مضمون کے اہم نکات
عـــقــــاب ولاء الـــکــفـــار
کفار سے دوستی کی سزا
کفار سے دوستی کرنے والوں کے لئے عذاب الیم کی بشارت ہے۔
[بَشِّرِ الۡمُنٰفِقِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمَۨا]،[ الَّذِیۡنَ یَتَّخِذُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ اَیَبۡتَغُوۡنَ عِنۡدَہُمُ الۡعِزَّۃَ فَاِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا]
ایل ایمان کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کرنے والے منافقوں کو عذاب الیم کی بشارت دے دو کیا یہ منافق کافروں سے (دوستی کرکے) عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے۔ (سورۃ النساء:138-139)
[اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ تَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ مَا ہُمۡ مِّنۡکُمۡ وَ لَا مِنۡہُمۡ ۙ وَ یَحۡلِفُوۡنَ عَلَی الۡکَذِبِ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ]،[اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ اِنَّہُمۡ سَآءَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ]
کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہوں نے دوست بنایا ہے ایسے لوگوں کو جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا (یعنی یہود) وہ نہ تمہارے (یعنی مسلمانوں کے) ہیں نہ ان کے (یعنی کفارکے) وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں (کہ وہ اللہ اور رسول پر ایمان لائے ہیں) اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جو کچھ یہ کررہے ہیں وہ بہت ہی برا ہے۔ (سورۃ المجادلہ:14-15)
[تَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یَتَوَلَّوۡنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَہُمۡ اَنۡفُسُہُمۡ اَنۡ سَخِطَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ وَ فِی الۡعَذَابِ ہُمۡ خٰلِدُوۡنَ]
تو دیکھتا ہے کہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو (مسلمانوں کے بجائے) کافروں سے دوستی کرتے ہیں بہت ہی برا ہے جو ان کی جانوں نے ان کے لئے آگے بھیجا ہے وہ یہ کہ اللہ ان پر غضبناک ہوا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ (سورۃ المائدہ:80)
کفارسے دوستی کسی بھی وقت اللہ کے عذاب کا باعث بن سکتی ہے۔
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَؕ اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا]
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے خلاف (عذاب کے لئے) واضح ثبو ت دے دو۔ (سورۃ النساء:144)
کفار سے دوستی کرنے والوں کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔
[لَا یَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللّٰہِ فِیۡ شَیۡءٍ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡہُمۡ تُقٰىۃً ؕ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ]
مومن، مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں جو ایسا کرے گا اللہ تعالیٰ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہاں اگر کافروں کے ظلم سے بچنے کے لئے (اپنے ایمان پر قائم رہتے ہوئے) ایسا طرز عمل اختیار کرو تو وہ معاف ہے۔ اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے (اور یاد رکھو) تمہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ (سورہ آل عمران:28)
کافروں سے دوستی کرنے والوں کا قیامت کے روز انجام بھی کافروں کے ساتھ ہوگا۔
کافروں سے دوستی کرنے والے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی راہنمائی سے محروم ہوجاتے ہیں۔
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ]
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں تم میں سے جو شخص انہیں دوست بنائے گا اس کا شمار بھی انہی میں سے ہوگا۔ یقینا اللہ تعالیٰ (ایسے) ظالموں کی راہنمائی نہیں فرماتا۔ (سورۃ المائدہ:51)
کافروں سے دوستی کرنے والے ایمان سے محروم ہوجائیں گے۔
[وَ لَوۡ کَانُوۡا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مَا اتَّخَذُوۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ وَ لٰکِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ]
اگر یہ لوگ واقعی اللہ پر، نبی پر اور اس تعلیم پر جو نبی پر نازل کی گئی ہے ایمان لائے ہوتے تو کبھی (مومنوں کے مقابلے میں) کافروں کو اپنا دوست نہ بناتے لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ (سورۃ الماائدہ:81)
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِیۡعُوۡا فَرِیۡقًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ یَرُدُّوۡکُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ کٰفِرِیۡنَ]
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اگر تم نے اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمہیں ایمان سے پھیر کر کفر کی طرف لے جائیں گے۔ (سورۃ آل عمران:100)
کفار سے دوستی کا انجام ندامت اورپشیمانی ہے۔
[فَتَرَی الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوۡنَ فِیۡہِمۡ یَقُوۡلُوۡنَ نَخۡشٰۤی اَنۡ تُصِیۡبَنَا دَآئِرَۃٌ ؕ فَعَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِالۡفَتۡحِ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِہٖ فَیُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَاۤ اَسَرُّوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ نٰدِمِیۡنَ]
تم دیکھتے ہو کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ کافروں (کے ساتھ تعلقات قائم کرنے) میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں ڈر لگتا ہے کہ ہم (اس کے بغیر) کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں مگر بعید نہیں جب اللہ تعالیٰ تمہیں فیصلہ کن فتح بخش دے یا اپنی طرف سے کوئی اور بات (یعنی کافروں کو سزا دینے والی) ظاہر فرما دے تو پھر یہ لوگ اپنے اس نفاق پر جسے یہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں، نادم ہوں گے۔ (سورۃ المائدہ:52)
کفار کے کلچر اور تہذیب و تمدن کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھنا بھی جہنم میں جانے کا باعث بن سکتا ہے۔
[وَ لَا تَرۡکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ]
اور ظالموں کی طرف بالکل نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے پھر تمہیں کوئی ایسا سرپرست نہیں ملے گا جو اللہ سے بچا سکے اور کہیں سے تمہیں مدد بھی نہیں پہنچے گی۔ (سورۃ ہود:113)
کفار سے دوستی کرنے والے دنیا اور آخرت میں خسارے میں رہیں گے۔
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِیۡعُوا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَرُدُّوۡکُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِیۡنَ]
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اگر تم نے کافروں کی باتیں مان لیں تو وہ تمہیں تمہاری ایڑیوں کے بل (اسلام سے) پھیر دیں گے اور تم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔ (سورۃ آل عمران:149)
کفار سے براء ت نہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کی نصرت سے محروم ہو جاتے ہیں۔
[وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ الَّذِیۡ جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ]
اس کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے اگر تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو تمہیں اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہوگا۔ (سورۃ البقرہ:120)