اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کھانا کھلانے کا ثواب
اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا . إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا. إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا . فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا . وَجَزَاهُم بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا . مُّتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ ۖ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا . وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَالُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا . وَيُطَافُ عَلَيْهِم بِآنِيَةٍ مِّن فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيرَا. قَوَارِيرَ مِن فِضَّةٍ قَدَّرُوهَا تَقْدِيرًا . وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنجَبِيلًا. عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّىٰ سَلْسَبِيلًا . وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنثُورًا . وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا .عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ۖ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا .إِنَّ هَٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاءً وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا .﴾
”اور باوجود کہ انہیں خود طعام کی خواہش ( اور ضرورت) ہے فقیروں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ ) ہم تمہیں اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں۔ ہم تم سے عوض کے طلب گار نہیں نہ شکر گزاری کے ( خواست گار) ہمیں اپنے پروردگار سے اس دن کی سختی سے بچائے گا اور تازگی اور خوش دلی عنایت فرمائے گا، یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش ( اللہ کے ہاں ) مقبول ہوئی۔۔۔“
(76-الإنسان:8۔22)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اسلام میں کون سا کام بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا:
تطعم الطعام، وتقرأ السلام على من عرفت ومن لم تعرف
”کہ تو کھانا کھلائے، اور معلوم و نا معلوم ہر شخص کو سلام کہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الایمان، رقم: 12۔