مضمون کے اہم نکات
کچھ کلمہ گو صاحبان کی گوہر افشانیاں:
اب ہم کچھ کلمہ گو صاحبان کے قرآنی ترجمہ سے ان کی ذہن پرستی کے ثبوت فراہم کریں گے:
[1] ذہن پرستی یہ ہے کہ قرآن پاک کی تفسیر قرآن پاک کے ساتھ یا صحیح حدیث کے ساتھ یا اقوال صحابہ کے ساتھ یا پھر لغتِ عرب کے استعمالات کی روشنی میں کرنے کی بجائے اپنی رائے کے ساتھ کی جائے، یہی بات فرقہ پرستی کی جڑ ہے۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ قرآن پاک کا ایسا ترجمہ کیا جائے جو مندرجہ بالا چاروں طریقوں سے ہٹ کر ہو بلکہ ان طریقوں کے خلاف ہو۔ مثلاً، آیت: [وَّاَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا]
اس کا احمد رضا صاحب بریلوی ترجمہ کرتے ہیں:
اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی کی بندگی نہ کرو۔ (الجن:18)
آیت میں لفظ ،،تَدْعُوا،، ہے، جس پر مفصل بحث دعا کے باب میں ہے۔ [تَدْعُوا] کا معنی پکارنا ہے، دوسرا لفظ [مَعَ] ہے جس کا معنی ساتھ ہے اور تیسرا لفظ [أَحَدًا] ہے جس کا معنی ہے ایک، یعنی مندرجہ بالا آیت کا ترجمہ یہ ہو گا: مسجدیں سب اللہ کی ہیں، سو اللہ کے ساتھ کسی ایک کو بھی نہ پکارو۔ مطلب یہ کہ مشرکین مکہ اور یہود و نصاریٰ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو بھی مسجدوں میں پکارتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے منع فرمایا: لیکن احمد رضا صاحب اس آیت کا اپنی رائے سے ترجمہ فرما رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ کا یہاں حوالہ دینا نہایت مناسب ہو گا۔
مزید حوالہ جات کے لیے ان کے قرآنی ترجمہ میں مندرجہ ذیل مقامات پر دیکھیے: وہاں بندگی ترجمہ کیا ہے۔ (الأعراف:37)،(النحل:20)،(الأحقاف:46) اور لطف یہ ہے کہ ،،دع و،، سے نکلے ہوئے انہی الفاظ کا قرآن میں کافی جگہ انھوں نے پکارنا، بلانا یا مانگنا ترجمہ کیا ہے۔
احمد رضا صاحب اپنا ایک عقیدہ بنا لیتے ہیں:
اور پھر قرآن کا ترجمہ اپنی رائے سے اپنے عقیدے کے مطابق کرتے چلے جاتے ہیں، قرآن مجید کے الفاظ کا کوئی خیال نہیں رکھتے مثلاً لفظ ،،أَخِی،، کا ترجمہ
آل عمران(156،168)، النساء(11، 12، 176)، اور یوسف(12) میں ہر جگہ ،،بھائیوں،، کیا ہے، یاد رہے کہ سورہ یوسف میں یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کا بار بار ذکر ہے، اسی طرح یونس(87) میں ،،بھائی،، کیا ہے۔ لیکن سورہ الاعراف(65، 73، 85) میں ،،أَخَاهُمْ،، کا ترجمہ برادری کیا، ان کا بھائی نہیں کیا۔ مطلب یہ کہ انبیاء کرام بشر نہیں، یہ ثابت کرنے کے لیے اپنی رائے سے ترجمہ کیا۔ یہی کچھ سورہ ہود(50، 61، 84) اور سورۃ الشعراء(106، 124، 142، 161) میں کیا ہے۔
اس کی ایک اور مثال ان کے قرآنی ترجمہ و تفسیر (لقمان:34) میں ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کہ پانچ چیزوں کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں اور (صحیح البخاری:7379) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ پانچ باتیں غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا گزر چکی کہ جو کوئی کہے کہ رسول اللہ ﷺ کل کی بات جانتے تھے وہ جھوٹا ہے۔ اور یہ حدیث بھی گزر چکی کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل فرمایا: کہ قیامت کے وقت کا مجھے علم نہیں۔ اور یہ حدیث بھی گزر چکی کہ جب بادل آتے تو رسول اللہ ﷺ پریشان ہو جاتے، شاید کہ ان میں عذاب نہ ہو۔
لیکن نعیم الدین مراد آبادی کی اس جگہ تفسیر ان سب باتوں کے بالکل الٹ ہے یعنی چونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ بزرگوں کو غیب کا علم ہوتا ہے، اس لیے قرآن و حدیث کی ایک بھی نہ مانی اور دونوں اپنی رائے سے ترجمہ و تفسیر کرتے چلے گئے۔
ہم تو توحید فی الحکم اور شرک فی الحکم میں اور سنت و بدعت کی بحثوں میں تفصیل کے ساتھ ذکر کر چکے ہیں۔ کہ آسمانی وحی (قرآن و حدیث) کے علاوہ نہ کوئی عقیدہ اختیار کرنا چاہیے اور نہ کوئی عمل اختیار کرنا چاہیے۔ لیکن نعیم الدین مراد آبادی قرآن و حدیث کے سارے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے سورۃ الحدید کی آیت (27) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ کام جن میں لوگ طاعات و عبادات میں ذوق و شوق کے ساتھ مشغول رہتے ہیں ایسے امور کو بدعت بتانا قرآن مجید کی اس آیت کے صریح خلاف ہے۔ حالانکہ نعیم الدین مراد آبادی کا ایسا فرمانا: سورۃ البقرۃ کی آیت (120،145)،الرعد کی(37) اور الحدید کی آیت(16) کے صریحاً خلاف ہے۔ جن میں اللہ تعالیٰ نے صرف آسمانی وحی کی پیروی کرنے اور یہود و نصاریٰ کی پیروی نہ کرنے کا حکم دیا۔ یعنی انھوں نے اپنے پیروکاروں کو قرآن و حدیث کی لگام دینے کی بجائے قطعی طور پر بے لگام کر دیا، یہی وجہ ہے کہ حنفی بریلوی صاحبان عقیدہ اور عمل کے معاملے میں بالکل آسمانی وحی (قرآن و حدیث) کی حدود سے باہر نکل چکے ہیں۔ اور جو عقائد و اعمال قرآن و حدیث سے ثابت ہیں ان صاحبان کے نہ وہ عقائد ہیں نہ وہ اعمال یعنی نہ ان کے پاس توحید رہی اور نہ رسول اللہ ﷺ کی سنت۔ ہر معاملہ میں شرک و بدعت ان میں مکمل طور پر سرایت کر چکے ہیں۔ پھر بھی یہ پکے اہل سنت والجماعت ہیں۔ اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات ماننے کی بجائے دوسروں کے احکامات مانتے ہیں، اللہ کی ذات و صفات میں دوسروں کو اللہ کے برابر جانتے ہیں، بزرگوں کو عالم الغیب مانتے ہیں، اللہ کے علاوہ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، جیسے قبروں پر سجدے کرنا، چڑھاوے چڑھانا اور غیراللہ کو پکارنا وغیرہ اور اللہ کے علاوہ بزرگوں کو نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہیں جیسے کسی کو داتا، کسی کو گنج بخش، کسی کو مشکل کشا، کسی کو حاجت روا، کسی کو غریب نواز، کسی کو غوث الاعظم، کسی کو دستگیر وغیرہ مانتے اور کہتے ہیں، پھر بھی ان کی توحید کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ زندگی کے ہر شعبے میں سنت سے ہٹ کر عمل کرتے ہیں پھر بھی پکے سنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے۔
ہم اس کتاب میں احمد رضا خان صاحب کی دورخی کا کئی بار ذکر کر چکے ہیں، اب مزید ایسی ہی باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے:
[1] قرآن مجید میں ان آیات کا تذکرہ کریں گے جن میں اللہ تعالیٰ نے پہلے کافروں اور مشرکین (مشرکین مکہ، یہودی، عیسائی) سے فرمایا: کہ میرے بندوں کو بچانے والا، کام بنانے والا، والی، کارساز، بااختیار، آقا اور مولا، نہ بناؤ کیونکہ ان صفات کا مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور کوئی نہیں اور فرمایا: ایسے عقیدے کا مالک انسان (جو غیراللہ کو کارساز سمجھے) کافر اور مشرک ہے اور مندرجہ بالا جو معنی لکھے گئے ہیں یہ احمد رضا خانی ترجمہ میں ولی اور اس سے نکلے ہوئے الفاظ یعنی ولیا، ولینا اور اولیاء وغیرہ کے معنی قرآنی ترجمہ احمد رضا خانی میں کیے گئے ہیں۔ اور مولا سے نکلے الفاظ یعنی مولاکم، مولانا وغیرہ کے بھی۔
ولی اور اس سے متعلقہ الفاظ کے مندرجہ بالا ترجموں کے لیے دیکھیے اس قرآنی ترجمہ مع فوائد میں:
[1] بچانے والا (البقرة:120)
[2] کام بنانے والا۔ (العنکبوت:22)،(الشورٰی:28)،(یوسف:101)
[3] والی۔ (البقرة: 258)،(آل عمران:68)،(التوبه:116)،(الکهف:26)،(الشوریٰ:8، 9)،(النساء:45)،(الانعام:24)،(الاعراف:196)،(الزمر:3)،(الشوریٰ:6، 9)
[4] کارساز۔ (النساء:45) میں معنی والی لکھا اور اس کے ف:148 میں کارساز لکھا ہے۔
کہ اور اب وہ آیات درج ہیں جن میں اللہ کے بندوں کو کارساز بنانے سے منع فرمایا گیا ہے: جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا، لیکن بعض جگہ حسب عادت معنوں میں دورخی اختیار کی گئی اور تفسیر میں بھی تحریف کی گئی۔ ملاحظہ فرمائیں: (الأنعام:11تا19)،(یوسف:101تا103)،(الشوریٰ:1تا12)،(الکہف:32تا44اور106تا110)،(الفرقان:12تا20)،(العنکبوت:19تا22، 41تا44)،(الزمر:1تا8)
[1] آپ کا فیصلہ حق ہے جو آپ کا فیصلہ دل و جان سے قبول نہ کریں وہ مسلمان نہیں۔
(النور:47تا49- 112تا115)،(کنزالایمان:النساء:65 ف178)
[2] آج کل مسلمانوں کی اکثریت زبانی اطاعت اور عملی مخالفت کرتی ہے، یہ پرانا طریقہ اور شیوہ ہے۔
[النور:53-54 ف119تا124-آل عمران:132 ف236]
[3] یہود و نصاریٰ نے نافرمانی کی دین کو بدلا متغیر کیا اور اصل دین چھپایا۔
[الاعراف:168 ف321تا323-الاعراف: ف183 اور333]
[4] دین چھپانا بہت بڑا جرم ہے۔
[البقرۃ: ف288 اور309-آل عمران: ف372]
اور ایسا کرنے والے اور ان کے پیروکاروں کا قیامت کے دن برا انجام ہے۔
(الفرقان:26تا29)،(الاحزاب:66تا68، ف162تا165)
[5] رسول ﷺ اور صحابہ کا کارساز اللہ ہے کیونکہ رسول ﷺ اور صحابہ کی موجودگی میں یہ آیات اتریں اور یہ واقعات پیش آئے۔
(الانعام:66-67)،(یونس:10، 108/109اور8/9، ف19تا21) میں یہ سب کچھ موجود ہے اور آپ کا کام صرف اللہ کا دین پہنچا دینا ہے۔ (کارسازی نہیں) (آل عمران:20ف 47)،(الرعد:40 ف109تا112)،(ص:22)اور کنز الایمان میں ہے کہ رسول ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے تین سوال کیے (الانعام:65-66- 141، ف119تا125) ان میں سے دو صرف مقبول فرمائے گئے۔ مزید دیکھیے:[کنز الایمان: 4/ 78تا82 ف203اور آل عمران:53 ف128] اور مقدمہ عین الہدایہ میں ہے کہ[کل کان من عنداللہ] یعنی کہہ دے اے محمد اللہ تعالیٰ ہی طرف سے کل ہے اور جس نے گمان کیا کہ بھلائی یا برائی غیر کی طرف سے ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے کافر ہوا اور اس کی توحید باطل ہوئی (مقدمہ ہدایہ فقہ اکبر ص 10) اور کنز الایمان میں لکھا ہے کہ اولاد اللہ کی طرف سے ہے اور اولاد کو غیراللہ سے منسوب کرنا شرک ہے (ص:24تا50 ف 122تا129)،(الاعراف:191 ف373) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک وہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو تمہاری طرح بندے ہیں(ف379) تو انھیں پکارو پھر وہ تمھیں جواب دیں اگر تم سچے ہو۔ (الاعراف: 193 ف389)
[6]رضا خانی ترجمہ اور تفسیر کے مطابق توحید یہ ہے: (1) تم فرماؤ اللہ مجھے بس ہے۔ (الزمر:38 ف90) پھر وہ بھروسے والے اس پر بھروسہ کریں۔ (الزمر:38) اور مشرک اور موحد کی مثال اس تفسیر میں یوں بیان کی گئی ہے کہ ایک جماعت کا غلام نہایت پریشان ہوتا ہے ہر آقا اسے اپنی طرف کھینچتا ہے اور اپنے اپنے کام بتاتا ہے وہ حیران ہے کہ کس کا حکم بجالائے اور کس طرح تمام آقاؤں کو راضی کرے اور خود اس غلام کو جب کوئی حاجت و ضرورت پیش ہو تو کس آقا سے کہے بخلاف اس غلام کے جس کا ایک ہی آقا ہو وہ اس کی خدمت کر کے اسے راضی کر سکتا ہے۔ اس کو کوئی پریشانی پیش نہیں آتی، یہ حال مومن کا ہے جو ایک مالک کا بندہ ہے صرف اس کی عبادت کرتا ہے، اور مشرک جماعت کے غلام کی طرح ہے کہ اس نے بہت سے معبود قرار دیے دیے ہیں۔ (الزمر:29 ف 72تا75)
تبصرہ:
مندرجہ بالا رضا خانی ترجمہ و تفسیر سے بریلویت کا سارا ڈھانچہ تباہ ہو گیا، یہ کئی ہستیوں کو پکارتے ہیں اور جب ان کو کوئی حاجت و ضرورت پیش آتی ہے تو کبھی لاہور والے کو پکارتے ہیں کبھی بغداد شریف والے کو غوث الاعظم کہہ کر پکارتے ہیں اور کبھی علی رضي اللہ عنہ کو مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ اور کبھی رسول اللہ ﷺ کو مدد کے لیے پکارتے ہیں اور کہتے ہیں۔ کہ اولیاء اور انبیاء سے مدد چاہنا شرک نہیں ہے (4/1:مسئلہ) اور بغداد شریف والے کو اپنی تفسیر میں غوث الاعظم لکھا (19 /ف156) اور یہ مندرجہ بالا تفسیر میں خود لکھ رہے ہیں کہ یہ شرک ہے، موحد صرف ایک اللہ کے سامنے اپنی حاجت و ضرورت پیش کرتا ہے خود ہی تسلیم کر لیا کہ بریلوی مشرک ہیں۔
اللہ تعالیٰ کہتا ہے:
[1] اللہ کافی ہے والی (کارساز) (النساء:45 ف138) آگے تفسیر میں لکھتے ہیں: جس کا کارساز اللہ ہو اسے کیا اندیشہ ۔ (3/122)
[2] اے نبی تمھیں اللہ کافی ہے۔ (آل عمران:62تا64)،(الحجر:95)،(الزمر:36) اور مومنوں کو بھی۔
[3] جو اللہ پر بھروسہ کرے اللہ اس کو کافی ہے۔ (الطلاق:3 ف12-14)
[4] اللہ کافی ہے وکیل (کارساز) (النساء:81-132)،(الفرقان:3۔ 25-48)
[5] آسمانوں اور زمین میں سب کچھ اللہ کا ہے۔ (آل عمران:109-129-180-189)
[6] [وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَلِیًّا] (النساء:45) اور اللہ کافی ہے والی اور اللہ کافی ہے مددگار (ف:148) کے تحت لکھتے ہیں: اور جس کا کارساز اللہ ہوا اسے کیا اندیشہ۔
[7] اور اسی تفسیر میں لکھا گیا ہے: [اِنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ؕ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ]: ترجمہ بے شک اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت زندہ کرتا ہے، مارتا ہے اور اللہ کے سوا نہ تمھارا کوئی والی نہ مددگار۔
(التوبۃ:116 ف257تا281)
مزید دیکھئے:(البقرۃ:107، 120 ف218تا220 )(الحج:31)،(ھود:113)
[8] مزید لکھتے ہیں: [نعم المولیٰ ونعیم النصیر] ترجمہ: کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار۔
[9] اور کنز الایمان میں لکھا ہے الہیت اور ربوبیت میں اللہ کا کوئی شریک نہیں (یعنی) اس کے علاوہ نہ کوئی معبود ہے اور نہ کوئی رب یعنی داتا۔ لیکن آج کل لوگ کئی غیراللہ کی عبادت بھی کر رہے ہیں۔ اور کئی غیراللہ کو داتا بھی مانتے ہیں۔ جو دونوں ظاہرًا مشرک ہیں۔ کنز الایمان میں لکھا گیا ترجمہ: اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ۔ (ف109اور109) کے تحت لکھتے ہیں: نہ جاندار کو نہ بے جان کو نہ اس کی ربوبیت میں نہ اس کی عبادت میں (شریک ٹھہراؤ: (النساء:36 ف109)
[سکین605 تا 606]
[1] ایک اور دورخی:
یہ ایک اور دورخی ہے، احمد رضا خانی ترجمہ و تفسیر میں لکھا ہے کہ سورہ محمد اترنے کے بعد رسول اللہ ﷺ منافقوں کو ان کی صورتوں اور ان کی باتوں سے پہچان لیتے تھے (دیکھیے محمد:30، ف78، 79) لیکن (سورۃ التوبہ:101) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور تمھارے آس پاس کے کچھ گنوار منافق ہیں اور کچھ مدینہ والے، ان کی خو ہوگئی ہے نفاق، تم انھیں نہیں جانتے ہم انھیں جانتے ہیں۔ یہ عجیب دورخی ہے، حالانکہ اسی تفسیر میں لکھا ہے کہ سورۃ التوبہ قرآن کریم کی سورتوں میں سب سے آخر میں نازل ہوئی۔
[2] ایک اور عجیب دو رخی نوٹ فرمائیں:
کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار فرمایا: کہ یہود اور نصاریٰ کے طریقے نہ اختیار کرنا بلکہ نازل شدہ اسلام کی پیروی کرنا، احمد رضا خانی ترجمہ مع تفسیر میں یہ بھی لکھا گیا کہ یہود و نصاریٰ کا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے لیکن یہ بھی کہا گیا کہ انھوں نے اپنے نازل شدہ دین کو چھوڑ کر جو بھی بدعات شروع کی تھیں ان میں کوئی حرج نہ تھا اور کلمہ گو مسلمانوں کو اس تفسیر میں بار بار بدعات کی ترغیب دی گئی۔ دیکھیے: ان کا ترجمہ مع تفسیر: (الحدید:16، ف48، 27، ف90، 91)،(البقره:120، ف219۔220)،(المجادلة:4، ف17، 18، 8تا10، ف33، 36، 37)،(الفاتحہ: 7/1 کی تفسیر)
[3] یہ واضح دو رخی اور تضاد ہے:
الانعام (14، ف38) میں [اول من اسلم] (یعنی) سب سے پہلے گردن رکھوں کی تفسیر میں لکھا کہ نبی اپنی امت سے دین میں سابق ہوتے ہیں لیکن الانعام (161تا164، ف338تا341) کے (ف340) میں لکھا: اولیت یا تو اس اعتبار سے ہے کہ انبیاء کا اسلام ان کی امت پر مقدم ہوتا ہے یا اس اعتبار سے کہ سید العالم ﷺ اول مخلوقات ہیں تو ضرور اول المسلمین ہوئے۔
کیونکہ قرآن کریم میں ہے: اے نبی (ﷺ)! قرآن اترنے سے پہلے تجھے قرآن اور ایمان کی خبر نہ تھی۔ الشوریٰ(52) اور البقرۃ(285) میں ہے کہ رسول ﷺ اور مومن اللہ کی نازل کردہ وحی پر ایمان لائے۔ تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ شریعت اترنے کے بعد اس پر ایمان لائے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں انہی کی تفسیر میں لکھا ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے اول المومنین ہیں۔ (دیکھیے:الاعراف:143، ف266) اور انہی کی تفسیر میں لکھا ہے کہ فرعون کے جادوگر جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے معجزات دیکھ کر ایمان لے آئے وہ رعیتِ فرعون میں سے یا اس مجمع کے حاضرین میں سے اول المومنین تھے۔ ان باتوں سے ان کی دو رخی صاف ظاہر ہے۔
[4] انھوں نے اپنی تفسیر میں لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو عزت دی اور آپ ﷺ کی عزت اور تکریم کی خاطر آپ ﷺ کو ،،یامحمد،، کہہ کر نہیں خطاب کیا۔ حالانکہ باقی انبیائے کرام علیہم السلام کو نام لے کر خطاب کیا۔ (الأحزاب:1، ف2) اور اسی تفسیر میں لکھا ہے کہ مومنوں کو چاہیے۔ کہ رسول اللہ ﷺ کو ادب سے خطاب کریں اور نام لے کر آپ سے خطاب نہیں کرنا چاہیے۔ (الحجرات:2، ف4) لیکن اسی تفسیر میں لکھا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ کو
،،یامحمد،، کہہ کر خطاب کیا۔ (المدثر:1، ف2) یہ عجیب دورخی ہے کہ اللہ تعالیٰ تو رسولِ پاک ﷺ کو ،،یامحمد،، کہنا پسند نہ فرمائیں لیکن جبرئیل ،،یامحمد،، کہہ کر خطاب کرے۔
[5] اس تفسیر میں لکھا ہے کہ آدم علیہ السلام سے لے کر آپ ﷺ تک آپ کے سب آباؤ اجداد مومن ہیں۔ (الشعراء:129، ف183)
لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا اگر تجھے عرب کی جہالت معلوم کرنا اچھا لگے تو (سورۃ الانعام: کی130 آیتوں) سے زیادہ پڑھ لے۔ وہ لوگ تباہ ہوئے جنھوں نے نادانی سے اپنی اولاد کو مار ڈالا، گمراہ ہیں، راہ پانے والے نہیں، اس آیت تک۔ [بخاری، کتاب المناقب، باب قصة زمزم وجهل العرب: 3524]
اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے کہ عزت دار، عزت دار کا بیٹا، عزت دار کا پوتا اور عزت دار کا پڑپوتا یوسف علیہ السلام پیغمبر تھے۔ جو یعقوب علیہ السلام کے بیٹے اسحاق علیہ السلام کے پوتے اور ابراہیم علیہ السلام کے پڑپوتے تھے اور براء نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ہوں بیٹا عبدالمطلب کا۔
[بخاری، کتاب المناقب، باب من انتسب إلى آبائه في الإسلام والجاهلية، تعليقاً، فوق الحديث: 3525۔ نیز دیکھیے: 3390، 2864]
اور صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ابوطالب نے مرتے وقت کہا کہ عبدالمطلب کے دین پر مر رہا ہوں اور اس وقت رسول اللہ ﷺ وہاں موجود تھے۔
[بخاری، کتاب الجنائز، باب إذا قال المشرك عند الموت لا إله إلا الله: 1360، 3884]
[6] [عَلَيْكَ الْبَلَاغُ] قرآن مجید میں بار بار اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کہ رسول اللہ ﷺ کے ذمے دین پہنچا دینا ہے اور آپ اپنے یا کسی کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ (دیکھیے احمد رضا خانی ترجمہ مع تفسیر البقرة:272، ف577)،(المائدة:92، 99، ف222، 230)،(التغابن:11تا13، ف18تا21)،(آل عمران:18تا20)،(الرعد:37تا41)،( النحل:81تا83)،(الشورٰی:46تا53)
تو پھر مندرجہ بالا صورت حال کے باوجود آپ ﷺ اور دوسرے بزرگوں کو پکارنا اور ان کو تصرف کے اختیار کا مالک سمجھنا دورخی نہیں تو اور کیا ہے۔
[7] احمد رضا خان صاحب کے قرآنی ترجمہ مع تفسیر میں بار بار حدیث کی معتبر کتابوں کا ذکر ہے لیکن ہم نے اپنی اس کتاب میں حدیث کی ان معتبر کتابوں اور فقہ کی کتابوں کے جو حوالے ہر باب میں دیے ہیں ان کا احمد رضا خان صاحب کے ترجمہ مع تفسیر میں کہیں ذکر تک نہیں، یعنی اپنے عقیدہ کی یکطرفہ ٹریفک چلاتے رہے اور حدیث کی کتابوں اور فقہ کی کتابوں میں جو حوالے ان کے عقیدہ کے خلاف ہیں ان کا ذکر تک نہیں کیا۔ یہ واضح دورخی ہے اور بار بار شرک اور بدعات کی ترغیب بھی دیتے رہے اور حق بھی لکھتے رہے، دونوں کام ساتھ ساتھ چلاتے رہے۔
دیکھیے ان کا ترجمہ مع تفسیر:(النساء:64، ف177)،(النحل:116، ف268)،(مریم:96، ف156)،(طٰہٰ:85، ف122)،(البقرة:3، ف7- آیت8، ف12، بہت اہم۔ آیت37، ف67- آیت50، ف86، آیت58، ف96- آیت61، ف106، بہت اہم۔ آیت78، ف129 بہت اہم۔ آیت83، ف134 وف138، بہت اہم۔ آیت87، ف143 ف147، بہت اہم۔ آیت248، ف504- آیت261، ف547)،(النساء:فوائد 20، 24-415)،(المائده:فوائد15، 66، 198، 211، 282)،(الأنعام:56، ف124، بہت اہم)،(التوبه:6، 89، ف225-آیت103، ف238- آیت115، ف270، بہت اہم۔ آیت128، ف307)
[8] ان کا بار بار تفسیر میں یہ لکھنا کہ وہ کام نہیں کرنا چاہیے جس کے کرنے سے سنت اٹھ جائے اور اس کے علاوہ جو چاہے کرو، ان کی یہ بات بے معنی ہے کیونکہ جو شخص یا جماعت بدعات پر عمل کرے گی زندگی کے اس موقع کی سنت خود بخود اٹھ جائے گی مثلاً اگر کوئی مؤذن اذان سے پہلے صلوٰۃ پڑھتا ہے تو اذان سے پہلے صلوٰۃ نہ پڑھنے کی سنت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ اگر کوئی جماعت رسمِ قل، رسمِ چالیسواں ادا کرتی ہے تو رسول اللہ ﷺ کی سنت کہ آپ نے یہ کام نہیں کیے خود بخود ختم ہو جائے گی۔ اگر کوئی جماعت زیارت قبور اور قبروں والوں کے لیے دعا کے علاوہ قبر پر کوئی اور کام کرتی ہے جیسے پکی قبر بنانا، قبروں پر پھول چڑھانا، قبروں پر چراغ جلانا، قبروں کو غسل دینا، عرس کرنا، قبروں والوں کو پکارنا، وہاں محفلِ موسیقی منعقد کرنا، وہاں چڑھاوے چڑھانا تو رسول اللہ ﷺ کی یہ کام نہ کرنے کی سنت خود بخود اٹھ جائے گی۔ اگر کوئی آدمی گیارہویں دیتا ہے تو رسول اللہ ﷺ کی گیارہویں نہ دینے کی سنت خود بخود اٹھ جائے گی۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ایسا کام کرے جس کے لیے ہمارا حکم نہ ہو تو وہ مردود ہے۔
[بخاری، کتاب البيوع، باب النجش و من قال، يجوز ذلك، البيع تعليقاً قبل الحديث: 2142، موصولاً: 2697]،[مسلم، كتاب الأقضية، باب نقض الأحكام الباطلة و رد محدثات الأمور: 18/1718]
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جو چیز تمھیں دیں اسے پکڑ لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے باز رہو۔ (الحشر:7۔احمد رضا، ف22تا24)












