آثار و تبرکات کے تعاقب سے بچنے اور تین مساجد کی فضیلت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

متلاشیانِ آثار و تبرکات کو سیدنا عمر کی تنبیہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ دیکھا کہ کچھ لوگ ایسی جگہ جا رہے ہیں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کیا ماجرا ہے؟ جواب ملا کہ اس جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ نے نماز ادا کی تھی۔ پھر فرمایا:
أتريدون أن تتخذوا آثار أنبيائكم مساجد إنما هلك بنو إسرائيل بمثل هذا فمن أدركته الصلوة فيه فليصل فيه وإلا فليذهب
”تم چاہتے ہو کہ انبیاء کے آثار کو عبادت گاہ بنا لو۔ بنو اسرائیل اسی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ جس شخص کو جہاں نماز کا وقت ہو جائے وہ وہیں نماز ادا کر لے ورنہ گزر جائے۔“
(البدع والنهي عنها لمحمد بن وضاح ص : 41-42)

مشاہد کی بجائے مساجد سے دل لگانے کی ترغیب

مسجد نبوی ہی فضیلت والی ہے کیونکہ اس میں نماز کی فضیلت وارد ہے۔ یہ فضیلت کیوں نہ ہو جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
صلوة فى مسجدي هذا خير من ألف صلوة فيما سواه إلا المسجد الحرام
”مسجد الحرام کے سوا تمام مساجد سے میری اس مسجد میں نماز ادا کرنا ایک ہزار درجہ زیادہ ثواب ہے۔“
(صحيح بخاري كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة : باب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة حديث : 1190 ، صحيح مسلم كتاب الحج : باب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة حديث : 1394)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشادِ گرامی ہے:
لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد المسجد الحرام والمسجد الأقصى ومسجدي هذا
”تین مساجد کے علاوہ کسی بھی مسجد کے لیے رختِ سفر نہ باندھا جائے۔ یعنی مسجد الحرام، مسجد اقصیٰ اور میری یہ مسجد۔“
(صحيح بخاري كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة حديث : 1189 ، صحيح مسلم كتاب الحج : باب فضل المساجد الثلاثة حديث : 1397)
مسجد نبوی کو یہ فضیلت حجرہ نبوی کو مسجد میں داخل کرنے سے پہلے ہی حاصل ہے۔ حجرہ کو مسجد میں داخل کرنے سے پہلے ایسے لوگ اس میں نماز ادا کرتے رہے جن کا مقابلہ قیامت تک آنے والے افراد نہ کر سکیں گے۔ کسی شخص کے ذہن میں یہ وہم ہرگز نہیں آنا چاہیے کہ مسجد نبوی کو یہ فضیلت اس لیے ملی کہ اس میں حجرہ مبارک داخل کر دیا گیا ہے، اور اب اس کی فضیلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی زندگی سے بھی زیادہ ہے۔ اگرچہ خلفائے راشدین اور اس وقت کے افرادِ امت کو فضیلت حاصل ہے، لیکن اب نہ وہ افراد ہیں نہ وہ دورِ مسعود ہے۔ مسجد نبوی کو اس وقت بھی فضیلت حاصل تھی جبکہ ابھی حجرہ مبارک اس میں داخل نہیں تھا، اگرچہ حالات و واقعات اور افرادِ امت میں بے شمار تبدیلیاں آ چکی ہیں۔
بہرکیف یہ خیال رکھنا غلط ہے کہ مسجد نبوی کو حجرہ مبارک کی وجہ سے فضیلت ہے۔ جن افراد نے حجرہ مبارک کو مسجد میں داخل کیا ان کا مقصد تو صرف یہ تھا کہ مسجد کی توسیع ہو۔ اسی مصلحت کے پیشِ نظر آپ کے مکانات کو مسجد میں داخل کر دیا گیا۔ اگرچہ اس عمل کو بعض افراد نے اچھا نہیں سمجھا۔
ہماری گفتگو کا مقصدِ وحید یہ ہے کہ جو مساجد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے تعمیر کی گئی ہیں تاکہ ان میں اللہ کی عبادت ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جائے، تو ان مساجد کی فضیلت عبادت کی وجہ سے ہے کہ ان میں اللہ کے عام بندوں اور بعض انبیاء نے بھی عبادت کی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا ۚ لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ ‎﴿١٠٨﴾
”جو مسجد اول روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں۔ اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں۔“
(9-التوبة:108)
أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ‎﴿١٠٩﴾‏
”پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو؟ یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات مگر (کنارے) پر اٹھائی اور وہ اسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جا گری؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔“
(9-التوبة:109)