قیامت کی نشانی : خوفناک آگ ظاہر ہوگی آگ کا جائے خروج
عن حذيفة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إنها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر آيات ….. وآخر ذلك نار تخرج من اليمن تطرد الناس إلى محشرهم
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت ہرگز قائم نہیں ہوگی حتی کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ سب سے آخر میں یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو محشر کی طرف ہانک لے جائے گی۔
مسلم : كتاب الفتن : باب في الآيات التي تكون قبل الساعة (2901) ترمذی (2183) شرح السنة (432/7) احمد (10/4 – 15) الحلية (355/1)
عن حذيفة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إن الساعة لا تكون حتى تكون عشر آيات ….. ونار تخرج من قعر عدن ترحل الناس
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے یقینی طور پر دس نشانیاں ظاہر ہوں گی … ایک آگ عدن (یمن) سے نکلے گی جو لوگوں کو ہانکے گی۔
مسلم : كتاب الفتن (2901 – 7286)
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ستخرج نار من حضرموت أو من بحر حضرموت قبل يوم القيامة تحشر الناس
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضرموت یا اس کے سمندر سے قیامت سے پہلے ایک آگ خارج ہوگی جو لوگوں کو جمع کر دے گی۔
ترمذی : كتاب الفتن : باب ما جاء لا تقوم الساعة حتى تخرج نار (2217) احمد (11/2 – 72 – 94) ابن أبی شيبة (624/8) مجمع الزوائد (42/10)
عن أنس رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : أما أول أشراط الساعة فنار تحشر الناس من المشرق إلى المغرب
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانک لے جائے گی۔
بخاری : كتاب أحاديث الانبياء : باب خلق آدم وذريته (3329)
آگ کی جائے خروج کے بارے میں وارد شدہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آگ یمن (عدن) وغیرہ سے خارج ہوگی جبکہ دیگر احادیث میں حضرموت یا مشرق کا ذکر ہے جس کی وجہ سے ان روایات میں ظاہری تعارض معلوم ہوتا ہے جس کی تطبیق و تفہیم فوائد میں ملاحظہ فرمائیں۔
آگ لوگوں کو کس طرح ہانکے گی؟
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : يحشر الناس على ثلاث طرائق راغبين وراهبين واثنان على بعير ثلاثة على بعير أربعة على بعير عشرة على بعير يحشر بينهم النار تقيل معهم حيث قالوا وتبيت معهم حيث باتوا وتصبح معهم حيث أصبحوا وتمسي معهم حيث أمسوا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کا حشر تین فرقوں میں ہوگا۔ رغبت کرنے والے اور ڈرنے والے، ایک اونٹ پر دو آدمی کسی پر تین کسی پر چار اور کسی پر دس سوار (ہو کر آنے والے) ہوں گے اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی جو صبح، دوپہر، شام ، سوتے جاگتے ان کے ساتھ ہوگی۔ کسی وقت بھی جدا نہیں ہوگی حتیٰ کہ محشر میں پہنچا دے گی۔
بخاری : كتاب الرقاق : باب كيف الحشر (6522)
عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : تبعث نار على أهل المشرق فتحشرهم إلى المغرب تبيت معهم حيث باتوا وتقيل معهم حيث قالوا يكون لها ما سقط منهم وتخلف وتسوقهم سوق الجمل الكسير
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اہل مشرق پر ایک آگ بھیجی جائے گی جو انہیں مغرب کی طرف ہانکے گی، جہاں وہ رات گزاریں گے آگ بھی وہیں رہے گی اور جہاں وہ دوپہر کو آرام کریں گے آگ بھی وہیں ٹھہرے گی، ان میں سے جو گر جائے گا یا پیچھے رہ جائے گا آگ اسے کھا جائے گی اور وہ انہیں اس طرح ہانکے گی جیسے تھکے ہوئے اونٹ کو ہانکا جاتا ہے۔
حاکم : کتاب الفتن (548/4) مجمع الزوائد (12/8)
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يحشر الناس يوم القيامة ثلاثة أصناف صنف مشاة وصنف ركبانا وصنف على وجوههم فقالوا : يا رسول الله : وكيف يمشون على وجوههم ؟ قال إن الذى أمشاهم على أرجلهم قادر على أن يمشيهم على وجوههم أما إنهم يتقون بوجوههم كل حدب وشوك
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : روز قیامت لوگوں کو تین قسموں میں اکٹھا کیا جائے گا ایک قسم پیدل، دوسری سوار اور تیسری چہرے کے بل ہو گی۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چہرے کے بل کیسے؟ فرمایا : جس ذات نے انہیں پاؤں پر چلایا ہے وہ انہیں چہرے کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔ بلا شبہ وہ لوگ اپنے چہروں کے بل پر ٹیلے اور کانٹے سے بچاؤ کر رہے ہوں گے۔
احمد (466/2) ترمذی : کتاب التفسیر : سورۃ الاسراء (3142) ابن ابی شیبہ (139/8)
عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إنكم محشورون رجالا وركبانا وتجرون على وجوهكم
بہز بن حکیم رحمہ اللہ اپنے والد اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ پیدل، سوار اور چہرے کے بل جمع کیے جاؤ گے۔
ترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ : باب ما جاء فی شان الحشر (2424) احمد (4/5 – 8) الفتح الباری (387/11)
ارض محشر :
وعن عبد الله بن عمرو رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : تخرج نار من حضر موت فتسوق (تحشر) الناس ، قلنا يا رسول الله فما تأمرنا ؟ قال : عليكم بالشام
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضر موت سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ہانکے گی۔ ہم نے پوچھا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا : ملک شام میں رہائش اختیار کرنا۔
احمد (11/2 – 72 – 94) ترمذی : کتاب الفتن : باب ما جاء لا تقوم الساعۃ حتی تخرج نار (2217) ابن ابی شیبہ (624/8) ابو یعلی (5551)
عن حكيم بن معاوية عن أبيه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : تحشرون هنا ، وأومأ بيده لحو الشام ، مشاة وركبانا وعلى وجوهكم ، تعرضون على الله تعالى وعلى أفواهكم الفدام وأول ما يعرب عن أحدكم فخذه
حکیم بن معاویہ رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک شام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : کہ تم لوگ پیادہ، سوار اور چہروں کے بل اس جگہ جمع کیے جاؤ گے۔ تم اللہ کے حضور پیش ہو گے اور تمہارے منہ سیل ہوں گے اور سب سے پہلے تمہاری ران کلام کرے گی۔
احمد (4/5 – 8) ترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ : باب ما جاء فی شان الحشر (2424) نسائی (2435) حاکم (608/4) ابن ابی شیبہ (140/8) فتح الباری (387/11)
فوائد :
➊ قیامت کی آخری نشانی ایک آگ کی صورت میں ظاہر ہوگی جو تمام لوگوں کو میدان محشر کی طرف ہانک لے جائے گی۔
➋ آگ کی جائے خروج کے بارے میں منقول روایات بظاہر متعارض معلوم ہوتی ہیں کہ وہ آگ یمن سے نکلے گی یا حضر موت سے یا ملک شام سے؟
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس تعارض کو یوں رفع فرماتے ہیں کہ :
وظهر لي فى وجه الجمع أن كونها تخرج من قعر عدن لا ينافي حشرها الناس من المشرق الى المغرب وذلك ان ابتداء خروجها من قعر عدن فاذا خرجت انتشرت فى الأرض كلها والمراد بقوله تحشر الناس من المشرق الى المغرب ارادة تعميم الحشر لا خصوص المشرق والمغرب أو انها بعد الانتشار أول ما تحشر اهل المشرق ويؤيد ذلك ان ابتداء الفتن دائما من المشرق
مذکورہ روایات کی جمع کی صورت یہ ظاہر ہوتی ہے کہ آگ اولا عدن سے نکلے گی پھر یہ ہر طرف پھیل جائے گی اور جب یہ لوگوں کو ہانکنا شروع کرے گی تو مشرق کی طرف سے شروع ہو کر مغرب کی طرف آئے گی یا سب سے پہلے یہ آگ اہل مشرق کو ہانک کر لائے گی کیونکہ فتنے ہمیشہ مشرقی سرزمین سے شروع ہوتے رہے ہیں۔
فتح الباری (386/11)
➌ ایک آگ اس سے پہلے گزشتہ صفحات میں ذکر کی گئی ہے جو ان علامات قیامت میں شامل ہے جن کا ظہور گزر چکا ہے مگر مذکورہ آگ اس کے علاوہ ہے جو قیامت کی آخری نشانی ثابت ہوگی۔
➍ جس طرح گزشتہ آگ فی الحقیقت آگ تھی اسی طرح مذکورہ نشانی بھی حقیقت پر محمول ہوگی کہ فی الواقع ایک آگ رونما ہوگی جو لوگوں کو میدان محشر کی طرف ہانک لے جائے گی لہذا اس آگ سے جنگ کی آگ یعنی جنگ یا فتنہ فساد (مجاز) مراد لینا درست نہیں۔
➎ امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حشر کا معنی اجتماع ہے یعنی یہ آگ لوگوں کو میدان محشر میں جمع کرے گی اور حشر کی چار اقسام ہیں :
”پہلے دو حشر دنیا میں اور آخری دو حشر آخرت سے متعلق ہیں۔“
◈ پہلا حشر اس وقت ہوا جب بنو نضیر کو ملک شام کی طرف جلاوطن کیا گیا۔
(سورۃ الحشر : 2)
◈ قیامت سے قبل لوگوں کا ملک شام میں جمع ہونا جیسا کہ مذکورہ روایات میں پیش گوئی کی گئی ہے۔
◈ قبروں سے اٹھنے کے بعد میدان محشر میں لوگوں کا اکٹھے ہونا جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے :
وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا
اور ہم انہیں جمع کریں گے پس ان میں سے کسی ایک کو بھی پیچھے نہیں چھوڑیں گے۔
(سورۃ الكهف : 47)
◈ جنت یا جہنم میں جمع کیا جانا جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے :
يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَى جَهَنَّمَ وِرْدًا
جس دن ہم پرہیز گاروں کو اللہ رحمان کی طرف بطور مہمان کے جمع کریں گے اور گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے۔
(سورۃ مریم : 85-86)
➏ مذکورہ حشر قیامت سے کچھ پہلے وقوع پذیر ہوگا جس میں کافر لوگ اپنے سروں اور چہروں کے بل ٹیلوں اور کانٹوں سے گزرتے ہوئے میدان محشر میں جمع ہوں گے البتہ آخرت کے حشر کے وقت تمام لوگ ننگی حالت میں میدان محشر میں جمع ہوں گے جبکہ زمین چٹیل میدان کی طرح ہوگی جس میں ٹیلے وغیرہ نہیں ہوں گے۔
فتح الباری (387/11) التذکرۃ (ص 171 وغیرہ)
➐ اس حشر کے وقت بعض لوگ پیدل بعض سوار اور بعض چہروں کے بل جمع ہوں گے۔
➑ کسی شخص (کافر) کو چہرے کے بل چلانا بعید از قدرت نہیں!
➒ مذکورہ آگ لوگوں کے ساتھ لباس کی طرح چمٹ جائے گی حتی کہ ان کے سوتے، جاگتے، چلتے پھرتے ساتھ ساتھ رہے گی اور لوگ اس کے خوف سے آگے آگے بھاگتے جائیں گے حتی کہ وہ سب میدان محشر میں پہنچا دیئے جائیں گے۔والله اعلم وعلمه اتم و اكمل و اصوب
➓ اس دنیاوی حشر میں میدان محشر ملک شام ہوگا جبکہ قبروں سے اٹھنے کے بعد بھی اسی میدان میں لوگوں کو جمع کیا جائے گا جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو ملک شام کے میدان محشر ہونے میں شک ہو تو وہ سورت حشر کی ابتدائی آیات پڑھ لے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں سے کہا : چلو نکل جاؤ ! انہوں نے کہا : کہاں؟ فرمایا : ارض محشر کی طرف۔ (یعنی ملک شام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو شہر بدر کیا) والله اعلم وعلمه أتم واكمل واصوب
فتح الباری (380/11) ابن کثیر (84/8)