سنگ دلی اور بے مروتی کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الحياء من الإيمان، والإيمان فى الجنة، والبذاء من الجفاء، والجفاء فى النار
”حیا ایمان میں سے ہے اور ایمان کا انجام جنت ہے، جبکہ فحش گوئی اور بدزبانی بے مروتی اور سنگ دلی سے ہے، اور بے مروتی و سنگ دلی کا انجام جہنم ہے“۔
ترمذى، كتاب البر والصلة، حدیث: 2009، یہ حدیث حسن صحیح ہے.
نفاق کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے انہیں کہا: ”ہم اپنے بادشاہوں کے پاس ہوتے ہیں تو ہم ان سے کچھ باتیں کرتے ہیں، لیکن جب ہم ان کے پاس سے آ جاتے ہیں تو ہم ان باتوں کے برعکس باتیں کرتے ہیں، جو ہم نے ان سے کی ہوتی ہیں؟“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہم اسے نفاق شمار کیا کرتے تھے“۔
بخاري، کتاب الاحکام: 7178.
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مثل المنافق كالشاة العائرة بين الغنمين، تعير إلى هذه مرة، وإلى هذه مرة
”منافق کی مثال دو گلوں کے درمیان متردد گھومنے والی بکری کی طرح ہے، کبھی اس گلے کی طرف جاتی ہے اور کبھی دوسرے گلے کی طرف جاتی ہے“۔
امام نسائی رحمہ اللہ نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں:
”اسے پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس کے پیچھے چلے“۔
مسلم، کتاب صفات المناقين واحكامهم: 2784/17. النسائی، الایمان: 108/8. مسند احمد، مسند المكثرين من الصحابه: 45/2.
③ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”آج کے منافقوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے منافق زیادہ برے تھے، اس دور میں تو وہ نفاق چھپاتے تھے اور آج کے دور کے منافق ظاہر کرتے ہیں“۔
بخاری: 7113.
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اللهم إني أعوذ بك من الشقاق والنفاق وسوء الأخلاق
”اے اللہ! میں بدبختی، نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔
ابو داؤد، نسائی.
شبہات میں مبتلا ہونے کی ممانعت
① سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن الحلال بين، وإن الحرام بين، وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس، فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع فى الشبهات كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يقع فيه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا وإن حمى الله محارمه، ألا وإن فى الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهى القلب
”بے شک حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ امور مشتبہ ہیں، بہت سے لوگ انہیں نہیں جانتے، پس جو شخص شبہات سے بچ گیا تو اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا اور جو شخص شبہات میں مبتلا ہو گیا وہ اس چرواہے کی طرح ہے جو چراگاہ کے اردگرد چراتا ہے، قریب ہے کہ وہ اس میں چلا جائے۔ سن لو! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سن لو! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ سن لو! وہ دل ہے“۔
بخاری، کتاب الایمان: 52. مسلم، كتاب المساقات: 1599/107.