گانے والیاں کون تھیں؟
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اسی حدیث میں [وعندی جاريتان] کے الفاظ ہیں کہ میرے پاس دو جاریہ تھیں۔ جاریہ کے یہاں معنی حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ، حافظ ابن جوزی رحمہ اللہ، علامہ نووی رحمہ اللہ، حافظ ابن قیم رحمہ اللہ وغیرہ کی رائے میں چھوٹی بچیاں ہیں، گویا گانے کا شغل دو بچیوں کا تھا، مگر اہلِ اشراق فرماتے ہیں کہ وہ لونڈیاں تھیں، اور اسی کی بے ہنگم تائید میں ہمارے مہربان جناب عمار ناصر صاحب بھی یہی فرماتے ہیں، ان کے ارشادات کا خلاصہ یہ ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کا مفہوم لونڈیاں مراد لیا ہے، روایت میں [ليستا بمغنيتين] کا جملہ بھی اس کا قرینہ ہے کیونکہ اگر وہ چھوٹی بچیاں تھیں تو ان کے بارے میں یہ گمان پیدا ہونا ہی بعید ہے کہ گانا گانا ان کا پیشہ ہو گا، پیشے کے طور پر گانا گانے کا احتمال چھوٹی بچیوں کے بارے میں نہیں، بلکہ لونڈی ہی کے بارے میں پیدا ہو سکتا ہے۔ [قینتنان] کا لفظ بھی آیا ہے جو لونڈیوں کے مفہوم میں بالکل صریح ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے غالباً انھی قرائن کی بنا پر جاریتان کو لونڈیوں کے معنی میں لیا ہے۔ (اشراق:ص36)
گزارش ہے کہ [قینتنان] کا لفظ لونڈیوں کے بارے میں کس حد تک بالکل صریح ہے، یہ بات پہلے مقالات میں ہم عرض کر چکے ہیں، بلکہ اس حوالے سے اس فقیر کا جو مذاق دانشمندانِ اشراق نے اڑایا اس کا جائزہ بھی پیش کر چکے، جس کے اعادہ کی ضرورت نہیں، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ان قرائن کی بنا پر قطعاً ”جاریتان“ کو لونڈیوں کے معنی میں نہیں لیا، بلکہ طبرانی وغیرہ کی ضعیف اور نا قابلِ اعتبار روایات کی بنا پر انھوں نے یہ مفہوم لیا ہے جس کی وضاحت بھی ہم پہلے کر آئے ہیں۔ اپنے چبائے ہوئے نوالوں کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے منہ میں دینا کوئی دانش مندی نہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جاریتان کو لونڈیوں کے معنی میں لے کر بھی یہی فرمایا ہے کہ وہ پیشہ ور مغنیہ نہیں تھیں۔ اسی حدیث سے اہلِ اشراق کے پیش رو صوفیوں کی ایک جماعت نے بھی غنا کے جواز پر استدلال کیا ہے جس کے جواب میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے:
[ويكفى فى رد ذلك تصريح عائشة فى الحديث الذى فى الباب بعده بقولها "وليستا بمغنيتين” فنفت عنهما من طريق المعنى ما أثبته لهما باللفظ، لأن الغناء يطلق على رفع الصوت وعلى الترنم الذى تسميه العرب النصب بفتح النون وسكون المهملة وعلى الحداء ولا يسمى فاعله مغنياً. الخ]
صوفیوں کی تردید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تصریح، جو بعد کے باب میں ہے، سے ہوتی ہے، جس میں انھوں نے فرمایا ہے کہ وہ دونوں گانے والیاں نہ تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان دونوں سے معنوی طور پر اس چیز کی نفی کر دی جس کا ثبوت ان کی طرف لفظِ غنا سے ہوتا تھا، کیونکہ غنا کا اطلاق بلند آواز اور ترنم سے شعر پڑھنے پر ہوتا ہے جسے عرب نصب اور حدی خوانی کہتے ہیں اور یہ کام کرنے والوں کو وہ مغنی یعنی پیشہ ور گانے والا یا گائیکا نہیں کہتے تھے۔ (فتح الباری:ص442 ج2)
بلکہ اس کے بعد انھوں نے علامہ قرطبی سے بھی نقل کیا ہے کہ [ليستا بمغنيتين] کے معنی یہ ہیں کہ وہ دونوں اس طرح گانا نہیں جانتی تھیں جس طرح معروف گانا گانے والے گاتے ہیں۔ جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ جاريتان کے معنی لونڈیاں کرنے کے باوجود انھیں پیشہ ور مغنیہ نہیں سمجھتے تھے، کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس بات کی نفی حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے بالصراحت کی ہے جنابِ محترم عمار صاحب اس کا انتساب محض اپنی فکر کی بنیاد پر حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ کی طرف کر رہے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: پیشہ کے طور پر گانا گانے کا احتمال چھوٹی بچیوں کے بارے میں نہیں، بلکہ لونڈیوں ہی کے بارے میں پیدا ہو سکتا ہے اور حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے غالباً انھی قرائن کی بنا پر جاریتان کو لونڈیوں کے معنی میں لیا ہے۔ الخ
انصاف شرط ہے! کیا حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے جاریتان کے معنی لونڈیاں کرنے کےباوجود انھیں پیشہ ور مغنیہ قرار دیا؟ قطعاً نہیں، تو پھر اس طول بیانی کا کیا فائدہ؟ پھر اگر تسلیم کیا جائے کہ وہ لونڈیاں تھیں تو اس کی کیا دلیل ہے کہ ان کا یہ عمل بلوغت کے بعد تھا؟ اور کیا لونڈیوں اور بچیوں کے مابین کوئی منافات ہے؟ لونڈیاں بچیاں بھی ہو سکتی ہیں، اس میں استحاله کیا ہے؟
محترم عمار صاحب نے اسی میں یہ بات فرمائی ہے کہ حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے جاریتان کی تعیین میں طبرانی وغیرہ سے جو روایات نقل کی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ لونڈیاں تھیں، راقم نے انھیں ضعیف قرار دیا ہے، مگر توضیح الکلام (ص277 ج 2) میں اپنے استادِ محترم مولانا حافظ محمد گوندلوی کے ایک ضعیف روایت سے استدلال کا دفاع کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا ہے کہ صحیح حدیث کے محتملات کی تعیین کے لیے ضعیف روایت سے استدلال خلافِ اصول نہیں، لیکن ابنِ حجر رحمہ اللہ کی تین ضعیف روایتوں سے استدلال کو قبول نہ کرنے کے لیے یقیناً ان کے پاس معقول وجوہ ہوں گے، اگر وہ ان پر روشنی ڈال سکیں تو ان کی توضیحات ہمارے لیے استفادہ کا ذریعہ ہوں گی۔ (اشراق:ص36-37)
پیشہ ورانہ موسیقی کے جواز کا فتویٰ دینے والے حضرات کا یہ بھی ایک ناکام سہارا ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ حضرت الاستاذ محدث گوندلوی رحمہ اللہ نے ضعیف حدیث سے استدلال کیا اور کسی ناقد کی اس کے ضعیف ہونے کی نشان دہی پر راقم نے اس کا جواب دیا، اور یہ بھی کہ کیا اس پر ان کا استدلال موقوف ہے؟ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ضعیف روایت سے [احد المحتملات] کی تعیین ہو سکتی ہے، مگر غور طلب بات یہ ہے کہ زیرِ بحث روایت میں جاریتان کے لفظ کی تعیین میں جو حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے ضعیف روایات کے پیشِ نظر فرمایا کہ یہ لونڈیاں تھیں، کیا اس سے ان کے بچیاں ہونے کی نفی لازم آتی ہے؟ جاریتان میں اسی ابہام کی بنا ہی پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت فرما دی کہ وہ معروف مغنیہ نہیں تھیں جیسا کہ شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ نے فرمایا ہے۔ بالفرض اگر تسلیم کیا جائے کہ وہ لونڈیاں تھیں تو کیا اس سے یہ بات بھی لازم آتی ہے کہ وہ پیشے کے طور پر گانا گایا کرتی تھیں؟ عید اور شادی کے موقعے پر بعض گھرانوں میں آج بھی گانے کا رواج ہے، اور وہ بھی چند لڑکیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یوں نہیں کہ قبیلہ اور برادری میں سب عورتیں یہ کام کرتی ہیں، اس کے باوجود نہ وہ پیشے کے طور پر یہ شغل اختیار کرتی ہیں اور نہ انھیں معروف مغنیہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ لڑکوں میں بھی نعت و غزل پڑھنے والے معروف ہوتے ہیں، مگر کوئی بھی نہ خود کو گویا سمجھتا ہے نہ پیشے کے طور پر وہ معروف ہی ہوتا ہے۔
اسی لیے حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے جاریتان سے لونڈیاں سمجھ کر بھی یہی سمجھا کہ وہ مغنیہ نہیں تھیں، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے، مگر ہم نے عرض کیا کہ بنیادی طور پر جاریتان کے لونڈیاں ہونے اور ان کے بچیاں ہونے میں کوئی منافات نہیں، اور یوں یہ دونوں قول باہم متناقض بھی نہیں، دونوں صورتوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ پیشہ ور مغنیہ نہیں تھیں، مگر اربابِ اشراق اس سے متفق نہیں، محض اس لیے کہ اس سے موسیقی کے جواز کی عمارت زمین بوس ہو جاتی ہے، اور اس کے جواز کے سارے حیلے تارِ عنکبوت کی طرح تار تار ہو جاتے ہیں۔
آپ پڑھ آئے ہیں کہ تمام محدثین اس حدیث کی بتامہِ صحت پر متفق ہیں اور اس پر بھی ان کا اتفاق ہے کہ جاریتان پیشہ ور مغنیہ نہیں تھیں۔ اربابِ اشراق نے اپنی ”دانشمندی اور روشن ضمیری“ میں متفق علیہ مسائل سے انحراف کی جو راہ اختیار کی ہے اور [سبیل المؤمنین] سے گریز کر کے جو راستہ اپنایا ہے یہ بہرنوع قابلِ مذمت ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ ایک خانوادۂ علم و عمل کا چشم و چراغ بھی اس فکر کا ہمنوا ہے اور گھسے پٹے دلائل سے اس کی آبیاری میں مصروف ہے۔ فوا اسفا
اللهم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه