مضمون کے اہم نکات
سحر و افطار کا بیان
سوال:
تہجد کی اذان کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب:
نماز تہجد کے لیے اذان مشروع نہیں، کیونکہ تہجد نفل ہے اور نوافل کے لیے اذان نہیں، اس پر اجماع ہے۔
❀ علامہ ابن بطال رحمہ اللہ (449ھ) فرماتے ہیں:
في إجماع المسلمين على أن النافلة بالليل والنهار لا أذان لها دليل بين أن أذانه كان لصلاة الصبح
”مسلمانوں کا اجماع کہ دن اور رات کے نوافل کے لیے اذان نہیں، میں واضح دلیل ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی پیدل اذان نماز فجر کے لیے تھی۔“
(شرح صحيح البخاري: 2/251)
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
قد أجمع العلماء أن لا أذان ولا إقامة في النافلة فأغنى عن الكلام في ذلك
”بلاشبہ اہل علم کا اجماع ہے کہ نوافل میں نہ اذان ہے، نہ اقامت، لہذا اس مسئلہ میں مزید گفتگو کی ضرورت نہیں۔“
(التمهيد: 8/108)
عہد نبوی میں طلوع فجر سے پہلے جو اذان کہی جاتی تھی، اس کا مقصد متنبہ کرنا ہے کہ سحری کا وقت ختم ہونے والا ہے، لہذا نوافل پڑھنے والا سحری کر لے اور سویا ہوا شخص جاگ جائے اور نماز فجر کے لیے تیاری کر لے۔ اس اذان سے نماز فجر کے لیے ایک سے زائد اذانوں کا جواز بھی ثابت نہیں ہوتا۔ نیز پہلی اذان دوسری اذان سے کفایت نہیں کرتی۔ فجر کی اصل اذان طلوع فجر کے بعد والی اذان ہے۔ اگر کسی نے غلطی سے دوسری اذان بھی وقت سے پہلے کہہ دی تو وقت داخل ہونے کے بعد دوبارہ اذان کہی جائے گی۔
پہلی اذان در اصل اعلام ہے اور نماز فجر کی اذان کا مقدمہ ہے۔ اذان فجر اور اس سے پہلے کہی گئی اذان کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن بلالا يؤذن بليل فكلوا واشربوا حتى يؤذن ابن أم مكتوم قال ولم يكن بينهما إلا أن ينزل هذا ويرقى هذا
”بلال رات کو اذان کہتے ہیں، لہذا (اس کے بعد بھی) کھائیں پئیں، جب تک کہ عبداللہ بن ام مکتوم اذان نہ کہہ دیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں کی اذان میں زیادہ وقت نہ ہوتا تھا، ایک (چبوترے یا منار سے) اترتا تو دوسرا چڑھ جاتا۔“
(صحيح مسلم: 1092)
اگرچہ اس حدیث میں مذکور الفاظ سے حقیقت مراد نہیں، مگر اس سے بلال رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان میں فاصلہ کی قلت ثابت ہوتی ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يمنعن أحدكم أو أحدا منكم أذان بلال من سحوره فإنه يؤذن أو ينادي بليل ليرجع قائمكم ولينبه نائمكم
”کسی کو بلال کی اذان سحری کھانے سے نہ روکے، کیونکہ وہ رات کے وقت اذان کہتے ہیں، تا کہ آپ میں جو قیام کر رہا ہے وہ (سحری یا نماز فجر کی تیاری کے لیے) لوٹ آئے اور جو سویا ہوا ہے وہ جاگ جائے۔“
(صحيح البخاري: 621، صحيح مسلم: 1093)
❀ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يغرنكم من سحوركم أذان بلال
”آپ کو بلال کی اذان سحری کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈال دے۔ “
(صحيح مسلم: 1094)
اذان فجر سے پہلے کہی گئی اذان کو نماز تہجد یا سحری کی اذان نہیں کہہ سکتے، اس کا مقصد حدیث میں ذکر ہو چکا ہے۔ نیز یہ اذان سال بھر کہی جا سکتی ہے، اسے صرف رمضان کے ساتھ خاص کرنے پر کوئی دلیل نہیں۔
تنبیہ:
اس بحث میں بعض روایات کی تحقیق بھی ملاحظہ کریں۔
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يغرنكم أذان بلال فإن في بصره شيئا
”آپ کو بلال کی اذان دھوکے میں مت ڈال دے، کیونکہ ان کی نظر کمزور ہے۔“
(شرح معاني الآثار للطحاوي: 1/140، ح: 866)
سند ضعیف ہے۔ قتادہ اور سعید بن ابی عروبہ دونوں مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
❀ سیدنا شیبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
دخلت المسجد فجلست إلى حجرة النبي صلى الله عليه وسلم فسمعني النبي صلى الله عليه وسلم أتنحنح فقال أبو يحيى فقلت نعم فقال هلم إلى الغداء فقلت إني أريد الصوم فقال وأنا أريد الصوم ولكن مؤذننا في عينه سوء وإنه أذن قبل أن ينشق الفجر
”میں مسجد (نبوی) میں داخل ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ کے قریب ہو کر بیٹھ گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھن گارتے سنا تو فرمایا: ابو یحییٰ (شیبان رضی اللہ عنہ کی کنیت) ہو؟ عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: آئیے، کھانا کھا لیجئے، عرض کیا: میرا روزے کا ارادہ ہے۔ فرمایا: میرا بھی روزے کا ارادہ ہے، مگر ہمارے مؤذن کی نظر کمزور ہے، اس نے طلوع فجر سے پہلے ہی اذان کہہ دی ہے۔“
(الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم: 2652، المعجم الكبير للطبراني: 7/311، السنن الكبرى للبيهقي: 8023)
سند ضعیف ہے۔
➊ اشعث بن سوار ”ضعیف“ ہے۔
➋ یحییٰ بن عباد کا سیدنا شیبان رضی اللہ عنہ سے سماع معلوم نہیں ہو سکا۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
إن بلالا أذن بليل فقال له النبي صلى الله عليه وسلم ما حملك على ذلك قال استيقظت وأنا وسنان فظننت أن الفجر قد طلع فأذنت فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن ينادي في المدينة ثلاثا إن العبد رقد ثم أقعده إلى جنبه حتى طلع الفجر ثم قال قم الآن
”(ایک مرتبہ) بلال رضی اللہ عنہ نے (طلوع فجر سے قبل) رات کو ہی اذان کہہ دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ عرض کیا: میں اونگھتے ہوئے اٹھا، میں نے سمجھا کہ فجر طلوع ہو چکی ہے تو میں نے اذان کہہ دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ مدینہ میں تین مرتبہ یہ اعلان کریں: ’بندے (بلال) پر نیند کا غلبہ تھا (اس لیے پہلے اذان کہہ دی)۔‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو اپنے پاس بٹھالیا، یہاں تک کہ جب فجر طلوع ہوئی تو فرمایا: اب اٹھیے (اور اذان کہیے)۔“
(سنن أبي داود: 532، السنن الكبرى للبيهقي: 1800)
روایت ضعیف ہے۔ اس روایت کو موصول بیان کرنا خطا ہے۔
❀ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هو ضعيف لا يصح
”یہ روایت ضعیف و غیر ثابت ہے۔“
(السنن الكبرى، تحت الرقم: 1799)
❀ حمید بن ہلال رحمہ اللہ سے مروی ہے:
إن بلالا أذن ليلة بسواد فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يرجع إلى مقامه فينادي إن العبد نام
”سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اندھیرے کی وجہ سے (طلوع فجر سے پہلے) رات کو ہی اذان کہہ دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنی جگہ پر واپس جائیں اور اعلان کریں کہ بندے (بلال) پر نیند کا غلبہ ہو گیا تھا۔“
(سنن الدارقطني: 957)
سند مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ حمید بن ہلال تابعی ہیں، وہ عہد نبوی کے واقعہ کی خبر کیسے دے سکتے ہیں؟
❀ قبیلہ بنو نجار کی ایک صحابیہ سے مروی ہے:
كان بيتي من أطول بيت حول المسجد وكان بلال يؤذن عليه الفجر فيأتي بسحر فيجلس على البيت ينظر إلى الفجر فإذا رآه تمطى ثم قال اللهم إني أحمدك وأستعينك على قريش أن يقيموا دينك قالت ثم يؤذن قالت والله ما علمته كان تركها ليلة واحدة تعني هذه الكلمات
”مسجد نبوی کے اردگرد والے گھروں میں سے میرا گھر سب سے اونچا تھا، بلال رضی اللہ عنہ اس پر چڑھ کر اذان فجر کہا کرتے تھے، آپ رضی اللہ عنہ سحری کے وقت آ جاتے، چھت پر ہی بیٹھے رہتے اور طلوع فجر کو دیکھتے رہتے، جب اسے دیکھ لیتے تو انگڑائی لیتے، پھر یہ دعا پڑھتے: اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ وَأَسْتَعِينُكَ عَلَى قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ اللہ! میں تیری ہی حمد بیان کرتا ہوں اور تجھ سے ہی کفار قریش پر مدد مانگتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم کریں۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ اذان کہتے۔ اللہ کی قسم! میں نہیں جانتی کہ انہوں نے یہ کلمات ایک رات بھی ادا نہ کیے ہوں۔“
(سنن أبي داود: 519، السنن الكبرى للبيهقي: 1/425)
سند ضعیف ہے۔
➊ احمد بن محمد بن ایوب بغدادی نے ابراہیم بن سعد سے مغازی نہیں سنیں۔
❀ اسحاق بن ابی اسرائیل رحمہ اللہ کے قول سے یہی معلوم ہوتا ہے۔
(الكامل لابن عدي: 1/285، وسنده صحيح)
❀ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔
(سؤالات ابن الجنيد: 863)
➋ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کا نجار یہ صحابیہ سے سماع معلوم نہیں ہو سکا۔
❀ سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا أذن المؤذن بالفجر قام فصلى ركعتي الفجر ثم خرج إلى المسجد وحرم الطعام وكان لا يؤذن حتى يصبح
”جب مؤذن فجر کی اذان کہہ دیتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فجر کی دو سنت ادا کرتے، پھر مسجد کی طرف جاتے، (روزہ دار کے لیے) کھانا ممنوع قرار دیتے، مؤذن اسی وقت اذان کہتا تھا جب صبح طلوع ہو جاتی۔“
(شرح معاني الآثار للطحاوي: 1/140، وسنده حسن)
سوال:
روزے کی زبانی نیت کا کیا حکم ہے؟
جواب:
ثابت نہیں۔
سوال:
روزے کی نیت کرتے وقت یہ الفاظ بصوم غد نويت من شهر رمضان پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:
روزے کی نیت کرتے وقت یہ الفاظ کہے جاتے ہیں:
بصوم غد نويت من شهر رمضان
”میں کل کے روزے کی نیت کرتا ہوں۔“
یہ الفاظ معنی کے اعتبار سے بھی درست نہیں۔ جس دن کا روزہ رکھا جا رہا ہے، اس کی نیت میں یہ کہنا کہ میں کل کے روزے کی نیت کرتا ہوں، مضحکہ خیز ہے۔
❀ علامہ ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ نے ان الفاظ کو بے اصل قرار دیا ہے۔
(مرقاة المفاتيح: 4/1387)
نیت دل کے قصد و ارادے کا نام ہے، زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔
سوال:
کیا سحری کھانا مستحب ہے؟
جواب:
سحری کھانا مسنون و مستحب ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے اور رخصت پر عمل کرنا محبوب ہے۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ
”کھاؤ پیو، یہاں تک کہ فجر کا سفید دھاگہ کالے دھاگے سے واضح ہو جائے۔“
(2-البقرة:187)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
في إباحته تعالى جواز الأكل إلى طلوع الفجر دليل على استحباب السحور لأنه من باب الرخصة والأخذ بها محبوب ولهذا وردت السنة الثابتة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحث على السحور لأنه من باب الرخصة
”اللہ تعالیٰ کا طلوع فجر تک کھانے (پینے) کی اجازت دینا اس بات پر دلیل ہے کہ سحری کرنا مستحب ہے، کیونکہ یہ رخصت کی قبیل سے ہے اور رخصت پر عمل کرنا محبوب ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت حدیث میں سحری کرنے کی ترغیب وارد ہوئی ہے، کیونکہ یہ رخصت ہے۔“
(تفسير ابن كثير: 1/513)
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تسحروا فإن في السحور بركة
”سحری کیجئے، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔“
(صحيح البخاري: 1923، صحيح مسلم: 1095)
❀ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
صمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم رمضان فلم يقم بنا شيئا من الشهر حتى بقي سبع فقام بنا حتى ذهب ثلث الليل فلما كانت السادسة لم يقم بنا فلما كانت الخامسة قام بنا حتى ذهب شطر الليل فقلت يا رسول الله لو نفلتنا قيام هذه الليلة قال فقال إن الرجل إذا صلى مع الإمام حتى ينصرف حسب له قيام ليلة قال فلما كانت الرابعة لم يقم فلما كانت الثالثة جمع أهله ونساءه والناس فقام بنا حتى خشينا أن يفوتنا الفلاح قال قلت وما الفلاح قال السحور ثم لم يقم بقية الشهر
”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام نہیں کروایا، تئیسویں شب کا تہائی حصہ قیام کروایا۔ چوبیسویں کو قیام نہیں کروایا، پھر پچیسویں کو نصف رات تک قیام کروایا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش کہ آپ پوری رات قیام کرواتے۔ فرمایا: باجماعت نماز پڑھنے پر پوری رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے۔ چھبیسویں رات قیام نہیں کروایا۔ ستائیسویں شب صحابہ کرام کو بمع اہل و عیال قیام کروایا، تا آنکہ ہمیں خدشہ ہوا کہ ہم فلاح سے محروم نہ رہ جائیں۔ راوی نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: فلاح سے کیا مراد ہے؟ کہا: سحری۔ پھر بقیہ ایام قیام نہیں کروایا۔“
(مسند الإمام أحمد: 5/159، سنن أبي داود: 1375، سنن النسائي: 1606، سنن الترمذي: 806، سنن ابن ماجه: 1327، وسنده صحيح)
❀ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في شهر رمضان ليلة ثلاث وعشرين إلى ثلث الليل الأول ثم قمنا معه ليلة خمس وعشرين إلى نصف الليل ثم قمنا معه ليلة سبع وعشرين حتى ظننا أن لا ندرك الفلاح وكانوا يسمونه السحور
”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کی تئیسویں شب کا تہائی حصہ قیام کیا۔ پھر پچیسویں کو نصف رات، ستائیسویں کو اتنا لمبا قیام کیا کہ ہمیں سحری فوت ہونے کا خدشہ ہوا۔“
(مسند الإمام أحمد: 4/272، سنن النسائي: 1607، وسنده صحيح)
امام حاکم رحمہ اللہ (1/440) نے اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنا معشر الأنبياء أمرنا أن نؤخر سحورنا ونعجل فطرنا وأن نمسك بأيماننا على شمائلنا في صلاتنا
”ہم انبیا کو حکم دیا گیا کہ ہم سحری میں تاخیر کریں اور افطاری میں جلدی کریں، نیز (حکم دیا گیا کہ) ہم نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر باندھیں۔“
(المعجم الكبير للطبراني: 11/199، وسنده صحيح)
امام ابن حبان رحمہ اللہ (1770) نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
❀ حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
(تنوير الحوالك: 1/133)
یہ تمام احادیث دلیل ہیں کہ سحری کرنا پہلے انبیائے کرام کی بھی سنت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی سنت ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی عمل ہے، سحری کے مستحب ہونے کو یہی کافی ہے۔
سوال:
غسل واجب تھا، تاخیر سے اٹھا ہے سحری کا کیا حکم ہے؟
جواب:
سحری کھا لے، بعد میں غسل کر لے۔
سوال:
سحری اور افطاری کے لیے سائرن بجتے ہیں، یا اعلان ہوتے ہیں، ایسا کرنا شرعاً کیسا ہے؟
جواب:
جائز نہیں۔ اذان پر روزہ رکھا جائے اور اذان پر ہی افطار کیا جائے۔
سوال:
سحری کے وقت پان منہ میں رکھ کر سو گیا، جب جاگ آئی تو صبح ہو چکی تھی، روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
جاگ آنے کے بعد پان باہر پھینک دے اور کلی کر لے، روزہ درست ہے۔
سوال:
روزوں میں ”وصال“ کا کیا حکم ہے؟
جواب:
روزوں میں وصال سے مراد یہ ہے کہ غروب آفتاب کے بعد افطار نہ کرنا اور ساری رات بھوکے پیاسے گزارنا، یہاں تک کہ اگلے روزے کی سحری کا وقت ہو جائے، تو گویا ایک روزے کو دوسرے روزے سے ملا دیا گیا ہے۔
روزوں میں وصال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جائز تھا، امتیوں کے لیے مکروہ ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الوصال فقيل إنك تواصل فقال إني لست كأحدكم إني أبيت أطعم وأسقى
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال (افطاری کیے بغیر پہلے روزے کو جاری رکھنا) سے منع فرمایا ہے۔ کسی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ تو وصال کرتے ہیں؟ فرمایا: میں تمہاری طرح تو نہیں ہوں، مجھے رات کو کھلا پلا دیا جاتا ہے۔“
(صحيح البخاري: 1922، صحيح مسلم: 1102، المنتقى لابن الجارود: 394)
سوال:
بغیر سحری روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
روزہ نفل ہو یا فرض، اس کے لیے سحری کرنا مستحب مسنون اور باعث خیر و برکت ہے، البتہ اس کے بغیر روزہ درست ہے، بشرطیکہ روزے کی نیت کی ہو۔
سوال:
ایک انسان نے سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد سگریٹ یا حقہ پی لیا، یہ سمجھ کر کہ ابھی وقت باقی ہے، اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
سگریٹ اور حقہ ناجائز ہے۔ مگر شک کی بنا پر ایسا ہوا، لہذا روزہ درست ہے۔
سوال:
اگر فرض روزے کی سحری نہ کر سکے، بعد میں جاگ آئے تو کیا کرے؟
جواب:
اگر فجر سے پہلے تک روزہ کی نیت تھی تو بغیر سحری کیے روزہ رکھا جا سکتا ہے۔
سوال:
صبح سویرے آنکھ کھلی، سحری نہیں کی، نہ روزے کی نیت کی تو کیا حکم ہے؟
جواب:
اگر فرض روزہ ہے تو بغیر نیت کے جائز نہیں۔ البتہ نفل روزے کی نیت طلوع آفتاب کے بعد بھی ہو سکتی ہے، بشرطیکہ طلوع فجر تک کچھ کھایا پیا نہ ہو۔
سوال:
سحری کھانے کے بعد طلوع فجر سے پہلے بیوی سے جماع کر لیا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
کوئی حرج نہیں، روزہ جاری رکھے۔
سوال:
بے خبری میں فجر کی اذان کے بعد سحری کھائی تو کیا حکم ہے؟
جواب:
روزہ جاری رکھے، کچھ حرج واقع نہیں ہوا۔
سوال:
جان بوجھ کر وقت سے پہلے روزہ افطار کرنا کیسا ہے؟
جواب:
جان بوجھ کر روزہ وقت سے پہلے افطار کرنا گناہ ہے۔ اس پر وعید آئی ہے۔
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بينا أنا نائم إذ أتاني رجلان فأخذا بضبعي وأتيا بي جبلا فقالا لي اصعد فقلت إني لا أطيقه فقالا إنا سنسهله لك قال فصعدت حتى إذا كنت في سواء الجبل إذا أنا بأصوات شديدة فقلت ما هذه الأصوات قال هذا عواء أهل النار ثم انطلق بي فإذا بقوم معلقين بعراقيبهم منشقة أشداقهم تسيل أشداقهم دما قال قلت من هؤلاء قال هم الذين يفطرون قبل تحلة صومهم
”ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا کہ خواب میں میرے پاس دو فرشتے آئے، انہوں نے مجھے میرے بازؤں سے پکڑا اور ایک پہاڑ کے پاس لے آئے، مجھے کہنے لگے: اس کے اوپر چڑھیے، میں نے کہا: میں چڑھ نہیں پاؤں گا۔ انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے چڑھنا آسان کر دیں گے، (بس آپ چڑھنے کی کوشش کیجئے)۔ تو میں پہاڑ پر چڑھا، یہاں تک کہ جب میں پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو مجھے اونچی اونچی آوازیں سنائی دیں، میں نے پوچھا: یہ آوازیں کیسی؟ فرشتے نے کہا: یہ آگ کے عذاب میں مبتلا لوگوں کی چیخ و پکار ہے۔ پھر مجھے فرشتہ اور آگے لے کر آیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ اُلٹے لٹکائے گئے ہیں، ان کے جبڑے چیرے ہوئے تھے جن سے مسلسل خون بہہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ فرشتے نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے روزہ افطار کر دیتے تھے۔“
(المعجم الكبير للطبراني: 8/155، إثبات عذاب القبر للبيهقي: 98، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1986)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (7491) نے صحیح قرار دیا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (1568) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
سوال:
افطار کا وقت کب شروع ہوتا ہے؟
جواب:
جب سورج غروب ہو جائے تو مغرب کا وقت شروع ہو جاتا ہے، یہی افطار کا وقت ہے، ائمہ اہل سنت کا اس پر اجماع ہے۔
روافض کہتے ہیں کہ افطار کا وقت سورج غروب ہونے کے بعد اس وقت شروع ہوتا ہے جب ستارے طلوع ہونے لگیں۔ یہ بے دلیل موقف ہے، بلکہ کئی نصوص اس کے برعکس ہیں۔
❀ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ (795ھ) ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
هذا الحديث والذي قبله يدلان على أن مجرد غيبوبة القرص يدخل به وقت صلاة المغرب كما يفطر الصائم بذلك وهذا إجماع من أهل العلم حكاه ابن المنذر وغيره والظاهر أنه قول طائفة من أهل البدع كالروافض ونحوهم ولم يقل أحد من العلماء المعتد بهم
”یہ اور اس سے پہلے والی حدیث دلیل ہیں کہ سورج کی ٹکیا غائب ہونے پر مغرب کا وقت داخل ہو جاتا ہے، اس پر روزہ دار افطار کر سکتا ہے، اس پر اہل علم کا اجماع ہے، جسے امام ابن منذر رحمہ اللہ وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ (غروب آفتاب کے بعد ستاروں کے طلوع ہونے کا انتظار کرنا) یہ اہل بدعت کے ایک گروہ روافض وغیرہ کا مذہب ہے، کسی قابل اعتماد عالم نے یہ مؤقف اختیار نہیں کیا۔“
(فتح الباري: 4/352-353)
سوال:
کیا غروب آفتاب کے بعد روزہ جلدی افطار کرنا مسنون و مستحب ہے؟
جواب:
روزہ جلدی افطار کرنا انبیا کی سنت اور اہل سنت کا شعار ہے۔ احادیث متواترہ اور اجماع امت اس پر دلالت کرتی ہیں اور اسی میں امت کی خیر پنہاں ہے۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ
”روزہ رات تک مکمل کرو۔“
(البقرة: 187)
پوری امت کا اجماع ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جوں ہی سورج غروب ہو، روزہ افطار کر دیا جائے۔ احادیث صحیحہ اس کی تائید کرتی ہیں۔
❀ بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صوموا كما أمركم الله وأتموا الصيام إلى الليل فإذا كان الليل فأفطروا
”روزہ ایسے رکھیں جیسے اللہ نے حکم دیا ہے اور روزہ رات تک مکمل کریں، جوں ہی رات داخل ہو، افطار کر لیں۔“
(مسند الإمام أحمد: 5/225، وسنده صحيح)
❀ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أقبل الليل من ها هنا وأدبر النهار من ها هنا وغربت الشمس فقد أفطر الصائم
”جب اس (مغرب کی) طرف سے رات نمودار ہو جائے، اس (مشرق کی) طرف سے دن ختم ہو جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزے دار کی افطاری کا وقت ہو جاتا ہے۔“
(صحيح البخاري: 1954، صحيح مسلم: 1100)
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر
”لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے۔“
(صحيح البخاري: 1957، صحيح مسلم: 1098)
شرح الحدیث:
❀ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (311ھ) نے حدیث پر بایں الفاظ باب قائم کیا ہے:
باب ذكر دوام الناس على الخير ما عجلوا الفطر وفيه كالدلالة على أنهم إذا أخروا الفطر وقعوا في الشر
”اس بات کا بیان ہے کہ لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے، اس کا مفہوم مخالف یہ ہوگا کہ جب افطار میں تاخیر کریں گے تو شر میں واقع ہو جائیں گے۔“
(صحيح ابن خزيمة قبل الحديث: 2059)
❀ قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) فرماتے ہیں:
ظاهره أنه عليه السلام أشار أن فساد الأمور يتعلق بتغير هذه السنة التي هي تعجيل الفطر وأن تأخيره ومخالفة السنة في ذلك كالعلم على فساد الأمور
”اس حدیث کا ظاہر یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا ہے کہ (دنیوی و اخروی) معاملات کی بربادی کا سبب جلد افطار کرنے کی سنت کو بدلنا ہے۔ نیز افطاری میں تاخیر اور اس حوالے سے سنت کی مخالفت کرنا، جانتے بوجھتے امور (دین و دنیا) کو برباد کرنے کے مترادف ہے۔“
(إكمال المعلم بشرح صحيح مسلم: 4/34)
❀ علامہ توربشتی رحمہ اللہ (661ھ) فرماتے ہیں:
”روزہ جلدی افطار کرنے میں یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہے، یہ ستاروں کے طلوع ہونے پر افطار کرتے تھے، پھر یہ ہماری امت میں اہل بدعت کا شعار بن چکا ہے، یہ ان کی نشانی ہے، حالانکہ اس عمل پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی نہیں تھے۔“
(الميسر في شرح مصابيح السنة: 2/463، المرقاة للملا علي: 4/1381)
❀ حافظ ابن دقیق العید رحمہ اللہ (702ھ) فرماتے ہیں:
تعجيل الفطر بعد تيقن الغروب مستحب باتفاق ودليله هذا الحديث وفيه دليل على المتشيعة الذين يؤخرون إلى ظهور النجم ولعل هذا هو السبب في كون الناس لا يزالون بخير ما عجلوا الفطر لأنهم إذا أخروه كانوا داخلين في فعل خلاف السنة ولا يزالون بخير ما فعلوا السنة
”غروب شمس کے یقین ہو جانے کے فوراً بعد افطار کرنا بالاتفاق مستحب ہے، اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔ نیز اس میں شیعہ کا رد ہے جو افطار میں تاخیر کرتے ہیں اور ستاروں کے طلوع ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ شاید لوگوں کے خیر پر رہنے کا سبب جلدی افطار کرنا ہے، کیونکہ اگر وہ افطار تاخیر سے کریں گے تو خلاف سنت عمل کے مرتکب ٹھہریں گے اور خیر پر تب تک رہیں گے جب تک سنت پر عمل پیرا رہیں گے۔“
(إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام: 2/26)
❀ علامہ ابن العطار رحمہ اللہ (724ھ) فرماتے ہیں:
في الحديث دليل على استحباب تعجيل الفطر بعد تحقق غروب الشمس وقد اتفق العلماء عليه وفيه الرد على المتشيعة الذين يؤخرون الفطر إلى ظهور النجم ولعل المراد بالحديث الرد عليهم وفيه الحث على اتباع السنة وترك مخالفتها وأن فساد الأمر بتركها والله أعلم
”یہ حدیث دلیل ہے کہ غروب آفتاب کے یقین ہو جائے تو اس کے فوراً بعد روزہ افطار کرنا مستحب ہے۔ اس پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ نیز حدیث میں شیعہ کا رد ہے جو افطار کو ستارے ظاہر ہونے تک مؤخر کرتے ہیں، ممکن ہے کہ حدیث میں انہیں کا رد مقصود ہو، اسی طرح حدیث میں سنت کا اتباع کرنے اور اس کی مخالفت کو ترک کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، نیز دلیل ہے کہ دین کا فساد سنت کو ترک کرنے میں ہے، واللہ اعلم۔“
(العدة في شرح العمدة: 2/883)
❀ علامہ زیلعی حنفی رحمہ اللہ (743ھ) فرماتے ہیں:
فيه دليل على الرد على الشيعة الذين يؤخرون الفطر إلى ظهور النجم لأنهم إذا أخروه كان على خلاف السنة
”اس حدیث میں شیعہ کا رد ہے جو ستاروں کے طلوع ہونے تک افطاری میں تاخیر کرتے ہیں، کیونکہ یہ تاخیر خلافت سنت ہے۔“
(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق: 1/343)
❀ علامہ ابن ملقن رحمہ اللہ (804ھ) فرماتے ہیں:
التعجيل رد على الشيعة الذين يؤخرون إلى ظهور النجوم
”روزہ جلدی افطار کرنے میں شیعہ کا رد ہے جو افطاری کو ستاروں کے طلوع ہونے تک مؤخر کرتے ہیں۔“
(التوضيح لشرح الجامع الصحيح: 13/400)
❀ علامہ محمد طاہر فتنی حنفی رحمہ اللہ (986ھ) فرماتے ہیں:
فيه رد على المتشيعة الذين يؤخرون إلى ظهور النجوم
”اس حدیث میں شیعہ کا رد ہے جو افطار کو ستارے ظاہر ہونے تک مؤخر کرتے ہیں۔“
(مجمع بحار الأنوار: 5/530)
❀ تابعی کبیر ابو عطیہ وادعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
دخلت أنا ومسروق على عائشة فقلنا يا أم المؤمنين رجلان من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم أحدهما يعجل الإفطار ويعجل الصلاة والآخر يؤخر الإفطار ويؤخر الصلاة قالت أيهما الذي يعجل الإفطار ويعجل الصلاة قال قلنا عبد الله يعني ابن مسعود قالت كذلك كان يصنع رسول الله صلى الله عليه وسلم
”میں اور مسروق رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، ہم نے کہا: ام المؤمنین! دو صحابی ہیں، ایک جلدی افطار کر لیتے ہیں اور نماز بھی جلدی ادا کرتے ہیں، جبکہ دوسرے (تھوڑی) تاخیر سے افطار کرتے ہیں اور نماز میں بھی تاخیر کر دیتے ہیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: وہ کون ہیں جو افطار اور نماز میں جلدی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، تو سیدہ نے فرمایا: جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔“
(صحيح مسلم: 1099)
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يزال الدين ظاهرا ما عجل الناس الفطر لأن اليهود والنصارى يؤخرون
”دین تب تک غالب رہے گا جب تک لوگ جلدی افطار کرتے رہیں گے، کیونکہ یہود و نصاریٰ افطار میں تاخیر کرتے ہیں۔“
(سنن أبي داود: 2353، السنن الكبرى للنسائي: 3313، سنن ابن ماجه: 1698، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2060)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (3503) نے صحیح قرار دیا ہے اور امام حاکم رحمہ اللہ (1/431) نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ حافظ نووی رحمہ اللہ (المجموع: 6/404) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
❀ حافظ بوصیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا إسناده صحيح ورجاله ثقات
”یہ سند صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔“
(مصباح الزجاجة: 2/71)
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قط صلى صلاة المغرب حتى يفطر ولو على شربة من ماء
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے افطار کیے بغیر مغرب کی نماز پڑھائی ہو، چاہے پانی کے ایک گھونٹ پر ہی افطار کر لیں۔“
(صحيح ابن حبان: 3504، وسنده صحيح)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنا معشر الأنبياء أمرنا أن نؤخر سحورنا ونعجل فطرنا وأن نمسك بأيماننا على شمائلنا في صلاتنا
”ہم انبیا کو حکم دیا گیا کہ ہم سحری میں تاخیر کریں اور افطاری میں جلدی کریں، نیز (حکم دیا گیا کہ) ہم نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر باندھیں۔“
(المعجم الكبير للطبراني: 11/199، وسنده صحيح)
امام ابن حبان رحمہ اللہ (1770) نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
❀ حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
(تنوير الحوالك: 1/133)
❀ان تمام احادیث کے متعلق حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
هي متواترة صحاح
”یہ احادیث متواتر اور صحیح ہیں۔“
(الاستذكار: 3/345)
❀ علامہ ابن رشد قرطبی رحمہ اللہ (595ھ) لکھتے ہیں:
أجمعوا على أن من سنن الصوم تأخير السحور وتعجيل الفطر
”فقہا کا اجماع و اتفاق ہے کہ سحری میں تاخیر اور افطار میں جلدی کرنا روزے کی سنن میں شامل ہے۔“
(بداية المجتهد ونهاية المقتصد: 1/404)
❀ علامہ ابن الاثیر رحمہ اللہ (606ھ) فرماتے ہیں:
تعجيل الإفطار سنة متفق عليها
”افطار میں جلدی کرنا بالاتفاق سنت ہے۔“
(الشافي في شرح مسند الشافعي: 3/198)
❀ امام ابو جمرہ ضبعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إنه كان يفطر مع ابن عباس في رمضان فكان إذا أمسى بعث ربيبا له يصعد ظهر الدار فلما غربت الشمس أذن فيأكل ونأكل فإذا فرغ أقيمت الصلاة فيقوم يصلي ونصلي معه
”آپ رحمہ اللہ (عالم اہل بیت) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ہمراہ رمضان میں افطاری کیا کرتے تھے۔ جب شام ہوتی تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے سوتیلے بیٹے کو بھیجتے کہ وہ گھر کی چھت پر چڑھے۔ جوں ہی سورج غروب ہوتا وہ خبر دیتا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کھانا شروع کر دیتے، ہم بھی کھانے لگ جاتے، کھانے سے فارغ ہوتے تو اقامت کہی جاتی، آپ رضی اللہ عنہما کھڑے ہوتے اور نماز پڑھاتے، ہم بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھتے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/12، وسنده صحيح)
المیہ:
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
صاروا لا يؤذنون إلا بعد الغروب بدرجة لتمكين الوقت زعموا فأخروا الفطر وعجلوا السحور وخالفوا السنة فلذلك قل عنهم الخير وكثر فيهم الشر والله المستعان
”اب لوگوں کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ وہ غروب شمس کے ایک وقت بعد اذان دیتے ہیں، اس خیال سے کہ وقت پوری طرح داخل ہو جائے، افطاری تاخیر سے کرتے ہیں اور سحری جلدی کرتے ہیں، سنت کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں، اسی لیے ان میں خیر کم اور شر زیادہ ہے۔ باقی، اللہ ہی مددگار ہے۔“
(فتح الباري شرح صحيح البخاري: 4/199)
❀ علامہ ابن رجب رحمہ اللہ (795ھ) فرماتے ہیں:
إنه قول طائفة من أهل البدع كالروافض ونحوهم ولم يقل أحد من العلماء المعتد بهم
”افطار میں تاخیر کرنا اہل بدعت روافض وغیرہ کا مذہب ہے، معتمد علیہ علما میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔“
(فتح الباري لابن رجب: 4/353)
تنبیہ:
❀ حمید بن عبدالرحمن مدنی رحمہ اللہ سے مروی ہے:
إن عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان كانا يصليان المغرب حين ينظران إلى الليل الأسود قبل أن يفطرا ثم يفطران بعد الصلاة وذلك في رمضان
”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب دیکھتے کہ رات ہو رہی ہے تو افطار کرنے سے پہلے مغرب کی نماز ادا کرتے، پھر نماز مغرب کے بعد افطار کرتے تھے، یہ آپ کے رمضان کا معمول تھا۔“
(موطأ الإمام مالك: 1/289)
سند ضعیف ہے۔ حمید بن عبدالرحمن کا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الصحيح أنه لم يدركه
”صحیح یہ ہے کہ حمید نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔“
(تاريخ الإسلام: 2/1085)
حمید کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی سماع نہیں۔ اس پر قرائن موجود ہیں۔
➊ حمید نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بغیر واسطہ کے ایک یا دو روایتیں ہی بیان کی ہیں، جن میں احتمال ہے، تصریح نہیں، جبکہ باقی تمام روایات ایک راوی کے واسطہ سے بیان کی ہیں۔
➋ امام ابو زرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”حمید کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے۔“
(المراسيل لابن أبي حاتم، ص 49)
جب علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں تو یقیناً عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی نہیں۔
➌ جمہور ائمہ حدیث نے حمید کا سن وفات 105ھ ذکر کیا ہے، اس بنا پر کہا جا سکتا ہے حمید کا عثمان رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں۔
طبقات ابن سعد (5/117) اور شرح معانی الآثار للطحاوی (1/155) میں حمید بن عبدالرحمن نے رأيت عمر وعثمان کہا ہے۔
یہ روایت زہری کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ زہری نے جہاں سماع کی تصریح کی ہے، وہاں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ یا یہ الفاظ کسی راوی کا وہم ہیں۔
تنبیہ:
ابن ابی شیبہ کہتے ہیں: حدثنا عبدالأعلى عن معمر عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن أن عمر وعثمان كانا يصليان المغرب إذا رأيا الليل كانا يفطران قبل أن يصليا۔
”سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما رات طلوع ہوتے ہی مغرب کی نماز ادا کر لیتے تھے اور نماز سے پہلے افطاری کرتے تھے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/105)
سوال:
افطاری کی دعا کیا ہے؟
جواب:
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کے وقت یہ دعا پڑھتے: dua
ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
”پیاس چلی گئی، رگیں تر ہو گئیں اور اللہ نے اگر چاہا تو اجر ثابت ہو گا۔“
(سنن أبي داود: 2357، عمل اليوم والليلة للنسائي: 299، وسنده حسن)
❀ امام دارقطنی رحمہ اللہ اس حدیث کی سند کو حسن کہا ہے۔
(سنن الدارقطني: 2/182)
امام حاکم رحمہ اللہ (1/422) نے اس حدیث کو بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
سوال:
درج ذیل روایت کی استنادی حیثیت کیا ہے؟
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاثة ليس عليهم حساب فيما طعموا إذا كان حلالا الصائم والمتسحر والمرابط في سبيل الله
”تین طرح کے لوگ حلال کھائیں تو ان سے کھانے کے متعلق حساب نہیں ہوگا؛ روزہ دار (روزہ افطار کرنے والا)، سحری کھانے والا، راہ خدا میں پہرہ دینے والا۔“
(المعجم الكبير للطبراني: 12012)
جواب:
روایت من گھڑت ہے۔
➊ ابو صباح عبدالغفور واسطی ”وضاع“ ہے۔
➋ عبداللہ بن عصمہ ”مجہول“ ہے۔
تنبیہ:
اس معنی کی روایات دیگر صحابہ سے بھی مروی ہیں، سب کی سب ضعیف و باطل ہیں۔
سوال:
رمضان میں نماز مغرب کی جماعت چند منٹ تاخیر سے ادا کرنا کیسا ہے؟
جواب:
رمضان میں لوگوں نے افطاری کرنی ہوتی ہے، اس وجہ سے پانچ دس منٹ تاخیر سے نماز مغرب کی جماعت کھڑی کی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ یہ بہتر ہے تا کہ سب لوگ جماعت میں بآسانی شریک ہو جائیں۔
سوال:
افطار کی دعا کب پڑھنی چاہیے؟
جواب:
بسم اللہ پڑھ کر افطار کریں، افطار کرنے کے بعد دعا پڑھ لیں۔
سوال:
افطاری کی دعا اللهم لك صمت بلحاظ سند کیسی ہے؟
جواب:
یہ دعا سنن ابی داود (2358) میں آتی ہے، مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ معاذ بن زہرہ تابعی ہیں، براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر رہے ہیں۔
سوال:
کیا دوسروں کے پاس افطار کرنے کا ثواب زیادہ ہے؟
جواب:
بعض یہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کے کھانے سے افطار کرنے سے روزے کا ثواب زیادہ ملتا ہے، مگر یہ بات شرعی دلیل سے ثابت نہیں۔
سوال:
حالت روزہ میں فوت ہو گیا، روزہ افطار نہ کیا تھا، کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں؟
جواب:
پڑھی جائے گی۔
سوال:
غروب آفتاب سمجھ کر روزہ افطار کر لیا مگر بعد میں سورج نظر آ گیا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
وہ روزہ مکمل کرے، اس کا روزہ درست ہے، اس پر قضا نہیں۔ یہ بھول کر کھانے پینے کے مترادف ہے۔
سوال:
روزہ کس چیز سے افطار کرنا بہتر ہے؟
جواب:
افضل یہ ہے کہ کھجور سے افطار کرے، جیسا کہ بعض روایات سے ثابت ہے۔ طبی ماہرین بھی یہی کہتے ہیں۔
سوال:
رنڈی اور ہندو کی افطاری سے افطار کرنا کیسا ہے؟
جواب:
جائز ہے۔
سوال:
ایک شخص نے حقہ سے روزہ افطار کیا تو کیا افطار ہوا یا نہیں؟
جواب:
بلاشبہ حقہ نوشی ممنوع اور ناجائز ہے، مگر اس سے روزہ افطار کرنے سے روزہ ادا ہو جائے گا۔
سوال:
ایک شخص کو تین افراد مل کر افطاری کراتے ہیں، مگر افطاری کرنے والے نے صرف ایک شخص کا کھانا کھایا، کیا تینوں کو ثواب ملے گا؟
جواب:
جی ہاں، تینوں کو ثواب ملے گا۔
سوال:
مندرجہ ذیل روایت کی سند کیسی ہے؟
❀ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا، واپسی کا قصد کیا تو فرمایا:
أكل طعامكم الأبرار وأفطر عندكم الصائمون وصلت عليكم الملائكة
”آپ کا کھانا نیک لوگ کھائیں، روزے دار آپ کے پاس افطاری کرتے رہیں، فرشتے آپ کے لیے دعائے رحمت کریں۔“
(شرح مشكل الآثار للطحاوي: 1577، مسند البزار (كشف الاستار: 2007)، السنن الكبرى للبيهقي: 7/287)
جواب:
اس کی سند حسن ہے۔