فتنہ دجال کا عبرتناک انجام اور مسلمانوں کی فتح

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

دجال اور اس کے لشکر کی ہلاکت

عن نافع بن عتبة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : تغرون جزيرة العرب فيفتحها الله ، ثم فارس فيفتحها الله ثم تغزون الروم فيفتحها الله ثم تغرون الدجال فيفتحه الله، قال نافع : يا جابر لا نرى الدجال يخرج حتى تفتح الروم
حضرت نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم (مسلمان) اہل عرب سے لڑو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں فتح سے نوازیں گے پھر تم فارس (ایران) سے لڑو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطا فرمائیں گے پھر تم اہل روم سے لڑو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں فتح سے ہمکنار کریں گے پھر تم دجال سے لڑو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس پر فتح عطا کریں گے۔ حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے جابر! ہمارے خیال میں دجال روم کی فتح سے پہلے نہیں نکل سکتا۔
مسلم کتاب الفتن باب ما يكون من فتوحات المسلمين قبل الدجال 2900 احمد 220/1 ابن ابي شيبة 655/8 ابن ماجة 4091 التاريخ الكبير 2254 الأحاد و المثاني 642
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ينزل الدجال فى هذه السبخة بمرقناة فيكون أكثر من يخرج إليه النساء حتى إن الرجل ليرجع إلى حميمه وإلى أمه وابنته وأخته وعمته فيوثقها رباطا مخافة أن تخرج إليه ثم يسلط الله المسلمين عليه فيقتلونه ويقتلون شيعته حتى إن اليهودي ليختبئ تحت الشجرة أو الحجر فيقول الحجر أو الشجرة للمسلم : هذا يهودي تحتي فاقتله
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال ، مرقناۃ (مدینے کے قریب ایک وادی) کی دلدلی زمین پر پڑاؤ کرے گا تو اس کی طرف سب سے زیادہ عورتیں جائیں گی حتی کہ آدمی اپنے قریبی رشتہ دار، ماں، بیٹی، بہن، اور پھوپھی کے پاس جائے گا اور انہیں رسی کے ساتھ باندھ دے گا مبادا کہ وہ دجال کے پاس نہ جا پہنچیں، پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دجال پر مسلط کردیں گے اور مسلمان دجال اور اس کے لشکر کو قتل کریں گے یہاں تک کہ اگر کوئی یہودی درخت یا پتھر کی اوٹ میں چھپے گا تو وہ شجر و حجر پکار کر مسلمان سے کہے گا ، یہ یہودی میری اوٹ میں ہے اسے قتل کرو۔
احمد 91/2 – 163 وقال احمد شاکر اسناده صحیح 190/7 واصله في البخاري 2925 ومسلم 2922 المعجم الكبير 307/2 مجمع الزوائد 664/7
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لا تقوم الساعة حتى يقاتل المسلمون اليهود فيقتلهم المسلمون حتى يختبئ اليهودي من وراء الحجر أو الشجر فيقول الحجر أو الشجر : يا مسلم ! يا عبد الله هذا يهودي خلفي فتعال فاقتله إلا الغرقد فإنه من شجر اليهود
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ مسلمان یہودیوں سے قتال کریں گے اور انہیں قتل کریں گے حتی کہ کوئی یہودی شجر و حجر کے پیچھے چھپے گا تو وہ پکار اٹھے گا اے مسلمان ! اے اللہ کے بندے ! ادھر آ یہ یہودی میری اوٹ میں ہے اسے قتل کر دے سوائے غرقد کے کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔
بخاری کتاب الجهاد والسير باب قتال اليهود 2925 مسلم كتاب الفتن باب لا تقوم الساعة حتى 2922 احمد 91/2 – 163 – 175 المعجم الكبير 307/2 مجمع زوائد 664/7
عن ابن مسعود رضى الله عنه جاءهم الصريخ أن الدجال قد خلف فى ذراريهم فيرفضون ما فى أيديهم ويقبلون فيبعثون عشرة فوارس طليعة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إني لأعلم أسماءهم وأسماء آبائهم وألوان خيولهم وهم خير فوارس على ظهر الأرض يومئذ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمان رومیوں کے ساتھ خونریز جنگ کریں گے اور فتح حاصل کریں گے ابھی مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے کہ ایک فریاد رس (زور سے چیخنے والا) آئے گا اور کہے گا کہ دجال ان کے اہل وعیال میں ظاہر ہو چکا ہے تو وہ سب کچھ وہیں پھینک کر اس کی طرف متوجہ ہوں گے اور دس شہسواروں کو خبر لینے کے لئے روانہ کر دیں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ان شہسواروں کے نام، ان کے آباؤ اجداد کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگ سے بخوبی آگاہ ہوں اور یہ اس دن روئے زمین پر سب سے بہترین شہسوار ہوں گے۔
مسلم کتاب الفتن باب اقبال الروم عند خروج الدجال 2899 احمد 544/1 حاکم 524/4
عن ابن مسعود رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : لقيت ليلة أسري بي إبراهيم وموسى وعيسى ، قال : فتذاكروا أمر الساعة فردوا أمرهم إلى إبراهيم ، فقال : لا علم لي بها ، فردوا الأمر إلى موسى فقال : لا علم لي بها فردوا الأمر إلى عيسى فقال : أما وجبتها فلا يعلمها أحد إلا الله ، ذلك فيما عهد إلى ربي عز وجل ، أن الدجال خارج، قال : ومعي قضيبان فإذا رآني ذاب كما يذوب الرصاص قال : فيهلكه الله عز وجل حتى إن الحجر والشجر ليقول : يا مسلم ! إن تحتي كافرا فتعال فاقتله قال : فيهلكهم الله
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : معراج کی رات میری ملاقات حضرت ابراہیم، موسی اور عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی تو قیامت کی بات چل نکلی سب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف معاملہ کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس (قیامت کے وقوع) کا علم نہیں، پھر بات حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف پہنچی تو انہوں نے بھی لاعلمی کا مظاہرہ کیا، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بات پہنچی تو انہوں نے کہا کہ قیامت کے وقوع کا حتمی علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں البتہ اللہ تعالٰی نے جو میرے ساتھ وعدہ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ دجال نکلے گا اور میرے پاس دو چھڑیاں ہوں گی تو جب وہ مجھے دیکھے گا تو اس طرح پگھلے گا جس طرح سیسہ پگھلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہلاک فرما دیں گے یہاں تک کہ شجر و حجر پکار اٹھیں گے کہ میرے نیچے کافر ہے ادھر آؤ اور اسے مار ڈالو۔ اس طرح اللہ تعالی ان سب کو ہلاک کردیں گے۔
احمد 469/1 قال احمد شاکر اسناده صحیح 1905 ابن ماجة كتاب الفتن باب فتنة الدجال 4132 حاکم 534/4 طبری 86/9

دجال ملعون کی جائے قتل

عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال ذات غداة إنه شاب قطط ، عينه طافئة، كأني أشبهه بعبد العزى بن قطن ، فمن أدركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف فيأتي على القوم فيدعوهم فيؤمنون به فيستجيبون له فيأمر السماء فتمطر والأرض فتنبت وتخرج كنوزها فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل ثم يدعو رجلا ممتلئا شبابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه ويضحك فبينما هو كذلك إذ بعث الله المسيح ابن مريم عليه السلام …. فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه إلا مات ونفسه ينتهي حيث ينتهي طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک صبح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ فرمایا۔ وہ گھنگھریالے بالوں والا نوجوان ہے، اس کی آنکھ پھوٹی ہوئی ہے گویا میں اسے عبد العزی بن قطن کے مشابہ کہہ سکتا ہوں۔ تم میں سے جس شخص کا اس سے سامنا ہو وہ اس پر سورۃ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے۔ دجال ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں ایمان لانے کی دعوت دے گا وہ اس پر ایمان لے آئیں گے تو دجال آسمان کو حکم دے گا اور آسمان بارش نازل کرے گا پھر وہ زمین کو حکم دے گا تو زمین نباتات اگائے گی۔ وہ ایک بنجر زمین کو حکم دے گا کہ وہ اپنے خزانے نکال دے تو وہ خزانے نکل کر اس طرح دجال کے پیچھے جائیں گے جس طرح شہد کی مکھیاں اپنے مالک کے پیچھے جاتی ہیں۔ پھر وہ ایک تنومند نوجوان کو بلائے گا اور تلوار کے ساتھ اس کے دو ٹکڑے کر کے قتل کر دے گا پھر اسے آواز دے گا تو وہ زندہ ہو کر ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ اس کی طرف پلٹے گا اور مسکرا رہا ہوگا۔ اسی اثنا اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نازل فرما دیں گے، جس کافر تک حضرت عیسیٰ کا سانس پہنچے گا وہ ہلاک ہو جائے گا اور ان کا سانس وہاں تک پہنچے گا جہاں تک ان کی نظر پہنچے گی اور وہ دجال کو تلاش کرتے ہوئے مقام لدّہ (Lydda) پر اسے قتل کر دیں گے۔
مسلم كتاب الفتن باب ذكر الدجال 2937 احمد 19/5 88/6 مجمع الزوائد 651/7