قول و فعل میں تضاد ہونے پر وعید
ایمان صادق کا تقاضا یہ ہے کہ مومن نہ جھوٹ بولے اور نہ وعدہ خلافی کرے، جو کہے اس کے مطابق عمل کرے اور جو نیک کام نہ کیا ہو، اسے اپنی طرف منسوب نہ کرے، کیونکہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض بات یہ ہے کہ آدمی اپنی طرف ایسا بھلائی کا کام منسوب کرے جو اس نے نہ کیا ہو، یا کہے کہ میں فلاں خیر کا کام کروں گا، اور پھر اسے نہ کرے۔ ایسے لوگوں کو یہ بات نہ بھولنی چاہیے کہ اللہ تو علیم بذات الصدور ہے۔ ارشاد فرمایا:
﴿لِّلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ اللَّهُ ۖ فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾
”جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کی ملکیت ہے، اور تمہارے دل میں جو کچھ ہے، اسے ظاہر کر دیا چھپاؤ اللہ اس پر تمہارا محاسبہ کرے گا، پھر جسے چاہے گا معاف کر دے گا، اور جسے چاہے گا عذاب دے گا، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“
(2-البقرة:284)
اس آیت مقدسہ میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ وہ دلوں کے اسرار و رموز سے بھی واقف ہے۔ اس سے کوئی بھی معاملہ، بات پوشیدہ نہیں، ہاں لوگوں کے سامنے تو اپنے ظاہر و باطن میں فرق کر کے ان سے مخفی رکھا جا سکتا ہے، لیکن علیم بذات الصدور سے باطن کی کوئی شے پوشیدہ نہیں ہے۔ الغرض اس آیت میں ظاہر و باطن کو بالکل صاف ستھرا رکھنے اور جو بات بندہ بیان کرے اس پر اسے خود بھی عمل کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
بنی اسرائیل کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان میں ایک بہت ہی بری صفت ہے کہ وہ لوگوں کو تو ایمان اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں، حالانکہ وہ تو کتاب پڑھتے ہیں جس میں خیانت، ترک خیر اور قول و عمل میں تضاد پر بہت ہی شدید وعید آئی ہے۔ ارشاد فرمایا:
﴿أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾
”کیا لوگوں کو بھلائیوں کا حکم کرتے ہو؟ اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو با وجود یہ کہ تم کتاب پڑھتے ہو کیا اتنی بھی تم میں سمجھ نہیں؟“
(2-البقرة:44)
اس خصلت کی مزید برائی بیان کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخر میں کہا کہ کیا تمہارے پاس اتنی بھی عقل نہیں کہ قول و عمل کے تضاد کی برائی کو محسوس کر سکو؟
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ. كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ.﴾
”اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔ تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ کو سخت ناپسند ہے۔“
(61-الصف:2)
عقل مند آدمی جو بات بھری مجلس میں بیان کرتا ہے، تنہائی میں اس پر عمل بھی کرتا ہے کہ جس بات پر لوگوں کو عمل کرنے کی ترغیب دلائے، اور اس کے فضائل و مناقب بیان کرے، لیکن خود اس پر عمل کرنے سے قاصر ہو تو ایسا شخص عقل مند نہیں ہوتا، جیسا کہ آیت مقدسہ میں اس جانب اشارہ ہے۔ اور ایسی صورت حال کو اللہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ تو ہے ہی لوگ بھی اسے نظر تحسین سے نہیں دیکھتے:
﴿قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا ۚ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ ۚ ”إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۚ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ﴾
کہا: اے میری قوم! دیکھو تم اگر میں اپنے رب کی طرف سے ظاہر دلیل لیے ہوئے ہوں اور اس نے مجھے اپنی جانب سے بہترین روزی دے رکھی ہے، میرا یہ ارادہ بالکل نہیں کہ تمہارا خلاف کر کے خود اس چیز کی طرف جھک جاؤں جس سے تمہیں روک رہا ہوں میرا ارادہ تو اپنی طاقت بھر اصلاح کرنے کا ہی ہے۔ میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے۔ اس پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔“
(11-هود:88)
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
يؤتى بالرجل يوم القيامة فيلقى فى النار فتندلق أقتاب بطنه فيدور بها كما يدور الحمار بالرحى فيجتمع إليه أهل النار فيقولون: يا فلان مالك؟ ألم تكن تأمر بالمعروف وتنهى عن المنكر؟ فيقول: بلى، كنت آمر بالمعروف ولا آتيه، وأنهى عن المنكر وآتيه .
”قیامت والے دن آدمی لایا جائے گا اور آگ میں ڈال دیا جائے گا، اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی، وہ انہیں لے کر ایسے گھومے گا جیسے گدھا چکی کے ساتھ گھومتا ہے، سو اس کے گرد جہنمی جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے، اے فلان! تجھے کیا ہوا ہے؟ کیا تو نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور برائی سے نہیں روکتا تھا؟ وہ کہے گا، ہاں یقیناً (میں وہی ہوں) لیکن (میرا حال یہ رہا) کہ میں لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتا تھا، لیکن خود عمل نہیں کرتا تھا اور دوسروں کو تو برائی سے روکتا تھا لیکن خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔“
صحيح بخاري، كتاب بدء الخلق، باب صفة النار، رقم: 3267ـ صحیح مسلم، کتاب الزهد، باب عقوبة من يأمر بالمعروف ولا يفعله..، رقم: 7483.
جس دور پہ نازاں تھی دنیا ، اب ہم وہ زمانہ بھول گئے
اوروں کو جگانا یاد رہا ، خود ہوش میں آنا بھول گئے
منہ دیکھ لیا آئینے میں، پر داغ نہ دیکھا سینے میں
جی ایسا لگایا جینے میں ،مرنے کو مسلماں بھول گئے