مسلمان کو کافر کہنے کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قال لأخيه: يا كافر، فقد باء بها أحدهما
”جس نے اپنے (مسلمان) بھائی سے کہا: اے کافر! تو وہ کلمہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرف لوٹ آتا ہے“۔
اور ایک روایت میں ہے:
إذا كفر الرجل أخاه، فقد باء بها أحدهما
”جب آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کی تکفیر کرتا ہے، تو وہ کلمہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرف لوٹ آتا ہے“۔
اور ایک روایت میں ہے:
أيما امرئ قال لأخيه: يا كافر، فقد باء بها أحدهما، إن كان كما قال وإلا رجعت عليه
”جس بندے نے اپنے (مسلمان) بھائی سے کہا: اے کافر! تو وہ کلمہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرف آتا ہے۔ اگر تو وہ ویسے ہی ہے جیسے اس نے کہا ہے تو ٹھیک، ورنہ یہ کلمہ اس کہنے والے پر لوٹ آتا ہے“۔
بخارى، كتاب الأدب: 6104. مسلم، كتاب الايمان: 60/111.
غیب دانی کا دعویٰ کرنے کی ممانعت
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو انہیں خراج دیا کرتا تھا اور وہ اس کے خراج سے کھاتے تھے۔ پس وہ ایک دن کوئی چیز لے کر آیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ پس انہوں نے اس سے پوچھنے سے پہلے اس سے ایک لقمہ کھا لیا تو غلام نے آپ سے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ کیا ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے دورِ جاہلیت میں ایک انسان کو غیب کی خبر بتائی تھی، حالانکہ مجھے کہانت کا کچھ پتہ نہیں تھا، بس میں نے تو اسے دھوکہ دیا تھا، وہ مجھے ملا ہے تو اس نے مجھے یہ دیا ہے، پس آپ نے جو کھایا ہے یہ اسی میں سے ہے۔ پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے منہ میں انگلی ڈالی اور اپنے پیٹ کی ہر چیز (قے کر کے) نکال باہر کی“۔
بخاری، کتاب المناقب: 3842.