اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن اور حیا کے ایمانی احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے متعلق حسنِ ظن رکھنا

① سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يموتن أحدكم إلا وهو يحسن الظن بالله تعالى
”تم میں سے ہر کسی کو اس حالت میں موت آنی چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے متعلق حسنِ ظن رکھتا ہو“۔
مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها واهلها (81/2877) ابوداؤد، کتاب الجنائز (3113).
② سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما ہی بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے تین دن پہلے فرماتے ہوئے سنا:
لا يموتن أحدكم إلا وهو يحسن الظن بالله تعالى
”تم میں سے ہر کسی کو اس حالت میں موت آنی چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے متعلق حسنِ ظن رکھتا ہو“۔
ابوداؤد، کتاب الجنائز (3113).
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قال الله تعالى: أنا عند ظن عبدي بي
”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اپنے بندے سے ویسا ہی سلوک کرتا ہوں جیسا وہ مجھ سے گمان اور امید رکھتا ہے“۔
بخاری، کتاب التوحيد (7405)، مسلم، كتاب الذكر والدعاء والتوبه الخ (2675).
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن حسن الظن بالله تعالى من حسن العبادة
”اللہ تعالیٰ کے متعلق حسنِ ظن حسنِ عبادت کا حصہ ہے“۔
روایت ضعیف ہے۔ ابوداؤد، کتاب الادب (4993). ترمذی (3604). اس کی سند میں شتیر بن نہار مجہول راوی ہے۔

شرم اور حیا ایمان میں سے ہیں

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار میں سے ایک شخص کے پاس سے گزرے جو کہ اپنے بھائی کو حیا کے متعلق سمجھا رہا تھا وہ کہہ رہا تھا، آپ تو بہت زیادہ حیا کرتے ہیں، حتیٰ کہ وہ اسے یوں کہنا چاہتا ہے کہ یہ چیز آپ کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دعه فإن الحياء من الإيمان
”اسے چھوڑ دو اس لیے کہ حیا ایمان کا حصہ ہے“۔
بخاری، کتاب الادب (6118،24). مسلم، کتاب الایمان (36) ابو داؤد، کتاب الادب (4795).
② سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الحياء لا يأتى إلا بخير
”حیا کا انجام خیر و بھلائی ہے“۔
بخاری، کتاب الادب (6117). مسلم، کتاب الایمان (37) ابوداؤد، کتاب الادب (4775).
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الحياء من الإيمان والإيمان فى الجنة، والبذاء من الجفاء والجفاء فى النار
”حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان کا مقام جنت ہے۔ جبکہ بد اخلاقی سنگ دلی و بے رخی کا حصہ ہے اور سنگ دلی و بے رخی کا مقام جہنم ہے“۔
ترمذى، البر والصلة (2009). المستدرك للحاكم (52/1-53). شرح السنة للبغوى (172/13). روایت صحیح ہے۔
④ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الحياء والعي شعبتان من الإيمان، والبداء والبيان شعبتان من النفاق
”حیا اور قلتِ کلام ایمان کے دو حصے ہیں، جبکہ فحش گوئی اور کثرتِ کلام نفاق کے دو حصے ہیں“۔
ترمذى، كتاب البر والصلة عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم (2077) مسند احمد (5 / 269). روایت صحیح ہے۔
⑤ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
استحيوا من الله حق الحياء
”اللہ سے جس طرح حیا کرنے کا حق ہے ویسے حیا کرو“۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! الحمد للہ ہم اللہ سے حیا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليس ذاك ولكن الإستحياء من الله حق الحياء أن تحفظ الرأس وما وعى، وتحفظ البطن وما حوى، وتتذكر الموت والبلى، ومن أراد الآخرة ترك زينة الدنيا، وآثر الآخرة على الأولى، فمن فعل ذلك فقد استحيا من الله حق الحياء
”یہ بات نہیں بلکہ اللہ سے جس طرح حیا کرنے کا حق ہے وہ یہ ہے کہ تم سر اور اس کے متعلقات (آنکھیں، کان، زبان) اور پیٹ اور اس کے متعلقات (شرم گاہ وغیرہ) کی حفاظت کرو۔ موت اور بوسیدہ چیزوں کو یاد کرو، جو شخص آخرت چاہتا ہے تو وہ دنیا کی زینت ترک کر دیتا ہے اور دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتا ہے۔ پس جس شخص کا یہ کردار ہو تو گویا اس نے اللہ سے اس طرح حیا کی جس طرح اس سے حیا کرنے کا حق ہے“۔
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم (2458)، مسند احمد، مسند المكثرين (387/1). روایت حسن ہے۔