صحابہ پر طعن
صحابہ کا احترام پوری اُمت پر واجب ہے، اگر آپ صحابہ سے محبت نہیں کر سکتے ، تو دین اسلام سے آپ کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ صحابہ شریعت کے ناقل ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص شریعت سے محبت کرتا ہو، مگر شریعت کے ناقلین سے نفرت کرتا ہو اور یہ تو بالکل بھی نہیں ہو سکتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو محبت کی جائے ، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انصار و مددگار صحابہ سے نفرت کی جائے، قرآن و حدیث اور ائمہ دین کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ سے محبت بے حد ضروری ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا :
أكرموا أصحابي .
”میرے صحابہ کی تکریم کریں۔“
(السنن الكبرى للنسائي : 9178 وسنده حسن)
سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
النجوم أمنة للسماء، فإذا ذهبت النجوم أتى السماء ما توعد، وأنا أمنة لأصحابي، فإذا ذهبت أتى أصحابي ما يوعدون، وأصحابي أمنة لأمتي، فإذا ذهب أصحابي أتى أمتي ما يوعدون .
”ستارے آسمان کی امان ہیں، جب یہ جھڑ جائیں گے، تو آسمان تباہ ہو جائے گا۔ میں آپ کی امان ہوں، میرے جانے کے بعد آپ فتنوں سے دو چار ہو جائیں گے اور میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں ، یہ فوت ہو گئے ، تو میری امت کو فتنے لپیٹ میں لے لیں گے۔“
(صحیح مسلم : 2531)
حافظ خطیب بغدادی رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں :
إن الله تعالى اختار لنبيه أعوانا جعلهم أفضل الخلق وأقواهم إيمانا وشد بهم أزر الدين وأظهر بهم كلمة المؤمنين وأوجب لهم الثواب الجزيل وألزم أهل الملة ذكرهم بالجميل، فخالفت الرافضة أمر الله فيهم وعمدت لمحو مآثرهم ومساعيهم وأظهرت البراء ة منهم وتدينت بالسب لهم : يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ كما رام ذلك المتقدمون من أشباههم وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (الصف: 8) وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ (الشعراء : 227) فلزم الناقلين للأخبار والمشخصين بحمل الآثار نشر مناقب الصحابة الكرام وإظهار منزلتهم ومحلهم من الإسلام عند ظهور هذا الأمر العظيم والخطب الجسيم واستعلاء الحائدين عن سلوك الطريق المستقيم لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ ۗ وَإِنَّ اللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ (الأنفال : 42)
”اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ایسے اعوان و انصار کا انتخاب کیا، جنہیں مخلوق میں سب سے افضل اور ایمان میں سب سے قوی بنایا۔ ان کے ذریعہ دین کے گلشن کو مضبوط کیا اور مومنوں کا بول بالا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اجر جزیل واجب کر دیا اور اہل ملت پر ان کا ذکر خیر کرنا لازم کر دیا۔ روافض نے صحابہ کے معاملہ میں حکم الہی کی مخالفت کی ، انہوں نے صحابہ کے آثار اور کاوشوں کو مٹانے کا قصد کیا، ان سے برأت کا اظہار کیا اور انہیں برا بھلا کہنے کو دین سمجھا۔ يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ سے اللہ کا نور (دین اسلام) مٹا دیں۔ روافض کے پہلے ہم نواؤں نے بھی ایسا ہی کرنا چاہا تھا۔ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ اللہ تعالیٰ اپنے نور (اسلام) کو مکمل کرنے والا ہے، خواہ کافروں کو گراں گزرے۔ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ جلد ہی ظالم لوگ جان لیں گے کہ وہ کس طرف لوٹ کر جائیں گے۔ لہذا احادیث نقل کرنے والوں اور ان میں مہارت رکھنے والوں پر ضروری ہے کہ وہ ان عظیم فتنوں ، ڈگرگوں حالات اور گمراہوں کے غلبہ کے وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مناقب نشر کریں اور اسلام نے انہیں جو مقام و مرتبہ دیا ہے، اسے بیان کریں۔ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ ۗ وَإِنَّ اللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ تا کہ جو ہلاک ہو، تو دلیل سے اور جو زندہ رہے، تو دلیل سے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔“
(الجامع لأخلاق الراوي و آداب السامع : 117/2)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
إذا كان الكفار يغاظون بهم فمن غيظ بهم فقد شارك الكفار فيما أذلهم الله به وأخزاهم وكبتهم على كفرهم ولا يشارك الكفار فى غيظهم الذين كبتوا به جزاء لكفرهم إلا كافر لأن المؤمن لا يكبت جزاء للكفر، يوضح ذلك أن قوله تعالى : لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ تعليق للحكم بوصف مشتق مناسب لان الكفر مناسب لإن يغاظ صاحبه فإذا كان هو الموجب لأن يغيظ الله صاحبه بأصحاب محمد فمن غاظه الله بأصحاب محمد فقد وجد فى حقه موجب ذاك وهو الكفر.
”کفار صحابہ کی وجہ سے غیظ و غضب کا شکار ہوتے ہیں، اسی طرح جو شخص صحابہ کو لے کر غصے میں آجائے اور برا محسوس کرے، اس کا معاملہ بھی کفار والا ہے، کفار کی طرح ذلت ، رسوائی اور غم اس کا مقدر ہے ۔ کفار صحابہ سے بغض کا شکار اپنے کفر کی وجہ سے ہوئے اور بلاشبہ وہ شخص جو صحابہ سے بغض رکھنے میں کفار کا ہم نوا ہو، کافر ہی ہو سکتا ہے، کیونکہ مومن کفر کی وجہ سے رسوا نہیں ہو سکتا۔ اس اجمال کی تفصیل قرآن کریم کی اس آیت سے سمجھی جاسکتی ہے، فرمان باری تعالیٰ ہے : لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ تا کہ ان (صحابہ) کے ذریعہ کفار کو غیظ وغضب میں مبتلا کرے۔ یعنی صحابہ کے بغض میں مبتلا ہونا کفر کی مشترکہ علت ہے۔ جس طرح کافر کے لیے ضروری ہے کہ وہ صحابہ سے بغض رکھے، یعنی جو کفر کرتا ہے ، وہ صحابہ سے بھی بغض رکھنے لگ جاتا ہے، اسی طرح جب کوئی بھی شخص صحابہ سے بغض رکھنے لگ جائے تو وہ لازماً کافر بھی ہو جاتا ہے۔“
(الصارم المسلول ص : 579)
نیز فرماتے ہیں :
ذكر العلماء أن الرفض أساس الزندقة وأن أول من ابتدع الرفض إنما كان منافقا زنديقا وهو عبد الله بن سبأ فإنه إذا قدح فى السابقين الأولين فقد قدح فى نقل الرسالة أو فى فهمها أو فى اتباعها، فالرافضة تقدح تارة فى علمهم بها وتارة فى اتباعهم لها .
”اہل علم ذکر کرتے ہیں کہ رافضیت زندقت کی اساس اور بنیاد ہے، رافضیت کی ابتدا کرنے والا بھی منافق زندیق ہی تھا، یعنی عبد اللہ بن سبا، اس نے چونکہ سابقین اولین صحابہ پر طعن کیا، لہذا اس نے ان کی نقل رسالت ،اس کے فہم یا اتباع پر بھی طعن کیا۔ روافض بھی کبھی صحابہ کے علم پر طعن کرتے ہیں، کبھی ان کے اتباع دین پر طعن کرتے ہیں۔“
(مجموع الفتاوى : 102/4)
نیز فرماتے ہیں :
السنة محبة عثمان وعلي جميعا وتقديم أبى بكر وعمر عليهما رضي الله عنهم لما خصهما الله به من الفضائل التى سبقا بها عثمان وعليا جميعا، وقد نهى الله فى كتابه عن التفرق والتشتت، وأمر بالاعتصام بحبله، فهذا موضع يجب على المؤمن أن يتثبت فيه ويعتصم بحبل الله فإن السنة مبناها على العلم والعدل، والاتباع لكتاب الله وسنة رسوله صلى الله عليه وسلم.
”اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان دونوں سے محبت کی جائے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان پر مقدم کیا جائے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ایسے خاص فضائل بیان کیے ہیں، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ دونوں کے حصہ میں نہیں آئے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تفرقہ اور تشتت سے منع فرمایا ہے اور اپنی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کا حکم دیا ہے۔ اس موقع پر بھی مؤمن کے لیے ضروری ہے کہ ثابت قدم رہے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھے، کیونکہ عقائد اہل سنت کی بنیاد علم و عدل اور کتاب وسنت کے اتباع پر ہے۔“
(مجموع الفتاوى : 409/3)
امام مالک بن انس رحمہ اللہ (179ھ) فرماتے ہیں :
من تنقص أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أو كان فى قلبه عليهم غل فليس له حق فى فيء المسلمين .
”جس نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی صحابی کی شان میں تنقیص کی یا دل میں ان کے متعلق کینہ رکھا، تو مسلمانوں کے مال فے میں اس کا کوئی حق نہیں۔“
(حلية الأولياء لأبي نعيم : 327/6 وسنده صحيح)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں :
ما أحسن ما استنبط الإمام مالك من هذه الآية الكريمة : أن الرافضي الذى يسب الصحابة ليس له فى مال الفيء نصيب لعدم اتصافه بما مدح الله به هؤلاء.
”اس آیت سے امام مالک رحمہ اللہ نے کیا خوب استنباط کیا ہے! کہ جو رافضی صحابہ کو برا بھلا کہتا ہے، اس کا مال فے میں کوئی حصہ نہیں، کیونکہ اس میں وہ وصف نہیں ہوتا، جو وصف اللہ تعالیٰ نے ان (مال فے کے مستحق مومنوں) کا بیان فرمایا ہے۔“
(تفسير ابن كثير : 73/8)
امام عبد اللہ بن ادریس اودی رحمہ اللہ (192ھ) فرماتے ہیں :
لو أن الروم سبوا من المسلمين من الروم إلى الحيرة ثم ردهم رجل فى قلبه شيء على أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم ما قبل الله منه ذلك .
”اگر رومی لوگ، روم سے حیرہ تک کے تمام مسلمانوں کو قیدی بنا لیں، پھر ایک ایسا شخص ، جس کے دل میں اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ذرا بھی بغض ہو، تمام مسلمانوں کو آزاد کرا دے، تو بھی اللہ اس کا یہ عمل قبول نہیں کرے گا۔“
(السنة للخلّال : 759 وسنده صحيح)
امام حمیدی رحمہ اللہ (219ھ) فرماتے ہیں :
لم نؤمر إلا بالاستغفار لهم، فمن سبهم أو تنقصهم أو أحدا منهم فليس على السنة، وليس له فى الفيء حق .
”ہمیں صحابہ کے حق میں صرف استغفار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لہذا جس نے تمام صحابہ کو برا بھلا کہا اور ان کی شان میں تنقیص کی یا کسی ایک صحابی کے متعلق ایسا کیا، تو وہ سنت (اسلامی طریقے) پر نہیں ہے اور اس کا مال فے میں کوئی حق نہیں۔“
(رسالة أصول السنّة ، ملحقا بآخر مسنده ص : 546)
امام یحیی بن معین رحمہ اللہ (233ھ) فرماتے ہیں :
كل من يشتم عثمان أو طلحة أو أحدا من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم دجال لا يكتب عنه وعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين .
”جو بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ یا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ یا کسی بھی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے، وہ دجال (پرلے درجے کا جھوٹا) ہے ، اس سے روایت نہیں لی جائے گی ، اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور پوری انسانیت کی لعنت ہو۔“
(تاريخ الدوري : 2670)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (241ھ) فرماتے ہیں :
من شتم أخاف عليه الكفر مثل الروافض، ومن شتم أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم لا نأمن أن يكون قد مرق عن الدين .
”جو (صحابہ کو) برا بھلا کہے، مجھے اس پر کفر کا خدشہ ہے، جیسے روافض ہیں۔ جس نے اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا، مجھے اس کے متعلق خوف ہے کہ وہ دین سے نکل جائے۔“
(السنة للخلال : 780 وسنده صحيح)
نیز فرماتے ہیں :
إذا رأيت رجلا يذكر أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بسوء فاتهمه على الإسلام .
”اگر آپ کسی شخص کو کسی صحابی کی برائی کرتے سنیں ، تو آپ اس کے اسلام پر تہمت لگادیں۔“
(مناقب الإمام أحمد لابن الجوزي ص : 209 وسنده حسن)
امام آجری رحمہ اللہ (360ھ) فرماتے ہیں :
لقد خاب وخسر من أصبح وأمسى وفي قلبه بغض لعائشة رضي الله عنها أو لاحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أو لأحد من أهل بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فرضي الله عنهم أجمعين ونفعنا بحبهم.
”یقینا وہ شخص تباہ و برباد ہو گیا ، جس نے صبح کی یا شام کی اور اس کے دل میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، کسی صحابی یا اہل بیت میں سے کسی فرد کے بارے میں بغض ہوا۔ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ اللہ ہماری ان سے محبت کو نفع مند بنادے۔“
(الشريعة : 2427/5)
علامہ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) فرماتے ہیں :
هؤلاء قوم لا خلاق لهم فى الدين وإنما رأس مالهم البهت والتكذيب والوقيعة فى السلف.
”روافض کا دین میں کوئی حصہ نہیں۔ ان کا شیوہ بہتان بازی، جھوٹ اور اسلاف امت (صحابہ وغیرہ) کی شان میں تنقیص کرنا ہے۔“
(معالم السنن : 6/2 ، شرح النووي : 203/1)
ابو منصور عبد القاہر بن طاہر بغدادی رحمہ اللہ (429ھ) فرماتے ہیں :
قالوا بتكفير كل من أكفر واحدا من العشرة الذين شهد لهم النبى صلى الله عليه وسلم بالجنة وقالوا بموالاة جميع أزواج رسول الله صلى الله عليه وسلم وأكفروا من أكفرهن أو أكفر بعضهن .
”اہل علم نے عشرہ مبشرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کی بھی تکفیر کرنے والے کی تکفیر کی ہے۔ سب ازواج مطہرات سے محبت و احترام کا حکم دیا ہے اور تمام امہات المؤمنین یا کسی ایک کی تکفیر کرنے والے کی تکفیر کی ہے۔“
(الفرق بين الفرق ص : 353)
نیز فرماتے ہیں :
ألإمامية الذين أكفروا أخيار الصحابة … فإنا نكفرهم كما يكفرون أهل السنة ولا تجوز الصلاة عليهم عندنا ولا الصلاة خلفهم .
”امامیہ شیعہ کبار صحابہ کی تکفیر کرتے ہیں۔ وہ اہل سنت کی تکفیر کرتے ہیں، ہم بھی ان کی تکفیر کرتے ہیں، ہمارے نزدیک نہ ان کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔“
(الفرق بين الفرق ص : 350)
امام ابو نعیم اصبہانی رحمہ اللہ (430ھ) فرماتے ہیں :
من سبهم وأبغضهم وحمل ما كان من تأويلهم وحروبهم على غير الجميل الحسن، فهو العادل عن أمر الله تعالى وتأديبه ووصيته فيهم، لا يبسط لسانه فيهم إلا من سوء طويته فى النبى صلى الله عليه وسلم وصحابته والإسلام والمسلمين .
”جس نے صحابہ کرام کو برا کہا، ان سے بغض رکھا اور ان کی تاویلات اور جنگوں کو بطورِ مذمت پیش کیا، تو وہ ان کے بارے میں اللہ کے حکم اور اس کے بیان کردہ ادب و وصیت سے عدول کر رہا ہے۔ صحابہ کے متعلق زبان درازی کرنے والا ایسا اس لیے کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام، اسلام اور اہل اسلام کے بارے میں اس کا دل برا ہو چکا ہے۔“
(الإمامة والرّد على الرافضة ص : 376)
علامہ سجزی رحمہ اللہ (444ھ) فرماتے ہیں :
كل من يبغض أبا بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم أو واحدا منهم، وأنكر إمامته وتقدمه وفضله فهو رافضي ، وكل من تنقص عثمان أو عليا وعائشة ومعاوية وأبا موسى وعمرو بن العاص رضي الله عنهم فهو خارجي، ومن تنقص بعضهم ولم يتنقص عثمان وعليا فهو ضال على أى مذهب كان .
”جس نے بھی سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم سے یا ان میں سے کسی ایک سے بغض رکھا یا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت، اولیت اور افضلیت کا انکار کیا، تو وہ رافضی ہے۔ جس نے سیدنا عثمان ، سیدنا علی ، سیدہ عائشہ ، سیدنا معاویہ ، سیدنا ابو موسیٰ اشعری یا سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کی شان میں تنقیص کی، وہ خارجی ہے، جس نے سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کی شان میں تو تنقیص نہ کی ، مگر (مذکورہ صحابہ میں سے) کسی صحابی کی گستاخی کی ، تو وہ گمراہ ہے، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔“
(الرّد على من أنكر الحرف والصوت ص : 335)
علامہ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں :
إن الروافض ليسوا من المسلمين .
”روافض مسلمان نہیں ہیں۔“
(الفصل في الملل والأهواء والنحل : 65/2)
علامہ ابو مظفر طاہر بن محمد اسفراپینی رحمہ اللہ (471ھ) فرماتے ہیں :
اعلم أن جميع من ذكرناهم من فرق الإمامية متفقون على تكفير الصحابة ويدعون أن القرآن قد غير عما كان ووقع فيه الريادة والنقصان من قبل الصحابة ويزعمون أنه قد كان فيه النص على إمامة على فأسقطه الصحابة عنه ويزعمون أنه لا اعتماد على القرآن الآن ولا على شيء من الأخبار المروية عن المصطفى صلى الله عليه وسلم ويزعمون أنه لا اعتماد على الشريعة التى فى أيدي المسلمين وينتظرون إماما يسمونه المهدي يخرج ويعلمهم الشريعة وليسوا فى الحال على شيء من الدين وليس مقصودهم من هذا الكلام تحقيق الكلام فى الإمامة ولكن مقصودهم إسقاط كلفة تكليف الشريعة عن أنفسهم حتى يتوسعوا فى استحلال المحرمات الشرعية ويعتذروا عند العوام بما يعدونه من تحريف الشريعة وتغيير القرآن من عند الصحابة ولا مزيد على هذا النوع من الكفر إذ لا بقاء فيه على شيء من الدين .
”جان لیجئے! امامیہ کے جتنے بھی فرقوں کا ہم نے تذکرہ کیا، تکفیر صحابہ پر سب کا اتفاق ہے ، قرآن مجید میں تغیر و تبدل کا دعویٰ کرتے ہیں ، کہتے ہیں کہ صحابہ نے اس میں کمی و بیشی و تحریف کی ہے، جن نصوص میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی امامت کا ذکر تھا، انہیں حذف کر دیا، ان کے خیال میں قرآن، احادیث نبویہ اور موجودہ شریعت پر اعتماد درست نہیں، وہ مہدی کے منتظر ہیں، جو خروج کے بعد انہیں شریعت سکھائیں گے، فی الحال وہ دین کے کسی جزء پر کار بند نہیں ہیں ، اس سے ان کی غرض مسئلہ امامت کی تحقیق ہرگز نہیں، بلکہ صرف شرعی پابندیوں سے آزادی ہے، انہوں نے شرعی محرمات کافی حد تک حلال سمجھ رکھی ہیں اور عوام کے سامنے شریعت و قرآن کے محرف ہونے کا بہانہ بناتے ہیں، اس سے بڑھ کر کفر کیا ہوسکتا ہے؟ اس لیے دین اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔“
(التبصير في الدين ص : 24-25)
علامہ ابن ابی یعلی رحمہ اللہ (526ھ) فرماتے ہیں :
ليست الرافضة من الإسلام فى شيء .
”روافض کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔“
(طبقات الحنابلة : 33/1)
قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) فرماتے ہیں :
سب أصحاب النبى عليه السلام وتنقصهم أو أحد منهم من الكبائر المحرمة .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کو برا بھلا کہنا اور ان کی شان میں تنقیص کرنا یا کسی ایک صحابی کے متعلق ایسا کرنا کبیرہ گناہ ہے اور حرام ہے۔“
(إكمال المعلم بفوائد مسلم : 580/7)
نیز فرماتے ہیں :
لا امتراء فى كفر القائلين بهذا؛ لأن من كفر الأمة كلها والصدر الأول فقد أبطل نقل الشريعة وهدم الإسلام .
”جو لوگ یہ بات کرتے ہیں، ان کے کفر میں کوئی شک وشبہ نہیں، کیونکہ جس نے پوری امت اور صدر اول کو کافر کہا، اس نے گویا شریعت کی نقل کو باطل ٹھہرایا اور دین اسلام کو منہدم کر دیا۔“
(إكمال المُعلم بفوائد مسلم : 412/7)
نیز فرماتے ہیں :
سب آل بيته وأزواجه وأصحابه صلى الله عليه وسلم وتنقصهم حرام ملعون فاعله .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت ، ازواج اور صحابہ کو برا بھلا کہنا یا ان کی شان میں تنقیص کرنا حرام ہے، ایسا کرنے والا ملعون ہے۔“
(الشفاء : 307/2)
علامہ ابو سعد سمعانی رحمہ اللہ (562ھ) فرماتے ہیں :
اجتمعت الأمة على تكفير الإمامية لأنهم يعتقدون تضليل الصحابة وينكرون إجماعهم وينسبونهم إلى ما يليق بهم .
”اُمت مسلمہ امامیہ کی تکفیر پر متفق ہے، جنہوں نے صحابہ کرام کے متعلق گمراہی کا عقیدہ رکھا، ان کے اجماع کا انکار کیا اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کر ڈالیں، جو ان کی شایانِ شان نہیں تھیں۔“
(الأنساب : 365/6)
نیز فرماتے ہیں :
اجتمعت الإمامية على تضليل الصحابة حيث جعلوا الإمامة لغير على .
”امامیہ صحابہ کو گمراہ سمجھنے پر متفق ہیں کہ جنہوں نے امامت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی دوسرے کے سپر د کر دی۔“
(الأنساب : 365/6)
علامہ کاسانی حنفی رحمہ اللہ (587ھ) فرماتے ہیں :
الكف عن تفسيقهم، والإمساك عن الطعن فيهم من شرائط السنة والجماعة .
”صحابہ کرام کو فاسق قرار دینے سے باز رہنا اور ان پر طعن و تشنیع سے رکے رہنا اہل سنت والجماعت کی شرائط میں سے ہے۔“
(بدائع الصنائع : 117/5)
علامہ فخر رازی رحمہ اللہ (606ھ) فرماتے ہیں :
يجب إمساك اللسان عن الطعن فيهم لأن عمومات القرآن والأخبار دالة على وجوب تعظيم الصحابة رضي الله عنهم.
”صحابہ کے بارے میں طعن سے گریزاں رہنا ضروری ہے، کیونکہ قرآن کریم کی عمومی آیات اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم واجب ہے۔“
(معالم أصول الدين ص : 152)
علامہ ابن اثیر رحمہ اللہ (630 ھ) فرماتے ہیں :
إن الطعن فيهم طعن فى الشريعة .
”صحابہ پر طعن دراصل شریعت پر طعن ہے۔“
(الكامل في التاريخ : 582/6)
علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں :
من نقص واحدا منهم أو طعن عليه فى روايته فقد رد على الله رب العالمين، وأبطل شرائع المسلمين.
”جس نے کسی صحابی کی شان میں تنقیص کی یا اس کی روایت میں اس پر طعن کیا، تو اس نے اللہ رب العالمین پر رد کیا اور مسلمانوں کے شرعی احکام کو باطل ٹھہرایا۔“
(تفسير القرطبي : 297/16)
نیز فرماتے ہیں :
من نسبه أو واحدا من الصحابة إلى كذب فهو خارج عن الشريعة، مبطل للقرآن طاعن على رسول الله صلى الله عليه وسلم .
”جس نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ یا کسی بھی صحابی کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا، وہ شریعت اسلامیہ سے خارج ، قرآن کو جھٹلانے والا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن کرنے والا ہے۔“
(تفسير القرطبي : 298/16)
حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں :
اعلم أن سب الصحابة رضي الله عنهم حرام من فواحش المحرمات سواء من لابس الفتن منهم وغيره لأنهم مجتهدون فى تلك الحروب متأولون .
”جان لیجئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنا حرام ہے اور حرام فحش گوئی میں سے ہے۔ اس مسئلہ میں سب صحابہ برابر ہیں ، چاہے وہ ان فتنوں کا شکار ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں، کیونکہ وہ ان جنگوں میں اجتہاد اور تاویل کی بنا پر شریک ہوئے۔“
(شرح النووي : 93/16)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
”جو اس حد تک کہہ دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سوائے معدودے چند، تمام صحابہ مرتد یا فاسق ہو گئے تھے ،اس کے کفر میں ذرا برابر بھی شک نہیں ہے، کیونکہ یہ ان کی ثنا و رضا پر مبنی بے شمار نصوص قرآنی کا منکر ہے، بلکہ جو (جان بوجھ کر) ایسے کے کفر میں متردد ہو، اس کا کفر بھی متعین ہے۔ اس قول کا تقاضا ہے کہ (نعوذ باللہ !) یہ امت سب سے بری ہے، جسے لوگوں کی صلاح و فلاح کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس کے پہلے لوگ سب سے برے اور خیر القرون کی اکثریت کافر، فاسق اور شر القرون تھے۔ ایسے شخص کا کفر ضروریات دین سے ثابت ہے۔“
(الصارم المسلول ص : 586-587)
نیز فرماتے ہیں :
الطعن فيهم طعن فى الدين موجب للإعراض عما بعث الله به النبيين .
”پہلوں پر طعن کرنا دراصل دین پر طعن کرنا ہے اور اس منہج سے اعراض کا باعث ہے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو مبعوث فرمایا۔“
(منهاج السنة : 18/1)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں :
من طعن فيهم أو سبهم فقد خرج من الدين ومرق من ملة المسلمين لأن الطعن لا يكون إلا عن اعتقاد مساويهم وإضمار الحقد فيهم وإنكار ما ذكره الله تعالى فى كتابه من ثنائه عليهم وما لرسول الله صلى الله عليه وسلم من ثنائه عليهم وفضائلهم ومناقبهم وحبهم .
”جس نے صحابہ کرام پر طعن کیا یا انہیں برا بھلا کہا، تو وہ دین سے نکل گیا اور ملت اسلامیہ سے خارج ہو گیا، کیونکہ طعن اسی وقت کی جاتی ہے، جب صحابہ کے برے ہونے کا اعتقاد رکھا جائے اور ان کے متعلق دل میں بغض و کینہ پیدا ہو جائے ، نیز اس سے اللہ تعالیٰ کے ان تمام فرامین کا انکار لازم آتا ہے، جو صحابہ کی تعریف و ثنا کے متعلق قرآن کریم میں ذکر ہیں، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صحابہ کی مدح و ستائش کی ، ان کے فضائل و مناقب بیان کیے اور ان سے محبت کی ، اس کا بھی انکار لازم آئے گا۔“
(الكبائر ص : 237-238)
نیز فرماتے ہیں :
من ذم أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بشيء وتتبع عشراتهم وذكر عيبا وأضافه إليهم كان منافقا .
”جس نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا، ان کی لغزشوں کو ٹٹولا اور ان کی عیب جوئی کی ، وہ منافق ہے۔“
(الكبائر ص : 239)
علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (792ھ) فرماتے ہیں :
من أضل ممن يكون فى قلبه غل على خيار المؤمنين، وسادات أولياء الله تعالى بعد النبيين؟ بل قد فضلهم اليهود والنصارى بخصلة، قيل لليهود : من خير أهل ملتكم؟ قالوا : أصحاب موسى، وقيل للنصارى : من خير أهل ملتكم؟ قالوا : أصحاب عيسى، وقيل للرافضة : من شر أهل ملتكم؟ قالوا : أصحاب محمد! لم يستثنوا منهم إلا القليل، وفيمن سبوهم من هو خير ممن استتنوهم بأضعاف مضاعفة .
”اس سے بڑا گمراہ کون ہو سکتا ہے، جس کے دل میں بہترین مومنوں اور انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد اولیاء اللہ کے سادات کے بارے میں بغض ہو؟ یہود و نصاری بھی ایک حوالے سے ان سے بہتر ہیں۔ یہود سے پوچھا جائے کہ تمہاری ملت میں بہترین لوگ کون ہیں؟ وہ جھٹ سے کہیں گے کہ اصحاب موسیٰ ، نصاری سے کہا جائے کہ تمہاری ملت میں بہترین لوگ کون ہیں؟ تو وہ جواب میں کہیں گے کہ اصحاب عیسی۔ روافض سے پوچھا جائے کہ تمہاری اُمت میں بدترین لوگ کون ہیں؟ تو وہ کہتے ہیں کہ اصحاب محمد، وہ ان میں چند صحابہ کو مستثنیٰ کرتے ہیں، جن صحابہ کو وہ برا بھلا کہتے ہیں ، وہ مستثنیٰ صحابہ سے کئی درجے فضیلت رکھتے ہیں۔“
(شرح الطحاوية ص : 470)
علامہ سبکی رحمہ اللہ (756ھ) فرماتے ہیں :
حاصله أنا نكفر من يكفر من نحن نقطع بإيمانه إما بنض أو إجماع
”جس کے ایمان کو ہم نص یا اجماع کی بنا پر قطعی سمجھتے ہیں ، اس کی تکفیر کرنے والے کو ہم کافر سمجھتے ہیں۔“
(فتاوى السبكي : 586/2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں :
من سب أحدا من الصحابة فهو أهل أن لا يروى عنه .
”جو کسی بھی صحابی کو برا بھلا کہے وہ اس قابل نہیں کہ اس سے روایت قبول کی جائے۔“
(تهذيب التهذيب : 438/11)
علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ (974ھ) فرماتے ہیں :
اعلم أن الذى أجمع عليه أهل السنة والجماعة أنه يجب على كل أحد تزكية جميع الصحابة بإثبات العدالة لهم والكت عن الطعن فيهم والثناء عليهم فقد أثنى الله سبحانه وتعالى عليهم فى آيات من كتابه .
”جان لیجئے کہ اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ ہر ایک پر واجب ہے کہ تمام صحابہ کی عدالت کا اثبات کر کے ان کا تزکیہ کرے، ان پر طعن کرنے سے رک جائے اور ان کی تعریف و ستائش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کی کئی آیات میں ان کی تعریف کی ہے۔“
(الصواعق المحرقة : 603/2)
علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ (1014ھ) فرماتے ہیں :
إنهم يعتقدون كفر أكثر الصحابة، فضلا عن سائر أهل السنة والجماعة، فهم كفرة بالإجماع بلا نزاع.
”تمام اہل سنت والجماعت کے برعکس روافض (امامیہ) کا عقیدہ ہے کہ اکثر صحابہ کافر ہیں، اس بنا پر روافض بالاجماع کافر ہیں، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔“
(مرقاة المفاتيح : 3027/7)
تنبیہ :
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أصحابي اثنا عشر منافقا، فيهم ثمانية لا يدخلون الجنة حتى يلج الجمل فى سم الخياط، ثمانية منهم تكفيكهم الدبيلة.
”میری طرف منسوب لوگوں میں سے بارہ منافق ہوں گے، ان میں آٹھ جنت میں داخل نہیں ہوں گے، تا آنکہ اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر جائے، آٹھ منافقوں کی موت دبیلہ (زہریلا پھوڑا) سے ہوگی۔“
(صحیح مسلم: 2779)
اس حدیث میں ”اصحابی“ کا لفظ وارد ہوا ہے اور ہم نے اس کا ترجمہ میری طرف منسوب لوگ کیا ہے، کیونکہ عربی زبان میں ”صاحب“ کئی معانی کے لیے مستعمل ہے، امتی کے معنی میں بھی ہے، اسی طرح پیروکار کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے، جیسا کہ اصحاب ابی حنیفہ، اصحاب مالک، اصحاب شافعی وغیرہ کہا جاتا ہے، تو اس سے مراد ان کے مذہب پر چلنے والا طائفہ اور گروہ ہوتا ہے۔ دوسرے، ایک روایت میں صریح طور پر امتی کا لفظ بھی وارد ہوا ہے۔
لہٰذا حدیث میں ”اصحابی“ کے دو معانی ہو سکتے ہیں :
➊ میری امت کے کچھ لوگ۔
➋ میرے ساتھ رہنے والے منافق لوگ، جو خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں، مگر ان کا نفاق اور کفر ان کے دلوں میں ہے۔
ان سے مراد وہ خالص الایمان صحابہ نہیں، کیونکہ صحابی کی تعریف ہی یہ ہے کہ جو ایمان کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرے اور ایمان پر ہی فوت ہو۔ صحابی کبھی منافق نہیں ہو سکتا اور منافق کبھی صحابی نہیں ہو سکتا۔
حدیث میں جو منافقین کو ”اصحابی“ کہا گیا، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ زمرۂ صحابہ میں سے ہیں، خود کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی ظاہر کرتے ہیں، مگر حقیقت میں کافر ہی ہیں۔
اس کی مثال یوں لیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو، مگر ابلیس نے انکار کر دیا۔ اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ ابلیس فرشتوں میں سے تھا، بلکہ یہ مطلب ہوگا کہ فرشتوں کے زمرے میں داخل تھا۔
اسی طرح بارہ منافقین بھی حقیقی صحابہ میں سے نہیں ہیں، بلکہ زمرۂ صحابہ میں سے ہیں۔