ضرورت ہے، تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ پس میں نے صبح کی ( اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو ہریرہ ! گزشتہ رات کو تیرے قیدی نے کیا کیا؟“ میں نےعرض کیا، یا رسول اللہ ! اس نے اپنی ضرورت مندی اور عیال داری کی شکایت کی ، تو مجھے اس پر رحم آ گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا: ”اس نے تجھ سے جھوٹ بولا ہے اور وہ دوبارہ آئے گا“، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے یقین ہو گیا کہ وہ دوبارہ آئے گا۔ چنانچہ میں اس کے انتظار میں رہا۔ پس وہ آیا اور غلے میں سے لپ بھرنے لگا، تو میں نے کہا، میں تجھے ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر جاؤں گا۔ اس نے کہا، مجھے چھوڑ دے، میں ضرورت مند اور عیال دار ہوں اور میں آئندہ نہیں آؤں گا۔ مجھے اس پر ترس آ گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔ پس میں نے صبح کی (اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا) تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو ہریرہ ! تیرے رات کے قیدی نے کیا کیا؟“ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! اس نے حاجت اور عیال داری کی شکایت کی تو مجھے اس پر ترس آ گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا: ”اس نے تجھ سے جھوٹ بولا ہے اور وہ پھر آئے گا۔“ پس میں تیسری مرتبہ اس کے انتظار میں رہا۔ چنانچہ وہ آیا اور غلے میں سے لپ بھرنے لگا، میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا، میں تجھے ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کروں گا، تیرا یہ آنا تیسری مرتبہ ہے، تو ( ہر مرتبہ ) یہی کہتا ہے کہ میں نہیں آؤں گا اور پھر آ جاتا ہے۔ اس نے کہا، مجھے چھوڑ دے، میں تجھے چند کلمات سکھا دیتا ہوں، ان کے ذریعے سے اللہ تجھے فائدہ پہنچائے گا۔ میں نے کہا، وہ کیا کلمات ہیں؟ اس نے کہا، جب تو اپنے بستر کی طرف قرار پکڑے تو آیت الکرسی پڑھ لیا کر، (اس کی وجہ سے ) صبح تک تجھ پر اللہ کی طرف سے ایک نگران مقرر رہے گا اور شیطان تیرے قریب نہیں آئے گا۔ تو میں نے (پھر ) اسے چھوڑ دیا۔ پس جب میں نے صبح کی تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے رات کے قیدی نے کیا کیا؟“ میں نے کہا، یا رسول اللہ ! اس نے مجھے یہ یقین دلایا کہ وہ مجھے ایسے کلمات سکھلائے گا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ پہنچائے گا، تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے پوچھا: ”وہ کلمات کون سے ہیں؟“ میں نے عرض کیا، اس نے مجھ سے کہا، جب تو اپنے بستر کی طرف قرار پکڑے تو آیت الکرسی پڑھ لیا کر ۔ اول سے آخر تک۔ اور اس نے (یہ بھی) کہا، کہ اللہ کی طرف سے تجھ پر ایک نگران رہے گا اور صبح تک شیطان ہرگز تیرے قریب نہیں آئے گا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آگاہ رہو! یقیناً اس نے سچ کہا ، حالانکہ وہ خود بڑا جھوٹا ہے۔ اے ابو ہریرہ! تو جانتا ہے، تین راتوں سے تو کس سے مخاطب رہا ہے؟“ میں نے کہا، نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”وہ شیطان تھا۔“
صحیح بخارى، كتاب الوكالة، باب اذا و كل رجلا فترك الوكيل شيئافاً جازه الموكل. رقم: 2311 .