سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم اور سجدہ سہو، سجدہ تلاوت و سجدہ شکر کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم سات اعضاء پر سجدہ کریں۔ اور ہم بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹیں۔ سات اعضاء یہ ہیں: پیشانی (ناک بھی اس میں شامل ہے)، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔
بخاری، کتاب الصلوة 809، 810۔ مسلم، كتاب الصلوة 490۔ ابوداؤد، کتاب الصلوة 889۔

سجدہ سہو کے احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أحدكم إذا قام يصلي جاءه الشيطان فلبس عليه حتى لا يدري كم صلى فإذا وجد ذلك أحدكم فليسجد سجدتين وهو جالس
”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو شیطان اس کے پاس آ جاتا ہے اور اسے التباس کا شکار کر دیتا ہے حتی کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، جب تم میں سے کوئی ایسی صورت سے دوچار ہو تو اسے چاہیے کہ وہ بیٹھا بیٹھا دو سجدے کرے“۔
بخاری، کتاب الصلوة 1132۔ مسلم، كتاب الصلوة 389۔
② سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من شك فى صلاته فليسجد سجدتين بعد ما يسلم
”جس شخص کو اپنی نماز میں شک گزرے تو اسے چاہیے کہ وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے“۔
ابوداؤد، کتاب الصلوة 1033۔ مسند احمد 205/1۔ یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں عتبہ بن محمد بن حارث ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مجہول ہے۔

سجدہ تلاوت کے احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا قرأ ابن آدم السجدة فسجد اعتزل الشيطان يبكي ويقول يا ويلته أمر ابن آدم بالسجود فله الجنة ، وأمرت بالسجود فأبيت فلي النار
”جب ابن آدم آیت سجدہ تلاوت کرتا ہے اور وہ سجدہ کرتا ہے تو شیطان پیچھے ہٹ کر رونے لگتا ہے اور کہتا ہے ہائے افسوس! ابن آدم کو سجدے کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کر لیا اور اس کے لیے جنت ہے، جبکہ مجھے سجدے کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کر دیا اور میں جہنم کا مستحق ٹھہرا“۔
مسلم، کتاب الایمان 133/81۔ ابن ماجه كتاب اقامة الصلوة والسنة فيها 1052۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے والی سورت تلاوت فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے اور ہم بھی سجدہ کرتے حتی کہ نماز کے وقت کے علاوہ ہم میں سے کسی کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ ملتی۔
بخارى، كتاب الجمعة 1075۔ مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة 575۔

سجدہ شکر کے احکامات

① سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کن معاملہ درپیش ہوتا یا آپ کو خوشخبری موصول ہوتی تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے ۔
ابوداؤد، كتاب الجمعة 2774۔ ترمذى، كتاب السير عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 1548۔ روایت حسن ہے۔