اوقات مکروہ میں نماز پڑھنے کی ممانعت
① سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین اوقات میں ہمیں نماز پڑھنے یا اپنے فوت شدگان کو دفن کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے: جب سورج طلوع ہو رہا ہو حتیٰ کہ وہ بلند ہو جائے، جب ٹھیک دوپہر ہو حتیٰ کہ سورج جھک جائے اور جب سورج غروب ہو رہا ہو حتیٰ کہ وہ غروب ہو جائے۔
مسلم، صلوة المسافرين و قصرها 831/293۔ ابوداؤد، کتاب الجنائز 3192۔ ترمذي، كتاب الجنائز 1030۔
② سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا صلاة بعد الصبح حتى ترتفع الشمس ، ولا صلاة بعد العصر حتى تغيب الشمس
”صبح کے بعد کوئی نماز نہیں حتیٰ کہ سورج بلند ہو جائے اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے“۔
بخاری، کتاب مواقيت الصلوة 586۔ مسلم، کتاب صلوة المسافرین وقصرها 827/288۔
③ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کے علاوہ ٹھیک دوپہر کے وقت نماز پڑھنا ناپسند فرمایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن جهنم تسجر إلا يوم الجمعة
”جمعہ کے دن کے سوا جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے“۔
ابو داؤد، کتاب الصلوة 1083۔
اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی ممانعت
① سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تصلوا فى مبارك الإبل، فإنها من الشياطين
”اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ پر نماز نہ پڑھو۔ اس لیے کہ وہ شیاطین میں سے ہے“۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلوا فيها فإنها بركة
”وہاں نماز پڑھو اس لیے کہ وہ برکت ہے“۔
ابوداؤد، كتاب الصلوة 493۔ مسند احمد، اوّل ۔ مسند احمد، أوّل مسند الكوفيين 353/4، حديث 18565۔
پیشاب روک کر نماز پڑھنے کی ممانعت
① سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاث لا يحل لأحد أن يفعلهن: لا يؤم رجل قوما فيخص نفسه بالدعاء دونهم، فإن فعل فقد خانهم، ولا ينظر فى قعر بيت إلا أن يستأذن، فإن فعل فقد خانهم، ولا يصلي وهو حقن حتى يتخفف
”تین کام ایسے ہیں جن کا کرنا کسی کے لیے بھی جائز نہیں: کوئی آدمی لوگوں کی امامت نہ کرائے جو انہیں چھوڑ کر صرف اپنی ذات کے لیے دعا کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان کی خیانت کی۔ کوئی شخص کسی کے گھر سوراخ سے نہ دیکھے الا یہ کہ وہ اجازت طلب کرے اور اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان کی خیانت کی۔ اور وہ پیشاب روکے ہوئے نماز نہ پڑھے (بلکہ پہلے پیشاب کر لے پھر نماز پڑھے)“۔
ابوداؤد 90۔
عشاء کے بعد باتیں کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا ناپسند فرمایا کرتے تھے۔
بخاری، کتاب مواقيت الصلوة 568۔ مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة 647/235۔
② سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (نمازِ عشاء) سے پہلے سونے اور اس کے بعد باتیں کرنے سے منع کیا کرتے تھے۔
ابوداؤد 4849۔
وضاحت: بعض ائمہ نے کہا ہے کہ آپ نے حرام اور مکروہ گفتگو سے منع فرمایا ہے۔ جہاں تک خیر و بھلائی کی گفتگو کا تعلق ہے جیسے علم پڑھنا پڑھانا، صالحین کی حکایات بیان کرنا، مکارمِ اخلاق پر گفتگو کرنا اور مہمان سے بات چیت کرنا، یہ جائز ہیں۔