سود کی حرمت اور قرض کے احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

سود کی حرمت

اسلام نے تجارت کے ذریعہ مال کو نفع بخش بنانا (بڑھوتری کے لیے تجارت کرنا) جائز قرار دیا ہے۔ ارشاد الہی ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ
”اے ایمان لانے والو ! ایک دوسرے کے مال باطل طریقہ سے نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی مال باہمی رضا مندی سے تجارت کے ذریعہ حاصل ہو جائے۔“
(سورہ النساء : 29)
اور تجارت کی غرض سے سفر کرنے والوں کی اللہ تعالی نے تعریف کی ہے۔ لیکن اسلام نے سود کے ذریعہ مال کو نفع بخش بنانے کا ہر طریقہ ختم کر دیا ہے۔ چنانچہ سود کی ہر مقدار خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر، حرام ٹھہرائی ہے۔ اور یہودیوں کی خوب مذمت کی ہے کہ وہ بد باطن لوگ ممانعت کے باوجود سود کھاتے رہے۔ سورۃ بقرہ کی درج ذیل آیتیں قرآن کے آخری نازل شدہ حصہ سے تعلق رکھتی ہیں :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ 278 فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ
”اے ایمان لانے والو ! اللہ سے ڈرو اور جو سود تمہارا باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر واقعی تم مومن ہو لیکن اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو خبر دار ہو جاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔ اگر تم توبہ کر لو تو اصل زر لینے کا تمہیں حق ہے۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔“
(سورہ البقرة : 278-279)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود اور سود خواروں دونوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور واضح کر دیا کہ سود سماج کے لیے نہایت خطرناک اور مہلک مرض ہے : جب کسی بستی میں سود اور زنا کا ظہور ہو جاتا ہے تو لوگ اللہ کے عذاب کو دعوت دیتے ہیں۔
مستدرک حاکم : 4/ 118 معجم الکبیر للطبرانی : 10/ 460
آسمانی مذاہب میں اسلام پہلا دین نہیں ہے کہ جس نے سود کو حرام ٹھہرایا ہو بلکہ یہودی مذہب میں بھی سود حرام تھا، چنانچہ عہد قدیم میں ہے :
جب تیرا بھائی محتاج ہو، تو اس کی مدد کر اس سے فائدہ اور نفع طلب نہ کر۔
خروج 22: 24
اور نصرانی مذہب کے بارے میں انجیل لوقا میں ہے :
بھلائی کے کام کرو اور قرض دو اس کی واپسی کا انتظار کیے بغیر ایسی صورت میں تمہارا اجر بڑا ہوگا۔
لوقا 6 : 24-25
افسوسناک بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں تحریف کر کے بھائی کا مفہوم خاص طور سے یہودی لے لیا گیا۔ چنانچہ کتاب ”سفر تثنیہ الاشتراء“ میں ہے : تو پردیسی کو سود پر قرض دے تو دنے پر اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا۔
استثناء 23 : 20

حرمت سود کی مصلحت

اسلام نے سود کو سخت شدید حرام قرار دینے میں انسان کے اخلاقی اجتماعی اور اقتصادی مصالح کا لحاظ و خیال کیا ہے۔ علمائے اسلام نے اس کی معقول وجوہ بیان کی ہیں اور جدید تحقیقات نے بھی ان مصلحتوں کو مزید واضح کر دیا ہے۔ امام رازی رحمہ اللہ نے اس مسئلہ پر جو روشنی ڈالی ہے اس کو بیان کرنے پر ہم اکتفاء کریں گے :
اولاً : سود اس بات کا متقاضی ہے کہ انسان کا مال بلا عوض حاصل کیا جائے، جو شخص ایک درہم کو دو درہم کے بدلہ فروخت کرتا ہے اس کو بلا عوض ایک درہم زیادہ مل جاتا ہے۔ حالانکہ انسان کا مال ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہے اور بڑی حرمت والی چیز ہے چنانچہ حدیث میں آیا ہے۔
انسان کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی طرح ہے۔
ابو نعیم فی حلیۃ الاولیاء : 7/ 334 دارقطنی : 3/ 26 مجمع الزوائد : 4/ 172
لہذا بغیر معاوضہ کے مال حاصل کرنا حرام ہونا ہی چاہیے۔
ثانیاً : سود پر اعتماد کرنے کے نتیجہ میں لوگ محنت کے ذریعہ کمانے سے جی چرانے لگیں گے۔ کیونکہ صاحب مال کے لیے سودی لین دین کے ذریعہ زائد مال حاصل کرنا خواہ نقد ہو یا ادھار، آسان ہوگا۔ ایسی صورت میں وہ کسب و تجارت اور دشوار کاموں کے لیے کیوں محنت مشقت کرنے لگے؟ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ عوام کا مفاد متاثر ہو جائے گا۔ اصل میں دنیا کا مفاد تجارت، صنعت و حرفت اور تعمیری کاموں ہی سے وابستہ ہے۔ اور اس میں شک نہیں کہ یہ مصلحت اقتصادی نقطہ نظر سے بالکل صحیح ہے۔
ثالثاً : اس سود خوری کے نتیجہ میں قرض دینے کا جو معروف طریقہ لوگوں کے درمیان رائج ہے، وہ ختم ہو جائے گا، کیونکہ سود کو حرام قرار دینے کی صورت میں تو طبیعت اس بات کے لیے آمادہ ہو جاتی ہے کہ ایک درہم قرض دے کر ایک درہم ہی واپس لیا جائے۔ لیکن اگر سود کو جائز قرار دیا جائے تو حاجت مند کی ضرورت اسے اس بات پر آمادہ کرے گی کہ وہ ایک درہم لے کر دو درہم واپس کر دے۔ اس کے نتیجہ میں انسانی ہمدردی اور احسان کا خاتمہ ہو جائے گا۔ (یہ علت اخلاقی نقطہ نظر سے تسلیم شدہ ہے)
رابعاً : قرض خواہ عام طور سے غنی اور قرض دار محتاج ہوتا ہے۔ لہذا سودی لین دین جائز قرار دینے کی صورت میں غنی محتاج اور کمزور سے زائد مال حاصل کرے گا۔
اس صورت کو رحمت الہی کس طرح جائز قرار دیتی؟ (اس میں اجتماعی پہلو مد نظر ہے) غرضیکہ سود طاقتور کے مفاد کی خاطر غریب کا خون چوس لینے کا نام ہے اس سے دولتمند کی دولت میں اور غریب کی غریبی میں مزید سے مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور ایک طبقہ دوسرے طبقہ سے ناجائز فائدہ اٹھا کر مالدار ہو جاتا ہے۔ یہ چیز معاشرہ میں باہم کینہ اور بغض پیدا کرتی ہے اور سماج کے درمیان باہمی کشمکش کی آگ بھڑکاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں انتہا پسندانہ انقلاب کے لیے راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ چنانچہ تاریخ نے قریبی زمانہ ہی میں ثابت کر دکھایا ہے کہ سود اور سود خور سیاست، حکومت، مقامی اور قومی امن کے لیے کس قدر خطرناک ہیں۔

سود دینے والا اور لکھنے والا

سود کھانے والا قرض خواہ اور صاحب مال ہوتا ہے۔ وہ قرض دار کو روپیہ دیتا ہے تاکہ اصل زر پر فائدہ حاصل کر کے لوٹائے۔ ایسے شخص کے عند اللہ اور عند الناس ملعون ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ لیکن اسلام نے اس جرم کو صرف سود خور تک محدود نہیں رکھا ہے، بلکہ سود کھلانے والے کو بھی گناہ میں برابر شریک قرار دیا ہے۔ اور سود کی دستاویز لکھنے والے اور اس کے گواہوں کو بھی گناہ میں حصہ دار ٹھہرایا ہے۔
حدیث میں ہے :
لعن الله أكل الربا ومو كله وشاهديه وكاتبه
”اللہ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس پر گواہ بننے والے اور کاتب، سب پر لعنت فرمائی ہے۔“
مسند احمد : 1/ 393-402 ابو داود کتاب البيوع باب في آكل الربا وموكله حدیث : 3333 ، ترمذی کتاب البیوع باب ماجاء في اكل الربا حدیث 1206 ، نسائی کتاب الزینة باب الموتشمات حدیث : 1010 ابن ماجه کتاب التجارات باب التغليظ في الربا حدیث : 2277 عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ واللفظ لاحمد ورواہ اصحاب السنن بلفظ لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ….. وبہذا اللفظ اخرجہ مسلم عنہ فی کتاب المساقاة باب لعن آكل الربا ومؤكلہ حدیث : 1597 مختصراً وعن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ حدیث : 1598
البتہ اگر شدید ضرورت سودی معاملہ کرنے کی متقاضی ہو تو ایسی صورت میں سود کھانے والا ہی گنہگار ہوگا :
➊ بشرطیکہ ضرورت حقیقی ہو۔ مجرد اپنی حاجت یا ترقی کے کاموں میں توسع پیش نظر نہ ہو۔ ضرورت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس سے بے نیاز نہ ہو سکتا ہو الا یہ کہ اپنے آپ کو ہلاک کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔ مثلاً غذا، کپڑا اور علاج جو ناگزیر ہے۔
➋ یہ رخصت بس اس حد تک ہے کہ اپنی ضرورت کو پورا کیا جائے مثلاً اگر نو روپے سے کام چلتا ہو تو دس روپے قرض نہ لیے جائیں۔
➌ سودی لین دین سے نکلنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے اور مسلمان بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ ایسے شخص کی مدد کریں۔ لیکن اگر ضرورت مند شخص سودی قرض کے سوا دوسرا کوئی ذریعہ نہ پائے تو سودی قرض لے سکتا ہے بشرطیکہ اس کو نہ چاہنے والا ہو اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا۔ ایسی صورت میں اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
➍ اگر مجبوراً اسے یہ صورت اختیار کرنی پڑے تو وہ بہ کراہت یہ کام کر دے لیکن اس پر ناراضی کا اظہار کرے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے دوسری صورت پیدا فرمادے۔
شرعي مجبوري كا معنى يه هے كه اس كي جان كے تلف هونے كا انديشه هو اور فقط جان بچانے كے ليے سود كي رقم كا لقمه اسے ديا جائے ، اس سے زائد كچه نهيں. (ابو الحسن مبشر احمد رباني)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرض سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے

مسلمان کو اس بات سے واقف ہونا چاہیے کہ اسلام سماجی زندگی میں اعتدال پیدا کرنے اور معیشت میں میانہ روی اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے :
وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
”اور اسراف نہ کرو کہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“
(سورہ الانعام : 141)
وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا 27 إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ
”اور فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔“
(سورہ الاسراء : 26-27)
قرآن نے مؤمنوں سے اللہ کی راہ میں انفاق کا جو مطالبہ کیا ہے وہ اللہ کے بخشے ہوئے پورے مال کا نہیں، بلکہ اس کے کچھ حصہ کو خرچ کرنے کا مطالبہ ہے۔ جو شخص اپنی کمائی کا ایک حصہ خرچ کرے گا وہ شاید کبھی محتاج نہ ہوگا۔ اس اعتدال اور میانہ روی کا تقاضا ہے کہ مسلمان کو قرض کی ضرورت پیش نہ آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض کو نا پسند فرمایا ہے کیونکہ قرض شب و روز کی پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرض سے پناہ مانگا کرتے تھے :
اللهم انى اعوذبك من غلبة الدين وقهر الرجال
”اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قرض کے غلبہ اور آدمیوں کے قہر سے۔“
ابو داود كتاب الوتر باب فى الاستعاذة ح : 1555 واسناده ضعيف ويغنى عنه مارواه البخاري في كتاب الدعوات باب التعوذ من غلبة الرجال ح : 6363 عن انس رضی اللہ عنہ لفظه اللهم اني أعوذبك من الهم والحزن والعجزو الكسل والبخل والجبن وضلع الدين وغلبة الرجال غاية المرام ح : 347 و عند النسائي 549 غلبة الدين وغلبة العدو عن ابن عمر رضی اللہ عنہ
اور دعا کرتے :
أعوذ بالله من الكفر والدين، فقال رجل اتعدل الكفر بالدين يارسول الله؟ قال نعمم
”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کفر اور قرض سے۔ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا کفر اور قرض برابر ہیں؟ فرمایا : جی ہاں۔“
نسائی کتاب الاستعاذه باب الاستعاذه من الدين ح : 5475 ، 5476 – مستدرك حاكم : 1/532 مسند احمد : 3/ 38 و اسناده ضعیف
نماز میں اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے :
اللهم انى اعوذبك من الماثم والمغرم فقيل له إنك تستعيد من المغرم كثيرا يارسول الله، فقال إن الرجل إذا غرم حدث فكذب ووعد فأخلف
”اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض سے۔ کسی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر قرض سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرمایا : آدمی جب مقروض ہو جاتا ہے تو اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔“
بخاری کتاب الاذان باب الدعاء باب ما يستعاذ منه في الصلاة ح : 589
مذکورہ حدیث اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ قرض دار ہونا اخلاق کے لیے کس قدر نقصان دہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے جس کے ذمہ قرض ہوتا اور قرض کی ادائیگی کے بقدر وراثت ترکہ میں مال نہ چھوڑتا۔
بخاری كتاب الكفالة باب الدين ح : 2298 مسلم کتاب الفرائض باب من ترك مالا فلورثته ح : 1619
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریقہ لوگوں کو قرض کا خوف دلانے کے لیے تھا لیکن جب اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اموال غنیمت عطا فرمائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے قرضوں کی ادائیگی کا خود اہتمام فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
انا اولى بالمؤمنين من أنفسهم فمن توفي من المؤمنين فترك دينا فعلي قضاؤه ومن ترك مالا فلورثته
”میں ایمان داروں سے ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریبی ہوں۔ تو ان میں سے جو شخص فوت ہو جائے اور پیچھے قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میں کروں گا اور جو مال چھوڑ جائے تو وہ وارثوں کو ملے گا۔“
اخرجه الشيخان وهو طرف من حديث السابق یہ اضافہ اصل کتاب میں نہیں ہے موقع کی مناسبت سے میں نے درج کر دیا ہے۔ (کاشف)
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض کے معاملے میں تاکید مزید فرمائی :
يغفر للشهيد كل شيء إلا الدين
”شہید کا ہر گناہ معاف ہو جاتا ہے بجز قرض کے۔“
مسلم کتاب الامارة باب من قتل في سبيل الله كفرت خطایا الا الدین ح : 1886
ان ہدایات کے پیش نظر ایک مسلمان کو شدید ضرورت کے بغیر کسی طرح بھی قرض نہیں لینا چاہیے۔ اور جب لے تو ہمیشہ ادائیگی ہی کی نیت رکھنا چاہیے۔ حدیث میں ہے :
من أخذ أموال الناس يريد أداءها أدى الله عنه ومن أخذها يريد إتلافها أتلفه الله
”جس نے لوگوں کا مال قرض کے طور پر لیا اور اس کو ادا کرنا چاہا اس کا ارادہ تھا تو اس کا قرض اللہ ادا فرمائے گا اور جس نے تلف کرنے کے ارادہ سے لیا تو اس کو اللہ تلف فرمائے گا۔“
بخاری کتاب الاستقراض باب من اخذ أموال الناس يريد اداء ها ح : 2387
پس جب مسلمان مجبوری کے بغیر جائز نوعیت کا قرض نہیں لے سکتا تو سودی قرض کس طرح لے سکتا ہے؟