اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے فضائل قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے فضائل

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ.﴾
”جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اُن کی مثال اُس دانے کی ہے، جس نے سات خوشے اُگائے، ہر خوشہ میں سو دانے تھے، اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے، اور اللہ بڑی کشائش والا اور علم والا ہے۔“
(2-البقرة:261)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں خرچ کرنے کی زبردست ترغیب دلائی ہے۔ اور یہاں ”فی سبیل اللہ“ سے مراد ہر وہ راستہ ہے، جو اللہ تک پہنچائے۔ جہاد فی سبیل اللہ، مسلمانوں کے لیے نفع بخش اعمال، مفید علوم کی نشر و اشاعت، اور فقراء و مساکین پر خرچ کرنا، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ اور ان نیکیوں میں اللہ تعالیٰ بڑھاوا دیتا ہے:
﴿مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ وَلَهُ أَجْرٌ كَرِيمٌ﴾
”کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے گا، پس اللہ اس کو بڑھا دے گا اس کے لیے اور اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔“
(57-الحديد:11)
مفسر ابوالسعود لکھتے ہیں کہ: ”اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا، پھر ان لوگوں کی زجر و توبیخ کی جو بخل کی وجہ سے اس کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، پھر اس کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے درجات بتائے، اور اب اس آیت میں ایک مخصوص انداز میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی رغبت دلائی جا رہی ہے، کہ جو شخص اس کی راہ میں خرچ کرے گا گویا کہ وہ اسے قرض دے گا، جس کا معاوضہ اسے بہر حال ملنا ہے۔“
آیت میں ”قرضِ حسنہ“ سے اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ خرچ کرنے والے کی نیت اچھی ہو، اللہ کی راہ میں سب سے عمدہ مال خرچ کرے، اور کوشش کرے کہ سب سے اچھی جگہ خرچ کرے۔ (بحوالہ تيسير الرحمن: 1538/2)
﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ﴾ ‎.
”جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے، اور تم جو خرچ کرو اسے اللہ بخوبی جانتا ہے۔“
(3-آل عمران:92)
‏ ﴿قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ ۚ وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ .﴾
”اعلان کر دیجیے کہ میرا رب اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے روزی کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کر دیتا ہے، تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس کا پورا پورا بدلہ دے گا، اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔“
(34-سبأ:39)
عن حكيم بن حزام رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: اليد العليا خير من اليد السفلى، وابدأ بمن تعول، وخير الصدقة ما كان عن ظهر غنى، ومن يستعف يعفه الله، ومن يستغن يغنه الله .
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلند ہاتھ (دینے والا) نچلے ہاتھ (مانگنے والے) سے بہتر ہے، اور خرچ کرنے کی ابتداء ان لوگوں سے کر جن کی دیکھ بھال کا ذمہ دار تو ہے۔ اور بہترین صدقہ وہ ہے جو تو نگری کے بعد ہو، اور جو سوال یا حرام سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ اسے بچا لیتا ہے۔ اور جو بے نیازی چاہے، اسے اللہ غناء و تو نگری سے نواز کر بے نیاز کر دیتا ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، باب لا صدقۃ الا عن ظھر غنی…، رقم: 1427۔
عن أبى هريرة رضي الله عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: قال الله: أنفق يا ابن آدم ينفق عليك .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اے آدم کے بیٹے! تو خرچ کر، تجھ پر بھی خرچ کیا جائے گا۔“
صحیح بخاری، کتاب النفقات، باب فضل النفقۃ علی الاھل، رقم: 5352۔ صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب الحث علی النفقۃ وتبشیر المنفق بالخلف، رقم: 993۔
عن خريم بن فاتك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أنفق نفقة فى سبيل الله كتبت له بسبع مائة ضعف .
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کرے تو اس کے لیے سات سو گنا اجر لکھا جاتا ہے۔“
سنن ترمذی، ابواب فضائل الجھاد، باب ما جاء فی فضل النفقۃ فی سبیل اللہ، رقم: 1625 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
عن أبى أمامة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا ابن آدم! إنك إن تبذل الفضل خير لك وإن تمسكه شر لك ولا تلام على كفاف، وابدأ بمن تعول
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن آدم! اگر تو زائد از ضرورت مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا تو تیرے لیے بہتر ہوگا ، اور اگر تو اسے روکے گا تو تیرے لیے برا ہوگا، اور بقدر ضرورت مال پر تو ملامت کے لائق نہیں ہوگا ، اور (خرچ کرنے کی ) ابتداء ان لوگوں سے کر جن کے اخراجات زندگی کا تو ذمہ دار ہے۔“
سنن ترمذي، أبواب الزهد، رقم: 2343 ۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
عن ابن مسعود رضى الله عنه قال: قال النبى صلى الله عليه وسلم: لا حسد إلا فى اثنتين: رجل آتاه الله مالا فسلطه على هلكته فى الحق، ورجل آتاه الله حكمة، فهو يقضي بها ويعلمها
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا جائز ہے۔ ایک وہ آدمی جس کو اللہ نے مال دیا اور پھر اسے حق کی راہ میں خرچ کی ہمت و توفیق بھی دی۔ اور دوسرا وہ آدمی جس کو اللہ نے علم و حکمت سے نوازا، اس کے ساتھ ہی فیصلہ کرتا اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتا ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب العلم، باب الاغتباط في العلم والحكمة، رقم: 73 ۔ صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب فضل من يقوم بالقرآن ويعلمه، رقم: 816۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما من يوم يصبح العباد فيه، إلا ملكان ينزلان، فيقول أحدهما: اللهم أعط منفقا خلفا، ويقول الآخر: اللهم أعط ممسكا تلفا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر دن جس میں بندے صبح کرتے ہیں، دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے : اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے : اے اللہ ! روک کر رکھنے والے کے حصے میں ہلاکت کر ۔“
صحيح بخاري، كتاب الزكاة، باب قوله تعالى ﴿فأما من أعطي واتقي﴾ ، رقم: 1442 ۔ صحیح مسلم، کتاب الزكاة، باب في المنفق والممسك، رقم: 1010۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ”اے ابوذر! مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس کوہ احد کے برابر سونا ہو اور تیسرے دن تک اس میں سے میرے پاس ایک اشرفی بھی بچ رہے سوائے اس دینار کے جو ادائیگی قرض کے لیے ہو۔“
صحیح بخاری، کتاب الاستقراض، باب اداء الديون، رقم: 2388۔