شرک کے نقصانات قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

شرک کے نقصانات

؎ وقت فرصت ہے کہاں ! کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
مشرک کی تمام بھلائیاں برباد اور تمام اعمال غارت ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کی مقدس جماعت سیدنا ابراہیم ،اسحاق، یعقوب ،نوح ،داؤد ،سلیمان ،ایوب ،یوسف ،موسیٰ ،ہارون، زکریا، یحییٰ ،اسماعیل، یسع ،یونس اور لوط علیہم السلام کا ذکر خیر کرنے کے بعد فرمایا:
﴿وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
”اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو اُن کے اعمال ضائع ہو جاتے۔“
(6-الأنعام:88)
حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا کہ آپ کو اور آپ سے پہلے تمام انبیاء کو بذریعہ وحی یہ بات بتادی گئی تھی کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے سارے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔ اور ان لوگوں میں سے ہو جائیں گے جو قیامت کے دن حقیقی گھاٹا کھانے والے ہوں گے:
﴿وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾
”اور آپ کو اور ان رسولوں کو جو آپ سے پہلے گزر چکے ہیں وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر آپ نے اللہ کا کسی کو شریک بنایا تو آپ کا عمل ضائع ہو جائے گا اور آپ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔“
(39-الزمر:65)
کیونکہ مشرک پر جنت حرام کر دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ﴾
”بے شک جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرائے گا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا۔“
(5-المائدة:72)
مشرک کی بخشش نہیں ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾
”بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنایا جائے اور اُس کے علاوہ گناہوں کو جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے۔“
(4-النساء:48)
مشرک آدمی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں پڑا رہے گا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”جاء أعرابي إلى النبى صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله ما الموجبتان؟ فقال: من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة ومن مات يشرك به شيئا دخل النار.“
”ایک دیہاتی صحابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! دو واجب کرنے والی چیزیں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا وہ جنت میں جائے گا۔ اور جس کو اس حال میں موت آئی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہراتا تھا تو وہ جہنم میں جائے گا۔“
صحیح مسلم كتاب الإيمان باب الدليل علي أن من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة، رقم: 268.
مشرک آدمی کو اللہ تعالیٰ اکیلے چھوڑ دیتا ہے مشرک کو اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل نہیں ہوتی۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
”قال الله تعالى: أنا أغنى الشركاء عن الشرك من عمل عملا أشرك فيه معي غيري تركته وشركه.“
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں دوسرے شریکوں کے مقابلے میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ جو کوئی ایسا عمل کرے جس میں وہ میرے ساتھ میرے علاوہ کسی اور کو بھی شریک ٹھہرائے تو میں اس کو اس کے شرک سمیت چھوڑ دیتا ہوں۔“
صحیح بخاری کتاب العلم، رقم 99
مشرک کے لیے سفارش نہ ہو گی۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت کبری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
”أسعد الناس بشفاعتي يوم القيامة من قال لا إله إلا الله خالصا من قلبه.“
”روز قیامت میری سفارش سے بہرہ مند وہ شخص ہوگا جس نے خالصتاً تہ دل سے لا إله إلا الله کہا ہوگا۔“
صحیح مسلم، کتاب الزهد، باب تحريم الرياء، رقم: 7475.