سفر میں امیر مقرر کرنے کی روایت اور تقلیدِ شخصی

فونٹ سائز:
تحریر: فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

سفر میں امیر مقرر کرنے کی روایت کی تحقیق

(سوال): درج ذیل روایت کیسی ہے؟

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إذا خرج ثلاثة في سفر فليؤمروا أحدهم]

جب تین افراد سفر پر نکلیں، تو ایک کو اپنا امیر بنا لیں۔ [سنن أبي داود:2608]

(جواب): سند ضعیف ہے۔

ابنِ عجلان کا عنعنہ ہے۔ دراصل اس روایت کا موصول ہونا ہی خطا ہے، یہ ابو سلمہ کی مرسل ہے، جیسا کہ ائمہ علل امام ابو حاتم رازی، امام ابو زرعہ رازی اور امام دارقطنی رحمہما اللہ وغیرہم نے فرمایا ہے۔

[علل الحديث لابن أبي حاتم:225، علل الدارقطني:1795]

تنبیہ:

بعض الناس اس ضعیف و مرسل روایت کو تقلیدِ شخصی پر دلیل بناتے ہیں کہ جب دنیاوی امور میں امیر مقرر کرنے کا حکم ہے، تو دینی امور میں تو بالاولیٰ امیر ہونا چاہیے۔

یہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہے۔ ایک ضعیف حدیث سے تقلیدِ شخصی پر استدلال لینا درست نہیں، کیونکہ ائمہ محدثین دین میں تقلید کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ دنیاوی امور میں امیر مقرر کرنا قطعاً تقلید نہیں، کیونکہ امیر کی اطاعت معروف میں ہے، جس کام کا منکر اور ناجائز ہونا معلوم ہو، اس میں امیر کی اطاعت جائز نہیں۔ اس پر دلائل موجود ہیں۔

اسی طرح دینی معاملات سے کسی سے رہنمائی لی جا سکتی ہے، لیکن جب رہنما کی خطا واضح ہو جائے، تو اسے ترک کرنا ضروری ہے، اگر کوئی خطا واضح ہونے کے بعد بھی کسی رہنما کی بات پر قائم رہے، تو یہ بھی واضح خطا ہے۔ نیز بغیر قرائن دینی امور کو دنیوی امور پر قیاس کرنا بھی درست نہیں۔